- الإعلانات -

سرفہرست 5 بینکوں کی کمائی دیگر بینکوں کی مجموعی کمائی سے بھی زائد

کراچی: پاکستان کے سرِ فہرست 5 بینکوں نے ملک کے بینکنگ سیکٹر میں اپنے غلبے کو برقرار رکھتے ہوئے سال 18-2017 میں بھی دیگر بینکوں کی مجموعی کمائی سے بھی زیادہ آمدن حاصل کیا۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کی جانب سے سہ ماہی اعداد و شمار جاری کیے گئے ہیں پاکستان کے سرِ فہرست 5 بنیکوں کی جانب سے بینکنگ سیکٹر میں 59.5 فیصد سرمایہ کاری کی گئی ہے جبکہ انہیں بینکنگ سیکٹر میں کل آمدن کا 52.1 فیصد حصہ انہی کا رہا۔

کم شرح سود کے باوجود بینکوں کی جانب سے اپنی آمدن بڑھانے کے لیے خطرے سے بالاتر حکومتی سیکیورٹیز میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی گئی

نجی شعبوں میں قرض دینے کے حوالے سے سرِ فہرست 5 بینکوں کی جانب سے 42.2 فیصد قرض دیا گیا، جبکہ فہرست میں 6 سے 10 نمبر والے بینک کی جانب سے 26.9 فیصد جبکہ تیسرے درجے کے بینکس کی جانب سے 4.6 فیصد قرض دیا، تاہم اس دوڑ میں غیرملکی بینکوں کا حصہ صرف ایک فیصد رہا۔

اسی طرح پہلے درجے کے بینکس کے بعد دوسرے درجے کے بینکوں (نمبر 6 سے 10) کی آمدن 26.3 فیصد رہی، 11 سے 20 نمبر کے بینکوں کی کمائی 18.3 فیصد جبکہ 21 سے 28 نمبر کے بینکوں کو 0.8 فیصد منافع ہوا۔

مقامی بینکوں کے ساتھ ساتھ غیرملکی بینکوں کا منافع بینکنگ سیکٹر کے کل منافع کا 5.5 فیصد رہا۔

اس کے علاوہ سرِ فہرست 5 بینکوں کی شرح سود سے کمائی 72.2 فیصد رہی جبکہ شرح سود کے بغیر کمائی 57.1 فیصد رہی۔

بینکوں میں رقوم محفوظ کرنے کے حوالے سے اعداد و شمار کے مطابق سرفہرست 5 بینکوں کا حصہ 52.3 فیصد رہا جبکہ اسی ضمن میں چھوٹے بینک بڑے بینکوں کے مقابلے میں زیادہ منافع کی پیشکش پر انحصار کر رہے ہیں۔

6 سے 10 نمبر کے بینکوں میں ڈپوزٹ کا شیئر 23.9 فیصد رہا جبکہ 11 سے 20 نمبر کے بینکوں میں 19.19 فیصد اور 21 سے 28 فیصد بینکوں میں 2.6 فیصد رقوم جمع کروائی گئیں۔

چھوٹے بینکوں کے ڈپوزٹ میں کمی بیسل معاہدے کی وجہ سے سامنے آئی، تاہم ایسے میں اپنی خراب کارکردگی کے ساتھ منسلک خطرات کو کم کرنے کے لیے انہیں اپنی بیلنس شیٹ بہتر کرنے یا پھر بڑے بینکوں کے ساتھ الحاق کرنے کی ضرورت ہے۔