- الإعلانات -

بھاری کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ؛ ادائیگیوں کے بحران کا خطرہ سر پر منڈلانے لگا

ٹاپ لائن سیکیورٹیز نے اپنی معاشی جائزہ رپورٹ میں امکان ظاہر کیا ہے کہ رواں مالی سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 16سے 16.5ارب ڈالر تک پہنچ سکتا ہے جس سے زرمبادلہ کے ذخائر پر مزید دباؤ پڑے گا اور سرکاری ذخائر کی مالیت میں 3ارب ڈالر تک کمی ہوسکتی ہے جس کے نتیجے میں سرکاری ذخائر سے 3 ماہ کا درآمدی بل ادا کرنے کی گنجائش برقرار نہیں رہے گی، رواں مالی سال میں درپیش 16سے 16.5ارب ڈالر کا خسارہ پورا کرنے کے لیے حکومت کو 10سے 11ارب ڈالر کی ضرورت ہوگی جو زیادہ تر قرضوں کے ذریعے پوری کی جائے گی۔

رپورٹ کے مطابق ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینکوں سے 2سے 3ارب ڈالر کا قرضہ حاصل کیا جائے گا جبکہ ڈالر یا سکوک سرمایہ کاری بانڈز کے اجرا سے 1سے 2ارب ڈالر جبکہ باقی ضرورت کمرشل قرضوں اور دیگر ذرائع سے پوری کی جائیگی جن میں سی پیک منصوبوں کے لیے چینی اداروں کی مالی معاونت بھی شامل ہے۔