- الإعلانات -

پورٹ قاسم کی درآمدی کوئلے سے متعلق ماحولیاتی رپورٹ مسترد

کراچی: ادارہ تحفظ ماحولیات سندھ نے پورٹ قاسم اتھارٹی کی درآمدی کوئلے کی 4 کلومیٹر پر مشتمل ترسیلی لائن اور عارضی ذخیرہ گاہ کے تعمیری منصوبے (کول کنویننگ سسٹم) کی ماحولیاتی تشخیصی رپورٹ (ای آئی اے) مسترد کردی۔

منگل کو منصوبے پر عوامی سماعت کے دوران اسٹیک ہولڈرز کے شدید اعتراضات و اندیشوںپر ای پی اے سندھ کے ڈائریکٹر جنرل نعیم احمد مغل نے رپورٹ رد کرتے ہوئے منصوبہ چلانے والے ادارے پی کیو اے کو خامیاں دور کرکے رپورٹ دوبارہ جمع کرانے کی ہدایت کردی اور کہاکہ مذکورہ منصوبے کی تکمیل کے بعد زیادہ سے زیادہ کوئلے کی درآمد، اسٹاک یارڈ سے صنعتی علاقوں کوترسیل کے محفوظ انتظامات، ماحول کے تحفظ کے اقدامات اور درآمدی کوئلے کی بندرگاہ سے اسٹاک یارڈ تک منتقلی کے متبادل ذریعے (اگرہوتو اس کی) تفصیلات بھی فراہم کی جائیں۔

یاد رہے کہ کوئلے کو پاکستان انٹرنیشنل بلک ٹرمینل سے اسٹاک یارڈ تک لے جانے کے اس منصوبے کی لاگت 16ارب روپے ہے جس کی ڈیزائنگ نیشنل انجینئرنگ سروسز پاکستان (نیسپاک) نے کی ہے جبکہ منصوبے کی ای آئی اے بھی اسی کمپنی نے تیار کی ہے۔ قبل ازیں سماعت کے دوران مخالفین نے کہا کہ مذکورہ منصوبہ بن قاسم صنعتی علاقے کے ماسٹر پلان میں سرے سے موجود ہی نہیں، عارضی ذخیرہ گاہ میں 4 لاکھ ٹن تک کوئلہ رکھا جاسکتا ہے جبکہ عدالت عالیہ سندھ نے صرف 2لاکھ ٹن کوئلہ عارضی طور پر ذخیرہ کرنے کی اجازت دی ہے۔

کوئلہ بندرگاہ سے اسٹاک یارڈ اور وہاں سے دیگر علاقوں میں لے جاتے ہوئے ذرات کی شکل میں فضا میں بھی شامل ہوسکتا ہے جس کی مقدار ای آئی اے رپورٹ کی نشاندہی سے کہیں زیادہ ہوگی، کوئلہ کی ترسیل کے دوران ہزاروں گیلن پانی کی بھی ضرورت ہوگی جبکہ بن قاسم کا صنعتی علاقہ پانی کی شدید قلت کا شکار ہے۔

عوامی سماعت میں یہ بھی اعتراض کیا گیا کہ نیسپاک نے منصوبہ ڈیزائن کیا اور اسی نے ای آئی اے رپورٹ بھی بنائی تو یہ کیسے ممکن ہے کہ کوئی کمپنی اپنے ہی ڈیزائن کردہ منصوبے کو ماحولیاتی طور پر نقصان دہ ثابت کرے اس لیے پی کیو اے ماحولیاتی تشخیصی رپورٹ غیرجانبدار کمپنی سے تیار کرائے۔

منصوبے سے متصل علاقوں کے عوامی نمائندوں اور مکینوں نے منصوبے سے لوگوں کی صحت پر منفی اثرات پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا اور مطالبہ کیا کہ تمام تعمیرات میں صحت وماحولیاتی تحفظ کواولین ترجیح دی جائے۔

آخر میں ادارہ تحفظ ماحولیات کے ڈی جی نے اعلان کیا کہ جوں ہی پی کیو اے نظرثانی شدہ ای آئی اے رپورٹ جمع کرائے گا تو اس پر دوبارہ عوامی سماعت ہوگی جس کے مقام، تاریخ اور وقت کا اعلان مقامی اخبارات میں اشتہار کے ذریعے کیا جائے گا۔