- الإعلانات -

پاکستان میں افراط زرکی شرح میں آئندہ مالی سال کے دوران نمایاں کمی کا امکان ہے،آئی ایم ایف رپورٹ

 بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف ) نے کہاہے کہ کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے بین الاقوامی مارکیٹ میں بے یقینی کی صورتحال کے نتیجہ میں عالمی معاشی شرح نمو میں تین فیصد کی کمی متوقع ہے ، پاکستان میں افراط زرکی شرح میں آئندہ مالی سال کے دوران نمایاں کمی کا امکان ہے ۔یہ بات آئی ایم ایف نے عالمی اقتصادی پیش منظرسے متعلق بدھ کوجاری ہونے والی رپورٹ میں کہی ہے۔یہ رپورٹ آئی ایم ایف کی چیف اکانومسٹ گیتاگوپی ناتھ نے ایک ویڈیو کانفرنس کے دوران جاری کی۔ رپورٹ کے مطابق رواں سال عالمی معاشی شرح نمو میں تین فصد کمی کاامکان ہے ۔رپورٹ کے مندرجات کے مطابق کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے دنیاء کسادبازاری کاسامناکررہی ہے اوراس کی شدت عالمی اقتصادی کسادبازاری سے بڑھ کرہے تاہم عالمی معیشت کی آئندہ سال بحالی اس رپورٹ کامثبت پہلو ہے، رپورٹ کے مطابق سال 2021 ء میں عالمی معیشتیں بحالی کی جانب گامزن رہے گی، سال 2021 ء میں عالمی اقتصادی بڑھوتری کی شرح 5.8 فیصد تک رہنے کا امکان ظاہرکیاگیاہے۔رپورٹ میں پاکستان کاحوالہ دیتے ہوئے کہاہے کہ جاری مالی سال میں افراط زرکی شرح 11.1 فیصد اورآنیوالے سال میں 8 فیصد تک رہنے کی توقع ہے تاہم کورونا وائرس کی وباء کی وجہ سے ملک میں بے روزگاری کی شرح میں اضافہ متوقع ہے، 2020ء میں پاکستان میں بے روزگاری کی شرح 4.5 اورآئندہ سال 5.1 فیصد تک رہنے کاامکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق سال 2021ء میں پاکستان کی مجموعی قومی پیداوار2 فیصد تک رہنے کا امکان ہے۔ رپورٹ کے مطابق آئندہ سال پاکستان میں حسابات جاریہ کاخسارہ 2.4 فیصد تک متوقع ہے۔رپورٹ میں کہاگیاہے کہ کم آمدنی والے ترقی پذیرممالک میں جاری مالی سال کے دوران اقتصادی بڑھوتری کی شرح 0.4 فیصد اورسال 2021ء میں 5.6 فیصد رہے گی،ترقی یافتہ ممالک میں رواں سال اقتصادی بڑھوتری کی شرح منفی چھ اعشاریہ ایک اورآئندہ سال 4.5 فیصد تک رہنے کاامکان ہے۔ایشیاء اوربحرالکاہل کے خطہ میں جاری سال کے دوران اقتصادی بڑھوتری کی شرح منفی صفراعشاریہ چھ اورآئندہ سال 7.8 فیصد تک رہنے کا امکان ہے