کالم

مسئلہ کشمیر۔۔۔بھارتی مذموم عزائم اورپاکستان کی موثرحکمت عملی

پاکستان نے بھارت کووہ جواب دیاہے جس کا شاید خام وخیال میں بھی نہیں سوچ سکتاتھا، چونکہ بھارت کی جانب سے حالات اتنے خراب کئے جاچکے ہیں کہ اس کی لپیٹ میں پوراخطہ آسکتاہے پاکستان نے ہمیشہ سے مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے، اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت اور تیسرے فریق کی شمولیت سے یہ مسئلہ حل کیاجائے لیکن بھارت نے اس مسئلے کے حل کرنے کے راستے میں ہمیشہ روڑے ہی اٹکائے ،جب بھی یہ مسئلہ حل ہونے کے قریب آتا ہے تو وہ کوئی نہ کوئی اورمسئلہ کھڑاکردیتا ہے جس طرح اس مرتبہ جب امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ نے ثالثی کی پیشکش کی تو اس نے آئین کی شقیں بھی تبدیل کرکے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت ختم کرکے رکھ دی جس سے خطے میں آگ بھڑکنا شروع ہوگئی چونکہ لداخ کامسئلہ چین کے ساتھ ہے اس وجہ سے چین بھی سامنے آگیا ہے ، پاکستان نے ان حالات کے پیش نظر بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کاحکم دیا اورساتھ ہی اپنے ہائی کمشنر کوواپس بلانے کاکہہ دیا ہے ،وزیراعظم نے سفارتی سطح پر مسئلہ کشمیر کو حل کرنے کی کوششیں شروع کردی ہیں اس سلسلے میں ان کے مختلف ممالک کے سربراہوں سے رابطے بھی ہورہے ہیں اور پاکستان ابھی تک یہ کوشش کررہا ہے کہ کسی نہ کسی طرح مسئلہ کشمیر کو مذاکرات کے ذریعے حل کیاجائے ۔ گزشتہ روزوزیر اعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس ہوا ۔ وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر داخلہ اعجاز شاہ، وزیر دفاع پرویز خٹک سمیت مسلح افواج کے سربراہان، ڈی جی ;200;ئی ایس ;200;ئی، ڈی جی ایم او اور دیگر حکام شریک ہوئے ۔ پاکستان نے بھارتی ہائی کمشنر کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے جبکہ پاکستان نے نئی دلی میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو بھی واپس بلا لیا ہے ۔ قومی سلامتی کمیٹی نے مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے، بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ وزیر اعظم نے ایل او سی پر مسلح افواج کو تیار رہنے کی ہدایت کردی ہے ،اجلاس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال غور کیا گیا ۔ اجلاس کے بعد پانچ نکاتی اعلامیہ جاری کیا گیا جن میں کہا گیا ہے اجلاس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کرنے کا فیصلہ کیا گیا اس کے ساتھ ساتھ بھارت کے ساتھ دو طرفہ تجارت معطل اور باہمی معاہدوں کا دوبارہ جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اعلامیے کے مطابق پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھانے اور 14 اگست کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منانے اور 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ۔ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے بھارت کی بہیمانہ نسلی نظریات پر مبنی پالیسیاں عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے تمام سفارتی راستے اختیار کرنے کی بھی ہدایت کی ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ بھارتی اقدامات سے مقبوضہ کشمیر کی صورت حال انتہائی خراب ہورہی ہے اور بھارتی عزائم داخلی و خارجی سطح پر عیاں ہوچکے ہیں ، بھارت اپنی ناکامیوں کو چھپانے کیلئے پریشانی میں پرخطر ;200;پشنز اختیار کرسکتا ہے ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا کہ مقبوضہ کشمیر میں اضافی بھارتی فوج جلتی پر تیل چھڑکنے کے مترادف ہے، بھارتی عزائم خطے میں تشدد بڑھا کر اسے فلیش پوائنٹ بناسکتے ہیں ، بھارت اوچھے ہتھکنڈے چھوڑ کر تنازعے کے پرامن حل کی طرف بڑھے ۔ دوسری جانب قومی سلامتی کمیٹی نے مقبوضہ کشمیر کی تشویشناک صورتحال کے حوالے سے وزیر اعظم کی بنائی گئی کمیٹی کو اہم امور سونپ دئیے ہیں ،وزیر دفاع پرویز خٹک کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کی بنائی گئی کمیٹی تمام قانونی امور کا جائزہ لے کر اپنی سفارشات پیش کریگی، فی الحال بھارت کے ساتھ تعلقات نچلی سطح پر لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ ادھر وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ ہمارے سفیر اب نئی دہلی میں نہیں ہوں گے،ان کے سفیر کو بھی جانا ہو گا ۔ ہم نے او ;200;ئی سی سے بھی رابطہ کیا انہوں نے بھی تشویش کا اظہار کیا، 5اگست کو بھارت نے کچھ اقدامات کیے جن کی فی الفور مذمت کی گئی ۔ ;200;ج ہر کشمیری بچہ یونین کے بجائے پاکستان کی طرف دیکھ رہا ہے اور کشمیری پاکستانی پارلیمان کا فیصلہ سننے چاہتے ہیں ، تمام ارکین اسمبلی بشمول اپوزیشن نے ثابت کیا کہ کشمیر کاز پر ہم سب متفق ہیں بھارت کو حکومتی فیصلوں سے آگاہ کردیا گیا ہے ۔ نیز وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت حکومتی ترجمانوں کا اجلاس بھی ہوا جس میں مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال اور ملکی سیاسی صورتحال کا جائزہ لیا گیا،وزیراعظم نے اجلاس میں کشمیر کی صورتحال پر حکومتی ترجمانوں کو ہدایات دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان ہر سطح پر کشمیریوں کا کیس لڑے گا، پاکستان مقبوضہ کشمیر میں ہونے والے مظالم پر خاموش نہیں رہ سکتا ۔ دریں اثناء وزیراعظم عمران خان نے برطانیہ کے نومنتخب وزیراعظم بورس جانسن سے ٹیلی فونک رابطہ کیا اور مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا ۔ اِدھر مقبوضہ کشمیر میں بھارتی اقدام کے خلاف کشمیری عوام سڑکوں پرنکل آئے اورزبردست احتجاج کیا،قابض فورسز نے احتجاجی مظاہرین پراندھادھندفائرنگ کی، پیلٹ گنوں کا استعمال کیا اورآنسو گیس کے شیل بھی برسائے جس کی وجہ سے چھ نہتے معصوم کشمیریوں نے جام شہادت نوش کیا جبکہ سو سے زائد مظاہرین شدید زخمی ہوگئے جن میں سے متعدد کی حالت نازک بتائی جاتی ہے، وادی میں حالات انتہائی کشیدہ ہوچکے ہیں وہاں پر بدستورکرفیونافذ ہے ،بازاربندہیں ، انٹرنیٹ ،موبائل اور ریلوے کی سروس معطل کردی گئی ہے ،پوری کشمیری آبادی کادنیابھرسے رابطہ منقطع کردیاگیا ہے تاکہ بین الاقوامی برادری کو یہ علم نہ ہوسکے کہ بھارت وہاں پرنہتے معصوم کشمیریوں کے خون کی ہولی کس طرح کھیل رہاہے ۔ بھارتی دہشت گرد فوج کشمیریوں کو گھر سے نکال کرگرفتارکررہی ہے اورانہیں شہید کیاجارہاہے یہ وقت ہے کہ بین الاقوامی برادری اس جانب توجہ دے اگراب بھی اس نے اس مسئلے کوحل نہ کیاتو وہ یہ نہ سوچے کہ اگر جنگ ہوئی تو یہ صرف پاکستان اوربھارت کے مابین نہیں بلکہ پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی لہٰذا مودی کواُس کے مذموم عزائم کوتکمیل پہنچانے سے روکاجائے اسی میں سب کی بہتری ہوگی ۔

مسئلہ کشمیر۔۔۔بین الاقوامی برادری توجہ دے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات ‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ بھارت کے ساتھ تجارتی یا سفارتی تعلقات رکھنا کشمیریوں کے ساتھ زیادتی ہوگی،یہ دیکھنا ہوگا کہ حکومت پاکستان مقبوضہ کشمیر مسئلے کو عالمی سطح پر کیسے اٹھاتی ہے،ساری دنیا ہمارا مشترکہ پارلیمنٹ اجلاس دیکھ رہی ہوتی ہے، ہمارے پارلیمنٹریز کو اس بات کا خیال نہیں ہوتا اور ایک دوسرے کے خلاف بولتے رہتے ہیں ، ہمارا بیرونی دنیا میں یہ پیغام جانا چاہیے کہ ہم ایک ہیں ، حکومت پاکستان کو چین کو اعتماد میں لینا چاہیے اور بین الاقوامی برادری کوبھی اس جانب توجہ دینی چاہیے ۔ پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جنرل (ر)عبد القیوم نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر والا مسئلہ بڑا سنجیدہ ہے ہم سب کو اکٹھا ہونا چاہیے، بہتر فارن پالیسی کا انحصار ملک کے اندرونی اتحاد پر ہوتا ہے، وزیراعظم پارلیمنٹ میں لیٹ آئے مگر ان کی تقریر اچھی تھی ،وزیراعظم کو غیر ملکی دورے کرنے چاہئیں اورمسئلہ کشمیر کو اجاگر کرنا چاہیے، مقبو ضہ کشمیر مسئلہ پر بھارت سے بھی آوازیں آنا شروع ہوگئیں ہیں ، اگر وزیراعظم کو دوبارہ امریکہ جانا پڑے تو وہ ضرور جائیں ،ہ میں بارڈر پر بھی ہوشیار رہنا ہوگا، سیکولر انڈیا کا خواب چکنا چور ہوگیا ہے،پاکستان میں اقلتیوں کی عزت کی جاتی ہے مگر بھارت میں ایسا نہیں ہے ۔

جنوبی پنجاب کے ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن

عوام کی صحت ، خوراک اور جان و مال کا تحفظ بنیادی طورپر حکومت کی ذمہ داری ہے ۔ موجودہ پنجاب حکومت صحت کے معاملے میں اپنے فراءض سے پوری طور پر آگاہ ہے اور اس شعبے میں اپنی پوری توانائیاں صرف کر رہی ہے ۔ ماضی میں ہسپتالوں کی حالت زار کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ۔ غفلت حکومتی اقدامات کی ہو یا ڈاکٹروں کی بھگتنا غریب عوام کوہی پڑتا ہے ۔ گزشتہ دورحکومت میں گورنمنٹ ہسپتالوں میں ایک ہی بیڈ پر کئی مریض موجود ہوتے تھے اور پینے کا صاف پانی بھی میسر نہیں تھا ۔ صفائی کے ناقص انتظامات پر بھی ہسپتالوں کی انتظامیہ نے چپ سادھ لی تھی ۔ مگر اب وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کی سربراہی میں صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر یاسمین راشد کی شب و روز محنت رنگ لا رہی ہے اور عوام کی صحت پر اس کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں ۔ عثمان بزدار نے کئی بار ہسپتالوں کے دورے کئے ۔ لاہور کے علاوہ راولپنڈی، اور خاص طور پر جنوبی پنجاب میں ملتان ، بھاولپوراور رحیم یار خان کے ہسپتالوں کے دورے کئے ۔ ہسپتالوں میں مریضوں کے لئے سہولیات میں مزید اضافے اور مریضوں کی کثیر تعداد کے باعث زیادہ گنجائش پیدا کرنے کی ہدایت کی ۔ شعبہ صحت کی ترقی اور مریضوں کو جدید طبی سہولیات کی دہلیز پر فراہمی موجودہ حکومت کی ترجیحات میں سر فہرست ہے اسی مقصد کے لئے بجٹ میں خاطر خواہ فنڈز رکھے گئے ہیں ۔ حکومت پنجاب نے شعبہ صحت کی ترقی و استحکام کے لئے موجودہ مالی سال میں 308،ارب روپے کا تاریخ ساز بجٹ مختص کیا ہے جو گزشتہ حکومت کے ہیلتھ بجٹ سے 8;46;4فیصدزیادہ ہے اورصوبہ بھر کے مختلف اضلاع میں 9نئے ہسپتالوں کے قیام کے علاوہ موجودہ ہسپتالوں کی اپ گریڈیشن کے منصوبے مکمل کئے جائیں گے ۔ اس مالی سال میں صوبہ کے سرکاری ہسپتالوں میں اڑھائی ہزار بیڈز کا اضافہ ہوگا ۔ جدید سہولتوں سے آراستہ نئے ہسپتال لیہ،میانوالی،رحیم یار خاں ، بہاولپور،ڈیری غازی خاں ، ملتان،راولپنڈی اورلاہور میں بنائے جائیں گے ۔ رواں مالی سال کے بجٹ میں 2ارب روپے ہیلتھ کارڈکے اجراء کے لئے مختص کئے گئے ہیں اور اس سال پنجاب کے 36اضلاع میں 72لاکھ ہیلتھ کارڈ جاری کئے جائیں گے جس کی بدولت 3سے 4کروڑ لوگ علاج معالجہ کی سہولتوں سے مستفید ہونگے اوردوسرے شہروں سے علاج کے لئے آنے والے مریضوں کو ایک ہزارروپے کرایہ بھی دیا جائے گا ۔ وزیر اعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ صحت انصاف کارڈ غریبوں کے لیے امید کی کرن ہے ۔ غریبوں کو اسپتال لانے لے جانے کے اخراجات بھی حکومت برداشت کرے گی ۔ صحت انصاف کارڈ پاکستان کی تاریخ کا ایسا منصوبہ ہے جس کی مثال نہیں ملتی ۔ ہیلتھ کارڈ کے ذریعے ہر قسم کی سرجری اور کنسلٹینسی سمیت تمام سہولتیں مہیا ہوں گی ۔ کارڈ رکھنے والا معیاری اسپتال میں علاج کروا سکتا ہے ۔ صحت کارڈ کے ذریعے 7 لاکھ 20 ہزار روپے کا علاج ممکن ہے، اسے بڑھایا بھی جاسکتا ہے ۔ صحت انصاف کارڈ سے 3 کروڑ افراد مستفید ہوں گے ۔ اس کے علاوہ صوبائی ہیڈ کوارٹرز پر پیڈیاٹرک اینڈ چائلڈہیلتھ یونیورسٹی بھی بنائی جارہی ہے جس کا مقصد بچوں کی شرح اموات پر تحقیق کرنا ہے ۔ صوبہ میں ٹی بی کے مریضوں کی سکریننگ کے بعد ایچ آئی وی ایڈز ظاہر نے پر 350مریضوں کو ادویات فراہم کی جارہی ہیں اور ہر ضلع میں ایڈز کنٹرول پروگرام کے تحت سنٹر بھی قائم کریں گے ۔ عثمان بزدار نے ہدایت کی کہ وطن عزیز کو پولیو فری بنانے کے لئے میڈیا نمائندگان شعور اجاگر کریں اور بچوں کو پولیو سے بچاوَ کی ویکسین ہر بار لازمی پلوانے،کھانا کھانے سے قبل ہاتھ دھونے،ابلا ہوا پانی استعمال کرنے کا پیغام والدین تک پہنچائیں تاکہ مشترکہ کاوشوں سے مطلوبہ نتاءج حاصل کئے جاسکیں ۔ حکومت پنجاب میں سوشل سیکٹر کی ترقی و استحکام پر خصوصی توجہ دے رہی ہے جس میں ہیلتھ اور ایجوکیشن کے شعبوں کی ترقی سرفہرست ہے ۔ وزیراعلیٰ عثمان بزدار نے کھڈیاں اور مصطفیٰ آباد کیلئے ریسکیو 1122 سروس کا بھی افتتاح کیا اور تحصیل کمپلیکس کوٹ رادھا کشن کی تعمیر کے منصوبے کا سنگ بنیاد رکھا ۔ اس پراجیکٹ کا تخمینہ ایک کروڑ 20 لاکھ ڈالر لگایا گیا تھا ۔ شفافیت کی پالیسی پر عملدرآمد کرتے ہوئے اس منصوبے کو صرف سات ماہ کی قلیل مدت میں پایا تکمیل تک پہنچایا گیا ۔ حکومت پنجاب صوبے میں صحت کی سہولیات کی بہتری پر بھرپور توجہ دے رہی ہے اور ایسا نظام وضع کیا جا رہا ہے جس سے مریضوں کو شہری اور دیہی علاقوں میں یکساں بنیادوں پر معیاری طبی سہولیات میسر آئیں ۔

یوم یکجہتی کشمیر اور عالمی ذمہ داری!

پاکستان کا ہمیشہ سے یہ موقف رہا ہے کہ تنازعہ کشمیر کے عملی طور پر تین فریق ہیں ، پاکستان، کشمیری عوام اور بھارت، اور اس تنازعہ کو محض اقوام متحدہ کی منظور قرار دادوں کے مطابق ہی حل کیا جا سکتا ہے ۔ جب تک کشمیریوں کو حقِ خود ارادیت نہیں دیا جاتا، تب تلک کوئی یکطرفہ فارمولہ پاکستان و کشمیری عوام کو کسی صورت قبول نہیں ۔ یہ بات بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اس مسئلے کو بھارت خود اقوام متحدہ میں لے کر گیا تھا اور اس وقت کے بھارتی وزیراعظم نے اعلانیہ طور پر اقرار کیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر کو کشمیریوں کی خواہش کے مطابق ہی حل کیا جائے گا ۔ یہ الگ بات ہے کہ بعد ازاں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ہندوستانی حکمرانوں ان وعدوں سے منحرف ہوتے چلے گئے ۔ مگر اس سب کے باوجودآرٹیکل 370 اور 35-;65; بھارتی آئین کا حصے رہے جس کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو خصوصی درجہ حاصل ہے، ریاست مقبوضہ کشمیر کو اپنا آئین بنانے، اسے برقرار رکھنے، اپنا پرچم رکھنے اور دفاع، خارجہ و مواصلات کے علاوہ تمام معاملات میں آزادی ہے ۔ بھارتی آئین کی جو دفعات و قوانین دیگر ریاستوں پر لاگو ہوتے ہیں وہ اس دفعہ کے تحت ریاست مقبوضہ کشمیر پر نافذ نہیں کیے جا سکتے ۔ ان آرٹیکل کے تحت کسی بھی دوسری ریاست کا شہری مقبوضہ کشمیر کا شہری نہیں بن سکتا اور نہ ہی وادی میں جگہ خرید سکتا ہے ۔ اس تناظر میں انسان دوست حلقوں کا کہنا ہے کہ دہلی سرکار نے 5 اگست کو اپنی دیرینہ مکروہ روش کا مظاہرہ کرتے ہوئے جس طرح تمام انسانی، اخلاقی اور قانونی ضابطوں کو پامال کیا، اس پر بجا طور پر پوری قوم میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ اسی پس منظر میں پاکستان نے ایک جانب مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں لے جانے کا عزم ظاہر کیا ہے تو دوسری طرف بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود اور تجارتی تعلقات معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ اس سلسلے میں بھارتی ہائی کمشنر اجے بساریہ کو پاکستان چھوڑنے کا حکم جاری کر دیا گیا ہے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ بھارت میں تعیناتی کیلئے نامزد پاکستانی ہائی کمشنر معین الحق کو جانے سے روکا گیا ہے ۔ واضح رہے کہ پاکستان و ہندوستان کے مابین دوطرفہ معاہدوں کا از سر نو جائزہ لیا جا رہا ہے ، علاوہ ازیں 14 اگست کو کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جائے گا جبکہ بھارتی یوم آزادی یعنی 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ پارلیمنٹ میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کیخلاف مذمتی قرارداد بھی متفقہ طور پر منظورکی گئی ہے ۔ قرار داد میں کہا گیا ہے کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کا یکطرفہ فیصلہ کسی طرح قابل قبول نہیں کیونکہ یہ پاکستان بھارت کے مابین ایک متنازع علاقہ ہے ۔ قرار داد میں مزید کہا گیا کہ پاکستان ہر طرح کے حالات میں نہتے کشمیریوں کے ساتھ کھڑا ہے ۔ اس سلسلے میں پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بھی دو دن جاری رہا ۔ قومی سلامتی کمیٹی اجلاس کے اعلامیے میں 5 فیصلوں کا ذکر کیا گیا ہے جو کہ درج ذیل ہیں :1 ۔ بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات محدود کئے جائیں گے ۔ 2 ۔ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت معطل کی جائے گی ۔ 3 ۔ دو طرفہ معاہدوں کا از سر نو جائزہ لیا جائے گا ۔ 4 ۔ مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اٹھایا جائے گا ۔ 5 ۔ ملک کے طول و عرض میں 15 اگست کو یوم سیاہ کے طور پر منایا جائے گا ۔ وزیراعظم نے بھارت کی بہیمانہ نسلی نظریات پر مبنی پالیسیاں عالمی سطح پر بے نقاب کرنے کے لیے تمام سفارتی راستے اختیار کرنے کی بھی ہدایت جاری کی ہے ۔ اس سے قبل پاک افواج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ بھی کہہ چکے ہیں کہ ہم کشمیریوں کی جدوجہد کے ساتھ ہیں اور اس سلسلے میں آخری حد تک جائیں گے ۔ کسے معلوم نہیں کہ گزشتہ برسوں میں بھارت کی ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں ایک لاکھ سے زائد نہتے کشمیری اپنی جانوں کی بازی ہار چکے ہیں اور بھارتی درندگی کا یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ ایسے میں اگر عالمی برادری نے مزید چشم پوشی سے کام لیا تو اس کے اثرات نہ صرف پورے خطے کو متاثر کرینگے بلکہ پورا عالمی امن لپیٹ میں آ سکتا ہے ۔

مائی گوماں اور عمرہ

یہ میرے بچپن کا چشم دید واقع ہے جو میرے دل ، دماغ پر ثبت ہے ۔ ہم مارٹن روڈ کراچی میں رہتے تھے گھر میں ایک پچاس برس کی اماں کام کرنے آیا کرتی وہ برتن دھونے اور کپڑے دھونے کیلئے ملازم تھی ۔ والدہ مرحومہ اسے بچا کھچا کھانا بھی دے دیتی ۔ ہمارے گھر میں مرفی ریڈیو تھا جو کارنس پر رکھا ہوتا جس پر میز پوش کی طرح کا کڑھائی کیا ہوا رومال یا کپڑا پڑا ہوتا جو ریڈیو کو گردوغبار سے محفوظ رکھتا ۔ چھٹی والے دن ہماری خواہش ہوتی کہ ریڈیو سیلون پر نشر ہونے والے گانے سنے جائیں جو اکثر لتا منگیشتر اور محمد رفیع کی آواز میں ہوتے آٹھ بجے شام کی نیوز شکیل احمد مرحوم کی آواز میں ریڈیو پاکستان کراچی سے بلا ناغہ بڑے اہتمام سے سنی جاتیں ۔ ریڈیو کے نامور آرٹسٹ جیسے طلعت حسین ، قاضی واجد، شکیل احمد سلیم احمد وغیرہ ہمارے گھر کے قریب ہی رہتے تھے ۔ رضوان احمد صاحب کا گھر تو ہمارے بالکل سامنے تھا ۔ مارٹن روڈ کراچی کا ذکر کرتے ہوئے سنہری یادوں کے دریچے کھلتے ہوئے محسوس ہورہے ہیں ۔ بچپن اور جوانی کا حصہ جہاں گزرا ہو وہ جگہیں واقعات اور لوگ کیسے بھلائے جاسکتے ہیں ۔ اللہ کا نظام بھی کیا خوب ہے دماغ کے کونے میں یادیں جمع رہتی ہیں جب چاہیں سیکنڈ کے بھی قلیل ترین حصے میں وہ اجاگر کی جاسکتی ہیں ۔ سب کچھ یوں آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے جیسے برسوں پہلے کی نہیں کچھ ہی عرصہ پہلے کی بات ہو ۔ بہرحال مائی گوماں گھر کا کام ختم کرنے کے بعد میری والدہ کے ساتھ کچھ دیگر گپ شپ لگا کر پھر دوسرے گھر چلی ج اتی اسکی خوبی یہ تھی کہ وہ کبھی کسی گھر کی بات دوسرے گھر میں جاکر نہ کرتی اسباب کو وہ بہت بڑا گنا کہتی ان پڑھ ہونے کے باوجود وہ بڑی سمجھداری کی باتیں کرتی ۔ اسکی موجودگی میں جب کبھی ریڈیو سے خصوصاً جمعہ کے دن نعت نشر ہوتی تو وہ مکہ اور مدینہ شریف کا نام سن کر ہاتھ میں پکڑے جھاڑو کو پھینک دیتی گم سم اپنے میلے کچیلے ڈوپٹے کے پلو سے آنکھوں سے بے ساختہ بہتے ہوئے آنسو بھی بار بار پونچھتی رہتی ۔ ایک دفعہ پنجابی زبان کی نعت کسی غیر معروف نعت خواں کی آواز میں نشر ہورہی تھی جسکا مفہوم کچھ یہ تھا کہ اپنے کمزور مالی حالات کیوجہ سے میرا مدینے کا سفر نہیں ہورہا کوئی وسیلہ بن جائے تو میں بھی حاضری دے دوں ۔ اماں گوماں ہر مصرعے پر آمین کہتے ہوئے روتی رہی ۔ ہم اگرچہ سکول میں پڑھ رہے تھے لیکن گھر کا ماحول کچھ ایسا تھا کہ شعر، شاعری سننے کو ضرور ملتی ۔ میں اور میرا چھوٹا بھائی مرحوم مائی گوماں کو دیکھتے رہے کچھ زیادہ سمجھ نہ آیا کہ وہ اتنے آنسو کیوں بہارہی ہے ۔ نعت جب ختم ہوئی تو وہ میری والدہ سے کہنے لگی بی بی دعا کرو میں بھی مدینے جاءوں والدہ نے بڑے جوش سے کہا آمین اللہ تمہیں مکے ، مدینے کی زیارت کرائے ، مائی گوماں اپنا کام ختم کرکے دعائیں دیتی ہوئی چلی گئی ۔ بات آئی گئی ہوگئی ۔ تین چار ماہ کا عرصہ بھی نہیں گزرا ہوگا کہ ایک دن جب وہ ہمارے گھر میں کام کرنے آئی تو اس نے میری والدہ سے کہا بی بی میں عمرہ کرنے جارہی ہوں سرکار;248; نے میرا بندوبست کردیا ہے والدہ نے اسے مبارکباد دی اور تفصیل پوچھی تو اس نے کہا میں گرو مندر کے قریب ایک کوٹھی میں بھی کام کرتی ہوں وہ صاحب بہت نیک انسان ہیں ۔ میاں بیوی عمرے کیلئے جارہے ہیں انہوں نے میرے اور میرے گھر والے کے ٹکٹ کا بندوبست بھی کردیا ہے ۔ باہر جانے کیلئے کاپی یعنی پاسپورٹ بھی بنوا دیا ہے ہم اب ان کے ساتھ اتوار کو جارہے ہیں آپ کیلئے بھی دعا کروں گی ۔ والدہ اسکی قسمت پر رشک کرنے لگی ظاہراً مالی ذراءع نہ ہونے کے باوجود سب ذراءع بن گئے ۔ نیت اور تعلق کی بات ہے ۔ بے ساختہ دل کی گہرائیوں سے نکلنے والے آنسو مائی گوماں کی مکہ اور مدینہ شریف کی حاضری کا سبب بن گئے ۔ وسائل نہ بھی ہوں پھر بھی محبت اور عقیدت خود وسائل پیدا کرلیتے ہیں ۔ دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے کے مصداق اس ان پڑھ جاہل عورت کو نہ تو دین کا اتنا پتہ تھا نہ ہی وہ مذہبی باریکیوں کو جانتی تھی وہ صرف عشق مصطفی;248; میں تھی دل اتنا گراز تھا کہ مکے اور مدینے کا سن کر اسکی آنکھیں چھلک اٹھتی چہرے پر طمانیت ہوتی ۔ جب وہ عمرہ کرنے کے بعد واپس آئی تو اسکے چہرے پر پاکیزہ چمک نمایاں تھی ۔ اسکا کہنا تھا کہ میں اب ہر وقت ہی سرکار;248; کے روضے کی جالیوں کے سامنے ہوتی ہوں ۔ درود پاک کا ورد اور نماز کی پابندی مائی گوماں کا اوڑھنا بچھونا بن گیا ۔ وہ صحیح معنوں میں مائی صاحبہ بن گئی پھر گوماں کی جگہ لفظ مائی صاحبہ نے لے لی ۔ لوگ دعا کیلئے اس کے پاس آنے لگے ۔ اس کی دنیا ہی بدل گئی ۔ جس زمانے کی میں بات کررہا ہوں اس وقت کم کم لوگ حج اور عمرے کیلئے جاتے تھے ۔ وہ پہلے کردار سازی پر محنت کرتے فراءض ادا کرنے کو اولین ترجیح دیتے ، بے ضرر بن جاتے زبان بے دریغ استعمال کرنے پر محتاط ہوتے رزق حلال سے سفر مدینہ اختیار رکتے ۔ ان کے چہروں پر عمرہ کرنے یا یوں کہیے زیارت حرمین شریفین انکو یکسر بدل کر رکھ دیتی ۔ اس زمانے میں دو نمبر ذراءع سے پیسہ بنا کر حج یا عمرہ کرنا بہت بڑا گناہ سمجھا جاتا ۔ لوگ کہتے ہم کس منہ سے سرکار کے سامنے جائیں گے اگرحرام کمائی سے سفر کریں گے ۔ آہستہ آہستہ وقت بدل گیا اب ہر سال لاکھوں کی تعداد میں لوگ عمرہ کرنے جاتے ہیں اور لاکھوں لوگ حج کیلئے سفر اختیار کرتے ہیں ۔ بڑے بڑے سرمایہ دار سال میں متعدد بار عمرے کیلئے سعودی عرب جاتے ہیں لیکن مدینے کا مسافر شاید ہی یہ سوچتا ہوکہ اس نے کتنے دھوکے فریب اور جعل سازیوں سے پیسہ بنایا اور پھر اتنا مقدس سفر اختیار کرنے کیلئے کس ڈھٹائی سے کام لے رہا ہے ۔ کیا اللہ کی اور حضور;248; کی نگاہوں سے ان کے افعال پوشیدہ ہیں نہیں ہرگز نہیں وہاں جانے والوں کو اس بات کا ضرور خیال رکھنا چاہیے کہ زاد راہ حلال طریقے سے اکٹھی کی گئی ہو ۔ شراب، ذخیرہ اندوزی، بلیک منی کا کاروبار حرام ذراءع سے بنائی گئی دولت ، زبان کلام اور جسمانی بدکاریاں ، طرح طرح سے نفسانی خواہشات کی تکمیل میں ملوث زائرین کو ایک لمحے کیلئے سوچنا چاہیے کہ وہ کن کاموں میں الجھے ہوئے ہیں اور ان ذراءع سے کمائی کرکے دوات بنا کر وہ کس طرح اللہ اور اسکے محبوب;248; کی بارگاہ میں حاضر ہونے کیلئے بیباک ہیں ۔ توبہ کا دروازہ تو ہر وقت کھلا ہے انہیں چاہیے کہ اپنی غلطیوں کی معافی مانگ کر حج کا سفر اختیار کریں اور اللہ کے حضور پہنچ کر خلوص دل سے دعا کریں کہ آئندہ کی زندگی وہ تاریک راہوں سے دور رہ کر گزاریں گے ۔ واپسی پر وہ ایسے بے ضرر منضعت بخش خداخوف اور توبہ النوح کی زندگی والے ہوں گے کہ پھر معاشرہ حقیقت میں اسلامی معاشرہ کہلائے ۔ حج کرنے سے اگر سونا ، الیکٹرانک کا سامان ، جاپان اور کوریا کے بنے ہوئے کمبل ہی لانا ہیں تو پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔ حج یا عمرہ اگر تجارت اور منقعت کا ذریعہ بن جائے تو پھر کیا حاصل ۔ زندگی بدلنی چاہیے ۔ معمولات زندگی اور تعلقات زندگی میں مثبت تبدیلی آنی چاہیے ۔ مائی گوماں بننا مشکل نہیں صرف خلوص تعلق اور نیت میں پاکیزگی کا ہونا ضروری ہے ورنہ حاجی صاحب کہلوانے سے کیا فائدہ ۔ یہ یاد رکھیں حکم ماننے والے سے غلطی کے امکانات کم سے کم ہوتے ہیں ۔ اللہ کے احکامات مانیں ۔

قربانی

عالم اسلام کے موضوعی حالات مےں ،اپنے جلو مےں ہزاروں سوچےں ،صد ہا فکرےں ، بے انتہا کرب لےکرعےدالضحیٰ پھر آ گئی ۔ تا قےامت وقت کی گردش جاری رہے گی،مرور اےام دوڑتا رہے گا، صبح و شام اپنا سفر مکمل کرتے رہےں گے اور وقت گزرتا رہے گا ۔ وقت گزراں ہے کسی طور گزر جائے گا ۔ تہوار، موسم اور رتےں اسی طرح آتے رہےں گے لےکن ہر بار نئے انداز، نئے طوراور نئی طرح سے حالات،واقعات،حادثات احساس کو نےا زاوےہ، فکر کو نےا وزن اور خےال کو نئی جہت عطا کرتے رہےں گے ۔ عےد قربان اےک اشارےہ ہے ا;203; سے محبت کا،اس کےلئے ہر چےز کو تجنے کا اور اس کی راہ مےں ہر چےز قربان کرنے کا ۔ اس بارعےد قرباں نے مسلمانوں پر فکر کے کتنے ہی درےچے وا کر دیے ہےں ۔ اس موقع پر انفرادی اور اجتماعی سطح پر امت کو بہت کچھ سوچنا ہے، عمل کی اےک راہ متعےن کرنی ہے ۔ مسلمان تمام تر ذراءع کے حامل ہونے کے باوجود نکہت وادےار کی جس حالت سے گزر رہے ہےں ، عےد قربان ہمارےلیے پھر اخوت کا، ا;203; کی رضا کے حصول کا اور قربانی کا پےغام لے کر آتی ہے ۔ کےا ےہ نہےں ہو سکتا کہ عالم اسلام اس نئے اسلامی سال مےں حکمت عملی کی نئی جہت اپنائے ۔ اپنا تاج و تخت اور اقتدار بچانے کےلئے مسلمان حاکم کس کس کا دامن تھامے ہوتے ہےں ،صاحبان خےر کو سب اندازہ ہے لےکن بدلتے ہوئے زمانے مےں ، جوہر کی اس صدی مےں اب کسی کے سہارے اقتدار قائم رکھناناممکن نہےں تو مشکل ضرور ہے ۔ آج عام آدمی جاگ چکا ہے ۔ ذراءع ابلاغ نے دنےا کے کونے کونے کو حالات حاضرہ سے آگاہی بخش دی ہے ۔ اب وقت آگےا ہے کہ صاحبان اقتدار واختےار اپنے عوام کے بارے مےں سوچےں ۔ ےہی سوچ ان کی قربانی ہو گی اور عوام کی فلاح کےلئے اٹھاےا جانے والا ان کاہر قدم اےثار ہو گا ۔ سازشوں اورحکمت عملےوں کی بنا پر اقتدار کو کسی حد تک تو طول دےا جا سکتا ہے لےکن بغےر جذبہ قربانی کے دلوں پر حکومت نہےں کی جا سکتی ۔ آج عےد قرباں پکار پکار کر جذبہ قربانی کا اعادہ چاہتی ہے،صاحبان اقتدار سے بھی اور عوام سے بھی، مسلم امہ کوسنجےدگی سے سوچنا ہے کہ آج مسلمان ہونا’’جرم‘‘ کےوں قرار دےا جا رہا ہے;238; کےا ےہ درست نہےں ہے کہ مغربی ممالک مےں عام مسلمان خود کو ظاہر کرنے مےں اےک طرح کا ہراس محسوس کرتا ہے ۔ دہشت گردی،بغاوت، شدت پسندی،وحشت انگےزی سمےت ہر ناپسندےدہ عمل مسلمان سے منسوب کر دےا گےا ہے ۔ آخر کےوں ;238;غالباً ہم نے ا;203; کی رضا کو پس پشت ڈال دےا ہے اور قربانی کے اس جذبے کو فراموش کر دےا ہے جس نے مسلمانوں کو عالم کی سروری عطا کی تھی ۔ جو قومےں اپنے وجود، قومی تشخص اور ملی سربلندی کےلئے قربانی دےتی ہےں وہی عالم مےں سرفراز ہوتی ہےں ۔ تارےخ اےسی قوموں کے تذکرے سے پروقار بھی ہے اور سبق دہندہ بھی ۔ عےد قرباں پر مسلم امہ کو اےثار اور قربانی کا ےہ سبق پھر حرز جاں بنانا ہے اور عہد کرنا ہے کہ نفس امارہ کی قربانی دے کر ثابت کےا جائے گا کہ امت مسلمہ آج بھی اےثار وقربانی سے تہی نہےں ہے ۔ قربانی ہمےں اےثار کا سبق دےتی ہے لےکن افسوس اس سے ہم بحیثےت قوم بالکل بے بہرہ ہےں ۔ ہمارا اجتماعی اور انفرادی کردار کسی سے ڈھکا چھپا نہےں کونسی معاشرتی برائی ہے جو ہم مےں موجود نہےں ۔ ملاوٹ، ناجائز منافع خوری، جھوٹ، رشوت ستانی اور بھی بہت کچھ ۔ قربانی دےتے ہوئے خود کو دوسروں سے بڑھ کر پرہےز گار نےکو کار متقی ظاہر اور ثابت کر دےتے ہےں ۔ معاشرتی برائےوں کے ذمہ دار کہےں اور سے نہےں آتے وہ ہم خود ہےں ۔ ذرا اپنے کردار پر نظر دوڑائےں اور قربانی کے اصل مقصد اےثار کو مد نظر رکھےں تو معاشرہ بہت سی برائےوں سے پاک ہو سکتا ہے ۔ آج قربانی کے اس سبق پر بھی تدبر وفکر کرنے کی ضرورت ہے کےا ہم آداب فرزندی کی بھی تکمےل کر رہے ہےں ےا نہےں اور ہمےں اصول پدری سے بھی کماحقہ آگاہی ہے ۔ ہم اےثارو قربانی کے جذبے کے خالق اس معبود بر حق سے عالم اسلام کےلئے خےر کی دعا کرتے ہےں ۔ ا;203; تعالیٰ تو نے جس طرح ابراہےم علےہ سلام کو ان کی قربانی قبول کر کے سرخرو کےا،مسلم امہ کو ان کی قربانےوں کا صلہ عطا فرما ۔ تےرے نام لےوا اس کرہ ارض کے مختلف خطوں مےں عالم انسانےت کی سرفرازی کےلئے جو قربانےاں دے رہے ہےں انہےں شرف قبولےت عطا فرما ۔ انہی اےام مےں بھارت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں کے تحت کشمےر مےں رائے شماری کرانے کے مطالبات کو نظر انداز کرتے ہوئے نرےندر مودی کی قےادت مےں انتہا پسند ہندو جماعت بھارتےہ جنتا پارٹی نے آئےن کے آرٹےکل 370اور35اے کے تحت کشمےر کی خصوصی حےثےت ختم کر دی ۔ کشمےرےوں کے حقوق پر شب خون مار کر مقبوضہ رےاست کی بھارت کے ساتھ نام نہاد اور مشروط الحاق کی بنےاد مٹا دی ۔ کمزور ہونا ہی کشمےرےوں کا جرم بنا دےا گےاےعنی جس کی لاٹھی اس کی بھےنس اور ;82;ight is mightکو روندتے ہوئے ;77;ight is rightکے خود ساختہ قانون کو بزور لاگو کر دےا گےا ۔ آرٹےکل370کے تحت جموں و کشمےر کو خصوصی مقام حاصل تھا اور آرٹےکل رےاست کو آئےن بنانے اور اسے برقرار رکھنے کی آزادی دےتا تھا ۔ اس کے تحت کوئی بھارتی شہری وہاں جائےداد نہےں خرےد سکتا تھا لےکن اب کشمےری مسلمانوں کو بجا طور پر ےہ خدشہ ہے کہ وہاں بھارتی ہندو جائےدادےں خرےدےں گے اور کشمےر مےں مسلمانوں کی واضح اکثرےت کو اقلےت مےں بدلنے کی مذموم کوشش کی جائے گی ۔ مقبوضہ کشمےر کے تےن وزرائے اعلیٰ محبوبہ مفتی ،فاروق عبدا;203; اور عمر عبدا;203; نے کہا ہے کہ ہم نے پاکستان کے مقابلہ مےں بھارت کو ترجےح دے کر سنگےن غلطی کی لےکن آج ان کے ےہ رےمارکس بے معنی اور پشےمانی کے سوا کوئی اہمےت نہےں رکھتے کےونکہ ان لوگوں کے دور اقتدار مےں مقبوضہ کشمےر کے بے بس عوام پر جو بےتی اس کا ازالہ تو نہےں ہو سکتا ۔ مودی حکومت نے ےہ کارروائی کرنے سے قبل 38ہزار بھارتی فوج کشمےر مےں داخل کر دی ۔ پہلے ہی اس کی سات لاکھ فوج اہل کشمےر مسلمانوں کو ےرغمال،مقےد ،محبوس اور مقتول بنائے ہوئے ہے ۔ اب تک مقبوضہ وادی مےں اےک لاکھ کشمےری شہےد ،اےک لاکھ جےلوں مےں لاپتہ اور اتنے ہی زخمی ہےں ۔ سےد علی گےلانی نے بھی امت مسلمہ کے نام اےک’’ اےس او اےس ‘‘ جاری کر کے متنبہ کےا ہے کہ انہےں خبر ہو کہ ان کے پہلو مےں کےا قےامت ڈھائی جا رہی ہے ۔ او آئی سی نے آرٹےکل 370پر مودی سرکار کے شب خون پر مکہ مےں ہنگامی اجلاس تو طلب کےا ہے لےکن اےسی امےد نہےں کہ ےہ اجلاس عالم اسلام کے جسد بے حس مےں کشمےرےوں کےلئے احساس اور تڑپ پےدا کر سکے ۔ کشمےر کے عوام پر بھارتی فوج کے ظلم وستم اور اب حالےہ اقدام پر سعودی عرب ،عرب امارات سمےت تمام عرب ممالک بالکل خاموش ہےں ۔ ان ممالک کی بھارت مےں بھاری سرماےہ کاری ہے وہ اسے خطرے مےں نہےں ڈال سکتے ۔ سعودی عرب نے نرےندر مودی کو اعلیٰ ترےن سول اےوارڈ دےا ،عرب امارات نے ابو ظہبی مےں ہندوءوں کے دو بڑے بندر تعمےر کرائے اور کروڑوں کے اخراجات سے ہندو دےوتا اور دےوےوں کی مورتےاں فراہم کےں ۔ بھارت کی مقبوضہ کشمےر مےں قتل وغارت گری اور تشدد کی وارداتوں پر امت مسلمہ کی خاموشی پر صرف آنسو ہی بہائے جا سکتے ہےں ۔ ترکی کے صدر اردوان نے پاکستان کے موقف کی مکمل حمایت کی ہے ۔ آج کی تلخ حقےقت ےہی ہے کہ کشمےر کی صورتحال بہتر کرنے کا کوئی جادوئی طرےقہ موجود نہےں اور جنگ آپشن نہےں ضرورت ہے کہ پاکستان بہتر سفارتکاری کرتے ہوئے عالمی فورمز پر کشمےر کا مسئلہ پوری توانائی سے اجاگر کرے ۔

سیاسی و عسکری قیادت کا مقبوضہ کشمیر کیلئے ہر حد تک جانے کا عزم

سیاسی و عسکری قیادت نے بغیر کسی تمہید کے بھارت کو واضح پیغام دیدیا ہے کہ کشمیر کیلئے ہر حد تک جائیں گے، کچھ ہوا تو ہم اس کے ذمہ دار نہیں ، مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کیخلاف اقوام متحدہ سمیت ہر فورم پر آواز اٹھائی جائے گی ۔ ہم عالمی عدالت انصاف میں بھی جانے کا سوچ رہے ہیں ۔ بھارت نے حملہ کیا تو بھرپور جواب دیں گے، خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے، بہادر شاہ ظفر نہیں ٹیپو سلطان کا راستہ اختیار کیا جائے گا ۔ بھارت کشمیریوں کو کچلے گا تو پلوامہ جیسا ردعمل آئے گا اور الزام پاکستان پر عائد کردیا جائے گا ۔ پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ میں کوئی نیو کلیئر بلیک میلنگ نہیں کررہا یہ ایکشن لینے کا وقت ہے، دنیا سے اپیل ہے کہ وہ اپنے بنائے ہوئے قوانین پر عملدرآمد کرائے ۔ اگر کچھ ہوا تو ہم ذمہ دار نہیں ہوں گے ماضی میں ایکشن نہ لینے کی وجہ سے بھارت کو شہ ملی ۔ وزیراعظم کی یہ بات بالکل درست ہے پاکستان 7 دہائیوں سے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ہر فورم پر آواز اٹھا رہا ہے لیکن بین الاقوامی برادری نے اس جانب توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے یہ حالات پیدا ہوئے ہیں اور بھارت کو اتنی شہ ملی کہ اس نے مقبوضہ کشمیر کی حیثیت کو ختم کرنے کیلئے آئین میں تبدیلی کرڈالی ۔ بھارت کی جانب سے بھارتی دستور کے آرٹیکل 370 اور آرٹیکل 35 اے کی تنسیخ کے ذریعے بھارتی مقبوضہ کشمیر کی متنازعہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی غیر قانونی اور جابرانہ کوشش لائن آف کنٹرول پر بلا اشتعال فائرنگ کلسٹر بموں کا استعمال اور مقبوضہ کشمیر میں ڈھائے جانے والے مظالم کے حوالے سے پیش کی گئی تحریک پر پالیسی بیان دیتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر کی آئینی حیثیت ختم کرنے کے بھارتی اقدام کے خلاف اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سمیت ہر فورم پر آواز بلند کریں گے ہم عالمی عدالت انصاف میں جانے کا بھی سوچ رہے ہیں بھارت نے حملہ کیا تو جواب دینگے ،خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے پاکستان بہادرشاہ ظفر کا نہیں ٹیپو سلطان کا راستہ اختیار کرے گا انڈیاکشمیریوں کو کچلے گاتوپلوامہ جیسا رد عمل آئیگا اور الزام پاکستان پرلگے گا نیو کلیئر بلیک میلنگ نہیں کررہا یہ ایکشن لینے کا وقت ہے دنیا سے اپیل ہے وہ اپنے بنائے قوانین پر عملدرآمد کرائے کچھ ہواتوہم ذمہ دارنہیں ہوں گے ماضی میں ایکشن نہ لینے پر بھارت کو شہ ملی اگر اب دنیا نے کچھ نہ کیا تو اس کے سنگین نتاءج نکلیں گے اورپوری عالمی برادری متاثر ہوگی اگر جنگ ہوئی تو کسی کی فتح نہیں ہوگی سب ہارجائیں گے ہم نے خلوص نیت کے ساتھ بھارت سمیت تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی کوششیں کیں تاہم بشکیک سربراہ اجلاس کے موقع پر ہ میں اندازہ ہوگیا تھا کہ بھارت بات چیت میں سنجیدہ نہیں اور وہ اس پیشکش کو ہماری کمزوری سمجھ رہا ہے بھارتی سوچ ساری دنیا کو نقصان پہنچا سکتی ہے عالمی برادری سے اس لئے خاموش ہے کہ بھارت میں زیادہ نقصا ن مسلمانوں کا ہو رہا ہے مگر اس کا ساری دنیا کو نقصان پہنچے گا ۔ یہ سیشن صرف کشمیر یا پاکستان نہیں بلکہ پوری دنیا دیکھ رہی ہے آج یہاں سے یہ پیغام جانا چاہیے کہ پوری قوم اس معاملے پر اکٹھی ہے ۔ دوسری جانب کور کمانڈرز کانفرنس نے کشمیر سے متعلق بھارتی اقدامات کو مسترد کرنے کے حکومتی فیصلہ کی مکمل تائید کی ہے جبکہ چیف آف آرمی اسٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا کہ پاک فوج کشمیری عوام کی جدوجہد کی کامیابی تک ان کے ساتھ کھڑی ہے اورکشمیر کیلئے کسی بھی حد تک جائیں گے پاکستان آرمی اپنی اس ذمہ داری کو نبھانے کیلئے مکمل تیار ہے ۔ کئی عشرے قبل آرٹیکل 370 اور 35 اے کے ذریعے جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو جائز قرار دینے کی نام نہاد بھارتی کوششوں کو پاکستان نے کبھی تسلیم نہیں کیا اور اب بھارت نے خود ہی ان کو منسوخ کر دیا ہے ۔

چین کی طرف سے بھی بھارت کو تنبیہ

چین نے کہا ہے کہ بھارتی اقدام ہماری خودمختاری کیلئے خطرہ ہے، قانون سازی کے باوجود مقبوضہ کشمیر متنازع علاقہ ہی رہے گا، لداخ چین پاکستان اور بھارت کے درمیان اسٹرٹیجک ایریا ہے اسے بھارت میں ضم کرنے کا فیصلہ مسترد کرتے ہیں یکطرفہ طورپر قوانین میں تبدیلی ہماری سالمیت کیخلاف ہے جو کہ کسی بھی صورت قبول نہیں کیا جائے گا ۔ آرٹیکل 370 کا خاتمہ اور بھارتی اقدام غیر آئینی اورغیر قانونی ہے، نئی دہلی نے چین کی سرحدی خودمختاری پر اثرانداز ہونے کی کوشش کی ہے، چینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے جاری بیان میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی اہمیت ختم کرنے کے فیصلے پر بھارت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ۔ چین نے کہا بھارت کے ساتھ سرحد پر مغربی سرحد میں چینی حدود میں مداخلت کی ہمیشہ مخالفت کی ۔ کشمیر کی صورتحال پر چین کو سخت تشویش لاحق ہے، ہم پاکستان اور بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ خطے میں امن و استحکام کیلئے مذاکرات کے ذریعے تنازع کو حل کریں ۔ مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہماری پوزیشن بہت کلیئر ہے ، یہ مسئلہ پاکستان اور بھارت کے درمیان عرصہ دراز سے چل آرہا ہے، عالمی برادری بھی اس پر متفق ہے کہ دونوں ممالک بیٹھ کر تحمل سے مذاکرات کے ذریعے مسئلے کو حل کریں ۔ دونوں ممالک کے تعلقات میں خرابی پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتی ہے، چین نے اپنے بیان میں زیادہ سے زیادہ بھارتی جموں وکشمیر کے لداخ کے تزویراتی اہمیت کے علاقے کے حوالے سے کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے ۔ چین نے مزید کہا بیجنگ پہلے ہی اپنے مغربی علاقے کی بھارت میں شمولیت کا مخالف ہے ۔ مسئلہ کشمیر میں چین بھی اہم فریق کی حیثیت رکھتا ہے ۔ پاکستان اور تبت کے درمیان بدھ مت اکثریت کا حامل لداخ کا علاقہ اسٹرٹیجک اہمیت کا حامل ہے ۔ چین کی جانب سے ردعمل سامنے آنے کے بعد بین الاقوامی برادری کو سمجھ جانا چاہیے کہ بھارت کتنا خطرناک خون اور آگ کا کا کھیل کھیل رہا ہے ۔ اگر اس کو نہ روکا گیا تو پوری دنیا اس کی لپیٹ میں آجائے گی کیونکہ پاکستان ،بھارت اور چین ایٹمی طاقت کی حامل قوتیں ہیں ۔

کشمیر ہماری شہ رگ ہے اسے کاٹنے نہیں دینگے

پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہم تو کشمیر کو اپنی شہ رگ سمجھتے ہیں ، ہم شہ رگ کوکاٹنے نہیں دیں گے،کشمیری ہمارے مسلمان بھائی ہیں ،پارلیمنٹ اجلاس میں بین الاقوامی سطح پر اچھا پیغام نہیں گیا،اب وقت کاتقاضا ہے کہ ہ میں یکجہتی دکھانی چاہیے،پارلیمنٹ کی کارروائی اس سے بھی بہتر ہوسکتی تھی، آج سے 4پانچ سال بعد سپرپاور چین ہوگا،افغانستان کے مسئلے پر پاکستان پوری محنت کررہا تھا کہ مسائل حل ہوں ،پاک بھارت کشیدگی سے پورا خطہ اس لپیٹ میں آئے گا،امریکہ پاکستان کی جغرافیائی حالت کو نظر انداز نہیں کر سکتا،کشمیر کے حالات جہاں تھے وہاں لے کر آنا چاہئیں ،مودی نے تو آرٹیکل 370کا خاتمہ اپنے منشور میں رکھا ہوا تھا، بھارت میں پاکستان سے زیادہ غربت ہے،پاکستان کو بھارت کے اقدام کا منہ توڑ جواب دینا ہوگا،فیصلہ تو سیاسی قیادت نے کرنا ہے فوج تو تیار ہے،ہ میں انٹرنیشنل کورٹس میں بھی جانا چاہیے، وزیراعظم کام پر لگے ہوئے ہیں ،انہیں قوم کو تازہ صورتحال بتانی چاہیے،اس مسئلے پر پیش رفت بہت جلدی ہونی چاہیے دیرنہیں ہونی چاہیے، تمام مسلم ممالک کو اکٹھا ہونا چاہیے،مسلم امہ اکٹھی نہیں ہوگی تو نتاءج اچھے نہیں ہونگے ۔ تمام مسلمان ممالک اکٹھے ہوجائیں اوردنیا کو پیغام دیں کہ ہم متحد ہیں ۔

مسئلہ کشمیر پر بھرپور سفارتی جنگ کی ضرورت

بھارت نے کشمیر کے مسئلہ کو مزید الجھاتے ہوئے اپنے ہی آئین کو توڑتے ہوئے لوک سبھا نے مقبوضہ جموں و کشمیر کو خصوصی حیثیت دینے والے آرٹیکل 370 کے خاتمے کی قرار داد اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کا بل بھاری اکثریت سے منظور کرلیا ۔ بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے لوک سبھا میں آرٹیکل 370 کے خاتمے اور مقبوضہ کشمیر کی دو حصوں میں تقسیم کی قرار داد پیش کی جو ہاوَس نے 351 ووٹوں سے منظور کرلی ۔ اس قرار داد کی مخالفت میں صرف 72 ووٹ آئے ۔ قرار داد کی منظوری کے بعد امیت شاہ نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی 2 حصوں (جموں و کشمیر اور لداخ ) میں تقسیم کا بل پیش کیا جو لوک سبھا نے 370 ووٹوں سے منظور کرلیا ۔ بل کی مخالفت میں 70 ووٹ آئے ۔ اس قرار داد اور بل کی منظوری راجیہ سبھا پہلے ہی دے چکی ہے ۔ بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کیخلاف پاکستان نے اقوام عالم اور اقوام متحدہ کو خط لکھے اور سفارتی محاذ پر تگ و دو شروع کر دی ۔ اس سلسلے میں پاکستان کو سفارتی کامیابیاں ملنی شروع ہوگئیں ۔ اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی )کے کشمیر ونگ کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا ہے ۔ ہنگامی اجلاس سعودی عرب کے شہر جدہ میں ہوگا جس میں پاکستان ،سعودی عرب، آذربائیجان ، ترکی سمیت دیگر ممبر ممالک شرکت کریں گے ۔ اس کے ساتھ ساتھ چین کی جانب سے بھی لائن آف کنٹرول پر بگڑتی ہوئی صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا گیا ۔ چین نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت کی تبدیلی پر پاکستان اوربھارت سے مطالبہ کیا ہے کہ دونوں ممالک مذاکرات کے ذریعے اپنے تنازعات حل کریں ۔ چین کا کہنا ہے کہ اسے جموں و کشمیر کی صورتحال پر سخت تشویش ہے ۔ کشمیر کے مسئلے پر چین کی پوزیشن واضح اور دوٹوک ہے ۔ اس پر عالمی اتفاق رائے بھی موجود ہے کہ کشمیر پاکستان اور چین کے مابین متنازعہ علاقہ ہے ۔ دونوں ملکوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے کسی بھی کشیدگی سے گریز کرنا چاہیے ۔ گزشتہ روز وزیر اعظم عمران خان نے بھی پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے خوف ہے کہ اب بھارت کشمیر میں کشمیریوں کی تعداد کم کر کے دیگر لوگوں کو بسائے گا تاکہ کشمیری اقلیت میں آ جائیں اور غلامی میں دب جائیں ۔ مجھے ان میں تکبر نظر آتا ہے جو ہر نسل پرست میں ہوتا ہے ۔ اگر پلوامہ جیسا کچھ ہوا تو یہ ردعمل دیں گے اور پھر ہم جواب دیں گے کیونکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ یہ پاکستان کے اندر حملہ کریں اور ہم جواب نہ دیں ۔ اگر ایسا ہوا تو پھر بات رواءتی جنگ کی جانب چلی جائے گی اور اگر جنگ ہوئی تویہ بات تو طے ہے کہ ایمان والا انسان موت سے نہیں ڈرتا ۔ اس کو صرف اپنے رب العالمین کو خوش کرنے کا لالچ ہوتا ہے اور وہ خوف میں فیصلے نہیں کرتا ۔ ہ میں انسانوں کی فکر ہے کیونکہ ہمارا دین انسانیت کا درس دیتا ہے ۔ ہم دنیا سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ معاملے کو دیکھیں گے کیونکہ اب اگر دنیا نے کچھ نہیں کیا تو پھر معاملہ آگے بڑھ جائے گا ۔ پلوامہ کے واقعہ پر بھی بھارت کو ہرطرح سمجھانے کی کوشش کی کہ اس میں پاکستان کا کوئی ہاتھ نہیں ہے لیکن ہ میں تب بھی احساس ہو گیا کہ ان کے ہاں الیکشن ہیں اس لئے وہ پاکستان کو سکیٹ بورڈ بنا کر ناصرف کشمیری عوام پر کئے جانے والے ظلم و ستم سے دنیا کی نظریں ہٹانا چاہتا ہے بلکہ الیکشن جیتنے کیلئے وار ہسٹیریا بھی پیدا کر رہا ہے ۔ بھارت نے پلوامہ حملے کے بعد ڈوزئیر بعد میں بھیجا اور جہاز پہلے بھیج دئیے لیکن الحمد اللہ پاکستان نے زبردست جواب دیا ۔ ہم نے سوچا کہ ہندوستان میں الیکشن ہو جائیں پھر بات چیت شروع کریں گے ۔ الیکشن ہو گئے پھر کوشش کی مگر انہوں نے ہماری امن کی کوشش کو کمزوری سمجھا ۔ اب بھارت نے کشمیر کیساتھ جو کچھ کیا ہے یہ ایک دن کی منصوبہ بندی نہیں بلکہ یہ ایک نظریہ ہے جو آر ایس ایس نے پیش کیا تھا ۔ ان کا نظریہ یہ تھا کہ مسلمانوں کو ہندوستان سے نکالیں گے اور ہندوستان صرف ہندووَں کا ہو گا ۔ کشمیر پر جو حملہ کیا وہ بھارت نے ناصرف ملکی بلکہ بین الاقوامی قوانین کی بھی خلاف ورزی کی ہے ۔ بھارت کا یہ اقدام جموں و کشمیر کے ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی قراردوں کے خلاف ہے ۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی قراردادوں کیخلاف ہے ۔ شملہ معاہدے کے خلاف ہے اور جنیوا کنونشن کے خلاف ہے ۔ یہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو اب مزید دبانا چاہتے ہیں کیونکہ یہ انہیں اپنے برابر کا انسان نہیں سمجھتے ۔ یہ طاقت کا استعمال کر رہے ہیں ۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے واضح الفاظ میں اعلان کرتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان آرمی کشمیریوں کی جدوجہد میں ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور کشمیریوں کی منصفانہ جدوجہد کا آخری حد تک ساتھ دیں گے ۔ پاکستان مقبوضہ کشمیرپربھارتی تسلط کبھی تسلیم نہیں کرےگا ۔ پاکستان نے کبھی بھی مقبوضہ کشمیر میں آرٹیکل 370 یا 35 اے کو قبول نہیں کیا ۔ اب بھارت نے خوداس کھوکھلے بہانے کوختم کردیا ۔ پاک افواج کشمیری عوام کےساتھ ہیں ۔ ہرطرح کے حالات سے نمٹنے کیلئے تیارہیں ۔ دونوں ممالک کو ایسے اقدامات سے گریز کرنا چاہیے جس کے باعث حالات میں مزید کشیدگی پیدا ہو ۔ ہم بھارت سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اپنے تنازعات مذاکرات کے ذریعے حل کریں اور خطے میں امن و امان کو یقینی بنائیں ۔

سرزمین پاکستان ۔ سکھ مت کےلئے مقدس ترین سرزمین

اگست کا مہینہ ہم پاکستانیوں کےلئے تاریخ سازخوشیوں ،مسرتوں اور بے پناہ آرزوءوں کے تکمیل کا دل چاہا مہینہ ہے ایک برس قبل اسی ماہ اگست کی18تاریخ کو پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین پاکستان میں اور بیرون دنیا آباد کروڑوں پاکستانیوں میں مقبولیت کی انتہاوں اور عروج پر پہنچے ہوئے ہردلعزیزسیاسی قائد محترم عمران خان نے پاکستان کے 22 ویں وزیراعظم کا جب منصب سنبھالا تو اْنہوں نے وزیراعظم کا حلف اْٹھانے کےلئے منعقدہ اہم تاریخی تقریب میں شرکت کرنے کےلئے اپنے ماضی کے انڈین کرکٹر دوستوں میں سے سنیل گواسکر،کیپل دیو اور نجوت سنگھ سدھوکو خصوصی طور پراسلام آباد آنے کی دعوت دی سنیل گواسکر اور کیپل دیو اپنی نجی مصروفیات کی باعث اس تقریب میں گو شرکت نہ کرسکے اْنہوں نے اپنا تہنیتی پیغام عمران خان کو پہنچا دیا جبکہ بھارتی پنجاب کے رکن اسمبلی اور ثقافتی امور کے ریاستی وزیرنجوت سنگھ سدھو لاہور کے واہگہ بارڈر کے راستہ عمران خان کی دعوت پر دو روز کےلئے پاکستان تشریف لائے لاہور واگہ بارڈر پر اعلیٰ سرکاری افسروں نے نجوت سنگھ جی کا پْرتپاک استقبال کیا یقینا نجوت سنگھ جی کی زندگی کا یہ دورہ پاکستان اپنی زندگی میں وہ خود کبھی نہ بھلا سکیں گے اسلام ا;63;باد میں وزیراعظم کی تقریب حلف برداری کی روداد کوہم کیا دہرائیں کیونکہ سبھی باخبر اورخوب آگاہ ہیں کہ ایوان صدر اسلام آباد میں منعقد ہونے والی اس اہم رنگارنگ تقریب میں پل پھر میں یکایک ایک موقع بھارت اور دنیا بھر میں آباد کروڑوں سکھوں کےلئے ایک ایسے تازہ خوشگوار ہوا کے جھونکے کی مانند آیا جسے سکھ دنیا اپنی زندگیوں کے لمحات میں کبھی بھی فراموش نہیں کرسکتی اس سنہری اور یادگار موقع کو ہم کیا نام دیں جن لمحوں میں پاکستان کی عسکری قیادت سمیت نئی منتخب ہونے والی جمہوری قیادت نے سکھ دنیا کے ہر ایک فرد کے انسانی جذبات کوبیش بہا قیمتی موتیوں میں یوں سمجھیں لادھ دیا اور ہم نے بغور دیکھا کہ اس موقع پر جب پاکستانی فوج کے سپہ سالار جنرل قمر جاوید باجوہ سے عالمی شہرت یافتہ انڈین سابق کرکٹراورسیاست دان نجوت سنگھ سدھو بغگیر ہورہا تھا تو جوکچھ بھی جنرل باجوہ نے سدھو جی کے کان میں سرگوشی کی تو خوشی سے اْس کی آنکھیں نم ہوگئیں اور اْس کے کانوں میں یکایک سریلی گھنٹیوں کی آوازیں گونجنے لگی ہونگی گھنٹیوں کی اْن اوازوں میں بابا گورونانک صاحب کے یہ بول اْسے صاف سنائی دے رہے ہونگے سکھ مت کے بانی باباگورونانک صاحب نے اپنے پیرو کاروں کو انسانیت کی بقا اور تحفظ کو ہر قیمت پر یقینی بنانے کےلئے تبلیغ کرتے ہوئے کبھی یہ کہا تھا کہ ‘‘ جس طرح تیراک دریا میں سرکنڈے نصب کرتے ہیں تاکہ راستے سے ناواقف لوگ بھی اسے عبور کرسکیں ، اسی طرح میں بھائی گرداس کی وار کو بنیاد بناؤں گا اور اسی کے مطابق اور جو واقعات میں نے دسویں مالک کی بارگاہ میں رہتے ہوئے سنے انھیں پیش نظر رکھتے ہوئے جو کچھ میرے عاجز دماغ سے بن پڑا، اسے آپ تک بیان کروں گا’’سکھ مت کے بانی باباگورونانک صاحب کے انسانیت پرور اس قول میں اْن کے پیروکاروں سمیت دنیا بھر کی امن پسند اقوام کے ہر فرد کےلئے یہ بڑا اہم سبق پوشیدہ ہے کہ یہ دنیا فانی ہے دنیا میں اْس کا نام اوراْس کا کام باقی رہے گا جس نے دنیا کے انسانوں کے لئے بلا کسی امتیازی سلوک اوربلا رنگ ونسل اور ذات پات سے ماورا اور بالاتر ہوکر اْن کےلئے آسانیاں فراہم کیں اور اْن کی دنیا میں رہنمائی کا انسانی فریضہ ادا کیا وہ ہی باقی رہے گا اور گمراہی خود بخود ہر صورت تاریکی اور اندھیرے کی کھائیوں میں کہیں گم ہوجائے گی، بابا گورو نانک صاحب کی پیدائش کے ابتدائی ایام میں سکھ روایات کے مطابق ایسے معجزنما واقعات رونما ہوئے ہیں جن سے ظاہر ہوا کہ باباگورو نانک صاحب کو خدا کے فضل و رحمت سے نوازا گیا ہے بابا صاحب کے سوانح نگاروں کے مطابق، کم عمری ہی سے بابا صاحب اس حقیقت سے پوری طرح آگاہ ہوچکے تھے پانچ برس کی عمر میں گورونانک کو مقدس پیغامات پر مشتمل آوازیں سنائی دینے لگیں تھیں ایک روایت کے مطابق کم سنی میں ہی گورونانک صاحب جب کہیں کھلے آسمان تلے سوئے ہوئے ہوتے تو اْنہیں تیز دھوپ سے بچانے کےلئے ایک درخت یا دوسری روایت کے مطابق ایک زہریلا ناگ اْن کے سرپر سایہ کیئے رہتا تھا بابا گورو نانک کو زمانے کا عظیم ترین موجد قرار دیا جاتا ہے بابا گورونانک کی پیدائش ننکانہ صاحب موجودہ پاکستان کے شہر میں 15 اپریل 1469 میں ہوئی اور اْن کی وفات22 ستمبر1539 میں پنجاب کے شہرنارووال کے نزدیکی گاوں کرتارپورہ میں ہوئی بابا گورونانک صاحب سکھ مت کے بانی اور دس سکھ گوروں میں سے پہلے گروتھے ان کا یوم پیدائش گرونانک گرپورب کے طور پر دنیا بھر میں ماہ کاتک یعنی اکتوبر ۔ نومبر میں پورے چاند کے دن یعنی کارتک پورن ماشی کو منایا جاتا ہے بابا گورونانک صاحب نے سکھ مت کے روحانی سماجی اور سیاسی نظام کر ترتیب دیا جس کی بنیاد مساوات، بھائی چارے، نیکی اور حسن سیرت پر استوار ہے بابا گورونانک صاحب سکھوں اور مسلمانوں میں یکساں بڑی عزت واحترام کی حامل مذہبی شخصیت کے طور پر مانے جاتے ہیں بابا گوروناک صاحب کی الہامی تعلیمات میں انسانیت کے احترام کو اولین مقام دیا گیا ہے آفاقی مذاہب کے علم پر دسترس رکھنے والے ماہرین مانتے ہیں کہ سکھ مت توحیدی مذہب ہے اور وہ ایک خدا پر یقین رکھتے ہیں ہندوازم میں جسے اب عرف عام میں ہندوتوا کہا جاتا ہے اس دھرم میں خداءوں اور اوتاروں کی کوئی تعداد ہی نہیں ہے لہذا یہی وجوہ ہے کہ سکھ مت کو ہندوازم سے ملایا نہیں جاسکتا ابتدا میں جیسے کہ عرض کیا گیا ہے کہ ہم پاکستانیوں کے لئے ماہ اگست غیرت مند خوشیوں اور پْرجوش والہانہ ایمانی مسرتوں کا اہم مہینہ ہے اب سے بہتربرس قبل 14 اگست 1947 کو برصغیر کے مسلمانوں نے قائداعظم محمد علی جناح کی ایماندارانہ قیادت میں ایک آ زاد وخود مختار ریاست پاکستان حاصل کیا تھا چارجون کے مشہور لندن پلان کے تحت تقسیم ہند جب عمل میں لائی گئی تو پنجاب کی تحصیل شکرگڑھ کا ایک بڑا حصہ پاکستان کے جغرافیہ میں آگیا تحصیل شکر گڑھ میں ہی کرتارپورہ میں سکھوں کے روحانی پیشوا باباصاحب گورونانک کا سفید چاند کی مانند چمکتا ہوا مزار ہے، جیسے گرودوارہ کرتارپور کے نام سے دنیا جاننے لگی ہے، کرتار پور وہ مقام ہے جہاں سکھوں کے پہلے گرو نانک دیو جی نے اپنی زندگی کے آخری ایام گزارے تھے ۔ یہیں ان کی ایک سمادھی اور قبر بھی ہے جو سکھوں اور مسلمانوں کےلئے ایک مقدس مقام کی حیثیت رکھتے ہیں گردوارہ دربار صاحب کی قدیم عمارت دریائے راوی میں آنے والی سیلاب میں تباہ ہوگئی تھی ۔ موجودہ عمارت سنہ 1920 سے 1929 کے درمیان 1;44#44;600 روپے کی لاگت سے پٹیالہ کے مہاراجہ سردار پھوبندر سنگھ نے دوبارہ تعمیر کروائی تھی سنہ 1995 میں حکومت پاکستان نے بھی اس کے دوبارہ مرمت کی تھی گرودوارے کی عمارت کے باہر ایک کنواں ہے جسے گرو نانک دیو سے منسوب کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں سکھوں کا عقیدہ ہے کہ یہ گرو نانک کے زیر استعمال رہا ۔ اسی مناسبت سے اسے ;39;سری کْھو صاحب;39; کہا جاتا ہے کنویں کے ساتھ ہی ایک بم ٹکڑا بھی شیشے کے شو کیش میں نمائش کے لیے رکھا ہوا ہے اس پر درج تحریر کے مطابق یہ گولہ انڈین ایئر فورس نے سنہ 1971 کی انڈیا پاکستان جنگ کے دوران پھینکا تھا جسے کنویں نے ’اپنی گود میں لے لیا اور دربار تباہ ہونے سے محفوظ رہا اب جبکہ پاکستان نے باباصاحب گورونانک کی پانچ سو پچاسویں یوم پیدائش کے موقع پر کرتارپور کوریڈور کھولنے کا باضاطبہ اعلان کردیا ہے اور کرتارپور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ پر بہت تیز رفتاری سے تعمیراتی امور کو ہر صورت میں پائیہ تکمیل تک پہنچانے کے انتظامات کرلیئے گئے ہیں قارئین کو ہم یہ بتادیں کہ کرتارپور ڈویلپمنٹ پراجیکٹ کا تعمیراتی کام اختتامی مرحلے میں داخل ہوگیا اور مقررہ مدت تک منصوبے کی تکمیل کے لئے چھوٹ بڑے کنٹریکڑوں کو ملاکرستر سے زائد کمپنیاں ایف ڈبلیواو کے ساتھ مل کر مصرف عمل ہیں کرتارپورزیروپوائنٹ سے لے کر شکرگڑھ روڈ تک سڑک مکمل کردی گئی ہے سڑک پر کارپٹ بچھانے کا کام باقی رہ گیا ہے جو اگلے چندروز میں مکمل ہوجائے گا دربار صاحب میں داخلہ کے لئے دواطراف گیٹ اور تالاب مکمل کردئیے گئے ہیں لنگرخانہ،مہمان ہال،درشن استھان،ایڈمن بلاک،رہائش گاہوں اور ٹوائلٹس سمیت دیگر عمارتوں کا نوے فی صد بلڈنگ ورک مکمل ہوچکا ہے ماربل گرناءٹ لگانے کے ساتھ ساتھ دروازے،کھڑکیاں ،الیکٹرک ورک، سیوریج، واٹر پلائی اور پلمبنگ کاکام کیا جارہا ہے احاطہ دربار صاحب کے سولہ میں سے بارہ پینلز میں آرسی سی کنکریٹ ڈال دیا گیا ہے تمام تعمیراتی کام کے ساتھ ساتھ کمپلیکس دربار،پارکنگ، سڑک اور بارڈرٹرمینل کے اردگردلینڈاسیکپنگ اور خوبصورت پودے لگانے پر بھی خصوصی توجہ دی جارہی ہے دوسری جانب بے حد بے رخی کی افسوس ناک صورتحال سے کون واقف نہیں دنیا کل تک شاکی تھی کہ پاکستان میں وہ وقت نجانے کب آئے گا جب اعلیٰ سطحی سیاسی اور عسکری قیادت ایک سوچ کے تابع ہوگی مطلب یہ کہ پاکستانی حکومت اور فوج دونوں ہی اس خطے میں امن کےلئے بھارت سے امن بات چیت کے خواہشمند ہونگے اب جبکہ وہ وقت آگیا لیکن بھارت کی جانب سے حکومت کو اس سلسلے میں مثبت جوابی اشارے تاحال نہیں ملے مودی سرکار نے تو خطہ میں امن کی جڑبیخ ہی اکھاڑ پھینکی ہے جس کی چرچا آجکل بھارت کی لوک سبھا میں ہرکوئی سن سکتا ہے ۔

Google Analytics Alternative