کالم

عدالتی فیصلہ،نواز شریف کی صحت بارے بیان بازی سے گریز کیا جائے

نواز شریف کے بیرون ملک جانے کے حوالے سے حکومت نے کہا کہ اس سلسلے میں وفاقی کابینہ حتمی فیصلہ کرے گی اور جب آرڈر وزارت داخلہ کے پاس پہنچے گا تو اس پر عملدرآمد ہوگا تاہم دوسری جانب حکومت نے ساتھ یہ بھی کہاہے کہ وہ عدالت کے فیصلے پر من وعن عمل کرے گی کیونکہ یہ فیصلہ انسانی ہمدردی کے تحت کیا گیا ۔ نواز شریف کی صحت انتہائی تشویشناک ہے اور انہیں ادویات کے سہارے اس قابل بنایا جارہا ہے کہ وہ بیرون ملک سفر کرسکیں ۔ چار ہفتوں کی جو اجازت دی گئی ہے اس کے تحت اگر انہیں مزید علاج کیلئے بیرون ملک ٹھہرنا پڑا تو وہ مزید اجازت لیں گے ۔ ہم یہاں حکومت سے یہ ضرور کہیں گے کہ جس طرح کے وزیراعظم نے اپنی کابینہ اور مشیروں کو پابند کیا ہے کہ وہ اس حوالے سے بیان بازی نہ کریں تو سب کویہ چاہیے کہ وہ نواز شریف کی صحت کے حوالے سے بیانات دینے سے گریز کریں جب انسانی ہمدردی کے تحت ایک فیصلہ کرلیا گیا ہے تو اس کو خراب کرنے سے کیا حاصل وصول ہوگا ۔ ادھرحکومتی ٹیم نے دعویٰ کیا ہے کہ کابینہ کا پورا کا پورا فیصلہ لاہور ہائی کورٹ کے آرڈر میں شامل ہو گیا ہے، عدالتی فیصلہ حکومت کی جیت ہے، ہائیکورٹ کی شرائط حکومت سے بھی سخت ہیں ، نواز شریف کی واپسی کی جو یقین دہانی چاہیے تھی وہ انڈرٹیکنگ کی صورت میں مل گئی، عدالت نے بانڈز کی جگہ انڈرٹیکنگ لے لی، نواز شریف، شہباز شریف عدالت کے پاس گروی ہوگئے، واپس نہ آئے تو عدالتی مجرم ہوں گے، نواز شریف جس ملک میں بھی جائیں گے وہاں بتادیں گے کہ یہ کن شرائط پر آئے ہیں ، ہائیکورٹ نے پانچ سوالات رکھے ہیں ، قانون کے تحت سزایافتہ مجرم کو ای سی ایل سے نہیں نکالا جاسکتا، شریف برادران کا ٹریک ریکارڈ ٹھیک نہیں ، ان کے ٹریک ریکارڈ کی وجہ سے عدالت بھی ان پر اعتماد نہیں کر رہی ہے، حکومت کو جو ضمانت چاہیے تھی وہ بیان حلفی کی شکل میں مل گئی ۔ وزیر اعظم کے خصوصی معاون برائے احتساب بیرسٹر شہزاد اکبر اور اٹارنی جنرل آف پاکستان انور منصور خان نے نیوز کانفرنس میں لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کی تفصیلات اور اثرات بیان کئے اور حکومت کاموقف واضح کیا ۔ بیرسٹر شہزار اکبر نے کہا کہ کابینہ نے میاں نواز شریف کی تشویشناک صحت کے پیش نظر باہر جانے کیلئے ون ٹائم اجازت دینے کا فیصلہ کیا جبکہ قانون کے تحت کسی سزایافتہ مجرم کو ای سی ایل سے نہیں نکالا جا سکتا، کابینہ نے انسانی ہمدردی کے تحت انہیں ون ٹائم پر میشن دی، اور یہ اجازت 4 ہفتے کی مخصوص مدت کے لیے دی گئی تاکہ وہ باہر جاکر اپنا علاج کراسکیں وہ صحت یاب ہوتے ہی پاکستان واپس آئیں گے، مقدمات کا سامنا کریں گے اور جیل جائیں گے عدالت نے انڈیمنٹی بانڈ کو مسترد نہیں کیا،معطل کر کے ان سے تحریری یقین دہانی حاصل کرلی ۔ ماضی میں وہ جتنی بار وعدہ خلافی کر چکے ہیں ان کا ٹریک ریکارڈ ہمارے سامنے ہے، سپریم کورٹ یہ فیصلہ دے چکی ہے کہ وہ صادق اور امین نہیں ہیں ۔ ان کے دو بیٹے، ایک بھتیجا، سمدھی، بھائی کا داماد مفرور ہیں ، ماضی میں ایک حلف نامہ پر باہرجانے کا ریکارڈ بھی ہمارے سامنے ہے ۔

مقبوضہ کشمیر کے بہتر حالات بارے بھارتی دعویٰ مسترد

پاکستان نے بھارت کے وزیر خارجہ کی طرف سے سرحد پار دہشت گردی کے الزام اور مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر آنے کے دعوے کو مسترد کر دیا ہے ۔ دفتر خارجہ کے ردعمل میں کہا گیا کہ یہ بیان بی جے پی قیادت کے متعصبانہ رویہ کی کھلی مثال ہے جس کا مقصد دنیا کی توجہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے عالمی توجہ ہٹانا ہے ۔ اگر مقبوضہ کشمیر کی صورتحال معمول پر آ گئی ہے تو یہ صورتحال دکھای کیوں نہیں دے رہی، پاکستان خود دہشت گردی کا شکار رہا ہے، بھارت نفرت پھیلانے والوں کی محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے ۔ ایسے جھوٹے دعوے بی جے پی حکومت کی پاکستان مخالف مہم کا حصہ ہیں ۔ دہشت گردی کیلئے پاکستان بھیجا گیا کمانڈر کلبھوشن بھارت کا اصل چہرہ ہے، مقبوضہ کشمیر میں معمول کی صورتحال دنیا سے کیوں اوجھل ہے، بھارت پاکستان مخالف جنون ختم کر کے حقیقت کا سامنا کرے، بھارت میں ریاستی سرپرستی میں اقلیتوں کیخلاف نفرت انگیزی کا سلسلہ جاری ہے، بھارت مقبوضہ کشمیر میں حق خودارادیت کی ;200;واز دبانے میں ناکام رہا ہے، بھارت نفرت کا پرچار کرنے والوں کیلئے محفوظ پناہ گاہ بن گیا ہے ۔ فرانسیسی اخبار کو دیا جانے والا انٹرویو پاکستان مخالف پراپیگنڈے کا حصہ ہے، پاکستان خطے میں امن و ترقی کیلئے علاقائی اور عالمی کوششوں میں کردار ادا کرتا رہے گا ۔ بھارت اپنی ترقی کے تمام دعووَں کے باوجود آج بھی اپنے دقیانوسی خیالات سے جڑا ہوا ہے ۔ ایک لاکھ سے زائد بے گناہ کشمیریوں کوبھارت شہید کر چکا ہے ۔ بوڑھے، بچے اور عورتوں کو کرفیو میں تین ماہ سے زائد عرصے سے بند کیا ہوا ہے ، سیکڑوں بے قصور کشمیری نوجوانوں کو جعلی انکاءو نٹر سے شہید کیا گیا ہے، ہزاروں نوجوانوں کو اجتماعی قبروں میں دفنا دیاگیا ہے، بے بس مظلوم کشمیری عورتیں تین ماہ سے روزانہ کی بنیاد پر اپنے گھروں کے دروازے کھول کر کسی محمد بن قاسم;231; کا انتظار کر رہی ہیں ۔ انشاء اللہ ظلم کاسورج ہمیشہ کےلئے غروب ہونے والا ہے ، کشمیرجلد آزاد ہو گا ۔

مودی کی انتہا پسندانہ سوچ روکنے کیلئے بین الاقوامی برادری کردار ادا کرے

جمعیت علمائے ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے بابری مسجد کے بارے میں بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے اجلاس میں کہا کہ بھارتی سپریم کورٹ نے ایودھیا میں بابری مسجد سے متعلق جو فیصلہ دیا ہے اس میں انصاف نہیں کیا گیا ، مسجد کی زمین اللہ کی زمین ہوتی ہے یہ زمین کسی دوسرے کو نہیں دی جا سکتی، بابری مسجد کی زمین کے بدلے مسلمان کوئی دوسری زمین نہیں لیں گے ۔ جمعیت علمائے ہند کے سربراہ ارشاد مدنی نے بھی بھارتی سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی درخواست دائر کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جہاں ایک مرتبہ مسجد تعمیر ہوجائے وہاں دوبارہ مسجد ہی تعمیر ہوتی ہے کوئی دوسری عمارت وہاں تعمیر نہیں ہو سکتی ۔ بھارت کے ہندوتوا پسندانہ اقدامات سے ثابت ہوتا ہے کہ اب نیا بھارت مودی کا بھارت ہے ۔ مودی کی طاقتور سیاست اور بھارتی ہندو سماج کا کشمیریوں سمیت تما م بھارتی مسلمانوں کیخلاف شرمناک رویہ قابل افسوس ہے ۔ پوری دنیا میں ہر قسم کی انتہا پسند ی کی مخالفت کی جا رہی ہے، تو دنیاوی سماج بھارتی انتہا پسند اور دہشت گردی کی طرف سے اپنی آنکھیں اور کان کیوں بند کئے بیٹھا ہے;238; ۔ بابری مسجد کے حوالے سے مودی سرکار نے جو فیصلہ کیا ہے وہ انتہائی دہشت گردانہ اور اس کی مذہبی انتہا پسندی کا ثبوت ہے ، بھارت میں کسی طورپر بھی اقلیتیں آزاد نہیں اور مودی اکھنڈ بھارت بنانے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے ۔ بین الاقوامی بردری کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں بھارت کے آگے بندھ باندھے جس طرح مسلمانوں اور دلتوں پر ظلم و ستم ڈھایا جارہا ہے اس کی مثال کہیں دنیا میں نہیں ملتی ۔ بابری مسجد کے حوالے سے بھارتی سپریم کورٹ کا فیصلہ اس بات کی مثال ہے کہ وہ آرایس ایس کے زیر اثر ہے اور آر ایس ایس ایک دہشت گرد تنظیم ہے جس نے نہ صرف بھارت میں بلکہ مقبوضہ وادی میں بھی ظلم و ستم کی ایک بدترین تاریخ رقم کررکھی ہے ۔ اب جمعیت علماء ہند اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے بابری مسجد کے بارے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کیخلاف نظرثانی کی درخواست کا فیصلہ کیا ہے لیکن اصل بات یہ ہے کہ تمام عدالتیں اور پورا نظام مودی کے زیر اثر ہے اس کی دہشت گردانہ سوچ سے باہر نکل کر کوئی بھی فیصلہ نہیں کرسکتا ۔ عدالتیں بھی اسی کے زیر تحت ہیں جب تک اس میں اقوام متحدہ، امریکہ اور دیگر بڑی طاقتیں مداخلت نہیں کرتیں اس وقت مودی کو مذموم عزائم پایہ تکمیل تک پہنچانے سے نہیں روکا جاسکتا اور اگر مودی اسی طرح جاری رہا تو خطے میں کسی صورت امن و امان قائم نہیں رہ سکتا ۔

اسلامی نظام سے ہی مزدور کی حالت درست ہو سکتی ہے

پاکستان بننے کے بعد ٹریڈ یونین تحریک سوشلسٹ نظریات کے حامل افراد چلا رہے تھے ۔ یہ پاکستان کے نظریا ت کےخلاف اعلانیہ کام کرتے تھے ۔ کیمونسٹ معاشرے اور سوشلسٹ ریاست کے داعی تھے ۔ بظاہر مزد وروں کے حامی اور درپردہ پاکستان میں کیمونسٹ انقلاب کے پرچارک تھے ۔ اپنے جلسوں میں خدا بیزاری، جلاءو گھیراءو، پکڑ لو مار دو کا ماحول ٹریڈ یونین پروان چھڑا ہوا تھا ۔ جماعت اسلامی نے ان کے مقابلے اور پاکستان کو ان کے ناپاک عزائم سے بچانے اور اسلامی سوچ کی ٹریڈ یونین کا آغاز ۹۴۹۱ء میں ہی کر دیا تھا ۔ پھر ۷۱ یونین کے الحاق سے ۹;241; نومبر ۹۶۹۱ء کو کراچی میں نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان کی بنیاد رکھی ۔ فیڈریشن کے پہلے صدر پروفیسر شفیع ملک اور سیکرٹری شبیر حسین منتخب ہوئے ۔ این ایل ایف کے قیام کے بعد ا ن قائدین نے پاکستان کے مزدوروں کوسرخ جنت کے خوابوں سے نکال کر نبوی;248; راستہ دکھایا ۔ نظریہ پاکستان اور اسلام کے نظامِ عدل ومعاشی کو اپنا نصب العین قرار دیا ۔ ان کی شبانہ روز محنت سے پاکستان میں کراچی سے خیبر اورلاہور سے کوءٹہ تک نیشنل لیبر فیڈیشن کو متحرک تنظیم بنا دیا ۔ پہلا معرکہ ۹۲;241; دسمبر ۹۶۹۱ء کو ہوا ۔ پی آئی اے میں پیاسی یونین کوکامیابی ملی ۔ پھر پاکستان اسٹیل مل،شپنگ کارپوریشن،شپ یارڈ،کے ڈی اے، پیکو، پاکستان ریلوے اور پاکستان میں دیگر بڑے اداروں اور نجی شعبے میں این ایل ایف کی یونین نے کامیابیاں حاصل کیں ۔ گھیراءو جلاءو کی جگہ پرامن اور باہمی گفت و شنید کا راستہ اختیار کیا گیا ۔ پاکستان میں خوشگوار ماحول پیدا ہوا ۔ ملک کی انڈسٹری نے ترقی کی منزلیں طے کیں ۔ یہ ہے نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان جس نے اپنی تنظیم کے پچاس برس مکمل ہونے پر اپنی گولڈن جوبلی کے موقع پر لیبر کانفرنس تقریب، سیرت النبی;248; کی کی روشنی میں منائی ۔ اپنی تقریب کا سلوگن’’ یہ نصف کی کا قصہ ہے ۔ دو چار برس کی بات نہیں ‘‘ رکھا ۔ یہ گولڈن جوبلی تقریب سر سید میموریل سو ساءٹی نزد نادرا چوک اتاترک ایونیو جی فائیو، ون ،اسلام آباد میں منعقد ہوئی ۔ اسٹیج کے ایک طرف اورہیڈ پروجیکٹر کے ذریعے حاضرین کو کان کنی کے مزدوروں کے شب و روز دکھائے گئے ۔ اس پروگرام کی صدارت شمس الدین سواتی مرکزی صدر نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے کی ۔ اس گولڈن جوبلی تقریب کی مہمان خصوصی ،اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آرگینزیشن کی کنٹری ڈائریکٹر تھی ۔ اس تقریب کے دیگر شرکاء میں نیشنل لیبر فیڈرشن پاکستان کے مختلف عہدے دار،ورکر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ظہور اعوان اورخواتین لیبر کی نمائندہ زاہدہ صاحبہ تھیں ۔ تقریب کا آغاز ٹھیک ۲ بجکر تیس منٹ پر تلاوت قرآن پاک اور نعت رسول مقبول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا ۔ پہلے مقرر شمس الدین سواتی نے اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے انٹرنیشنل لیبر آگنائزیشن کی کنٹری ڈائریکٹر کوخصوصاً اور عام سامعین کو عمومی طور پر اپنے خطاب میں نیشنل لیبر فیڈریشن کی کارکردگی اور اس کی تنظیم کے متعلق آگاہی پہنچائی ۔ انہوں نے کہا کی نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان نے اپنے پچاس سال اور انٹرنیشنل لیبر آر گینزشن اپنے سو سال پورے کیے ۔ اس طرح کہ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان ۹۶۹۱ء میں قائم ہوئی اورا نٹرنیشنل لیبر آرگینزیشن ۹۱۹۱ء میں قیام پذیر ہوئی ۔ ایک عرصے بعد ہمارا ٹوٹا ہوا رشتہ پھر سے قائم ہوا ۔ اب ہم مل کر مزدوروں کی فلاح و بہبود کےلئے کام کریں گے ۔ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان ،اکیس ڈویژن ،ستر ریجن اور تین سو پچاس ٹریڈ یونز کی تعداد کے ساتھ پاکستان میں مزدوروں ، ان کے بچوں اور فیملی کےلئے کام کر رہی ہے ۔ شمس الدین سواتی نے کنٹری ڈائریکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں مزور کی کم از کم اُجرت ۰۵۷۱ روپے مقرر ہے ۔ مہنگائی کے اس دور میں ایک مزدور کی فیملی کا گزراہونا مشکل ترین ہے ۔ پاکستان ایک غریب ملک ہے ۔ انٹر نیشنل لیبرآر گنائزیشن کوپاکستان میں مزدوروں کی حالت بہتر بنانے کےلئے مدد کرنی چاہیے ۔ مزدوروں کو کھل کر ٹریڈ یونین اکٹویٹی نہیں کرنے دی جا رہی ۔ بلوچستان یک قلم ۲۶;241; ٹریڈ یونین کو کام کرنے سے روک دیا گیا ۔ اسی طرح پنجاب حکومت نے بھی ٹریڈ یونین پر پابندی لگائی ہوئی ہے ۔ یہ ملک میں نظام کی خرابی کی وجہ سے ہے ۔ نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان مزدوروں ، ان کے بچوں اور فیملی کی حالت بہتر بنانے کےلئے ہمہ تن مصروف عمل ہے ۔ اگر ملک میں اسلامی نظام حکومت راءج کر دیا جائے تو مزدوروں کے حالت بہتر ہو سکتے ہیں ۔ اس کےلئے نیشنل لیبر فیڈریشن پاکستان بھی کام کر رہی ہے ۔ اسلامی نظام حکومت کی برکات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہمارے پیغمبر;248; نے پسینے اور کیچڑسے اٹے ہوئے ایک مزدور کی پیٹھ سے چمٹ کر کہا، بتاءو تو میں کون ہوں ;238; اس مزدور نے کہا کہ اس ظلم و ستم کے دور میں آمنہ;230; کے لال محمد;248; کے سوا اور کون ہو سکتا ہے;238;جبکہ یہ معلوم نہ تھا کہ وہ مزدور مسلمان ہے،یہودی ہے یا عیسائی ہے ۔ اسی طرح مسلمانوں کے پہلے خلیفہ ایک مزدور کی آمدنی کے برابر وظیفہ لے کرحکومت کے کام چلاتے رہے ۔ جب آجر اور اجیر اسلام کے بتائے ہوئے احکامات پر عمل کرتے ہوئے اور ایک دوسرے کے حقوق کا خیال رکھیں تو مسائل حل ہو سکتے ہیں ۔ انٹر نیشنل لیبر آرگنائزیشن کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان جو ساڑھے تین سال سے پاکستان میں موجود ہیں ،نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں مزدوروں ،ان کے بچوں اور فیملی کی حالت بہت خراب ہے ۔ اسے بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے ۔ فیکٹری مزدوروں کویونین بنانے کی کھولی اجازت ہونی چاہیے ۔ چائلڈ لیبر نہیں ہونی چاہیے ۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کے تحت مزدوروں سے متعلق کئی معاہدوں پر دستخط کیے ہوئے ہیں ۔ مگر دیکھا گیا ہے اس پر عمل نہیں ہو رہا ۔ اس کے بعد ورکر فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ظہور اعوان نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل لیبر فیڈیشن پاکستان کے رہنماءوں کے ساتھ ہمارے تعلقات بہترین رہے ہیں ۔ ان میں پروفیسر شفیع ملک صاحب بھی شامل ہیں ۔ ہم سب مزدوروں کی فلاح و بہبود کےلئے کام کر رہے ہیں ۔ ہ میں ایک دوسرے کی یونین کو ہائی جیک نہیں کرنا چاہیے ۔ مزدور رہنماء زاہدہ صاحبہ نے اپنے مختصر خطاب میں فرمایا کہ خواتین لیبر کے ساتھ امتیازی سلوک ہوتا ہے ۔ جبکہ رسول ﷺ نے حج الودع پر عورتوں اور ماتحتوں کے ساتھ بہتر سلوک کا درس دیا تھا ۔ آخر میں جماعت اسلامی کے امیر اور سینیٹر سراج الحق صاحب نے حاظرین سے خطاب میں فرمایا کہ نیشنل لیبر فیڈریشن عرصہ پچاس سال سے مزدروں کی بہتری کےلئے کام کر رہی ہے ۔ میں ان کے ۰۵ سال پورے ہونے پر گولڈن جوبلی پر مبارک باد پیش کرتا ہوں ۔ میں مزودروں کو سیرت النبی;248; سے فائدہ اُٹھانے کی نصیحت کرتا ہوں ۔ آج کراچی سے چترال تک مزدور پریشان ہیں ۔ یہ ملک سرمایا داروں ، جاگیرداروں ، کمیشن ایجنٹوں اور این جی اوز کےلئے ٹھیک ہے ۔ فیکٹریوں میں کام کرنےوالے مزدور اورگھروں میں کام کرنےوالے جبر کی زندگی گزار رہے ہیں ۔ ملک میں انصاف نام کی کوئی چیز نہیں ۔ مہنگائی زوروں پر ہے ۔ جب تک جیب میں پیسے نہ ہوں کوئی کام نہیں بنتا ۔ آپ ملک میں اسلامی انقلاب کےلئے تیار ہو جائیں ۔ اگر آپ کوشش کریں تو سب کچھ ٹھیک ہو سکتا ہے ۔ اگر آپ اب نہ بھی کامیاب ہو سکیں تو آپ کی اولاد کو اس جدو جہد کا فائدہ پہنچے گا ۔ میں آپ کے پاس سینیٹ کے پروگرام سے آیا ہوں ۔ وہاں کوئی بھی ہم جیسا مزدور نہیں ۔ میں خود مزدور ہوں مزدور کا بیٹا ہوں ۔ سارے ممبران انگریز کے غلام یا پھر ان کی اولادں میں سے ہیں ۔ حکمرانوں نے مزدور اور عوام کو تقسیم کیا ۔ ہم مزدوروں کےلئے کھڑے ہیں ۔ اس ملک میں اسلامی انقلاب کی ضرورت ہے ۔ ہمارے ملک کے حکمرا ن مسلمان تو ضرور ہیں ۔ مگر اسلامی نظامِ حکومت راءج نہیں کرنے کےلئے تیا ر نہیں ۔ ہ میں اس نظام سے بغاوت کرنی ہے ۔ جماعت اسلامی آپ کے ساتھ آپ کے حقوق کےلئے کھڑی ہے ۔ جب تک نظام تبدیل نہیں ہوتا سرمایہ داروں کی فیکٹریاں بڑھتی جائیں گی ۔ مزدور بد حال ہوتا جائے گا ۔ ۵۳ سال ملک میں مارشل لاء رہا ہے ۔ باقی سیاستدانوں نے حکمرانی کی ۔ مگر حالات ویسے کے ویسے ہی رہے ۔ آج ۰۵۷۱ روپے کی مزدوری میں ایک مزدور کا گھر کیسے چل سکتا ہے ۔ اس لئے اسلامی نظام حکومت سے ہی مزدور کے حالت درست ہو سکتے ہیں ۔ شمس الدین سواتی صاحب کی دعا کے ساتھ ہی یہ پروگروام اپنے اختتام کو پہنچا ۔

بابری مسجداوربھارت کی آزاد عدلیہ

بھارت اس وقت بہت ساری اچھی بُری چیزوں میں ترقی کر رہا ہے اُس نے سائنس میں بھی ترقی کی ہو گی ، طب میں بھی اور کمپیوٹر سازی میں بھی آگے نکلا ہو گا جن کا وہ ساری دنیا میں ڈھنڈورا پیٹتا ہے لیکن وہ اس بات سے انکار نہیں کر سکتا کہ معاشرتی اقدار میں اُس کا انڈیکس پستی کی طرف جا رہا ہے اور مذہب کے نام پر تو اُس نے نریندرا مودی کی سر کردگی میں وہ وہ کارنامے سر انجام دیے کہ جس کی مثال کم ہی ملے گی ۔ اُس نے مذہب کے ہی نام پر گائے کو انسانوں پر برتری دی اور اپنے ہی ہم مذہب دلتوں کو جانوروں سے بھی کم تر بنا دیا ۔ جہاں بات آئی اقلیتوں کی تو،تو ان کے حقوق کو ضبط کرنا اور انہیں پستیوں میں دھکیلنا تو ایک مذہبی کا ر ثواب اور قومی کا رنامہ ٹھہرتا ہے ۔ ایسا ہی ایک سیاہ کارنامہ بھارت نے اس وقت سر انجام دیا ہے اور اُس کی ’’آزاد‘‘ عدالت عظمیٰ یعنی سپریم کورٹ نے 9 نومبر 2019کو بابری مسجد کے ستائیس سالہ پرانے مقدمے کا فیصلہ ہندءوں کے حق میں سنا دیا ۔ یہ فیصلہ پانچ رکنی بنچ نے چیف جسٹس رانجن گو گی کی سر براہی میں سنا یا کہ بابری مسجد کی جگہ پر ہندو اپنا مندر تعمیر کر سکتے ہیں اور مسلمانوں کو بدلے میں کسی اور جگہ پانچ ایکڑ زمین دی جائے ۔ یہی بابری مسجد ہے جس کو متنازعہ بنا کر بھارتیہ جنتا پارٹی اَسّی کی دہائی میں بام عروج پر پہنچی اور1984 میں اس کی پارلیمنٹ میں دو سیٹیں 1989 میں پچاسی سیٹوں میں تبدیل ہوئیں ، اور پچھلے دو انتخابات تو اسی مسلم دشمنی کی بنا پر ہی جیتے گئے اور اسی لیے جیتے گئے کہ بھارت کے مسلمانوں کو بھارت سے نکلنے پر مجبور کر دیا جائے یا خدا نخواستہ مذہب ہی تبدیل کروا دیا جائے یہ اور بات ہے کہ اُس کی ان میں سے ایک خواہش بھی پوری نہیں ہو سکتی نہ تو مسلمان اسلام چھوڑ سکتے ہیں نہ 20 کروڑ لوگ ملک ہاں یہ ممکن ہے کہ یہ بیس کروڑ لوگ اِدھر ہی ایک الگ ملک بنا لیں ۔ ابھی تو بھارت کی سپریم کورٹ نے فیصلہ ہی سنا یا ہے جب اس پر عمل کرنے کا وقت آئے گا تو تب کے حالات کا بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے ۔ 6دسمبر1992کو جب ویشوا ہندو پریشد اور بی جے پی کے غنڈوں نے مل کر بابری مسجد کے مینار پر چڑھ کر اُس کو توڑا تھا تو پورا بھارت فسادات کی زد میں آگیا تھا اور اُس ایک دن2000لوگوں کے ہلاک ہونے کی خبر آگئی تھی جس میں ہندو اور مسلمان دونوں شامل تھے اگرچہ اکثریت مسلمانوں کی تھی ۔ مینار پر چڑھ کر اسے توڑنے والے جو کبھی اپنے اس عمل پر فخر کرتے تھے اِن میں سے کئی اب اسے اپنا سب سے بڑا جُرم تصور کرتے ہوئے دائرہ اسلام میں داخل ہو چکے ہیں ۔ شیو پرشا دمحمدمصطفی بن چکا ہے بلبیر سنگھ جو شیو سینا کا ہر دلعزیز اور پُر جوش لیڈر تھا دل کی خلش سے مجبور ہو کر محمد عامر کے نام سے جانا جاتا ہے اور اس وقت ایک پُر جوش مبلغ اسلام ہے ۔ یوگندرا پال محمد عمر بن کر 100مساجد کی مرمت اور تزئین و آرائش کر چکا ہے ۔ اس بار بھی ایسا ہی ہو گا یعنی اگر رام مندر کی بنیاد رکھی گئی تو بہت سارے ہندو عمر، علی اور عبداللہ میں تبدیل ہوں گے اور پھر ہزاروں بھارتیوں کا خون بہے گا چاہے وہ ہندو ہو ں یا مسلمان ۔ اس وقت بھی مسلمانوں کے جذبات کو دبایا گیا ہے کہ یہ سپریم کورٹ کا فیصلہ ہے لہٰذا کسی کو کچھ کہنے کی اجازت نہیں اور اسدالدین اویسی نے جب اس فیصلے کے خلاف بیان دیا تو ہندءوں کی طرف سے انہیں مخالفت اور نفرت کا سامنا کرنا پڑا ۔ بابری مسجد کو ئی آج یا کل کی تعمیر شدہ نہیں ہے بلکہ شہنشاہ بابر کے دور ِ حکومت یعنی سولہویں صدی عیسوی میں اس کے ایک سپہ سالار میر باقی نے اسے تعمیر کیا اور تقریباََ تین سو سال تک یہ غیر متنازعہ طور پر مسجد ہی رہی ۔ پہلی بار1822 میں فیض آباد کے ایک سرکاری اہلکار نے یہاں رام مندر ہونے کا دعویٰ کیا ۔ 1855 میں اس پر پہلا ہندو مسلم فساد ہوا تو انگریز حکومت نے حالات قابو میں رکھنے کےلئے اس کے صحن میں جنگلہ لگا کر ہندءوں کےلئے جگہ الگ کر دی اور 1949 یعنی تقریبا ٌ ایک صدی تک ایسا ہی چلتا رہا لیکن ایک بار پھر ہندو سازشی ذہن بیدار ہوا اور یہاں رات کے وقت کچھ مورتیاں رکھ کر ایک دفعہ پھر دعویٰ کیا گیا کہ یہ رام کی جنم بھومی ہے اور یوں اس تنازعے کو دوبارہ زندہ کیا گیا جس پر ہندو ریاست نے مسجد کو تالا لگا دیا اور 1980تک یہ معاملہ پھر تھم گیا لیکن اَسّی کی دہائی میں اسے پھر زندہ کر دیا کر دیا گیا اور 6دسمبر 1992کو عظیم بھارت کی عظیم جمہوریت میں جو ہوا اس کا ایک ایک انداز کیمرے کی آنکھ میں محفوظ ہے اور یہ مکروہ فعل کرنے والے آج بھی زندہ ہیں اور بغیر کسی سزا کے زندہ ہیں اور یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ وہ بھارت میں جو چاہے اقلیتوں کے ساتھ کر سکتے ہیں کیونکہ وہ ہندوہیں ۔ ان کا یہی شدت پسند رویہ اور ہندو تواہی بھارت کےلئے مصیبت کا باعث بنے گا بلکہ یہی رویہ ہے جس نے وہاں کئی علیحدگی پسند تحریکوں کو جنم دے رکھا ہے جن میں سے اگر چند ایک بھی کامیاب ہوگئیں توبھارت کے حصے بخرے ہونے کی ابتدا ء ہو جائے گی اور اور دنیاجو اب وہاں کے مسلمانوں کے مسائل سے آنکھیں بند کیے ہوئے ہے اسے معلوم ہو گا کہ بھارت کتنی بڑی جمہوریت تھا ۔ جمہوریت صرف انتخابات کا تسلسل نہیں ہو تا بلکہ اس میں ووٹ کے بدلے عوام کے حکومت پر کچھ حقوق بھی ہوتے ہیں اور یہی حقوق ہیں جو بھارت کی اقلیتوں کو نہیں مل رہے اور اس کے ثبوت کےلئے یہی کافی ہے کہ اس کی سپریم کورٹ تک نے مسلمانوں کی ایک بڑی اور قدیم مسجد کو صرف دیومالائی روایتوں پر قربان کر دیا گیا تو یہ ہے بھارت کی اصل حقیقت او ر اصلیت جسے اب دنیا کو سمجھ بھی لینا چاہیے اور اس کی مذہبی شدت پسندی کی روک تھام بھی کرنی چاہیے ۔

افغانستان میں پاکستان مخالفت بھارتی کردار

حقیقت میں مستحکم افغانستان پاکستان کیلئے فائدہ مندہے ۔ امریکہ کی طرف سے افغانستان میں قیام امن پر پاکستانی حمایت پر پاکستان امریکہ کا بھرپور ساتھ دینے کو تیار ہے مگر افغانستان میں بھارت کو کردار دینا پاک امریکا تعلقات میں خرابی کی وجہ ہے جب کہ امریکی اسٹیبلشمنٹ خود تقسیم ہے ۔ ایک حصہ چاہتا ہے افغانستان کو ابھی نہ چھوڑیں اور دوسرا اس کے برعکس سوچتا ہے ۔ افغانستان میں امن و اعتدال دیکھنا چاہتے ہیں ۔ قیام امن کے لئے ہماری کوششیں جاری ہیں اور جاری رہیں گی ۔ ہم یہ بات بھی واضح کرچکے ہیں کہ قیام امن کےلئے واحد راستہ بات چیت ہے اور اس کے لئے افغان حکومت اور افغان طالبان کوامن عمل میں لانے کی بھرپور کوشش کی لیکن دوسری جانب بھارت اپنے نفرت انگیز منصوبوں کے لیے افغان سرزمین کو استعمال کر رہا ہے بھارت کا منفی کردار افغانستان میں مسائل بڑھا رہا ہے ۔ پاکستان نے دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اچھے نتاءج حاصل کیے ہیں اور امریکا کے ساتھ مل کر آگے بڑھنے اور بہترین تعلقات قائم کرنے کیلئے پرعزم ہیں ۔ ایک مستحکم افغانستان کے قیام، داعش کو شکست دینے اور دونوں ملکوں کیلئے خطرہ بننے والے دہشت گرد گروپوں کا خاتمہ، پاکستان اور امریکہ کے مشترکہ مقاصد ہیں ۔ امریکہ ایک مستحکم افغانستان کا خواہاں ہے‘ پاکستان کے کردار کے بغیر افغانستان میں امن کا قیام جوئے شیر لانے کے مترادف ہے ۔ لیکن پاکستان کےلئے ایسی امریکی پالیسی پاکستان کیلئے قطعی طور پر قابل قبول نہیں ہو سکتی جس میں افغانستان میں بھارت کو کردار دینے کی بات کی گئی ہو ۔ پاکستان امریکہ تعلقات میں بہتری کیلئے پاکستان جتنی بھی پسپائی اختیار کرلے‘ بھارت کی افغانستان میں موجودگی ناقابل برداشت ہے ۔ ہماری مشرقی سرحد ہمیشہ سے غیرمحفوظ رہی ہے ۔ افغانستان میں بھارت کے عمل دخل کے بعد مغربی سرحد بھی پہلے کی طرح محفوظ نہیں رہی ۔ بھارت کو افغانستان میں مستقل اور بہت بڑا کردار دیکر مغربی سرحد پر بھی دشمن بیٹھ جائیگا جس سے اس کیلئے پاکستان میں مداخلت مزید آسان ہو جائیگی اور پاکستان کیخلاف دہشت گردی کی کھلی چھوٹ مل جائیگی جسے امریکہ من وعن قبول کرلے گا ۔ پاکستان اور بھارت کے مابین دشمنی کی بنیادی وجہ مسئلہ کشمیر ہے ۔ امریکہ یہ مسئلہ حل کرادے تو دونوں ممالک کے تعلقات میں بہتری کی امید پیدا ہو سکتی ہے ۔ طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد نہ صرف شمالی اتحاد کو حکومت ملی، بلکہ اس میں پاکستان مخالف عناصر کو بھرپور نمائندگی دی گئی ۔ سابق افغان صدر حامد کرزئی کے قریبی مشیروں میں زیادہ تر عہدیداروں کی وفاداریاں بھارت کے ساتھ تھیں اور کابل کی سرکاری مشینری پر بھارتی اہلکاروں اور ایجنسیوں کا عمل دخل بھی بہت بڑھ چکا تھا ۔ انہوں نے اپنے مکروہ ارادوں کو عملی جامہ پہناتے ہوئے کابل حکمرانوں کے دل و دماغ میں پاکستان کے خلاف زہر بھرنا شروع کر دیا ۔ افغان سرزمین پر قیام امن کی خاطر ہ میں بہت نقصان اٹھانا پڑا ۔ حامدکرزئی عملاً بھارتی ایجنٹ کا کردار ادا کرتے ہوئے نیٹو فورسز کو پاکستان پر حملہ آور ہونے کی بھی ترغیب دیتے رہے ۔ نیٹو کے گن شپ ہیلی کاپٹروں کی جانب سے پاکستان کی سلالہ چیک پوسٹ پر حملہ کابل انتظامیہ کی اس سازش کا ہی شاخسانہ تھا جبکہ کرزئی نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کو بھی افغان سرزمین سے پاکستان کی سلامتی کیخلاف سازشوں کے جال پھیلانے کا مکمل موقع فراہم کیا چنانچہ بھارت نے افغان فوجیوں کی تربیت کے بہانے اسکے مختلف غیرمعروف شہروں میں بھی اپنے قونصل خانے قائم کئے جہاں سے ’’را‘‘ کے دہشتگردوں کو تربیت‘ اسلحہ اور فنڈنگ کیساتھ افغان سرحد سے پاکستان میں داخل کرنے کا سلسلہ شروع کیا جبکہ کابل انتظامیہ کی سرپرستی میں ہی بھارت نے پاکستان کی سالمیت کیخلاف یہ ساری سازشیں پروان چڑھائیں ‘ نتیجتاً طالبان کے بھیس میں بھارتی ’’را‘‘ کے دہشتگردوں نے جتھہ بند ہو کر کھلم کھلا پاکستان میں داخل ہونے اور یہاں سکیورٹی فورسز کی چیک پوسٹوں کے علاوہ ملحقہ سول آبادیوں پر بھی حملے کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا جو آج بھی جاری ہے ۔ موجودہ افغان صدر نے بھی دہلی کے فریب میں آکر کرزئی کی طرح بھارتی لب و لہجے میں بات کرتے ہوئے دہشتگردی کا ملبہ پاکستان پر ڈالنے کا سلسلہ شروع کردیا اور بجائے اسکے کہ افغانستان میں امن کی پاکستان کی کوششوں کا اعتراف کیا جاتا‘ پاکستان کو سنگین نتاءج کی دھمکیاں دینے کا سلسلہ شروع کر دیا گیا حالانکہ دہشتگردوں کے تمام ٹھکانے آج بھی افغان دھرتی پر موجود ہیں جنہیں بھارتی مقاصد کے تحت پاکستان کی سلامتی کمزور کرنے کیلئے استعمال کیا جارہا ہے ۔ موجودہ صورتحال میں جب امریکہ نے پاکستان سے حمایت طلب کی ہے اور افغانستان میں امن کا سلسلہ شروع ہونے جا رہا ہے تو افغان حکومت کو بھی یہ چاہیے کہ فراغدلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قیام امن کی طرف ہاتھ بڑھائے ۔ کیونکہ مذاکرات میں تمام سٹیک ہولڈرز کو شامل کیا جانا ہے جس میں پاکستان، امریکا، افغان حکومت اور طالبان شامل ہیں ۔ افغان حکومت کو سوچنا چاہیے کہ وہ طالبان کو جنگ میں شکست نہیں دے سکی اور کھربوں ڈالر جھونک کر بھی امریکا جنگ ہار چکا ہے تو کیوں نہ طالبان کو مذاکرات کی دعوت کو صدق دل سے قبول کر کے اس کو کامیاب بنایا جائے اور افغانستان میں امن قائم کیا جائے ۔

میاں نوازشریف کی علاج کیلئے بیرون ملک روانگی کا تنازعہ

میاں نوازشریف کی بیماری پیچیدگی اور پلیٹس لیٹس میں کمی کے باعث ڈاکٹرز نے بیرون ملک علاج کا مشورہ دیا تو اسلام آباد ہائی کورٹ میں طبعی بنیادوں پر میاں نوازشریف کی ضمانت کی درخواست پر 8ہفتوں کیلئے ضمانت منظور ہوئی تو بیرون ملک جانے کیلئے ایگزسٹ کنٹرول لسٹ سے نام کا اخراج ضروری تھا اس پر مسلم لیگ ’’ن‘‘کے صدر میاں شہباز شریف کی جانب سے وزارت داخلہ کو ایک درخواست دی گئی جس میں میاں نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کی استدعاکی گئی ، سیکرٹری داخلہ کے نام دی گئی درخواست پر وزارت داخلہ نے قانونی پہلوءوں کا جائزہ لیا اور درخواست قومی احتساب بیورو کو ریفر کی ، اس کے فوری بعد وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا اور فیصلہ ہوا کہ میاں نوازشریف کا نام مشروط طور پر ای سی ایل سے نکال دیا جائے ۔ میاں نوازشریف کو روانگی سے قبل ایڈیمنٹی بانڈز جمع کرانے کی شرط عائد کی گئی مگر مسلم لیگ ’’ن‘‘کی جانب سے طویل مشاورت کے بعد 7ارب روپے کے ایڈیمنٹی بانڈز دینے کیلئے شریف فیملی سمیت کوئی بھی لیگی راہنما دینے کو تیار نہیں تھا، اس پر مسلم لیگ ’’ن‘‘کی جانب سے لاہور ہائی کورٹ میں ای سی ایل سے نام نکالنے کےلئے پٹیشن دائر کی گئی اور لاہور ہائی کورٹ نے میاں نوازشریف اور میاں شہبازشریف کو بیان حلفی جمع کرانے کا حکم دیا گیا اوریوں میاں برادران کی انڈرٹیکنگ پر چار ہفتوں کیلئے میاں نوازشریف کو علاج کیلئے بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی گئی ، وفاقی حکومت کی جانب سے اس فیصلے پر ملے جلے ردعمل سامنے آئے، وفاقی وزراء میں بھی اس فیصلے پر تقسم نظر آئی ، فواد چوہدری اور دیگر کا خیال ہے کہ اس فیصلے کو وفاقی حکومت سپریم کورٹ میں چیلنج کرے تاہم وزیراعظم عمران خان نے ہفتہ کے روز اپنی قانونی ٹیم سے مشاورت کے بعد وفاقی کابینہ سے مشاورت کے بعد حتمی فیصلہ کرنا ہے کہ اس فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا جائے یا نہیں تاہم اتوار کے دن وزیراعظم کے معاون خصوصی برائے احتساب شہزاد اکبر اور اٹارنی جنرل آف پاکستان انورمنصورخان نے لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کو حکومتی موقف کی جیت قرار دیا ، وزیراعظم کے مشیراور اٹارنی جنرل نے پریس بریفنگ میں بتایاکہ عدالت نے میاں برادران سے حلفیہ بیانات اسٹامپ پیپرز پر اس لئے کہ دونوں برادران صادق اور امین نہیں اور ماضی میں وہ وعدہ خلافی کرچکے ہیں ، اب چونکہ عدالت نے بیان حلفی لے لئے ہیں اگر میاں برادران واپس نہیں آتے تو پھر آئین کے آرٹیکل 62 اور 63کے تحت وہ نا اہل ہوسکتے ہیں ، میاں نوازشریف کو تو پہلے ہی سپریم نے انہی آرٹیکلز کے تحت نا اہل قراردے رکھا ہے ۔ لاہور ہائی کورٹ سے میاں نوازشریف کا نام ای سی ایل سے نکالنے کا فیصلہ آیا تو لیگی کارکنان اور رہنماءوں نے نہ صرف بھنگڑے ڈالے بلکہ مٹھائیاں بھی تقسیم کیں اور وفاقی حکومت پر شدید تنقید بھی کی ، گزشتہ تین دنوں سے سوشل میڈیا پر جس طرح لیگی کارکنان میاں نوازشریف کے حق میں آنے والے اس فیصلے پر وزیراعظم عمران خان کامذاق اڑایاجارہاہے اس سے یہ تاثر نمایاں ہو رہاہے کہ جیسے تنازع ریاست بمقابلہ نوازشریف نہیں بلکہ عمران خان بمقابلہ نوازشریف تھا ۔ وزیراعظم عمران خان کی جانب سے وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد میاں نوازشریف کو 7ارب روپے کے ایڈیمنٹی بانڈز جمع کرانے پر بیرون ملک سفر کی اجازت دے دی تھی تاہم مسلم لیگ ’’ن‘‘کی جانب سے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا، یہاں ایک بات واضح ہورہی ہے کہ اس عدالتی فیصلے کے بعد خوشیاں منانے والوں کو شاید اس بات کا اندازہ نہیں کہ وزیراعظم عمران خان یہ پیسے اپنے اکاونٹ میں نہیں بلکہ قومی خزانے میں جمع کرانے کیلئے طلب کررہاتھا اور یہ غریب عوام ہی کے خون پسینے کے ٹیکسز کے پیسے تھے جنھیں لوٹاگیا ، اب عوام کو اس بات کا اندازہ نہیں کہ جس شخص کو وہ مجاہد اعظم اور ہیروقرار دے رہے ہیں وہ پاکستان کی سب سے بڑی عدالت سپریم کورٹ سے سزایافتہ مجرم ہے جس پر منی لانڈرنگ اور آف شورز کمپنیوں کے ذریعے اربوں ڈالر بیرون ملک منتقل کرنے کا الزام ہے ، باشعور قو میں ہ میں ملک کو ترجیح دیتی ہےں ، یہ ملک ہے تو سیاستدان بھی ہیں اور عوام بھی ۔ لیگی کارکنان ورہنماءوں کی جانب سے جس طرح فیصلے پر خوشیاں منائی جارہی ہیں یہ عوام کی کامیابی نہیں بلکہ مافیاکی کامیابی ہے جس اس ملک کی دولت کو بیرون ملک منتقل کرکے اپنے اہل وعیال کےلئے جائیدادیں بنارہے ہیں لیکن عوام کیلئے اتنے برس اقتدار میں رہنے کے باوجود کچھ بھی نہ کرسکے ۔ آج تین بار کا وزیراعظم محض اس لئے بیرون ملک علاج کیلئے جارہا ہے کہ اس ملک میں علاج کی سہولت میسر نہیں ، باشعور قومی ہمیشہ ملک وقوم کے مخلص راہنماءوں کو اپنا قائد مانتی ہیں ، لیگی بھائیوں سے معذرت کے ساتھ سوال کرنا چاہوں گاکہ کیا تین بار کے وزیراعظم نے اس ملک میں ایک بھی ایسا ہسپتال بنایا جہاں ان کا علاج ہوسکے ;238; اگر میاں نوازشریف اپنا علاج برطانیہ اور امریکہ کے مہنگے ہسپتالوں میں کراسکتا ہے تو ایک غریب شخص کیا بیرون ملک علاج کیلئے جاسکتاہے ;238; جن سیاستدانوں نے ملکی دولت لوٹی ان کی اندھی تقلید کیوں ;238; کیا ان سیاست دانوں کا محاسبہ صرف قومی احتساب بیورو نے کرنا ہے ;238; کیا عوام ان کرپٹ سیاستدانوں کا محاسبہ نہیں کرسکتے ;238; کرپشن کے الزامات میں قید سیاستدان اپنے بے گناہی ثابت کرکے باعزت بری ہوجائیں تو پھر ان کے پیروکاروں کو بے شک پھولوں کے ہار پہناکر استقبال کرناچاہیے لیکن ہمارے ہاں المیہ ہے کہ سنگین مقدمات میں ملوث ملزمان جب عدالتوں میں پیش ہوتے ہیں تو اس ملک کا ایک ایسابھی طبقہ ہے جو ان ملزموں اور مجرموں کا والہانہ استقبال کرتاہے ، ہ میں اپنی یہ روش بدلنی ہوگی ، ملک اسی صورت میں ترقی کر سکتا ہے جب عوام میں شعور آئیگا اورعوام کو اپنے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے والوں کا احتساب کرنے اور عوام کیلئے مخلص حکمرانوں کی پہنچان ہوگی ۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے ۔

میاں نواز شریف کے علاج کے معاملے پر عدالت کا احسن فیصلہ

کئی دنوں سے جاری ایک ہیجانی کیفیت کا خاتمہ ;200;خر اس عدالتی فیصلے کے ذریعے ہوا جس میں لاہورہائی کورٹ نے وفاقی حکومت کو پاکستان مسلم لیگ (ن)کے سربراہ نواز شریف کا نام ای سی ایل سے خارج کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں 4 ہفتوں کے لیے بیرون ملک جانے کی اجازت دے دی ۔ جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں لاہور ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے سابق وزیراعظم نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کی درخواست پر سماعت کی اور پاکستان تحریک انصاف کی وفاقی حکومت کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے نواز شریف اور شہباز شریف کے بیان حلفی پر انہیں علاج کے لیے باہر جانے کی اجازت دی ۔ عدالت نے وفاقی حکومت کی جانب سے لگائے گئے 7 ارب روپے کے بونڈ کی شرط کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ جب ہائی کورٹ نے ضمانت دی ہے تو اس شرط کا کوئی جواز نہیں بنتا ۔ لاہور ہائی کورٹ نے حکم میں کہا کہ نواز شریف علاج کی خاطر 4ہفتوں کے لیے ملک سے باہر جاسکتے ہیں اور اگر علاج کے لیے مزید وقت درکا ہوا تو درخواست گزار عدالت سے دوبارہ رجوع کرسکتا ہے اور میڈیکل رپورٹس کی روشنی میں توسیع دی جاسکتی ہے ۔ اس عدالتی حکم پر مسلم لیگ نون کے رہنماؤں نے اطمینان کا اظہار کیا ہے جبکہ حکومت نے اسے چیلنج نہ کرنے کا عندیہ ہے ۔ عدالتی فیصلے کے بعد امید کی جاسکتی ہے کہ اب ملک کے سیاسی منظر نامے پر چھائی بلاوجہ کی کشیدگی کا خاتمہ ہو گا اور اب عوامی مسائل پر پوری توجہ دی جائے گی ۔ یہ اِس ملک کی بدقسمتی ہے کہ ہماری سیاسی اشرافیہ عوامی مسائل کو نظرانداز کرتے ہوئے نان ایشوز پر اپنی ساری توانائیاں صرف کرتی ہے ۔ میاں نوازشریف کی صحت کی صورت حال پر جس طرح فریقین نے قوم کا وقت برباد کیا اس پر افسوس ہی کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی یہ مہذب قوموں کی نشانی ہے ۔ اس معاملے کو اول روز سے ہی عدالت کے ذریعے حل کر لیا جاتا تو زیادہ مناسب ہوتا ۔ اسلام ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد وفاقی حکومت نے نواز شریف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ سے نکالنے کیلئے مشروط اجازت نامہ جاری کیا،مگر مسلم لیگ نون کی قیادت نے اسے ماننے سے انکار کر کے نیا تنازعہ کھڑا کر دیا جس کی قطعا ًضرورت نہ تھی ۔ حکومت نے حفظ ِماتقدم کے طور محض کاغذی شیورٹی بانڈ کی شرط رکھی نہ کہ کیش کی گارنٹی طلب کی تھی ۔ بلا وجہ اس معاملے کو اچھالا گیا، نون لیگ کے اس رویے کے بعد ان شکوک و شبہات کو مزید ہوا ملی کہ میاں نواز شریف علاج کے بہانے ایک بار نکل گئے تو ان کی واپسی نہیں ہو گی ۔ شکوک وشبہات کا یہ سلسلہ عدالتی اجازت کے باوجود تھمنے والا نہیں تاہم اس کا انحصار شریف فیملی کے ;200;ئندہ کے لاءحہ عمل پر ہو گا کہ وہ عدالت میں جمع کرائے گئے حلف نامے کی پاسداری کا کہاں تک خیال رکھتی ۔ مسلم لیگ نون نے حکومتی خیرسگالی کو جس طرح متنازعہ بنانے کی کوشش کی اور معاملے کو عدالتوں میں گھسیٹا ہے اس سے کوئی اچھی روایت جَڑ نہیں پکڑے گی ۔ یہ عدالتی حکم ایک نظیر بن گیا ہے جسکے ;200;نےوالے دنوں میں دور رس اثرات مرتب ہوں گے ۔ ایک مقدمے میں سزایافتہ شخص اپنے علاج کےلئے بیرون ملک جاتا ہے اور وہ بلا کسی خوف اور نقصان کے ڈر سے لیت لعل سے کام لیتا ہے تو مزید ایک بحران جنم لے سکتا ہے ۔ نوازشریف کو بیرون ملک علاج کی اجازت دینا انسانی اقدار کے حوالے سے اچھا فیصلہ ہے اور یہ شریف فیملی خصوصاً میاں شہباز شریف جو اپوزیشن لیڈر بھی ہیں ان پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ معاملے کی نزاکت کے پیش نظر اپنے بڑے بھائی کے علاج پر پوری توجہ اور یکسوئی برقرار رکھیں ، تاکہ مزید وقت ضائع نہ ہو ۔ اس پر مزید کسی بھی قسم کی سیاسی پوائنٹ سکورنگ سے گریز کیا جائے تاکہ عدالتی فیصلے کا احترام اور تقدس برقرار رہے ۔ پاکستان کے قانون کے تحت بیرون ملک علاج کی سہولت یہ اِن کا کوئی پیدائشی یا ;200;ئینی حق نہیں تھا بلکہ خالصتاً انسانی بنیادوں اور از راہ ہمدردری اضافی راہ نکالی گئی ہے ۔ ملک کو درپیش کئی دیگر سنگین چیلنج متقاضی ہیں کہ حکومت اور اپوزیشن سخت رویے سے اجتناب برتیں ۔ خصوصاً حکومتی عہدیدار عدالتی فیصلے پر بیان بازی سے اجتناب برتیں اور اپنی توجہ عوامی مسائل کے حل پر مرکوز کریں کیونکہ یہی ان کی ;200;ئینی ذمہ داری بھی ہے ۔ پہلے ہی قوم کا بہت سا قیمتی وقت ضائع ہوا اور اسے مہنگائی جیسے چنگل نے ;200;ن لیا ہے ۔ حکومت کے نوازشریف کیس میں الجھنے اور عدم توجہی کے باعث عوام مارکیٹ مافیا کے ہاتھوں بری طرح لٹ رہی ہے ۔ ;200;ٹے دال اور سبزیوں کی قیمتیں متوسط اور نچلے طبقے کے ہوش اڑا رہی ہیں ۔ علاج معالجہ پہلے ہی ناقابل بیان حد تک مشکل بن چکا ہے ۔ ;200;خر کون اس کا ذمہ دار ہے ۔ کیا اپوزیشن کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ اس معاملے پر سر پکڑ کر بیٹھے یا اس کے نزدیک عوامی مسائل پر صرف سیاست اہم ہے ۔ قیمتوں پر کنٹرول کی اب تک کی جانے والی تمام کوششیں قطعی غیر موثر ہیں ۔ حکومتی ٹیم کا دعویٰ ہے کہ معاشی اعشاریے بہتر ہو رہے ہیں لیکن جب تک عوامی مسائل کم نہیں ہوتے تب تک یہ دعوے محض دعوے ہی رہیں گے ۔

پاک افغان متنازعہ امور کے حل کےلئے ٹیکنیکل کمیٹی

کا قیام، خوش ;200;ئند

پاکستان اور افغانستان کے مابین کشیدگی کو کم کرانے اور بعض متنازعہ امور کو خوش اسلوبی سے طے کرنے کےلئے ایک ٹیکنیکل کمیٹی کے قیام پر اتفاق ہوگیا ہے جو یقینی طور خوش ;200;ئند فیصلہ ہے ۔ اس سلسلے میں پاک افغان ایکشن پلان فار پیس اینڈ سالڈیرٹی کا اجلاس آئندہ ماہ کابل میں منعقد کرنے پر بھی اتفاق ہوا ہے ۔ یہ اتفاق رائے ان ملاقاتوں کے نتیجے میں ہوا جس میں پاکستان کی دفاعی ایجنسی آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل جنرل فیض حمید اور سیکرٹری خارجہ سہیل محمود نے اپنے دورہَ کابل میں افغان حکام سے کیں ۔ پاکستانی اعلیٰ سطح وفد نے افغان انٹیلی جنس کے سربراہ اور افغان نیشنل سیکورٹی کے ایڈوائزر کیساتھ ملاقات میں کابل میں پاکستان کے سفارت کاروں کو ہراساں کرنے، پشاور مارکیٹ کے تنازع، پاک افغان سرحد پر پاک فوج کی چیک پوسٹ کی تعمیر میں افغان فورسز کی رکاوٹ اور چترال کے علاقہ میں پاکستان کی سویلین آبادی پر افغان فورسز کی بلاجواز فائرنگ کے معاملات پر تفصیل کے ساتھ بات چیت کی اور ان مسائل کے حل اور باہمی تعلقات میں کشیدگی کا سبب بننے والی وجوہات کی تحقیقات کے لئے کمیٹی کے قیام پر اتفاق کیا ۔ پاکستان اور افغانستان اسلامی اخوت کے رشتے میں بندھے ہونے کے باوجود تناوَ کی کیفیت سے دو چار رہتے ہیں جسے افسوسناک امر ہی کہا جا سکتا ہے ۔ پاکستان اپنے برادر اسلامی ملک میں امن اور استحکام کا خواہاں ہے،اس سلسلے میں وہ بین الاقوامی برادری کو بھی ساتھ لے کر چل رہا ہے ۔ طالبان امریکہ بات چیت ہو یا طالبان روس چین سہ فریقی مذاکرات ہر پلیٹ فارم پر پاکستان مخلصانہ سہولت کار ی فراہم کر رہا ہے لیکن بدقسمتی سے افغان حکومت کے بعض عناصر کسی کی شہ پر مغالطوں کو ہوا دیتے رہتے ہیں ۔ حالیہ دنوں میں جب سے پاکستان نے کشمیر ایشو پر زبردست سفارتکاری شروع کی ہے بھارت ہمارے برادر پڑوسی ممالک کو گمراہ کرنے میں مصروف ہے ۔ خصوصاً افغانستان جہاں ’ را‘‘ کا ایک منظم نیٹ ورک سرکاری اور غیر سرکاری ہر سطح پر موجود ہے کو پاکستان کےخلاف اُکساتا رہتا ہے ۔ یہ بھارتی سازشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ گزشتہ دنوں افغانستان میں پاکستانی سفارتکاروں کو نہ صرف ہراساں کیا گیا بلکہ پاکستانی سفارتخانے پر عملاً حملے بھی کروائے گئے ۔ اسی طرح پاک افغان سرحد پر افغان سکیورٹی فورسز کی کی طرف سے فائرنگ کے واقعات کشیدگی کا باعث بنتے رہتے ہیں ۔ ایسے ہی کئی امور ہیں جن کو مل بیٹھ کر حل کرنا دونوں ملکوں کے مفاد میں ہے ۔ ٹیکنیکل کمیٹی کا قیام اس سلسلے میں ایک احسن اقدام ہے ۔ تاہم اسکے لئے ضروری ہے کہ اس کے تواتر کے ساتھ اجلاس ہوتے رہیں اور فیصلوں پر عملدر;200;مد کو بھی یقینی بنایا جائے ۔

ہر کام ﷲپر چھوڑ دیا جائے

امیر اسے کہا جاتا ہے جس کے پاس اپنی ضرورت سے زیادہ دولت ہو ۔ عام طور پر یہی سمجھا جاتا ہے کہ امیر شخص کے پاس سب کچھ ہوتا ہے ۔ وہ پیسے سے ہر چیز خرید سکتا ہے ۔ ساری زندگی آرام اور سکون سے گزار سکتا ہے ۔ عزت سے دنیا سے جا سکتا ہے ۔ جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ امیر بھی مشکلات کا سامنا کر سکتا ہے ۔ امیر کی بھی صحت خراب ہو سکتی ہے ۔ امیر بھی پل بھر میں غریب ہو سکتا ہے ۔ دولت اور عہدے ہمیشہ انسان کا ساتھ نہیں دیتے ۔ 1923 کو دنیا کے نو امیر ترین لوگ امریکہ کے شہر شکاگو کے مشہور واٹر بیچ ہوٹل میں اکٹھے ہوئے ۔ ان نو امیر ترین لوگوں کی دولت کا اندازہ اس سے کیا جا سکتا ہے کہ ان کی دولت اس وقت امریکہ کی حکومتی دولت سے کئی زیادہ تھی ۔ ان نو شخصیات کے پاس دولت کے انبار تھے پہاڑ تھے ۔ ہر چیز خرید سکتے تھے ۔ ان نو امیر ترین شخصیات کے کیا بزنس تھے ۔ ان کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ ان نو امیر ترین لوگوں میں ایک دنیا کی سب سے بڑی سٹیل کمپنی کا صدر تھا ، دوسرا دنیا کی سب سے بڑی یو ٹیلیٹی کمپنی کا صدر تھا ۔ تیسرا دنیا کی سب سے بڑی گیس کمپنی کا صدر تھا ۔ چھوتا نیو یارک سٹاک ایکسچینج کا صدر تھا ، پانچواں بنک آف انٹر نیشنل سیٹلمنٹ کا صدر تھا ۔ چھٹا دنیا کا سب سے بڑا ویٹ سپکیو لیٹر کا مالک تھا ، ساتواں دنیا کا سب سے بڑا بیئر آن وال سٹریٹ َ کا مالک تھا، آٹھواں ورلڈ گریٹ اکنا می کا سربراہ تھا ، نواں ہر ڈنگ کیپنٹ کا صدرتھا ۔ اس وقت ان سب کا شمار دنیا کے امیر ترین لوگوں میں ہوتا تھا ۔ یہ سب کے سب اب اس دنیا سے کوچ کر چکے ہیں ۔ یہ سچ ہے کہ اگر کسی کے پاس دولت کے انبار ہوں ، پہاڑ ہوں مگر وہ پھر بھی موت کو آنے سے روک نہیں سکتا ۔ موت اٹل ہے ۔ ہر ایک نے موت کا ذائقہ چکھنا ہے ۔ لیکن موت کا وقت مقرر ہے ۔ اس لئے موت زندگی کی حفاظت کرتی ہے ۔ وہ اپنے وقت مقرر پر اور جگہ پر آ پہنچتی ہے ۔ موت یہ نہیں دیکھتی کہ کوئی غریب ہے یا امیر ،بادشاہ ہے یا فقیر ۔ اگر اس کا وقت آ پہنچا ہے تو وہ اسے وہ اپنے ساتھ لے جاتی ہے ۔ ہاں ہر ایک کےلئے اس کا طریقہ کار مختلف ہوتا ہے ۔ ہم روز لوگوں کو اس دنیا سے کوچ کرتے دیکھتے ہیں مگر پھر بھی موت کو بھول جاتے ہیں ۔ جو موت کو بھول جاتے ہیں ۔ وہ پھر ہر کام کر گزرتے ہیں جو کہ انسان کے کرنے کے نہیں ہوتے ۔ موت کو یاد رکھنے والے جج ،والدین کبھی بھی نا انصافی پر مبنی فیصلے نہیں کرتے ۔ خوش قسمت ہیں وہ انسان جنہیں موت یاد رہتی ہے ۔ موت کو یاد رکھنے والے گناہوں سے بچے رہتے ہیں دولت ہر وقت ساتھ نہیں رہتی ۔ وہ آتی ہے اور چلی جاتی ہے ۔ عروج و زوال زندگی کا حصہ ہیں ۔ سب عارضی ہیں ۔ بات ہو رہی تھی دنیا کے ان نو امیر ترین لوگوں کی 25سال گزرنے کے بعد ان کے حالات کیسے تھے ۔ بتایا جاتا ہے کہ یہ نو کے نو امیر ترین لوگ اب فوت ہو چکے ہیں ۔ دنیا سے کس حالت میں رخصت ہوئے ۔ اس کی تفصیل کچھ یوں ہے ۔ جو شخص سٹیل کمپنی کا صدر تھا اس کا نام چارلس سواپ تھا ۔ یہ مرنے سے پانچ سال قبل بنک کرپٹ ہو کر مرا ۔ جو گیس کمپنی کا مالک مسٹر ہارورڈ ہبسن تھا وہ پاگل ہو کر مرا ۔ تیسرا ، ارتھر کیو ٹن کوڑی کوڑی کا محتاج ہو کر مرا ۔ چھوتا، جیل میں مرا ۔ پانچواں جیل ہوا لیکن مرنے سے قبل اسے گھر جانے دیا گیا ہے پھر اس کی موت گھر پر ہوئی ۔ ساتواں ایور کرگر نے خود کشی کر نے سے موت واقع ہوئی ۔ آٹھواں لیو فراسر کی موت بھی خود کشی کرنے سے ہوئی ۔ نواں سیمیل انسیول مرتے وقت کوڑی کوڑی کا محتاج ہو کر مرا ۔ ان کو دیکھ کر کہہ سکتے ہیں کہ ایک نظام انسانوں کا بنایا ہوا ہے اور ایک نظام قدرت کا بنا ہواہے ۔ ہوتا ویسا ہی ہے ۔ جیسا قدرت کے نظام میں ہوتا ہے ۔ دولت کوئی بری چیز نہیں لیکن اسے سب کچھ ہی سمجھنا برا ہے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ پیسہ انسان کی ضروت ہے ۔ اگر پیسہ ضرورت سے زیادہ ہو جائے تو وہ بھی اچھا نہیں کیونکہ وہ اکثربے سکونی کی کیفیت پیدا کر دیتا ہے ۔ جس سے فیملی لاءف ، عزیزو اقارب میں فاصلے بڑھ جاتے ہیں ، ڈسٹربنس پیدا ہوتی ہے ۔ رشتے کمزور ہو جاتے ہیں ۔ اگر کہا جائے کہ ایسی دولت سے شیطان سے قربت ہو جاتی ہے تو غلط نہ ہوگا ۔ شیطان کی دوستی پھر وہ گل کھلاتی ہے جسے سنبھالنا اور سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے ۔ بعض لوگ دولت کے ہوتے ہوئے اس کو اپنے پر نہیں لگاتے ۔ آجکل جو دنیا کا دوسرے نمبر پر امیر ترین شخص ہے وہ امریکن ہے ۔ اس کا اب بھی اپنا گھر نہیں ہے اپنی گاڑی نہیں ہے ۔ اپنا ذاتی ملازم نہیں ہے ۔ مگر یہ اپنی دولت کا زیادہ حصہ دنیا کی یونیورسٹیوں کے طالب علموں میں سکالر شپ فراہم کرتا ہے ۔ ویلفیئر کے کاموں میں خرچ کرتا ہے ۔ اتنی دولت کے ہوتے ہوئے اپنی کار اپنا ڈرائیور نہ رکھنا ، کرائے کے فلیٹ میں رہنا بات سمجھ میں نہیں آ تی کہ یہ شخص امیر ہوتے ہوئے اپنی ذات پر پیسہ کیوں خرچ نہیں کرتا ۔ کیا اسے اس کی ساددگی کہا جائے یا کنجوسی کہا جائے ۔ دولت اکٹھی کرنے کا پہلا مقصد اپنی ضرویات زندگی اپنا رہن سہن ، ٹھیک کر نا ہوتا ہے ۔ بہترین سواری بہترین گھر اور کام کاج کےلئے نوکر چاکر رکھنا ہوتا ہے ۔ اگر دولت کے ہوتے ہوئے بھی یہ چیزیں میسر نہیں ۔ وہ سیر سپاٹے نہیں کرتا ۔ کھا نے پینے کا شوق نہیں رکھتا ۔ سواری اچھی نہیں رکھتا اچھے کپڑے نہیں پہنتا تو پھر کیا ایسے شخص کو بد قسمت سمجھا جائے یا قناعت پسند ۔ اسی طرح کچھ ایسے لوگ بھی دکھائی دیتے ہیں ۔ جنہیں پیسوں کی کمی نہیں ۔ بچے بھی کماءو ہوتے ہیں ۔ کوئی ذمہ داریاں نہیں رکھتے ۔ صحت بھی ٹھیک نہیں ،پہنا ہوا لباس گیلا ہوتا ہے ۔ پھر بھی پیسے کے پیچھے بھاگتے دکھائی دیتے ہیں ۔ دنیا ساری میں تجربات کی روشنی میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کو روز آٹھ گھنٹے کام کرنا چائیے یعنی ہفتے میں چالیس گھنٹے کام ۔ باقی دو دن آرام ۔ ریٹائرمنٹ کی عمر 62 ۔ 65سال رکھی گئی ہے ۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ فارمولا صرف سرکاری ملازمین اور گوروں کےلئے ہے جبکہ ایسا نہیں ہے ۔ یہ سب پر لاگو ہے ۔ امریکہ میں بزنس مین اخبار اشتہار دیتے ہیں کہ ریٹائر ہو رہا ہوں لہٰذا اب رننگ بزنس میرا برائے فروخت ہے ۔ جبکہ ہم اپنا بزنس پہلے تو اس بنا پر فروخت ہی نہیں کرتے کہ ریٹائرہونے جا رہے ہیں ۔ یہ اپنا بزنس بچوں کو سونپ دیتے ہیں خواہ وہ بزنس بچوں کو پسند ہو یا نہ ہو ۔ لیکن ترقی یافتہ ممالک میں ایسا نہیں ہے ۔ باپ اپنی زندگی گزارتا ہے بیٹا اپنی زندگی گزارنے کا رستہ خود تلاش کرتا ہے ۔ جبکہ ہم قبر کی حد تک اس پر عمل کرتے ہیں لیکن زندگی بھر باپ ہی بچوں کی ذمہ داریاں نبھا تارہتا ہے ۔ انہیں پڑھاتا ہے ، نوکری بزنس کراتا ۔ جبکہ امریکی باپ اٹھارہ سال تک بچے کی ذمہ داری اٹھاتا ہے ۔ اس کے بعد اپنا اور اپنی لاءف پاٹنر کا ذمہ دار ہوتا ہے ۔ وہ اپنا بزنس سیل کر کے اس کا آدھا حصہ اپنے باقی دنوں کےلئے رکھ چھوڑتا ہے ۔ باقی کا حصہ اپنی سیرو سیاحت پر خرچ کرتا ہے ۔ پھر واپس آکر سوساءٹی میں ویلفیئر کے کاموں میں حصہ لیتا ہے ۔ یوں زندگی گزار کر دنیا سے رخصت ہو جاتا ہے ۔ جبکہ ہم بچوں کا مسقبل بنانے کےلئے ساری عمر رشوت کا بازار گرم رکھتے ہیں ۔ کیا یہ اچھا نہیں کہ اپنی جائز کمائی سے بچوں کو اچھی تعلیم دی جائے ۔ انہیں تہذیب سکھائی جائے ۔ ہلال حرام میں فرق بتایا جائے ۔ بچوں کو اپنے پاءوں پر کھڑا ہونے دیا جائے ۔ بچوں میں دولت کا انبار لگانے کی خواہش پر حوصلہ افزائی نہ کی جائے ۔ اپنی زندگی میں آرام و سکون پیدا کیا جائے ۔ ٹھہراءو لایا جائے ۔ دولت کا انبار لگانے سے باز آیا جائے ۔ کسی کا حق نہ مارا جائے تانکہ جب آخری منزل پر پہنچ جاءو تو فرشتے پوچھیں بول تیرے ساتھ کیا سلوک کیا جائے ۔ پھر کہنے کو اس وقت آپ کے پاس کچھ نہ ہو ۔ لہٰذا ہر کام ا;203; پرچھوڑ دیا جائے ۔

طبی بنیادوں پر سیاسی کھچڑی

اور پھر اچانک ایک دن خبر ;200;تی ہے کہ جناب نواز شریف صاحب کے پلیٹ لیٹس خطرناک حد تک گر گئے ہیں اور ڈاکٹرز کی پوری ٹیم انکی جان بچانے کی جنگ لڑتی دکھائی دیتی ہے، پورے ملک کے بہترین ڈاکٹروں کا پینل رات دن چوبیس گھنٹے بیمار کے ارد گرد موجود رہتے ہیں ۔ سارا میڈیا لمحے لمحے کے پلیٹ لیٹس گننے میں جت جاتا ہے، لمحہ بہ لمحہ لیگی فکرمندوں کے اوپر کے سانس اوپر اور نیچے کے نیچے رہ جاتے ہیں ، میڈیا پر پوری قوم سے صحت اور درازی عمر کی دعائیں طلب کی جاتی ہیں ، منظر کشی کچھ ایسے انداز میں کرتے لیگی لیڈران میڈیا پر ;200;تے جیسے ابھی کچھ ہوا، کہ ابھی کچھ ۔ یہ دو تین ہفتے دراصل عام پاکستانیوں پر بہت بھاری گزر رہے ہیں ، ایک طرف مولوی حضرات اسلام ;200;باد کو فتح کرنے نکلے ہوئے تھے کہ ادھر نواز شریف صاحب کے پلیٹ لیٹس نے عوام کو ایک عجیب مخمصے اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے ۔ سومولانا کے زور دار تڑکے میں طبی کھچڑی اب مکمل طور پر پک کر تیار ہو چکی ہے، چھٹی والے دن عدالتیں لگ چکی ہیں ، حکومت بھی بظاہر بیک فٹ پر ;200;چکی ہے، حکومت کے اپنے سیاسی خیر خواہ ڈبل گیم کے ساتھ ساتھ وکٹ پر دونوں طرف کھیلتے نظر ;200;نا شروع ہو چکے ہیں اور کچھ برادران یوسف کی طرح سامنے ;200;نا شروع ہو چکے ہیں ، دراصل اس مخصوص صورتحال میں تو ایک دوراندیش سیاسی طبقے نے مستقبل کا بیانیہ کچھ مختلف انداز میں دیکھنا شروع کر دیا ہے، سب لوگ اپنے اپنے ۔ ۔ سی ویز ۔ ۔ ;200;پ ڈیٹ کرتے نظر ;200; رہے ہیں ،اکثر کی نظروں میں ایک خاص چمک اور منہ سے اقتدار کی رال ٹپکنا شروع ہو چکی ہے ۔ لگتا یہ ہے کہ یہ خاص سیاسی کھچڑی کسی خاص بیمار کیلئے نہیں کھانا تو اسے کوئی اور ہی چاہتا ہے ۔ سچی بات یہ ہے کہ موجودہ صورتحال میں حکومت کے پاس اس سے اچھا فیصلہ کرنا ممکن ہی نہیں تھا، لیکن دونوں طرف سے بڑی چالاکی سے سیاست بھی کھیلی جا رہی ہے، عام ;200;دمی کے ذہن میں چالیس صندوقوں کی پھر سے یاد تازہ ہو چکی ہے ۔ دونوں فریقین معاملے میں روبرو عدالت عالیہ پیش ہو ایک ایک کر اپنا اپنا کارڈ شو کر رہے ہیں ، ن لیگ اس انتہائی نازک ترین صورتحال میں بھی بھونڈی سیاست کھیل رہی ہے جسکی مثال شہباز شریف صاحب کی خالی مخولی انڈرٹیکنگ ہے جو عدالت عالیہ میں پیش کی گئی، جو غیر سنجیدہ ہی نہیں بلکہ ایک مذاق ہے جو کسی اور کے ساتھ نہیں خود اس شخص کے ساتھ ہے بقول ن لیگ جو اسوقت موت اور زندگی کی جنگ لڑ رہا ہے ۔ لیکن ایک سوال یہاں یہ بھی پیدا ہو تا ہے کہ جس شخص کی وجہ سے یہ سب ہو رہا ہے یا جسکی صحت کے ایک لمحے کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ، وہ کیوں مکمل خاموشی اختیار کرنے پر مجبور ہے، پہلے تو وہ کہتا تھا کہ کبھی باہر نہیں جاءوں گا، اب سارا زور ہی خروج پر ہی کیوں ;238; جسکی زندگی کی ایک گھنٹے کی گارنٹی نہیں دی جا سکتی تھی، اسکی نازک صورتحال پر دنوں اور ہفتوں کی دیر کیوں ، یہ درخواستوں ،جواب درخواستوں کا کھیل کیسا;238;عام ;200;دمی سمجھ نہیں پا رہا کہ سچ کہاں اور جھوٹ کیا ہے، یا الٰہی یہ ماجرا کیا ہے;238; عام ;200;دمی تو یہ کہتا ہے اگر واقعی زندگی اور موت کا معاملہ ہے تو پھر جب حکومت نے فراخدلی سے ۔ ای سی ایل ۔ سے نام نکال ہی دیا ہے تو اگر من میں سچ ہے تو پھر سات ارب کی گارنٹی نہیں اپنے محبوب قائد پر سات سو ارب بھی وارتے ہیں تو کوئی گھاٹے کا سودا نہیں ۔ عدالت بھی عالیہ، درخواست گزار بھی اعلیٰ، لاہور ہائیکورٹ کی تاریخ میں شاید ہی کبھی عدالت ہفتہ کو لگی ہو، میرا خیال ہے کہ فیصلہ جو بھی ہوا ہے، اس میں حکومت کی کوئی ہار نہیں ہے، حکومت نے اپنے کارڈز نہایت ہی عمدہ ترتیب سے کھیلے، یہ وہ بہترین حکمت عملی ہے جو نہ صرف حکومت کو ہر طرح کی تنقید سے محفوظ رکھے گی بلکہ یقینی دوسرے فریق کیلئے سیاسی طور پر انتہائی خطرناک بلکہ مستقبل کی سیاست میں بڑی مہلک اور نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے ۔

Google Analytics Alternative