- الإعلانات -

مختصر مدتی قرضے وفاقی حکومت کی ترجیح ہیں، اسٹیٹ بینک

اسلام آباد: اسٹیٹ بینک آف پاکستان کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت بجٹ خسارہ پورا کرنے کے لیے مختصر مدتی قرضوں کو ترجیح دیتی ہے، مگر مرکزی بینک کا یہ دعویٰ اعدادوشمار سے متصادم نظر آتا ہے۔

اسٹیٹ بینک نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کو بتایا کہ مرکزی حکومت بجٹ خسارے کو سہارے سے نمٹنے کے لیے ترجیحاً مختصر مدتی قرضے لیتی ہے۔ مرکزی بینک کے اس دعوے نے مانیٹری پالیسی کمیٹی کے ان اعدادوشمار کی صحت پر سوالیہ نشان ثبت کردیا ہے جن کا استعمال کمیٹی ملک کی مانیٹری پالیسی تشکیل دینے کے لیے کرتی ہے۔

گذشتہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کے منٹس کے مطابق وزارت خزانہ مختصر مدتی قرضوں پر دل چسپی ظاہر کررہی ہے اور ایک سالہ مارکیٹ ٹریژری بلز کے ثمرات کو روک کر رکھنا چاہتی ہے۔ مارکیٹ ٹریژری بلز ( ایم ٹی بی) اور پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز ( پی آئی بی) وہ آلات( انسٹرومنٹس) ہیں جن کے ذریعے وفاقی حکومت بجٹ فنانسنگ کے لیے تجارتی بینکوں سے رقم حاصل کرتی ہے۔

ایک تخمینے کے مطابق رواں سال اب تک مرکزی حکومت 33 کھرب روپے قرض لے چکی ہے جس میں بیرونی ذرائع سے لیے گئے قرض بھی شامل ہیں۔ وزارت خزانہ کے اعدادوشمار 28 جنوری کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں مرکزی بینک کی جانب سے پیش کیے گئے اعدادوشمار سے مختلف کہانی بیان کرتے ہیں۔

واضح رہے کہ 28 جنوری کو مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں شرح سود 13.25فیصد کی سطح پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔

اسٹیٹ بینک کے چیف ترجمان عابدقمر نے ایکسپریس ٹریبیون سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی کے اجلاس کی تفصیلات ( منٹس) ظاہر کرتی ہیں کہ مارکیٹ ایبل جی او پی سیکیورٹیز کی ریزوجوئل میچورٹی کی اصطلاح میں 3 ماہ کی مدت کی حامل میچورٹیز کا شیئر اس وقت دستیاب ڈیٹا کے مطابق بڑھ کر 25.3 فیصد ہوچکا تھا جو21 نومبر 2019 کو 20.8 فیصد کی سطح پر تھا۔

مزیدبرآں 3 تا 12 ماہ کی مدت کی حامل میچورٹیز کا شیئر اسی مدت کے دوران 40 فیصد سے گرکر 36.1 فیصد ہوگیا تھا۔ وزارت خزانہ کے اعدادوشمار کے مطابق گذشتہ برس جون میں مارکیٹ ایبل ٹریژری بلز کا حجم 49 کھرب روپے تھا اور تقریباً تمام قرض 3 ماہ مدت کے حامل پیپرز کے عوض لیا گیا تھا۔

سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ایم ٹی بی ز کے قرضے 50 کھرب روپے سے کچھ بڑھ گئے اور 3 ماہ مدت کے حامل بلز کا شیئر دسمبر 2019 میں 33 فیصد کم ہوکر 17کھرب روپے ہوگیا۔ اس کے 28 دن کے بعد مانیٹری پالیسی کمیٹی کا اجلاس ہوا تھا۔