- الإعلانات -

رواں سال جنوبی ایشیاء کے خطہ میں گزشتہ 40 برسوں کی بدترین اقتصادی کارگردگی متوقع ہے،عالمی بنک کی رپورٹ

عالمی بنک نے کہاہے کہ کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے رواں سال جنوبی ایشیاء کے خطہ میں گزشتہ 40 برسوں کی بدترین اقتصادی کارگردگی متوقع ہے، وباء کی وجہ سے خطے میں غربت کے خلاف کوششیں خطرات سے دوچارہوچکی ہیں۔یہ بات عالمی بنک کی ایک رپورٹ میں کہی گئی ہے جو اتوارکوشائع ہوئی۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ کورونا وائرس کی عالمگیروباء جنوبی ایشیاء کے خطہ کیلئے مکمل طوفان ہے۔بھارت، پاکستان، بنگلہ دیش، خطے کے دیگرممالک میں ایک ارب 80 کروڑ سے زائد لوگ رہ رہے ہیں، آبادی کے تناسب سے اگرچہ وائرس کے پھیلائو کی شرح فی الحال کم ہے تاہم ماہرین کاکہنا ہے کہ آنے والے ہفتوں میں اس میں اضافہ کے قوی خدشات موجودہیں۔رپورٹ کے مطابق کوروناوائرس کی وباء کے نتیجہ میںلاک ڈاون کے اثرات سامنے آنا شروع ہوئے ہیں، معمول کی سرگرمیاں معطل ہیں، مغربی ممالک کی جانب سے خطے کے ممالک کو جوبرآمدی آرڈرز جاری ہوئے تھے ان میں سے بیشترمنسوخ ہوچکے ہیں جبکہ فیکٹریاں بھی بندہے، سیاحت کاشعبہ بری طرح سے متاثرہے، سپلائی چین میں تعطل آیاہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ وباء سے قبل خطے کیلئے بڑھوتری کی شرح 6.3 فیصد رہنے کی پیشنگوئی کی گئی تھی تاہم اب خطے میں بڑھوتری کی شرح 1.8 سے لیکر2.8 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق مالدیپ میں مجموعی قومی پیداوارمیں 13 فیصد، افغانستان میں 5.9 فیصد اورپاکستان میں 2.2 فیصد تک کمی کا امکان ہے۔رپورٹ کے مطابق بھارت میں رواں سال بڑھوتری کی شرح 4.8 سے لیکر5 فیصد تک رہنے کی پیشنگوئی کی گئی تھی تاہم وباء کی وجہ سے اب بھارت میںبڑھوتری کی شرح 1.5 سے لیکر2.8 فیصد تک رہنے کاامکان ہے۔رپورٹ میں خطے کی حکومتوں سے صحت عامہ اورسماجی تحفظ کے شعبہ جات میں اقدامات اٹھانے کی ضرورت پرزوردیاگیاہے