- الإعلانات -

کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر بانڈ مارکیٹ، کموڈیٹی اور سٹاک مارکیٹ نے کافی منفی اثر لیا ہے:ڈپٹی گورنر سٹیٹ بینک

ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک مرتضی سید نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے عالمی سطح پر بانڈ مارکیٹ، کموڈیٹی اور سٹاک مارکیٹ نے کافی منفی اثر لیا ہے،سینٹرل بینک کا ردعمل بھی آرہا ہے، امریکی سینٹرل بینک کے بعد برطانیہ کینیڈا اور آسٹریلیا نے شرح سود کم کی ہے،دنیا میں مالیاتی پالیسیاں بھی تبدیل ہورہی ہیں،کرونا وائرس کے پھیلاؤکی وجہ سے روز کی بنیاد پر تبدیل ہورہی ہے،چین میں صورتحال بہتری کی جانب گامزن ہے اوروہاں کیسز نیچے آرہے ہیں،چین کی خراب ترین صورتحال کا وقت گزر گیاہے،مئی کے اختتام تک صورتحال کافی حد تک بہتر ہونے کا امکان ہے،ایک سہ ماہی میں معیشت متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔

انہوں نے ان خیالات کا اظہار بدھ کو ایف پی سی سی آئی میں کرونا وائرس کے اثرات پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر کراچی میں فیڈریشن چیمبر کے نائب صدورشیخ سلطان رحمان،زبیرباویجہ،پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن کی ڈاکٹر ثمرین،ڈاکٹر قیصر سجاد،ڈاکٹر سعیدقریشی،انجینئرایم اے جبار،شکیل احمدشیخ ، لاہور ریجنل آفس سے نائب صدر ڈاکٹر ارشد،محمدعلی میاں،،سویڈن سے مس ثمینہ اوردیگر نے بھی خطاب کیا۔ ڈپٹی گورنرسٹیٹ بینک مرتضی سید نے کہا کہ آئی ایم ایف کے مطابق 2020 کی عالمی معاشی نمو 2019 سے کم ہوگی، خام تیل کی قیمت کم ہونے سے درآمدات کی قیمت کم ہوگی،کرونا وائرس کے اثرات کے تحت پاکستان کی معاشی صورتحال میں بیرونی تجارت پر اثر پڑسکتا ہے،مشینری کی 60 فیصد اور 20 فیصد خام مال چین سے آتا ہے،60 فیصد موبائل فون بھی چین سے آتے ہیں،ان مصنوعات کی درآمد میں کمی کا خدشہ ہے،اب درآمد کنندگان دوسری منڈیوں کی طرف دیکھ رہے ہیں،چین میں کیس کم ہونے سے سپلائی بہتر ہونے کی توقع ہے۔

انکاکہنا تھا کہ سی پیک سے متعلق مشینری کی درآمد پہلے کی کم ہوچکی ہے،ایکسپورٹ کا10فیصدچین جاتاہے،یارن اورچاول کی ایکسپورٹ متاثرہورہی ہے،ایکسپورٹرز یورپ اور افریقہ کی طرف دیکھ رہے ہیں،اسپیشل اکنامک زون کا قیام اور چین کے ساتھ آزاد تجارت کے معاہدے پر عمل درآمد جزوی متاثر ہوگا،خام تیل کی قیمت گرنے سےپاکستان کوبہت فائدہ ہوگا،کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں نمایاں کمی کا امکان ہے،پاکستان کےلیےایکسپورٹ بڑھانے کا موقع ہے لیکن تاحال صورت حال غیر یقینی ہے،اگر صورت حال خراب ہوئی تو عالمی معیشت بگڑنے کے اثرات پاکستان کی معیشت پر بھی مرتب ہوں گے تاہم مرتضی سید کا کہنا تھا کہ پاکستان میں ابھی ایسے اثرات نہیں جس سے گھبراہٹ پیدا ہو،ہماری پالیسیاں مستحکم ہیں،اکنامی مضبوط ہے،دنیا کے دیگر ممالک کی نسبت کرونا وائرس سے پاکستان کم متاثر ہے۔