- الإعلانات -

گاڑیوں کے سازوسامان اور متعلقہ اشیا کی درآمدات میں اضافہ

مقامی گاڑی اسمبل کرنے والی کمپنیوں کے لیے مکمل اور سیمی ناک ڈاؤن (سی کے ڈی/ایس کے ڈی) کٹس کی درآمدات میں کورونا وائرس کی وجہ سے شٹ ڈاؤن کے باوجود گزشتہ دو ماہ بڑا اضافہ دیکھا گیا ہے۔
اسمبلرز نے مارچ اور فروری میں بالترتیب 4 کروڑ 30 لاکھ ڈالر اور 3 کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے ایس کے ڈیز یا سی کے ڈیز منگوائے جبکہ اپریل کے مہینے میں اسمبلرز نے 6 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مالیت کا سامان عید پر فروخت کے بڑھنے کی امید کے ساتھ درآمد کیے تاہم مارچ کے آخری ہفتے میں لگے شٹ ڈاؤن کے باعث ان کے پاس اب اسٹاک کا ڈھیر لگا ہوا ہے۔

ایک کار فروخت کرنے والے سازوسامان اور متعلقہ اشیا کی درآمد میں اضافے کی وجہ لاک ڈاؤن سے قبل مقامی سطح پر اسمبل ہونے والی ٹویوٹا یارس کا متعارف کرایا جانا جس کے ساتھ ساتھ سوزوکی الٹو اور دیگر نئی گاڑیاں بھی شامل ہیں کیونکہ اسمبلرز کو اپریل کے بعد سے فروخت میں اچانک اضافے کی امید تھی جس کی وجہ سے انہوں نے پہلے ہی سے کٹس کو بڑی مقدار میں منگوانا شروع کردیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ مینوفیکچررز عام طور پر درآمد شدہ پارٹس، خام مال اور کٹس کے آرڈرز پورٹ پر شپمنٹ کی آمد کے 30 دن کو مد نظر رکھتے ہوئے 2 سے 3 ماہ پہلے ہی دے دیتے ہیں اس کے بعد سامان کی کلیئرنس اور صارفین سے ایڈوانس بکنگ آرڈر لینے میں کم از کم 10 دن اور لگ جاتے ہیں۔

ان کے مطابق صنعت کاروں نے زیادہ درآمدات کی ہیں تاہم انہیں لاک ڈاؤن کی وجہ سے 2 ماہ کی بندش کی توقع نہیں تھی۔

اپریل سے اب تک فروخت اور پیداوار صفر اور مالی سال 2020 کے 10 ماہ میں 50 فیصد سے زیادہ کمی کے ساتھ، انڈس موٹر کمپنی (آئی ایم سی) نے ایکسچینج ریٹ کی وجہ سے گاڑیوں کی قیمتوں میں 1 لاکھ 10 ہزار سے 5 لاکھ روپے تک کا اضافہ کیا ہے جبکہ ہونڈا اٹلس نے 60 ہزار سے 1 لاکھ 20 ہزار روپے کا اضافہ کیا ہے۔

مارچ میں ڈالر 158.4 روپے کا تھا جبکہ اپریل میں اس میں اضافہ ہوا اور وہ 164 روپے کا ہوگیا تھا۔

آٹو سیکٹر نے اب ایک راحت کا سانس لیا ہے بالخصوص پنجاب میں جہاں صوبائی حکومت نے پیر سے ہی پلانٹ کھولنے کی اجازت سے دی ہے جبکہ سندھ خصوصاً کراچی میں اب بھی اس بارے میں غیر یقینی صورتحال ہے۔

بائیکس
بائیک کے بازاروں نے پیر سے جمعرات تک اپنی کاروائی دوبارہ شروع کردی تھی تاہم آتھرائزڈ ڈیلرز کے پاس سی ڈی 70 سی سی اور سی جی 125 سی سی کے اسٹاک ختم ہوگئے ہیں۔

ایسوسی ایشن آف پاکستان موٹرسائیکل اسمبلرز (اے پی ایم اے) کے چیئرمین محمد صابر شیخ نے بتایا کہ دیہی علاقوں کے بہت مال کاشتکاروں نے گندم کی کٹائی کے ذریعے کمائی جانے والی رقم سے موٹرسائیکلیں خریدنے کے لیے کراچی کی مارکیٹوں کا رخ کیا۔