- الإعلانات -

ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکام

اسلام آباد: فیڈرل بیورو آف ریونیو اور تاجروں کے درمیان مذاکرات ایک بار پھر ناکامی سے دوچار ہوگئے ہیں اور تاجروں نے حکومت کی جانب سے معیشت کو دستاویزی بنانے کا حصہ بننے سے انکار کردیا ہے جس کے باعث حکومت کی جانب سے معیشت کو دستاویزی بنانے کی کوششوں کو دھچکا پہنچا ہے۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آر اور تاجروں کے درمیان یہ مذکرات نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی کے ایک سینئر عہدیدار کی زیر نگرانی ہوئے تاہم مذاکرات کے دوران تاجروں کے دو گروہوں کے درمیان جھگڑا ہوگیاجس کے باعث معاملات مزید پیچیدگی اختیار کرگئے۔

تاجروں کا کہنا تھا کہ اگر حکومت نے لچک نہ دکھائی تو وہ سڑکوں پر آجائیں گے ، ان کا موقف تھا کہ ان کی وجہ سے ہی مشرف جیسے آمر کو بھی گھٹنے ٹیکنے پڑے تھے۔

یاد رہے کہ جنرل مشرف نے بھی سن 2000 میں کاروباری حضرات پر زور دیا تھا کہ وہ رجسٹریشن کرائیں مگر تاجروں کے دباؤ اور احتجاج کے باعث مشرف کو بھی یہ فیصلہ واپس لینا پڑا تھا۔رواں مالی سال کے بجٹ میں حکومت نے صنعت کاروں پر یہ لازمی قرار دیا تھا کہ وہ تقسیم کاروں اور تھوک فروشوں کو 50 ہزار سے زائد مالیت کی فروخت پر کمپیوٹرائزڈ شناختی کارڈ طلب کریں گے تاہم حکومت کے اس فیصلے نے تاجروں اور چھوٹے دکانداروں کو حکومت کے خلاف لاکھڑا کیا ہے۔

تاجر نہ ہی انکم ٹیکس رجسٹریشن کرانا چاہتے ہیں اور نہ ہی وہ سیلز ٹیکس رجسٹر کرانا چاہتے ہیں جبکہ یہ دونوں اقدامات معیشت کو دستاویزی بنانے کے لیے بنیادی حیثیت رکھتے ہیں۔چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے اس سلسلے میں ایف بی آر افسران، ٹیکس ماہرین اور تاجروں کے نمائندوں پر مشتمل ایک مشترکہ کمیٹی قائم کی تھی تاکہ وہ 30 ستمبر سے قبل اس مسئلے کا حل تلاش کرسکے۔

ایف بی آر کے ایک سینئر اہلکار نے بتایا کہ ملک کی مجموعی قومی پیداوار میں ہول سیل اور رٹیل سروسز کا حصہ ٍ18 فیصد بنتا ہے تاہم ٹیکس جمع کرانے میں یہ حصہ صرف 0۔88 فیصد ہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے علاوہ صنعت کار اپنی مصنوعات کی فروخت کی قیمت کم ظاہر کرتے ہیں اور اسے تقسیم کاروں کے منافع کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے اور اس کا واحد حل یہی ہے کہ ریٹیلرز، ہول سیلرز اور تقسیم کاروں کو انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے تحت رجسٹرڈ کرلیا جائے۔

ایوان تاجران پاکستان کے صدر اجمل بلوچ، اور سیکریٹری جنرل نعیم میر کی جانب سے جاری کردی پریس ریلیز کے مطابق ایف بی آر سے دوران خرید و فروخت شناختی کارڈ کی فراہمی کے حوالے سے مذاکرات میں تعطل برقرار ہے۔