- الإعلانات -

پاکستان کا غیر ملکی زرمبادلہ صحت مندانہ سطح پر موجود، وزارت خزانہ

وفاقی وزارت خزانہ نے کہا ہے کہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر صحت مندانہ سطح پر موجود ہیں اور آئندہ مہینوں میں مثبت معاشی رجحانات کو تقویت ملنے کے ساتھ ساتھ یہ ذخائر صحت مندانہ سطح پر برقرار رہیں گے۔

وزارت خزانہ کے ترجمان کی جانب سے جاری ایک بیان میں واضح کیا گیا ہے حکومت کی طرف سے غیر ملکی زرمبادلہ ذخائر کو گرنے سے بچانے کے لیے 450 ملین ڈالر قرضہ کا حصول کمرشل فنانسنگ کی معمول کی ایک سرگرمی ہے اور رواں مالی سال کیلئے مجموعی فنانسنگ منصوبہ کا حصہ ہے۔

انھوں نے کہا کہ کمرشل فنانسنگ کی منصوبہ بندی وسائل میں خلا کو پُر کرنے اور بیرونی حوالے سے معاونت کے لیے2017-18 کے میزانیاتی حجم کے لحاظ سے کی گئی ہے اور ملکی بیرونی قرضہ کی ذمہ داری میں کوئی اضافہ نہیں ہوا۔

ترجمان نے کہا کہ 2013 میں جی ڈی پی کی شرح کے لحاظ سے بیرونی قرضہ 21.4 فیصد تھا جبکہ 2017میں یہ شرح کم ہو کر 20.6 فیصد رہ گئی ہے جو ملک کے بیرونی قرضہ میں 80 بنیادی پوائنٹس کی مجموعی کمی کو ظاہر کرتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ ملک کا بیرونی قرضہ قابل برداشت سطح پر ہے اور بھارت، سری لنکا، مصر جیسی کئی قابل موازنہ اقتصادیات سے بہت کم ہے،اسی طرح رواں مالی سال کے لیے بیرونی قرضوں کی ادائیگی کی ذمہ داری 5.8 ارب ڈالر ہے جو گذشتہ برس 6.44 ارب ڈالر کی تھی۔

وزارت خزانہ کے ترجمان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر مسلسل صحت مندانہ سطح پر موجود ہیں، ذخائر میں یہ اضافہ برآمدات، ترسیلات زر، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری، سرکاری اور دیگر نجی وسائل کی بنا پر رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں حاصل ہونے والی نمایاں بہتری ہے۔

انھوں نے کہا کہ گذشتہ سال کے قابل موازنہ عرصہ کے مقابلہ میں جولائی سے اگست 2017 کے دوارن برآمدات میں 17.7 فیصد، ترسیلات زر میں 13.2 فیصد اضافہ ہوا، براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری 180 ملین ڈالر کے مقابلہ میں جولائی۔اگست 2017کے دوران 458 ملین ڈالر رہی جو گذشتہ مالی سال کے اسی عرصہ کے مقابلے میں 15.9 فیصد اضافہ کو ظاہر کرتی ہے۔