- الإعلانات -

آئی ایم ایف ٹیم کی پاکستان آمد؛ شرطیں پوری کرنے کیلیے منی بجٹ لانے کا خدشہ

 اسلام آباد: پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزے، آئندہ مالی سال کے لیے بجٹ سازی اور ریونیو شارٹ فال میں کمی کے لیے منی بجٹ لانے سمیت دیگر اقدامات پر پیر سے مذاکرات شروع ہوں گے۔

ذرائع وزارت خزانہ کے مطابق پاکستان کو 6 ارب ڈالر کے قرضے کے تحت تیسری قسط کے اجرا کے لیے عائد کردہ شرائط پر عمل درآمد سے متعلق دوسرے اقتصادی جائزے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا جائزہ مشن 12 روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گیا۔

ترجمان وزارت خزانہ عمر حمید نے بتایا ہے کہ آئی ایم ایف وفد 12 دن پاکستان میں قیام کرے گا اور اس دوران دوسرے اقتصادی جائزے پر بات ہوگی تاہم وزارت خزانہ کے ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف وفد کے ساتھ رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی (دسمبر 2019ء تک) کے اعداد و شمار پر تبادلہ خیال ہوگا اور تیسری قسط کے لیے طے شدہ شرائط پر عمل درآمد کے بارے میں آگاہ کیا جائے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ریونیو شارٹ فال میں کمی لانے کے لیے منی بجٹ سے متعلق اقدامات پر بھی بات چیت ہوگی جس کے تحت ٹیکسوں میں چھوٹ ختم کرنے کے ساتھ ساتھ درآمدی سطع پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی اور دیگر ڈیوٹی و ٹیکسوں کی شرح کو بھی ریشنلائزڈ بنانے پر غور ہوگا۔ آئی ایم ایف کے ساتھ مذاکرات کے بعد منی بجٹ لائے جانے کا امکان ہے۔ علاوہ ازیں طے شدہ شرائط کے مطابق بجلی بھی مزید مہنگی کا خدشہ ہے۔

آئی ایم ایف جائزہ مشن اور پاکستانی حکام کے درمیان باضابطہ مذاکرات پیر سے شروع ہوں گے، وزارت خزانہ حکام کے مطابق پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان دوسرے اقتصادی جائزے سے متعلق مذاکرات میں وزارت خزانہ، ایف بی آر، وزارت تجارت، اسٹیٹ بینک، منصوبہ بندی و پلاننگ، اقتصادی امور ڈویژن سمیت دیگر متعلقہ وزارتوں کے حکام شریک ہوں گے۔

ذرائع وزارت خزانہ حکام کے مطابق مذاکرات میں پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کے لیے طے شُدہ اہداف کے بارے میں جائزہ لیا جائے گا اور آئی ایم ایف جائزہ مشن تیسری قسط کے اجرا کا جائزہ لے گا۔ مذکورہ پروگرام کے تحت پاکستان آئی ایم ایف سے 2 قسطیں حاصل کرچکا ہے اور اب تیسری قسط کے حصول کے لیے اقتصادی جائزہ ہونے جارہا ہے اور آئی ایم ایف کے ساتھ طے شدہ شرائط کے پوری ہونے پر آئی ایم ایف قرضے کی تیسری قسط جاری کرے گا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کی ٹیکنیکل ٹیم کو دوسری سہ ماہی کا ڈیٹا فراہم کردیا گیا ہے کہ ٹیکنیکل ٹیم آئی ایم ایف جائزہ مشن کے لیے تکنیکی سطع کی ورکنگ مکمل کرے گی اور اسی تناظر میں پالیسی سطع کے مذاکرات میں اگلی قسط کے لیے شرائط و اہداف طے کیے جائیں گے۔ آئی ایم ایف کی ٹیکنیکل ٹیم ایف بی آر کی کارکردگی کا جائزہ لے گی تاہم ریونیو شارٹ فال پر آئی ایم ایف نے عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔

آئی ایم ایف کی ٹیم ایف بی آر حکام کے ساتھ اگلے مالی سال 2020:21ء کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے مجوزہ اقدامات اور ڈیوٹی و ٹیکسوں میں چھوٹ ختم کرنے سے متعلق سفارشات کا بھی جائزہ لے گی اور اگلے بجٹ میں بھی اڑھائی سے 300 ارب روپے مالیت کی ڈیوٹی و ٹیکسوں میں چھوٹ و رعایات ختم کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کی پہلی ششماہی میں آنے والے ریونیو شارٹ فال کو پورا کر نے کے لیے اور بجٹ خسارے کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے ترقیاتی بجٹ میں کٹوتی سمیت اضافی ریونیو کے لیے مزید اقدامات کے بارے میں بارے آپشنز پر غور کیا جائے گا۔

آئی ایم ایف کو ٹیکس کے حوالے سے وفاق اور صوبوں پر مشتمل انٹیگریٹڈ سسٹم متعارف کروانے کی آئی ایم ایف کی تجویز پر ہونیوالی پیشرفت سے بھی آگاہ کیا جائے گا اور اس کے لیے نیشنل ٹیکس کلکٹنگ اتھارٹی کی تجویز سے متعلق بھی تبادلہ خیال ہوگا اور ایف بی آر حکام کی جانب سے نیشنل ٹیکس کلکٹنگ اتھارٹی کے قیام کے بغیر بھی انٹیگریشن سے متعلق متبادل آپشن پر بھی تبادلہ خیال ہوگا۔

آئی ایم ایف حکام کو آگاہ جائے گا کہ وفاق اور صوبوں کے درمیان سنگل ریٹرن و سنگل پورٹل پر اتفاق ہوچکا ہے اور اسے حتمی شکل دینے کے لیے مسودہ بھی وفاق اور صوبائی ریونیو اتھارٹیز کے درمیان تبادلہ ہوچکا ہے۔

آئی ایم ایف نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) سے رواں مالی سال کی دوسری سہ ماہی کا ڈیٹا پہلے سے ہی حاصل کیا ہوا ہے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی ایم ایف) کے ساتھ طے کردہ کارکردگی کے معیار کے تحت دسمبر 2019ء تک کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف حاصل کرنے میں ناکامی اور بجٹ خسارے سمیت دیگر اہداف کے حصول میں ناکامی کے باعث مذاکرات میں مشکلات کا سامنا ہوگا تاہم آئی ایم ایف کی ٹیم کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی۔

واضح رہے کہ ذرائع کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت ایف بی آر کے لیے طے ہونے والی شرائط میں ٹیکس نیٹ کو وسعت دینا، آڈٹ کو بڑھانا اور اضافی ریونیو اکٹھا کرنا شامل تھا جس کے لیے ڈیوٹی و ٹیکسوں میں دی جانے والی غیر ضروری چھوٹ بھی ختم کی گئی ہیں۔