- الإعلانات -

بلدیاتی انتخابات۔۔۔۔ طارق فضل چوہدری کی لاٹری

uzair-blog

وفاقی دارالحکومت میں طارق فضل چوہدری اس طرح ترقیاتی کام تو نہ کراسکے ،سڑکیں ٹوٹی،پانی کے مسائل،تعلیم کا مسئلہ،اساتذہ سڑکوں پر مگرسارے جائیں بھاڑ میں حکمرانوں کو تو حکمرانی چاہیے ۔وفاقی دارالحکومت میں ہونیوالے بلدیاتی انتخابات سے چند دن قبل ہی طارق فضل چوہدری کے سرپر تاج رکھ دیا گیا اوراس کے تاج کے عوض بیرسٹرعثمان ابراہیم کو قربانی کا بکرا بنایا گیا اور موصوف کو وزیر مملکت کا چارج دیدیا گیا ۔کیونکہ حکومت نے اس حلقے سے بلدیاتی انتخابات میں فتح حاصل کرنی ہے ۔اگر قوم یہ سمجھے کہ اصل سیاسی کھیل کیا ہے تو پھر وہ ایسے امیدواروں کوقطعی طور پر ووٹ نہیں دے گی اورپھر حکومت کی جانب سے جو یہ سیاسی اقرباءپروری کی گئی ہے یہ وفاقی دارالحکومت کے بلدیاتی انتخابات کیلئے ایک سوالیہ نشان ہے کہ جو شخص اپنے حلقے میں ترقیاتی کام نہ کراسکا اسے آخر کیوں حکومت نے انتخابات سے قبل اہم عہدہ دیا ہے گو کہ وہ پہلے سے ممبرقومی اسمبلی تھا مگر جب سانحہ حرم پاک درپیش آیا تو موصوف کی سیاسی سرگرمیاں شروع ہوگئیں ،حکومت نے انہیں فوکل پرسن بنایا مگرجب ایک مرتبہ وہ میڈیا کے ہاتھ چڑھے تو کچھ ایسے تیکھے تیکھے سوال آئے کہ جواب نہ دے سکے وہاں پر معاملہ کچھ صاحبان نے کنٹرول کیا ۔اہلیت تو وہیں پتہ چل گئی تھی مگر بس ادھر تو سب ہی چلتا ہے ۔جس کی لاٹھی ۔۔اس کی بھینس ۔