- الإعلانات -

یوٹیلٹی اسٹورز کی 20 اشیا پر 1.5 ارب کی سبسڈی زیر غور

 اسلام آباد: وفاقی حکومت کی جانب سے رمضان المبارک میں یوٹیلیٹی اسٹورز پر 20سے زائد اشیا خور دونوش پر ڈیڑھ ارب روپے سے زائد سبسڈی دینے کی تجو یز زیر غور ہے۔

یوٹیلیٹی اسٹورز کا رپوریشن آف پاکستان کی جانب سے اسٹوروں پر اشیاخورد ونوش کی فراہمی کے لیے افطار کے بعد بھی چند اسٹورکھلے رکھے جائیں گے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت کی جانب سے رمضان المبارک میں ملک بھر کے یوٹیلیٹی اسٹوروں میں 20سے زائد اشیا خورد و نوش پر ڈیڑھ ارب روپے سے زائد سبسڈی دینے کی تجا ویز زیر غور ہیں جن اشیا خورد ونوش پر وفاقی حکومت کی جانب سے رمضان المبارک میں سبسڈی دی جائے گی۔ ان میں آٹا، چاول، گھی، بیسن اور مختلف قسم کی دالوں کے علا وہ دیگر اشیا بھی شامل ہوں گی۔

اس کے علاوہ چند اشیا پر حکومت برانڈڈ کمپنیوں سے رعایت لے کر عوام کو ریلیف فراہم کرے گی۔ اس وقت بھی یوٹیلیٹی اسٹور حکام کے مطابق 700 سے زائد برانڈڈ اشیا  خور دونوش کی قیمتوں میں کمی کی گئی ہے جس کا اطلاق رمضان المبارک کے اختتام تک جاری رہے گا۔

دوسری جانب رمضان المبارک میں یوٹیلیٹی اسٹوروں پر لوگوں کے رش کو مد نظر رکھتے ہوئے کارپوریشن کی جانب سے عارضی بنیادوں پر ملازمین بھی رکھے جائیں گے تاکہ لوگوں کو اشیا خو رد ونوش کی فراہمی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے جبکہ شہری علاقوں میں ایسے اسٹوروں کا تعین بھی کیا جائے گا جو کہ افطار کے اوقات کے بعد بھی کھلے رہیں گے۔ گزشتہ سال یوٹیلیٹی اسٹور کے ذریعے حکومت نے اشیا خورد ونوش پر عوام کو پونے 2ارب روپے تک کا ریلیف دیا تھا جبکہ رواں سال بھی ڈیڑھ ارب روپے تک کا ریلیف دینے کی تجویز زیر غور ہے۔

علاوہ ازیں یوٹیلیٹی اسٹور پر رمضان المبارک میں لوگوں کو دیے جانے ریلیف کے سلسلے میں جب یوٹیلیٹی اسٹورز کارپوریشن کے جی ایم پبلک ریلیشن واجد سواتی سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہاکہ میری چھٹی ہے میں اس معاملے پر آج بات نہیں کر سکتا۔