- الإعلانات -

2 ارب ڈالر کے ساورن بانڈزکے لیے 10 پیشکشیں موصول

اسلام آباد:  حکومت کی طرف سے جاری کیے گئے تقریباً 2 ارب ڈالرکے ساورن بانڈزکیلیے اب تک عالمی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی 10 پیشکشیں موصول ہوگئی ہیں۔

حکومت ان ساورن بانڈز کے عوض حاصل ہونے والی رقم سے اگلے ماہ سابق حکومت کی طرف سے نومبر 2014ء میں لیا گیا ایک ارب ڈالر کا قرضہ ادا کرنا چاہتی ہے۔ موجودہ حکومت کیپٹل مارکیٹ سے یہ پہلا قرضہ حاصل کررہی ہے۔اس کیلیے فنانشنل ایڈوائزرزاور دوکنسورشیم کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔جن کے ذریعے یوروبانڈز اور سکوک بانڈز جاری کیے جائیں گے۔

اگلے ماہ کی ادائیگیاں حکومت کیلئے اپنی مالیاتی پوزیشن میں بہتری کو ثابت کرنے کا پہلا ٹیسٹ کیس ہونگی۔اب تک جن بینکوں اورمالیاتی اداروں کی طرف سے پیشکشیں مل چکی ہیں ان میں جے پی مورگن، سٹی بینک،ڈوئچے بینک،اسٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اینڈ کریڈٹ ایشوز،دی بینک آف چائنہ ،انڈسٹریل اینڈکمرشل بینک آف چائنہ اور سی ایل ایس اے کیپٹل مارکیٹس لمیٹڈ شامل ہیں۔

وزارت خزانہ اس ہفتے ان پیشکشوں کا تکنیکی جائزہ لے گی اوراس کے بعد انہیں کھولا جائیگا۔بعد میں شامل ہونے والے بولی دہندگان کو کنسورشیم بنانے کیلئے سب سے کم آنے والی بولی سے مطابقت کیلئے کہا جائیگا۔سٹی بینک اور ڈوئچے بینک ماضی میں بھی پاکستان کے فنانشل ایڈوائزر رہ چکے ہیں۔

حکومت کو ان یورواور سکوک بانڈز کے ذریعے ایک سے دو ارب ڈالر حاصل ہونے کی توقع ہے ،تاہم حکام کا کہنا ہے کہ اصل مالیت کا اندازہ حکومت کی مالی ضروریات کو دیکھ کر لگایا جائیگا۔حکومت کو آئی ایم ایف کی شرائط پوری کرنے کیلئے بھی ان پیسوں کی ضرورت ہے ۔آئی ایم ایف شرائط کے تحت پاکستان کیلئے زرمبادلہ کے ذخائر 16.3 ارب ڈالر تک رکھنا ضروری ہے۔

حکومت کو رواں مالی سال کے دوران ماضی کے یورو اور سکوک بانڈز پر 39 کروڑ95 لاکھ ڈالر سود بھی ادا کرنا ہے۔دو ارب تیس کروڑڈالر کی قرضہ ادائیگیاں بھی کرنی ہیں۔ان میں ایک ارب 70 کروڑ ڈالر چائنہ ڈیولپمنٹ بینک،30 کروڑ ڈالر بینک آف چائینہ ،10 کروڑ ڈالر سٹینڈرڈ چارٹرڈ بینک اور 20 کروڑ ڈالر کریڈٹ سوئس کو ادا کرنے ہیں۔چار اکتوبر کو سٹیٹ بینک کے پاس زرمبادلہ کے خالص ذخائر سات ارب 70 کروڑ ڈالر تھے ۔