- الإعلانات -

چین سے کرنسی معاہدہ، زرمبادلہ ذخائر، ادائیگی توازن بہترہوگا

اسلام آباد: پاکستان اور چین کے درمیان کرنسی سویپ ایگریمنٹ کے تحت دونوں ممالک کی مقامی کرنسی میں دوطرفہ تجارت کو فروغ دینے سے زرمبادلہ کے ذخائر اور ادائیگیوں کے توازن میں سہولت ملے گی۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ مقامی کرنسی میں تجارت کیلئے حجم دس ارب یوآن سے بڑھا کر بیس ارب یوآن کرنے پرگزشتہ دور حکومت میں اتفاق ہوا تھا، پاکستانی کرنسی میں تجارت کیلئے کرنسی سویپ کا سائز 165 ارب روپے سے بڑھا کر 351 ارب روپے کرنے ہر اتفاق ہوا تھا۔ذرائع کے مطابق وزیراعظم عمران خان کے دورہ چین کے دوران دونوں ممالک کے درمیان اس کرنسی سویپ ایگریمنٹ کے آپریشنل ہونے پر اطیمنان کا اظہارکیا گیا ہے۔

پاکستان و چین کے درمیان مقامی کرنسیوں میں تجارت بڑھنے سے نہ صرف زرمبادلہ ذخائر پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے بلکہ ادائیگیوں کے توازن کے حوالے سے بھی سہولت ملے گی اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔ذرائع کا کہنا ہے روپے کو ڈالرکی قید سے آزاد کرانے کیلئے پاکستان کو ڈالر اکانومی سے نکلنے کیلئے کوششیںکرنا ہوںگی اور ڈالر کے علاوہ دیگرکرنسیوں میں تجارت کو فروغ دینا ہوگا ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے روپے کو بہت سنبھالا ملے گا تاہم امریکی دباؤ بڑھے گا ۔ذرائع کا مزیدکہنا ہے کہ وزیراعظم اور انکی ٹیم کے حالیہ دورہ چین کے ملکی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونگے۔دونوں ممالک کے درمیان آزادانہ تجارتی معاہدے کے دوسرے مرحلے کو جلد حتمی شکل دینے اور دونوں ممالک کے درمیان سروسزکے شعبہ میں تجارتی معاہدہ سے پاکستان کا چین کے ساتھ تجارتی توازن بہتر ہوگا ۔ذرائع کے مطابق آزادانہ تجارتی معاہدہ کے دوسرے مرحلے میں پاکستان کی جانب سے چین وہی سہولیات مانگی جا رہی ہیں جو چین کی طرف سے آسیان ممالک کو دی گئی ہیں ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس وقت ہاکستان کا چین سے در آمدی بل تیرہ ارب ڈالرکے لگ بھگ ہے جبکہ اسکے مقابلہ میں برآمدات بہت کم ہیں۔ اگر چین کی جانب سے ہاکستانی مصنوعات کیلئے بھی آسیان ممالک والی سہولیات مل جاتی ہیں تو اس سے برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا ۔ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان کی جانب سے انفارمیشن اینڈکمیونیکیشن پراڈکٹس کے حوالے سے بھی اہم ڈویلپننٹ ہوئی جس سے ملکی معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکنالوجی بیسڈ سلوشن کے ساتھ ساتھ آٹومیشن کو فروغ دینے میں مدد ملے گی۔