- الإعلانات -

حکومت نے نیا بم گراد یا قیمتوں میں اچانک حیران کن اضافہ کر دیا گیا

لاہور ( این این آئی) ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں نے اوگرا کے نوٹیفیکیشن کے بغیر ایل پی جی کی قیمت میں 10روپے فی کلو، 100 روپے گھریلو سلنڈر، 400روپے کمرشل سلنڈر کی قیمت میں بلاجوازاضافہ کر دیا جبکہ حکومت نے سال 2016میں لوکل پیداواری ایل پی جی کی قیمت میں کسی بھی قسم کا کوئی اضافہ نہیں کیا، ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں نے لوکل پیداواری گیس کو بین القوامی قیمت پر فروخت کرکے کروڑوں کی ناجائز منافع خوری شروع کر دی۔
گزشتہ ہفتے ایل پی جی کی بین القوامی منڈی میں 20ڈالر میٹرک ٹن اضافہ ہوا جسکے بعد بین القوامی مارکیٹ 288ڈالر فی میٹرک ٹن سے تجاوز کر کے 308ڈالر فی میٹرک ٹن پر آگئی۔ اوگرا نے بھی ایل پی جی کی قیمت میں کسی بھی قسم کی ردوبدل کا نوٹیفیکیشن جاری نہیں کیا جبکہ ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں نے بین القوامی منڈی کی قیمت میں اضافہ کو بنیاد بنا کے لوکل پیداواری قیمت میں بلاجواز اضافہ کر کے ناجائز منافع خوری شروع کر دی۔ ایل پی جی ڈسٹری بیوٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے چےئرمین عرفان کھوکھر نے وزیر اعظم پاکستان ، وزیر پیٹرولیم ، وزارت پیٹرلیم اور اوگرا اتھارٹی سے مطالبہ کیا ہے کہ اوگرا نوٹیفکیشن کے بغیر ایل پی جی کی قیمتوں میں بلاجواز اضافہ کر کے ناجائز منافع خوری کرنیوالی ایل پی جی مارکیٹنگ کمپنیوں کیخلاف فوری طور پر نوٹس لیا جائے۔ہم وزیر پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے بے حد مشکور ہیں جنہوں نے سال2016میں ایل پی جی کی قیمتوں کو مستحکم رکھا لیکن چند عناصر حکومت کی بدنامی کا باعث بن رہیں ہیں۔ اس بار سردیوں میں ایل پی جی کی قیمت250روپے فی کلو سے بھی تجاوز کر جانے کا خدشہ ہے۔
ہم نے اوگرا کو 15روز قبل بتاریخ 20اگست کو لیٹر نمبر LPGDAP/322/16میں آگاہ کر دیا تھا کہ گیس کی قیمتوں میں اضافہ کے خدشات سے آگاہ کر دیا تھا۔ چےئرمین عرفان کھوکھر نے مزید کہا کہ حکومت نے پورے سال لوکل پیداواری گیس کی قیمتیں مستحکم رکھ کر غریب عوام کو ریلیف دیا لیکن غریب صارفین کو بدقسمتی سے ریلیف نہ مل سکا ۔ صارفین مہنگی گیس خریدنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ میری حکومت وقت سے اپیل ہے کہ فوری قیمتوں میں اضافہ کا نوٹس لیکر ناصرف بلیک مارکیٹنگ کرنے والی مارکیٹنگ کمپنیوں کیخلاف کاروائی عمل میں لائی جائے بلکہ ناجائز منافع خوری کے تمام پیسے واپس کروا کر غریب عوام کو ریلیف دیا جائے۔ اگر وزیر اعظم پاکستان نے نوٹس نہ لیا تو سردیوں میں گیس 250روپے فی کلو فروخت ہوگی اور عوام کے گھروں کے چولہے ٹھنڈے ہو جائیں گے۔سردیوں میں قدرتی گیس میں کمی کے باعث کھپت میں 35 سے 45 فیصد اضافہ ہو جاتا ہے۔طلب و رسد کو پورا کرنے کے لیے ماہانہ50سے 60ہزار میٹرک ٹن گیس کی درامد کی ضرورت ہے۔
اس بار سردیوں میں طلب و رسد کو پورا کرنے کے لیے 3لاکھ میٹرک ٹن مزیددرامدی گیس کی ضرورت ہے۔ ایمپورٹ پر ٹیکس کی چھوٹ دیکر فیزیبل پالیسی بنائی جائے۔شہروں کی قیمتیں مندرجہ ذیل ہیں۔؂کراچی 75روپے فی کلو،850روپے گھریلو سلنڈر۔لاہور، گوجرانوالہ، گجرات، فیصل آباد، جہلم، قصور، ساہیوال، سیالکوٹ، ڈسکہ، پشاور 80روپے فی کلو،910روپے گھریلو سلنڈر۔ رحیم یار خان، صادق آباد، حیدر آباد، ، اٹک ، میرپور آزاد کشمیر85روپے فی کلو، 970روپے گھریلو سلنڈر۔ راولپنڈی ، اسلام آباد، ایبٹ آباد،مظفر آباد، باغ، فاٹا، کوٹلی، ٓآزادکشمیر، ٹنڈو محمد خان، ٹنڈو اللہ یار، میر پور خاص، عمر کوٹ، نواپ شاہ، منباری، ٹھٹہ، دادو، جام شورو، شکار پور 90۱روپے فی کلو1030روپے گھریلو سلنڈر۔گلگت بلتستان، مری،نتھیا گلی، بالاکوٹ،100روپے کلو،1150روپے گھریلو سلنڈرہے ۔