- الإعلانات -

تھرکول پاور پروجیکٹ میں مزید ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع

کراچی: تھر میں کوئلے کی کان کے منصوبے میں پیش رفت کے بعد ملک کے بڑی صنعتی ادارے اور چینی سرمایہ کاروں کی کوئلے کے حصول میں دلچسپی کے پیش نظر ایس ای سی ایم سی کوئلے کی کان کی گنجائش 6سال میں 19ملین ٹن تک بڑھانے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے، کوئلے کی کان اور بجلی کی پیداوار میں آئندہ 3 سال کے دوران مزید 1.5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری متوقع ہے جس سے مجموعی سرمایہ کاری 4.5ارب ڈالر تک بڑھ جائیگی۔

تھر کے کوئلے سے بجلی بنانے کا منصوبہ کسی بڑی رکاوٹ کے بغیر تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے اور نئے سرمایہ کاروں کی آمد کا سلسلہ بھی تیز ہو گیا ہے، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کے منصوبے میں آئندہ 3سال کے دوران مزید ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جائیگی جس سے اس منصوبے کی مجموعی سرمایہ کاری ساڑھے 4ارب ڈالر تک پہنچ جائے گی۔

واضح رہے کہ کوئلے کی کان کی تعمیر کے سلسلے میں20 فیصد کام مکمل ہوچکا ہے اور کان کی گہرائی سال 2018کے اختتام تک کوئلے کے ذخائر تک پہنچ جائے گی جس کے بعد جون 2019 میں منصوبے سے 660 میگا واٹ بجلی کی پیداوار شروع کردی جائے گی۔

سی ای او سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی شمس الدین احمد شیخ نے بتایا کہ ایس ای سی ایم سی کا منصوبے میں پیش رفت کے بعد پاکستان کے بڑے صنعتی ادارے اور سرفہرست چینی سرمایہ کار پاور پروجیکٹس کیلیے تھر کا کوئلہ حاصل کرنے میں دلچسپی ظاہر کررہے ہیں۔

دوسری جانب حکومت پاکستان نے بھی مستقبل میں تمام پاور پلانٹس تھر کے کوئلے پر چلائے جانے کی پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے ایس ای سی ایم سی سے کوئلے کی پیداواری گنجائش بڑھانے کی درخواست کی ہے، تھر کے کوئلے کی طلب کو دیکھتے ہوئے ایس ای سی ایم سی نے 2022تک کوئلے کی پیداوار 19ملین ٹن سالانہ تک بڑھانے کی منصوبہ بندی شروع کردی ہے جس سے 3300 میگا واٹ بجلی پیدا کی جا سکے گی۔ کوئلے کی مقامی پیداوار امپورٹ کا متبادل بننے سے زرمبادلہ کی بچت 2030تک بڑھ کر 3ارب 40 کروڑ ڈالر سالانہ تک پہنچ جائیگی تاہم کوئلے کی پیداواری گنجائش میں اضافہ 6مراحل میں کیا جائیگا، کوئلے کی پیداوار میں اضافہ بجلی کی قیمتوں میں کمی کا ذریعہ بنے گا، بجلی کی پیداوار میں 50 سے 60فیصد کوئلے کی لاگت شامل ہے،

ادھر تھر کے منصوبے سے پیداوار 19 ملین ٹن تک بڑھائے جانے سے تھر کے کوئلے کی (برننگ ویلیو کے لحاظ سے) قیمت ابتدائی قیمت کے مقابلے میں50 فیصد تک کم ہوجائیگی جس سے بجلی کی پیداواری قیمت پر بھی نمایاں فرق پڑے گا، ابتدائی مرحلے میں تھر کے کوئلے کی فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت 6 ڈالر سے زائد ہے جو 19ملین ٹن سالانہ کی گنجائش تک پہنچنے کی صورت میں 3.3 ڈالر جبکہ 2031سے آئندہ عرصے کیلیے ڈھائی ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو قیمت پر کوئلہ ملتا رہے گا۔

شمس الدین احمد شیخ نے بتایا کہ کان کنی اور پاور پلانٹ کی تعمیر کیلیے 3 ارب ڈالر کے منصوبے پر اب تک 50کروڑ ڈالر خرچ ہوچکے ہیں، کان کے ساتھ پاور پلانٹ کی تعمیر بھی تیزی سے جاری ہے، کان کی تعمیر کا کام 42مہینوں میں مکمل ہونا تھا تاہم اب منصوبے کی رفتار دیکھتے ہوئے امید ہے کہ 38مہینوں میں ہی کان کی تعمیر مکمل کرلی جائیگی، چینی کرنس ین کی قدر کم ہونے اور ڈیزل کی قیمت میں کمی کی وجہ سے منصوبے کی لاگت 10 سے 15فیصد کم ہوچکی ہے اور کان کنی کے منصوبے پر ابتدائی 845ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کا تخمینہ کم ہوکر 735ملین ڈالر رہ گیا ہے۔

سی ای او سندھ اینگرو کول مائننگ نے بتایا کہ تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے میں ملک کے دیگر بڑے سرمایہ کار گروپس کی شمولیت اور سندھ اینگرو کول مائنگ کا منصوبہ آگے بڑھنے سے دیگر بلاکس میں سرگرمیاں شروع ہونے والی ہیں، سندھ اینگرو کول مائننگ منصوبے میں 2020تک تھل نووا اور تھل انرجی لمیٹڈ مزید 1.5ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کریں گی جس میں سے 1ارب پاور پلانٹ اور 50 کروڑ ڈالر کان کنی میں انویسٹ کیے جائیں گے جب کہ اس سرمایہ کاری کے بعد تھر کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار 1320 میگا واٹ تک بڑھ جائے گی۔ سرمایہ کاری کا سلسلہ یہاں پر ہی نہیں رکے گا، مزید 2بڑی کمپنیاں تھر کے کوئلے سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے میں دلچسپی لے رہی ہیں جن کی شمولیت 2022تک متوقع ہے۔ جس کے بعد تھر کے کوئلے سے بجلی کی پیداوار 2300میگا واٹ سے تجاوز کرجائیگی،

یاد رہے کہ تھر سے بجلی پیدا کرنے کے منصوبے میں اینگرو پاورجن تھر 330میگا واٹ کے 2پاور پلانٹس کی تعمیر میں 1.1ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کررہی ہے جبکہ سندھ حکومت کی 51فیصد حصہ داری ہے، سندھ اینگرو کول مائننگ کمپنی کان کنی میں 845ملین ڈالر کی سرمایہ کاری سے 3.8 ملین ٹن سالانہ کوئلہ مہیا کرے گی، منصوبے کیلیے انفرااسٹرکچر سہولتوں میں سندھ حکومت مزید1 ارب ڈالر کی انویسٹمنٹ کررہی ہے۔