- الإعلانات -

پُرامید ہونے کی ضرورت نہیں

uzair-blog

ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس سے بہت زیادہ توقعات رکھنا کوئی مناسب بات نہیں ہوگی ۔کیونکہ ابھی سشما سوراج پاکستان نہیں آئی تھیں کہ ان کے آنے سے ایک دن قبل ہی بھارت کی جانب سے ایل او سی پر بلااشتعال فائرنگ کی گئی پھر سشما سوراج نریندر مودی ہی کی وکالت کریں گی اور مودی ایک دہشتگرد وزیراعظم ہے ۔اب یہاں دیکھنا یہ ہے کہ حکومت مسئلہ کشمیر کے حوالے سے اپنی پوزیشن کو کس طرح واضح اور بہتر انداز میں پیش کرتی ہے ۔چونکہ کشمیر پاکستان کا ون پوائنٹ ایجنڈا ہے یہ ہماری شہ رگ ہے ،یہ ہمارے دل کی دھڑکن ہے ،یہ پاکستان کا حصہ ہے ،کشمیری ہمارے دست وبازو ہیں اور کوئی بھی فیصلہ اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوسکتا جب تک کہ مسئلہ کشمیر کے اصل فریق جو کہ کشمیری ہیں وہ اس میں شامل نہ ہوں ۔بھارت میں ساڑھے سات لاکھ دہشتگرد فوج رکھ کر آزادی کے پروانوں پر ظلم ستم کے پہاڑ توڑ رکھے ہیں مگر پھر بھی انہیں ہمیشہ منہ کی کھانا ہی پڑتی ہے ۔وہاں پر جو بھی جلسہ ہو سبز ہلالی پرچم لہراتے ہوئے نظر آتے ہیں جو کہ بھارت کیخلاف واضح طور پر ریفرنڈم ہے لہذا ہارٹ آف ایشیاءکانفرنس میں حکومت کو چاہیے کہ وہ اسی طرح اپنادباﺅ برقرار رکھے جس طرح کہ ماحولیاتی کانفرنس میں نوازشریف نے کیا تھا کہ مودی خود چل کر ان سے ملاقات کرنے آیااور اپنی وضاحتیں دیتا رہا ۔باڈی لینگوئج واضح طور پر بتا رہی تھی کہ مودی اس وقت سخت دباﺅ میں ہے اوروزیراعظم پاکستان نوازشریف ریلیکس ہیں ۔آج سشما سوراج جو پاکستان آئی ہے یہ بھی اسی بین الاقوامی دباﺅ کا حصہ ہے ۔لہذا حکومت پاکستان کے پاس موقع ہے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حوالے سے بھارت پر مزید دباﺅ بڑھائے ۔