- الإعلانات -

ایف بی آر کا اربوں کی ٹیکس چوری میں ملوث بلڈرز و اداروں کیخلاف کریک ڈاؤن شروع

اسلام آباد:فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے مبینہ طور پراربوں روپے کی ٹیکس چوری میں ملوث200 بلڈرز، اداروں و ٹیکس دہندگان کیخلاف کریک ڈاؤن شروع کردیا ہے۔

پی ٹی آئی کے رہنما اعظم سواتی کے بھتیجے کی کمپنی کے دفتر پر چھاپہ مارکر ریکارڈ قبضے میں لے کر 3 ارب روپے کی ٹیکس چوری کا سُراغ لگالیا۔ پہلے مرحلے میں ایف بی آر کے ماتحت ادارے ریجنل ٹیکس آفس اسلام آبا کی ٹیم نے 5 بڑے اداروں کے دفاتر پر چھاپے مار کر ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے اور ابتدائی تحقیقات کے دوران 2 درجن کے قریب بے نامی بینک اکاؤنٹس کا انکشاف ہوا ہے۔

ذرائع کے مطابق ریجنل ٹیکس آفس اسلام آباد کی ٹیم نے ریئل اسٹیٹ ڈویلپرریڈ سن، ٹاپ سٹی، نیو سٹی کے علاوہ ڈپلومیٹک انکلیو میں قائم گرین اسکول، مدینہ کیش اینڈ کیری کے ہیڈ آفس پر چھاپے مار کر تمام ریکارڈ قبضے میں لے لیا ہے اور ان کیخلاف باقاعدہ تحقیقات شروع کردی گئی ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریئل اسٹیٹ کے کاروبار سے منسلک ریڈ سن نامی کمپنی کے دفتر پر چھاپہ مار کر قبضے میں لیے جانے والے ریکارڈ کی چھان بین کے دوران ٹھوس شواہد سامنے آئے ہیں۔

تحقیقات انکشاف ہوا ہے کہ ریڈ سن کے مالک شاہد چن زیب نے اسلام آباد کی 2 بڑی اہم ہاؤسنگ سوسائٹیوںمیں مجموعی طور پر ڈیڑھ ارب روپے مالیت کے 2 قیمتی کمرشل پلاٹ خریدے جو ظاہر نہیں کیے گئے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ریڈ سن کے مالک شاہد چن زیب کے بھائی ماجد پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر حالیہ انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ(ن)کے تاحیات قائد میاں نوازشریف کے داماد کیپٹن صفدر کے بھائی سجاد کے مقابلے میں الیکشن بھی لڑچکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ایف بی آرنے ریڈ سن کے 23 خفیہ و ان ڈکلیئرڈ بینک اکاونٹس بھی پکڑ لیے ہیں جن میں 12 ارب روپے سے زائد کی ٹرانزیکشن ہوئی ہے۔

قبضے میں لیے جانے والے ریکارڈ کے مطابق ریڈ سن کے مالک نے اپنے اور اپنی کمپنی کے 5 بینک اکاونٹس ڈکلئیر کررکھے تھے جن کے ذریعے لین دین ہورہی تھی جبکہ 2 ارب روپے کے لگ بھگ ریونیو ڈکلیئر کررکھا تھا ، کیس کی تحقیقات کے دوران مذکورہ بلڈرز کی جانب سے 3 ارب روپے کے لگ بھگ ٹیکس چوری سامنے آئی ہے اور مزید تحقیقات جاری ہیں۔

اس بارے میں جب ایف بی آر کے سینئر افسر سے رابطہ کیا گیاتو انھوں نے ان چھاپوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ریڈ سن کی جانب سے آر ٹی او اسلام آباد کی ٹیم کے چھاپے اور سرچ وارنٹ کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا تھا جس پر ایف بی آر کی ٹیم نے گذشتہ روز عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروادی ہے جس میں کیس کی مذکورہ تمام تر تفصیلات سے آگاہ کیا گیا ہے۔

اس کے علاوہ مدینہ کیش اینڈ کیری سے قبضے میں لیے گئے ریکارڈ کی چھان بین کے دوران بھی اربوں روپے کی ٹرانزیکشن سامنے آئی ہیں اور ان کے خلاف بھی مزید چھان بین جاری ہے، ڈپلومیٹک انکلیو میں واقع گرین اسکول اور ٹاپ سٹی و دیگر بلڈرز و اداروں کے دفاتر سے قبضے میں لیے گئے ریکارڈ کی بھی چھان بین جارہی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان اداروں کیخلاف کاروائی قانون کے مطابق کی گئی ہے اور پہلے تحقیقات کے دوران شواہد حاصل کیے گئے جنکی بنیاد پر سرچ وارنٹ حاصل کرکے باقاعدہ چھاپے مارے گئے۔