- الإعلانات -

زراعت؛ مسلسل مشکلات سے دوچار اہم ترین اقتصادی شعبہ

لاہور: پاکستان میں زرعی شعببہ جسے قومی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی گردانا چاہتا ہے، طویل وقتوں سے مسائل سے دوچار چلا آرہا  ہے۔ ایک دور میں مجموعی ملکی پیداوار ( جی ڈی پی) میں زراعت کا حصہ 53 فیصد ہوا کرتا تھا جو گھٹتے گھٹے اب محض 18.5 فیصد کے لگ بھگ رہ گیا ہے۔

اکنامک سروے آف پاکستان کے مطابق  مالی سال  2018-19 میں زرعی شعبے کی شرح نمو 0.85 فیصد رہی جبکہ ہدف 3.8 فیصد رکھا گیا تھا۔ تمام اہم فصلوں کی پیداوار اوسطاً منفی 4.43 فیصد رہی جبکہ پیداوار میں اضافے کا ہدف 3.6فیصد مقرر کیا گیا تھا۔جہاں تک حکومت کا سوال ہے تو اس کا دعویٰ ہے کہ کسانوں کو کھاد، بیجوں، زرعی ادویہ وغیرہ پر سبسڈی دی گئی اور کچھ فصلوں جیسے گندم کی امدادی قیمت کے تعین میں اس امر کو مدنظر رکھا گیا کہ ملک ان کی پیداوار میں خودکفیل رہے اور فوڈ سیکیورٹی کا خطرہ ناپیدہوجائے۔

بہرحال اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے امدادی قیمت کے تعین کے عمل پر شدید تنقید کی جارہی ہے۔ اگرچہ حکومت ہر سال گندم کی امدادی قیمت کا اعلان کرتی ہے، اس کے باوجود مالی سال 2018-19  میں گندم کی پیداوار صرف 0.5 فیصد اضافے سے 25.195 ملین ٹن رہی۔ وفاقی اور صوبائی حکومتیں گندم کی ضرورت کے تناسب سے ہر سال پاکستان ایگریکلچر اسٹوریج اینڈ سروسز کارپوریشن ( پاسکو) اور صوبائی محکمہ ہائے خوراک کے ذریعے گندم کی خریداری کرتی ہیں۔پاکستان کسان اتحاد کے صدر خالدکھوکھر نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ تمام اہم فصلوں کی امدادی قیمت کا تعین ناگزیر ہوتا ہے کیوں کہ اس سے کاشت کار مطمئن ہوجاتے ہیں انھیں اپنی فصل کی حکومت سے مناسب قیمت ملے گی۔

انھوں نے زور دیا کہ حکومت، بھارت کی طرح کاشتکاری سے منسلک ضروریات پر کسانوں کو سبسڈی دے۔ انھوں نے کہا کہ اس وقت حکومت جی ڈی پی کے 0.2 فیصد کے مساوی سبسڈی دے رہی ہے جسے 2 فیصد تک بڑھایا جانا چاہیے۔حکومت گندم پر تین طرح سسڈی فراہم کرتی ہے۔ پہلے مرحلے میں وہ بیجوں، کھاد وغیرہ پر سبسڈی دیتی ہے اور امدادی قیمت کا تعین کرتی ہے۔ بعدازاں فلورملوں کو گندم کی فراہمی کے مرحلے میں بھی سبسڈی دی جاتی ہے تاکہ عوام کو رعایتی نرخوں پر آٹا مل سکے۔ گندم کی خریداری کے لیے بینکوں سے قرض بھی لیا جاتا ہے۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق پنجاب فوڈ ڈپارٹمنٹ کمرشل بینکوں سے ہر سال 9 سے 12 فیصد شرح سود پر قرض لیتا ہے۔ حال ہی میں پنجاب حکومت نے عالمی بینک کے 130 ملین ڈالر مالیت کے پروگرام  Rural Strengthening Markets for Agriculture and Transformation (SMART) سے الگ ہونے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس پانچ سالہ معاہدے کا مقصد زرعی اصلاحات کے تحت گندم کی سرکاری خریداری کا حجم کم کرکے 2 ملین ٹن پر لانا تھا۔ اس اقدام کا مقصد آٹے کی قیمتوں میں استحکام لانا اور گندم کی فصل میں کسانوں اور دوسرے اسٹیک ہولڈرز کی دلچسپی قائم رکھنا ہے۔ پنجاب کے بڑے فلور ملز مالکان میں شمار ہونے والے ماجد عبداللہ نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گندم ایک سیاسی فصل ہے مگر یہ الیکشن جیتنے میں کسی سیاستدان کیلیے معاون نہیں ہوتی۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو گندم پر سبسڈی کے بجائے ان پٹ پرائس پر توجہ مرکوز کرنی چاہیے۔