کالم

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی، مہنگائی میں مزید اضافے کا امکان

اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کے بعد مزید مہنگائی کی نوید سنا دی گئی ہے، مالی سال2019ء میں متوقع طورپر7;46;5 اور6;46;5فیصد کی حدود میں مہنگائی رہے گی جبکہ مالی سال2020ء میں اس سے بھی خاصی بلند رہنے کی توقع ہے،2020 میں مہنگائی کا منظر نامہ آئندہ بجٹ میں ٹیکسوں میں ردوبدل، بجلی اور گیس کی نرخوں میں ممکنہ تبدیلیوں ، تیل کی بین الاقوامی قیمتوں میں تغیر سے ابھرنے والے کئی خطرات سے مشروط ہے، جو مہنگائی میں اضافے کا سبب بن سکتا ہے ۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئندہ دو ماہ کے لئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کردیا گیا،مرکزی بینک نے شرح سود میں 1;46;50 فیصد اضافہ کردیا جس کے بعد شرح سود 10;46;75 سے بڑھ کر 12;46;25 فیصد ہوگئی ۔ گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر کی زیر صدارت مانیٹری پالیسی کا اجلاس مرکزی بینک میں ہوا جس کے بعد آئندہ دو ماہ کیلئے مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا گیا ۔ مانیٹری پالیسی سخت کیے جانے کے باوجود نجی شعبے کا قرض 9 اعشاریہ 4 فیصد بڑھا ہے ۔ مہنگائی کی اوسط شرح گزشتہ سال 3;46;8 فیصد کے مقابلے میں 7 فیصد ہو گئی ہے ۔ مرکزی بینک کے اعلامیہ کے مطابق گزشتہ 3 ماہ میں خوراک، ایندھن اور دیگر اشیا کی قیمتیں بڑھنے سے مہنگائی میں کافی اضافہ ہوا، اگلے سال مہنگائی کی شرح مزید بڑھنے کا امکان ہے ۔ زری پالیسی بیان میں کہا گیا ہے کہ مارچ 2019 میں زری پالیسی کمیٹی کے گزشتہ اجلاس کے بعد سے تین نمایاں تبدیلیاں آئی ہیں ۔ گزشتہ زری پالیسی کمیٹی کے اجلاس سے اب تک شرح مبادلہ میں 5;46;93فیصد کمی آئی ہے اور 20 مئی 2019 کے اختتام پر 149;46;65 روپے فی امریکی ڈالر پر پہنچ گئی ہے جس سے مضمر معاشی عوامل اور مارکیٹ کے احساسات کے امتزاج کی عکاسی ہوتی ہے ۔ اسٹیٹ بینک کے تخمینوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ مالی سال 19 میں معاشی نمو سست ہونے جبکہ مالی سال 20 میں کسی قدر بڑھنے کی توقع ہے ۔ یہ سست رفتاری زیادہ تر زراعت اور صنعت کی پست نمو کی وجہ سے ہے ۔ مالی سا ل 19 میں حقیقی جی ڈی پی نمو کا دوتہائی سے زائد حصہ خدمات سے آنے کی توقع ہے ۔ آگے چل کر آئی ایم ایف کی مدد سے چلنے والے پروگرام، شعبہ زراعت میں تیزی اور برآمدی صنعتوں کے لیے حکومتی ترغیبات کے تناظر میں مارکیٹ کے احساسات بہتر ہونے کے طفیل معاشی سرگرمیوں میں بتدریج بحالی کی توقع ہے ۔ ایک سال میں مہنگائی ڈبل ہو گئی ایک سال میں حکومت 48 ارب روپے کے اندرونی قرضے لے چکی ہے شرح سود ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی معاشی شرح سود میں اضافہ سے سب سے زیادہ نقصان حکومت کا ہوا ہے اس کا مقصد مہنگائی کم کرنا ہوتا ہے بنیادی شرح سود بڑھنے سے حکومت کے مقامی قرضوں میں 3 کھرب روپے (300 ارب روپے) کا اضافہ ہو جائے گا جبکہ گاڑیوں اور گھروں کی خریداری پرقرض لینا مہنگا پڑ سکتا ہے،بنیادی شرح سود بڑھانے سے گاڑیوں اور گھروں کی خریدداری میں بھی کم ;200;ئے گی سٹیٹ بینک کی جانب سے پالیسی ریٹ 150بیسیز پوائنٹ کے اضافے سے 12;46;25فیصد کیے جانے سے حکومتی قرضوں کے سود پر اضافہ ہو جائے گا ،بینکوں کے قرضوں پر شرح سود بڑھ جائے گی جس سے پیداواری لاگت بڑھے گی ، مہنگائی میں اضافہ ہو گا اور برآمدات کم ہوں گی ۔ آئی ایم ایف نے پاکستان کو قرضے کی درخواست دینے سے قبل کچھ پیشگی اقدام کرنے کی ہدایت کی تھی جن میں شرح سود میں اضافہ بھی شامل تھا جس پر اسٹیٹ بینک نے عملدرآمد کر دیا ہے ، اگر معیشت میں خصوصا ٹیکسوں کے شعبے میں بنیادی اصلاحات نہیں کی جاتیں ،ٹیکس چوری نہیں روکی جاتی اور قانونی طریقے سے سرمایہ بیرون ملک فرار نہیں روکا جا سکتا تو مانیٹری پالیسی اپنے مقصد میں ناکام رہے گی جس طرح ماضی میں بھی مانیٹری پالیسی ناکام ہوتی رہی ہے ۔

گلگت بلتستان میں ’’را‘‘ کا منصوبہ ناکام

بھارت اپنی مذموم کارروائیوں میں کسی نہ کسی صورت لگا رہتا ہے، بدنام زمانہ بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کا گلگت بلتستان میں منصوبہ بے نقاب ہوگیا، وہاں سے بھاری مقدار میں اسلحہ برآمد کیا گیا اور ’’را‘‘ کی دہشت گردی و تخریب کاری کا منصوبہ ناکام بنا دیا گیا ۔ گلگت بلتستان میں پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کےلئے بھارتی خفیہ ایجنسی را کی معاونت سے چلنے والا بلاورستان نیشنل فرنٹ(حمید گروپ)کا مقامی نیٹ ورک پکڑا گیا ۔ میڈیارپورٹس کے مطابق اس نیٹ ورک نے گلگت بلتستان میں انتشار پھیلانے اور پاکستان کو غیرمستحکم کرنے کی سازش کی طویل منصوبہ بندی کر رکھی تھی تاہم خفیہ اداروں نے اسے بے نقاب کر کے ناکام بنا دیا ۔ ذراءع کے مطابق را کے زیر سرپرستی گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم بلاورستان نیشنل فرنٹ (حمید گروپ)کی ;200;بیاری کی گئی، اور راکا ہدف یونیورسٹیوں کے طلبا اور گلگت بلتستان کی نوجوان نسل کو ٹارگٹ کر کے دہشت گردی اور علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینا تھا ۔ حمید خان کوعالمی سطح پر پاکستان کی ساکھ متاثر کرنے اور گلگت بلتستان میں دہشت گردی کرنے کی سرگرمیوں پر لگایا گیا، را کے اشاروں پر ہی حمید خان نے عالمی مالیاتی اداروں کو خطوط کے ذریعے گلگت بلتستان و دیگر جگہوں پر 6 مجوزہ ڈیموں کے لیے مالی و تکنیکی مدد فراہم کرنے سے روکنے کی کوششیں کیں ،چیئرمین بی این ایف(حمید گروپ) عبدالحمید خان ;200;ف غذر کو را کی جانب سے 1999 میں نیپال لے جایا گیا، جہاں سے اسے بھارت منتقل کردیا گیا، بھارت میں را کے ایجنٹ کرنل ارجن اور جوشی نے اسے تربیت دی، 1999 سے 2007 اور 2015 سے 2018تک را نے حمید خان پر 11 سالوں میں بھاری سرمایہ کاری کی، اور اسے گلگت بلتستان میں سرگرمیوں کے لیے ایک ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم بھی فراہم کی گئی ۔

سچی بات میں ایس کے نیازی کی سچی باتیں

پاکستان گروپ آف نیوز پیپر زکے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘ میں گفتگو کرتے ہوئے کہاہے کہ مجھ سے بھی لوگوں نے سوالات کیے جہاں تک میرا اپنا تجزیہ ہے کچھ نہیں ہونے والا،عمران خان سے کچھ غلطیاں ہوئیں مگر وہ مدت پوری کریں گے،آصف زرداری کے گرد بھی گھیرا تنگ ہو رہا ہے، پیپلزپارٹی اور ن لیگ ایک دوسرے کو کیا کہتے تھے سب کو پتہ ہے، کل تک یہ دونوں جماعتیں ایک دوسرے کو دیکھنا نہیں چاہتی تھیں ،پنجاب میں جتنے بھی ووٹ ہیں وہ نواز شریف کے ہیں ، اگر وارث کا کہا جائے تو مریم نواز ،نواز شریف کی وارث ہیں ،نوازشریف کی گدی نشین مریم نواز ہیں ،اب وارثت کی سیاست سے نکلنا چاہیے، افواج پاکستان اپنے کام میں مصروف ہے،فوج نے بھارت کےخلاف بہت بڑا کام کیا ہے ،ہ میں عمران خان سے اختلاف ہے تو صرف ٹیم بارے اختلاف ہے،سب کا ایک ہی ایجنڈا ہے کہ پاکستان ترقی کرے،آج تک تو کسی کو بھی این آر او ملنے والا نہیں ،ہم نے ڈالر کو بڑھا دیا،ڈالر پر پابندی لگنی چاہیے، وزیراعظم عمران خان کو چاہیے کہ فوکل پرسن اچھے لگائیں ،فردوس عاشق اعوان اچھی منسٹر ہیں مگر انفارمیشن منسٹری لیڈی کےلئے مشکل ہے،میری وزیراعظم کو تجویز ہے کہ فیصل جاوید کو انفارمیشن منسٹری کا وزیرلگائیں ۔ چیئرمین نیب ایماندار آدمی ہیں ،وہ ملک وقوم کےلئے کام کررہے ہیں ،جو محکمے کرپشن کرتے ہیں سب سے پہلے تو ان کو پکڑنا چاہیے ۔

گلگت بلتستان میں بھارتی ایجنٹوں کی موجودگی

بھارت سی پیک کے خلاف اپنی سازشوں سے باز نہیں آیا ۔ گلگت بلتستان سی پیک کاپاکستان میں گیٹ وے اورگوادر پورٹ آخری کنارہ ہے اسی لئے بھارتی دہشت گردی کا زیادہ زور گلگت بلتستان اور بلوچستان میں صرف ہو رہا ہے ۔ کبھی گلگت بلتستان میں آزادی کی تحریکوں کے ذریعے گڑبڑ پیدا کی جاتی ہے تو کبھی گوادر اور بلوچستان میں دہشت گردی کی جاتی ہے ۔ اقتصادی راہداری منصوبے میں گلگت بلتستان کی اہمیت اس لئے دو چند ہے کہ چین کے شہر کاشغر سے جیسے ہی اقتصادی راہداری گزر کر پاکستان میں داخل ہوتی ہے تو پہلا علاقہ گلگت بلتستان ہے ۔ اقتصادی راہداری کی ابتدا پاکستان میں ابتدا اور انتہا گوادر ہے ۔ اس لئے بھارت گوادر سے لے کر گلگت بلتستان تک ساشوں میں مصروف ہے ۔ بھارت آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کومتنازعہ قرار دیتا ہے اور اب بات اٹوٹ انگ سے بڑھ کر آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کو خالی کرنے کے مطالبات پر آپہنچی ہے ۔ یہ مطالبہ سنجیدہ ہے نہ قابلِ عمل ہے مگر عالمی برادری کی آنکھوں میں دھول جھونک کر اس کی توجہ مقبوضہ کشمیر میں اپنی بربریت سے ہٹانے کی ایک مذموم کوشش ضرور ہے جہاں بھارت کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو دبانے کےلئے ہر مہلک ہتھیار اور حربہ آزما رہا ہے ۔ گلگت بلتستان میں گڑبڑ پیدا کر کے چین اور پاکستان کے درمیان تجارت میں خلل ڈالنے، گلگت اور بلتستان کو علیحدہ کرنے کی سازش کا انکشاف ہوا ہے ۔ سکیورٹی اداروں نے ایسے پیغامات حاصل کیے جن میں بلاورستان نیشنل فرنٹ نامی ایک تنظیم کو گلگت بلتستان میں حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کےلئے متحرک کیا جا رہا ہے ۔ تنظیم پاکستان اور چین کے درمیان تجارت میں خلل ڈالنے کی بھی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔ یہ تنظیم علاقے میں امریکی اثر و رسوخ کے اضافے کےلئے بھی کام کر رہی ہے تاکہ گوادر اور چین تک تجارتی روٹ کو بند کر دیا جائے ۔ فرنٹ کے اہلکار گلگت بلتستان میں یہ تاثر دے رہے ہیں کہ انہیں امریکہ کی حمایت حاصل ہے ۔ ابھی گزشتہ دنوں پاکستانی خفیہ اداروں نے گلگت بلتستان میں بھارتی خفیہ ایجنسی ;39;را;39; کا نیٹ ورک پکڑا ۔ یہ نیٹ ورک علاقے میں انتشار پھیلانے اور پاکستان کو غیر مستحکم کرنے میں مصروف عمل تھا ۔ دراصل بھارتی خفیہ ایجنسی ;39;را;39; نے گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم بالاورستان نیشنل فرنٹ (بی این ایف) حمید گروپ کی آبیاری کی جس کا ہدف طلبا و نوجوانوں کو ٹارگٹ کرکے دہشت گردی اور علیحدگی کی تحریک کو ہوا دینا تھا ۔ ’را‘ گزشتہ کئی سال سے گلگت بلتستان کی قوم پرست تنظیم بالاورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی منصوبہ بندی کررہی تھی اور اس مقصد کیلئے ایک ارب روپے بھی فراہم کیے ۔ خفیہ اطلاعات پر آپریشن میں بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود بھی برآمد کیا گیا اور آپریشن کے دوران بی این ایف کے 14 متحرک کارکن حراست میں لیے گئے ۔ بی این ایف کا اسٹوڈنٹ ونگ چیئرمین شیر نادر شاہی کی قیادت میں پاکستان مخالف سرگرمیوں میں ملوث تھا ۔ گلگت بلتستان میں صوبہ خیبر پختونخواہ سے دہشت گرد پہنچ رہے ہیں ۔ دہشت گردی کی کاروائیوں کے پیچھے بھارتی ’’را‘‘ اور افغان ’’این ڈی ایس‘‘ کا ہاتھ ہے ۔ بلوچستان اور کے پی کے میں آپریشنز کے بعد وہاں دہشت گردی میں نمایاں کمی ہوئی ۔ وہاں سے مایوس ہونے کے بعد دہشت گردوں نے گلگت بلتستان کا رخ کر لیا ۔ گلگت بلتستان کی مغربی سرحد صوبہ خیبر پختونخوا سے لگتی ہے ۔ اسی سرحد کو عبور کر کے دہشت گردوں نے گلگت بلتستان میں تازہ کارروائیاں کی ہیں ۔ جہاں انہیں مقامی شدت پسندوں اور بھارتی فنڈنگ یافتہ لوکل سہولت کاروں کی مدد حاصل ہے ۔ براہ راست دہشت گردی کے ساتھ ساتھ بھارت دنیا بھر میں سی پیک اور گلگت بلتستان کو متنازعہ بنانے کےلئے اپنے میڈیا کا استعمال کر رہا ہے ۔ بھارتی میڈیا میں گلگت بلتستان میں علیحدگی پسندوں کے احتجاج سے متعلق بے بنیاد خبریں چلائی گئیں ۔ جسے مختلف ممالک میں موجود گلگت بلتستان سے تعلق رکھنے والے مٹھی بھر ریاست مخالف عناصر سوشل میڈیا پر وائرل کرتے رہے ۔ مقصد صرف سی پیک اور پاکستان کی ناکامی تھا ۔ گلگت بلتستان میں شرح خواندگی 90 فیصد کے قریب ہے ۔ اسکول اور کالجز کی بڑی تعداد موجود ہے ۔ آغا خان فاءونڈیشن نے یہاں بڑا کام کیا ہے ۔ یہاں سے کچھ لوگ باہر ممالک میں بھی گئے ہیں ۔ ان میں سے بعض کے ساتھ بھارت نے روابط بنا لئے ہیں اور انہیں پاکستان کے خلاف پروپیگنڈے کےلئے استعمال کر رہا ہے ۔ بیرونی ممالک کے علاوہ بھاری فنڈنگ کے ذریعے گلگت بلتستان میں موجود مٹھی بھر عناصر کو متحرک کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے ۔ حال ہی میں ایک بھارتی مصنف کی جانب سے شاءع کردہ کتاب میں گلگت بلتستان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا منفی پروپیگنڈہ کیا گیاہے ۔ اس کتاب کی اشاعت پر ایبٹ آباد میں مصنف کے خلاف سول سوساءٹی کی جانب سے مظاہرہ کیا گیا ۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ گلگت پاکستان کا حصہ ہے، بھارت منفی پروپیگنڈہ بند کرے ۔ یہ معاملہ فوری توجہ کا طالب ہے ۔ بھارت نے گلگت بلتستان میں دہشت گردی کے ذریعے سی پیک کو سبوتاژ کرنے کا جو پلان بنا رکھا ہے اس کو ختم کیا جائے ۔ بھارت گلگت بلتستان کو متنازعہ علاقہ قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ یہاں سے سی پیک نہ گزارا جائے ۔ اس کی کوشش ہے کہ جس قدر ممکن ہو سکے غیر مستحکم کر دیا جائے ۔ دہشت گردوں کے خلاف جامع آپریشن کیا جائے اور گلگت بلتستان کے عوام کو تمام مراعات اور سہولیات دی جائیں ۔

وزیراعظم صاحب! قوم دوٹوک فیصلے کی منتظرہے

زیرنظر کالم کی سطریں آپ کی نظروں سے جب گزر رہی ہونگی تو یقینا راقم کی طرح آپ بھی ملکی اندرونی سیاسی واقتصادی حالات کی نظرآنے والی بدترین اور ناگفتہ بہ صورتحال سے پہلے ہی دلبرداشتہ پریشانیوں میں گھرے پاتے سوچ رہے ہونگے کہ ہمارا ابنائے وطن آجکل کن مشکلات میں آن گھرا ہے جس کے چہارسو ایک شورہے جو تھمنے کا نام نہیں لے رہا عوام کی واضح اکثریت جن میں نچلے درجہ کے کروڑوں عام مزدور;39;کسان اورمڈل کلاس کی اکثریت شامل ہے چند بے پناہ دولت مند ایلیٹ کلاس کے سوا تقربیا ً سبھی اپنی نودس ماہ سے برسراقتدار موجودہ حکومت کی اقتصادی اور انتظامی پالیسیوں سے نالاں نظرآتے ہیں ;238; مختلف النوع شکوک وشبہات میں مبتلا ہیں ;238; ابنائے وطن پر نا امیدوں ;39;مایوسیوں اورمالی پریشانیوں کے اندوہناک موسموں کا تسلسل نجانے کبھی بدلے گا بھی یا نہیں ;238; امریکی کرنسی ڈالرکی روزبروز کی پھرتیلی اْڑان کے خوف میں وہ عام پاکستانی بھی مبتلا نظرآتا ہے جس نے اپنی زندگی میں امریکی ڈالر دیکھا تک نہیں ہے ;39;اْسے کیا پتہ کہ ;39;اسٹاک ایکسچینج ;39;کس بلا کانام ہے;238; اس میں ;39;مندی;39; اور ;39;تیزی;39; سے اْسے کیا نقصان اور کیا فائدہ ملتا ہے;238;لیکن الیکٹرونک اور سوشل میڈیا کے رجے ہوئے صحافی اور اینکرز ملکی عوام کوخوف اوردہشت زدہ خدشات کے شکنجہ کے ;39;نشہ;39; میں ڈھالے رکھنے کا باریک ملکی سماج دشمن رویہ چھوڑنے پر آمادہ ہوتے دکھائی نہیں دیتے ملک بھر میں کنسٹریکشن انڈسٹریز یکدم زمین بوس ہوگئی ملک کے سبھی بڑے شہروں میں تعمیراتی شعبہ میں محنت مزدوری کرنے والے سڑکوں کے کناروں پر مزدوری کے انتظار میں شام ڈھلے تک بیٹھے رہتے ہیں یہی افسوس ناک صورتحال دیگر بڑی انڈسٹریز کا بھی ہے ملک بھر کے بے پناہ دولت مند طبقات نے اپنی دولت کے خزانوں کا منہ بند کرکے معاشرے میں دولت کی ریل پیل کے سسٹم کو بریک لگادیا اور عوام کی اکثریت اشیائے صرف کی ہوش ربا گرانیوں ;39; افراط زر کی فتنہ سامانیوں بلواسطہ اور بلاواسطہ سرکاری ٹیکسوں کی بھرمار اور مختلف مدوں میں دی جانے والی سبسڈیز کو واپس لیئے جانے کے سرکاری فرمان سننے پر سخت تحفظات کا اظہار کرتی نظرآتی ہے کوئی دن ایسا نہیں جاتا جب شام گئے آجکل ویسے ہی رمضان المبارک کے ایام چل رہے ہیں پاکستان کے کروڑوں مزدورں کے گھروں میں مزدوری نہ ملنے کی باتیں نہ ہوتی ہوں درمیانی طبقات کے گھروں میں طوفان خیز مہنگائی پر حکومت کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا نہ جاتا ہواوراس میں کوئی شک نہیں ہے کہ تحریک انصاف کی حکومت نے اپنے انتخابی ریلیوں میں جہاں عوامی مسائل اْٹھائے وہاں اس حکومت نے نیا نعرہ بھی دیا تھا کہ پاکستان کو غیر ملکی قرضوں کی گرفت میں ماضی کی حکومتوں نے بہت بْری طرح سے جکڑاہے عمران خان کی حکومت اقتدار میں آنے کے بعد اپنے پہلے فیز میں ماضی کے کرپٹ سیاسی حکمرانوں کا کڑا احتساب ضرور کریں گے ;39;بلینئرزآف ڈالر;39; کے بیرونی قرض جس جس دور حکومت میں بھی لیئے گئے اْن کی شفاف چھان بین کی جائے گی اور قومی خزانے سے لوٹی جانے والی بیرون ملک پڑی ہوئی دولت واپس ملک میں لائی جائے گی نودس ماہ ہوچکے ہیں احتساب ہو تورہا ہے مگر نیم دلانہ اس احتساب کی سست رفتاری نے عوام کو بہت مایوس کیا ہوا ہے پہلے کہا گیا کہ;39;عمران خان خود کشی کرلئے گا لیکن آئی ایم ایف کے سامنے وہ کشکول لے کرکسی صورت نہیں جائے گا;39;لیکن آٹھ نوماہ بعد ملک میں اچانک کیا سے کیا ہوگیا;238;لگتا ہے گزشتہ 35;245;30 برسوں تک بلاشرکت غیرے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب پر مسلسل اور وفاق میں تین بار حکومت کرنے والے ایک ;39;تجارت پیشہ خاندان;39; نے ملکی تجارت پیشہ گروہوں کی ایک ;39;یونین;39; تشکیل دی ہوئی ہے اور سندھ کے ;39;بھٹو شہید فیکڑ;39; کے نام پر ووٹ بٹورنے والے خاندان کے ایک گروہ نے اْسی ;39;تجارت پیشہ حکمران طبقہ کی یونین میں ;39;باریوں ;39; کے نام پر شمولیت اختیار کرلی ہے کبھی باہم سیاسی گالیاں ;39;الزامات اور مخا لفتیں اور کبھی باہم افطاریاں ;39;کھانے اور کھابے یوں پاکستانی حکمرانی کے جمہوری گھن چکروں کے نام پر تجارت پیشہ ;39;دولت بناو بیرون ملک جمع کرو;39;کے اصولوں پر باہم اتفاق واتحاد;238;آپ نے سنا کیسے ببانگ دہل سابق صدرزرداری نے احتساب عدالت سے باہر نکلتے یہ کہہ دیا کہ ;39;یا تو ملک میں معیشت چلے گی یا احتساب چلے گا;39;مطلب یہ ہوا کہ چوروں کو پکڑوگے تو چوروں کا اتحاد ملکی معیشت کو چلنے نہیں دئے گاعالمی سطح پر کسی حد تک دنیا ;39;مالی بحران;39;کا شکار ضرور ہوئی مگر جناب والہ،قوم محسوس کرتی ہے کہ پاکستان کا مکمل اقتصادی ڈھانچہ ملک کا اقتصادی سخت پہیہ جام ہوگیا ہے پاکستان کے بازاروں کی رونقیں مدھم پڑگی ہیں پاکستانی دولت بے انتہا اورانتہا سے زیادہ لامحدود انبار رکھنے والے ملکی آبادی کے یہ ڈیڑھ فی صد افراد جنہیں ;39;اشرافیہ;39; کہیں ;39;بدمعاشیہ;39; کہیں وہ سب نجانے کن کونے کدھروں میں جادبکے ہیں اب کوئی پیش قیاسی کرئے تو کیا کرئے;238; اگلے مہینے جون میں بجٹ آنے والا ہے اس حکومت کے پاس کیا ہے جو وہ عوام کو دے پائی گی;238; تنخواہ دار طبقہ اور پینشنرز کے گھروں کیا گفتگوچل رہی ہے اس کا اندازہ کسی کوہے;238; بجٹ کا پہلا مطلب یہی ہے کہ آمدنی اور خرچ میں توازن پیدا کیا جائے;39; سوال یہ ہے کہ پاکستان میں آمدنی کے ذراءع کیا ہیں ;238;پاکستان کی برآمدات کی صورتحال کیا ہے جب صنعتیں نہیں چل رہیں تو پاکستانی پراڈکٹس بننے کا سوال کیسا ٹیکسوں کی مختلف صورتیں اور سبسڈیز واپس لے لیناغیر ملکی قرضوں کا بوجھ الگ اگر یہی کچھ کرنا ہی تھا تو شریف فیملیز اور زرداری فیملیز کیا ٹھیک نہیں تھیں ;238;اْن کا کرپٹ ہونا، قومی دولت کے حصار میں نقب زنی کرنا،اْن کا ٹیکس چورہونا،اقرباء پرور ہونا،سرکاری ملازمتوں میں میرٹ کا ستیاناس کرنا،پولیس اور سرکاری اداروں کوسیاسی بنادینا اْن کی یہ ;39;تعریفیں ;39; اپنی جگہ;238;مگرپی ٹی آئی کی حکومت وہ فوری اقدامات کرنے سے گریزاں دکھائی کیوں دیتی ہے مثلاً ملک بھر میں لگی ہوئی ملیں صنعتی یونٹس فنگشنل کیوں نہیں کی جارہیں ;238; عام ہنرمند مزدور رل کیوں رہا ہے;238; مطلب یہ کہ ملک میں احتساب کے شعبے کا بوریا بسترہی گول کردیا جائے یعنی احتساب ختم ہوگا تو سوئی ہوئی پڑمردہ ملکی معیشت یکایک انگڑائی لے کر اْٹھ کھڑی ہوگی;238; وزیراعظم عمران خان کے بارے میں کیا قوم یہ سمجھ لے کہ وہ بھی تھک ہارچکے کیا اْنہوں نے پاکستان کی قومی ترقی اور عوامی فلاح وبہبود کے نام پر لیئے جانے والے بیرونی قرضوں کی طوفان خیز لوٹ مار کرنے والوں کے سامنے ہتھیار ڈال دئیے ہیں ;238;یاد رہے قارئین حکومت سے بڑی طاقت کوئی نہیں ہوتی ہے ہم کب سے سن رہے ہیں کہ ;39;وزیراعظم عمران خان کی نیت صاف ہے نیک ہے وہ ملک کے لئے کچھ کرنے کا عزم رکھتے ہیں ;39; عوام کب تک عمران خان کی جوشیلی تقریریں سنتی رہے ;39;کردیا جائے گا،فیصلہ ہوچکا ہے، چوروں کو نہیں چھوڑا جائے گا;39;یہ ;39;مستقبل;39; کے صیغے سنتے سنتے عوام عاجز آچکے ہیں عوام ;39;عملاً;39;کچھ ہوتا ہوا دیکھنا چاہتے ہیں گزشتہ دنوں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے پاکستانی عوام کوتلقین کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبر;39;عزم اور اتحاد کا دامن مضبوطی سے تھام لیں ہم یہاں اپنے سپہ سالار کے اس موقف سے مکمل اتفاق کرتے ہوئے اْن کی یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستانی فوج نے اپنے عوام کے اعتماد کو مزید جلا بخشی ہے، واقعی ماضی میں آج سے زیادہ چیلنجز تھے اب مالی وانتظامی چیلنجز قوم کو درپیش ہیں ، پاکستانی قوم صبر بھی کرئے گی پاکستانی قوم میں عزم بھی موجود ہے اور قوم کا اتحاد بھی ناقابل تسخیر ہے ،بس حکومت مصلحت پسندی کوخیرباد کہہ دے پاکستان دشمن عوام دشمن کرپٹ سیاسی اشرافیہ کو نشان عبرت بنانے میں اب تحریک ِ انصاف کی حکومت اپنے قدم آگے بڑھائے یہی وقت ہے وزیراعظم عمران خان صاحب اب دیر نہ کریں ۔

کیلاش ۔ ۔ ۔ !

اللہ رب العزت نے وطن عزےز پاکستان کو انتہائی خوبصورت تخلیق کیا ہے ۔ جہاں بلند و بالا پہاڑ ہیں تو وہاں سرسبز مےدان بھی ہیں ۔ جہاں رےت کے صحرا ہیں ،وہاں آب وتاب سے بہتے درےا بھی ہیں ۔ پاکستان میں چار موسم ہیں ۔ وطن عزےز میں ہرقسم کی سبزےاں ، فصلیں اورپھل پیدا ہوتے ہیں ۔ ےہ ملک معدنےات اور دےگر قدرتی دولت سے مالامال ہے ۔ پاکستان میں مختلف ثقافتیں اور تہذیبیں موجود ہیں ۔ وطن عزےز میں مختلف زبانےں بولی جاتی ہیں ۔ پاکستان ہر لحاظ سے اےک خوبصورت ملک ہے ۔ ےہ سےاحت کےلئے اہم اور زرخےزملک ہے ۔ ہ میں نہ صرف خود اپنے ملک کے مختلف حصوں کی سےر وسےاحت کرنی چاہیے بلکہ ہ میں غےرملکےوں کو بھی پاکستان میں سےاحت کےلئے راغب کرنے کےلئے کردار ادا کرنا چاہیے ۔ سےاحت کے ذرےعے زرمبادلہ کماےاجاسکتا ہے ۔ خاکسارپاکستان فےڈرےشن آف کالمسٹ اور ڈےسکور پاکستان کے تعاون سے اےڈےشنل سےکرٹری پنجاب طےب فرےد، چےئرمین فلم سنسر بورڈ کمیٹی شعےب بن زاہد، اسسٹنٹ کمشنر میر پوراےس بےگ ، میجر نعمان سمےت مختلف شعبہ ہائے زندگی کے افراد کے ہمراہ کیلاش گےا ۔ کیلاش کے طلسماتی مقامات ، حسےن وادےاں اور منفرد کلچر قابل دےد ہےں ۔ کیلاش چترال سے 35 کلومےٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ کیلاش دراصل تےن وادےوں بمبورےت ، رامبور اور برےر کا مجموعہ ہے ۔ کیلاش کی نماےاں خصوصےت ان کی ہزاروں سال پرانی تہذےب و ثقافت ہے ۔ کیلاشیوں کے بارے میں مختلف رواےات ہیں ۔ اےک رواےت کے مطابق327قبل مسےح کو جب ےونان کا سکندر اعظم اس وادی سے گذرا تھا تو ان کے کچھ لوگ ےہاں کسی وجہ سے رک گئے تھے ۔ کیلاشی انہی کی اولاد ہےں جبکہ اےک اور رواےت ہے کہ آرےائےوں کے کچھ قافلے ےہاں رک گئے تھے اور ےہی پر آباد ہوگئے ۔ چونکہ ان کا بعد میں کسی اور تہذےب کے لوگوں کے ساتھ رابطہ اور ملاپ نہ رہا ،اس لئے ان کے کلچر پر کسی کا اثر نہ ہوا ۔ کیلاشیوں کی تعداد اب تقرےباً چار ہزار ہے ۔ کیلاشی خواتےن سےاہ لباس زےب تن کرتی ہیں اور گلے میں موتےوں کے ہار پہنتی ہیں ۔ کوڑےوں ، سےپیوں اور موتےوں سے بناےا گےاکپڑے کا حصہ سر پر اوڑھاجاتا ہے ۔ مرد اونی ٹوپی پہنتے ہیں جس پر کسی پرندے کا پر ہوتا ہے ۔ کیلاشےوں کا عقےدہ ہے کہ اگر انھوں نے اپنے لباس ےا عقائد میں تبدےلی کی تو ان پر دےوتا کا عذاب نازل ہوگا ۔ ےہ سال میں تےن مےلے مناتے ہیں ۔ (الف) چلم چاشت ےا جوشی:ےہ مئی کے وسط میں مناتے ہیں ۔ ےہ میلہ تےن دن تک جاری رہتا ہے ۔ اس مےلے میں دودھ پنےر وغےرہ تقسےم کرتے ہیں اور کھےتوں میں جاتے ہیں ۔ اےک دوسرے کے گھروں میں ملنے کےلئے جاتے ہیں ۔ کیلاشی لڑکیاں پھول چنتی ہیں اور اےک دوسرے کو تحفے میں دےتی ہیں ۔ خواتےن اور لڑکیاں ڈھول کی تھاپ پر مخصوص رقص کرتی ہیں ۔ لڑکے اور لڑکیاں اےک دوسرے کو پسند کرتے ہیں ۔ (ب)اچل:ےہ جولائی کے وسط میں گندم اور جو کی کٹائی کی خوشی میں مناتے ہیں ۔ اس میں بھی دےگر مےلوں کی طرح رقص کی محفلیں سجاتے ہیں اور ضےافتوں کا اہتما م کیا جاتا ہے ۔ (ج)چاءو ماءوس:ےہ دسمبر کے آخر میں مناےا جاتاہے اوےہ میلہ اےک ہفتے تک جاری رہتا ہے ۔ ےہ ان کا سب سے بڑا میلہ ہوتا ہے ۔ اس مےلے میں نئے سال کی آمد کی خوشی کا اظہار ہوتا ہے ۔ کیلاش کے لوگ سورج اور چاند گرہن کو دےوتا کا عذاب سمجھتے ہیں اور اس عذاب کو ٹالنے کےلئے بکروں کی قربانی کرتے ہیں ۔ کیلاشےوں کی عبادت گاہ ملوش میں خواتےن کا داخلہ ممنوع ہے ۔ کیلاش کے لوگ موت پر غم نہیں کرتے بلکہ خوشی کا اظہار کرتے ہیں ۔ انکے عقےدے کے مطابق جس طرح پیدائش خوشی کا موقع ہے اور اسی طرح موت بھی خوشی کا موقع ہے ۔ ےہ لوگ لاش کو کمیونٹی سنٹر میں اےک ےا دو دن کے لئے رکھتے ہیں اوراس کے گرد رقص کرتے ہیں ۔ اس موقع پر مہمانوں کےلئے بکرے اور بےل وغےرہ ذبح کرتے ہیں اور شراب کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے ۔ ان کا عقےدہ ہے کہ مرنے والے کو خوشی سے روانہ کرناچاہیے ۔ کچھ عرصے پہلے تک مردے کو لکڑی کے تابوت میں قبرستان میں کھلے آسمان تلے رکھتے تھے اور تابوت میں مردے کی اشےاء بھی ساتھ رکھتے تھے لیکن اب مردوں کو دفن کرتے ہیں ۔ فوتےگی کی طرح ان کی خوشی بےاہ کے تقرےبات بھی دلچسپ ہیں ۔ میلوں میں لڑکیاں رقص کرتی ہیں تو لڑکے ان کو پسند کرتے ہیں ۔ دونوں کی رضا مندی سے لڑکا لڑکی کو بھگاےاجا سکتا ہے ۔ لڑکی کو بھگانے کے بعد وہاں کے بزرگ ان کے پاس جاتے ہیں اور اس سے درےافت کرتے ہیں ۔ اگر وہ خوشی سے لڑکے کے ساتھ بھاگی ہو تو شادی کے دےگر رسومات ادا کرتے ہیں اور زبردستی کی صورت میں لڑکی کو واپس کیا جاتا ہے ۔ شادی کی تقرےبات میں پرتکلف کھانوں کا اہتمام کیا جاتا ہے جس میں لڑکی والے خصوصی طور پر شرکت کرتے ہیں ۔ شادی کے چوتھے دن لڑکی کے ماموں کو اےک بےل اور بندوق بطور تحفہ دےتے ہیں اور دونوں خاندانوں کے درمےان تحاءف کا تبادلہ کیا جاتا ہے ۔ رضا مندی سے شادی شدہ خاتون کو بھی بھگاےا جاسکتا ہے اور اس صورت میں اسکے سابق شوہر کو اعتراض کا کوئی حق حاصل نہیں ہوتا ہے ۔ اس طرح بچوں کی پےدائش پر بھی منفرد تقرےبات کا انعقاد کیا جاتا ہے ۔ پہلے بچے کی پیدائش پر ناناکے گھر میں دعوتِ طعام کا اہتمام کیا جاتا ہے لیکن اس کے اخراجات ددھےال ادا کرتے ہیں اورلڑکی کے ہر رشتہ دار کودو، دو ہزار روپے دےتے ہیں ۔ ےہ رسم اس وقت تک چلتی ہے جب تک مخالف جنس کا بچہ پیدا نہ ہو ۔ مثلاً اگر مسلسل لڑکے ےا لڑکیاں پیدا ہوں تو ےہ رسم جاری رہتی ہے ۔ قارئےن کرام !کیلاش کا میلہ دلچسپ اور منفرد تھا جس کو دےکھنے کےلئے نہ صرف پاکستانی سےاح بڑی تعداد میں موجود تھے بلکہ تقرےباً دو ہزار کے قرےب غےر ملکی سےاح بھی آئے ہوئے تھے ۔ پاکستان فےڈرےشن کالمسٹ کے صدر ملک سلمان اور ڈسکور پاکستان کے سی ای او ڈاکٹر قےصر رفےق پاکستان میں سےاحت کے فروغ کےلئے کوشاں ہیں ۔ بلاشبہ پاکستان بہت خوبصورت ہے اورےہ سےاحت کےلئے بہت پرکشش ملک ہے ۔

راء کی دہشت گردی جاری

وطن عزیز کے انٹیلی جنس اداروں نے بڑی کامیابی حاصل کرتے ہوئے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی سازشوں میں مصروف را کا نیٹ ورک پکڑ لیا ہے ۔ یاد رہے کہ را کی گلگت میں انتشار اور دہشتگردی پھیلانے کی طویل منصوبہ بندی ناکام بنا دی گئی ہے ۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ را ، گلگت میں بلورستان نیشنل فرنٹ حمید نامی گروپ کی سرپرستی کر رہا تھا، تفتیش میں انکشاف ہوا کہ بلورستان نیشنل فرنٹ حمید گروپ گلگت بلتستان کی ذیلی قوم پرست تنظیم ہے، را نیٹ ورک کا مشن گلگت بلتستان کے نوجوانوں کو ورغلانہ تھا، جی بی کی یونیورسٹیوں میں پاکستان دشمن پروپیگنڈا کیا جا رہا تھا اور عبدالحمیدخان نامی بھارتی مہرے کے پاس عالمی سطح پر پاکستان کو بدنام کرنے کا مشن سونپا گیا تھا ۔ واضح رہے کہ آپریشن کے دوران بی این ایف کے 14 متحرک کارکن حراست میں لیے گئے ۔ چیئرمین بلورستان نیشنل اسٹوڈنٹ آرگنائزیشن نام نہاد بلورستان ٹائمزشاءع کرتا تھا، جس میں پاک مخالف پراپیگنڈہ کیا جاتا تھا ۔ قومی سلامتہ کے اداروں کی کوشش سے عبد الحمید نے 8 فروری 2019 کو غیر مشروط سرنڈر کیا جبکہ 29 مارچ کو شیرنادرشاہی بھی پکڑا گیا ۔ گزشتہ 72 برسوں میں پاکستان اور بھارت کے آپسی تعلقات کیسے رہے ہیں یہ کسی سے بھی پوشیدہ نہیں ۔ ہر کوئی بخوبی جانتا ہے کہ ان تعلقات کو ’’اتار چڑھاءو‘‘ کا نام دینا بھی مشکل ہے کیونکہ زیادہ تر ان دونوں ممالک میں تعلقات کشیدہ ہی رہے ہیں ۔ اگرچہ اس ضمن میں مختلف اوقات میں بہتری کی کوششیں متعدد بار ہوتی رہیں مگر

نتیجہ نہ نکلا تھکے سب پیامی

یہاں آتے آتے، وہاں جاتے جاتے

یوں اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ مارچ 1977 میں جب مرار جی ڈیسائی نے بھارتی وزارت عظمیٰ کا منصب سنبھالا تو اس کے بعد کے 27 ماہ کو ہی پاک بھارت باہمی تعلقات کا نسبتاً بہتر عرصہ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ یہاں اس امر کا تذکرہ بے جا نہ ہو گا کہ اسی دوران پاکستان کی جانب سے مرار جی ڈیسائی کو وطن عزیز کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’’نشان پاکستان‘‘ دیا گیا تھا ۔ یہ بات بھی خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ موصوف واحد شخصیت ہیں جنھیں پاکستان اور بھارت کے اعلیٰ ترین سول ایوارڈ ’’نشان پاکستان‘‘ اور ’’بھارت رتن‘‘ حاصل ہوئے ۔ یاد رہے کہ مرار جی ڈیسائی نے اپنے منتخب ہونے کے فوراً بعد ’’راء‘‘ کے بجٹ میں تقریباً نصف حد تک کٹوتی کر دی تھی ۔ اس کی وجہ انھوں نے بیان کی کہ راء جنوبی ایشیاء میں امن کے قیام میں رکاوٹ ہے اور اس کے طرز عمل کی وجہ سے بھارت کے تعلقات خطے کے ممالک سے بہتر نہیں ہو رہے ۔ بہرکیف اس وقت بھارت میں لوک سبھا چناءو کا ساتواں اور آخری مرحلہ بھی گزشتہ روز مکمل ہو چکا ہے، آخری مرحلہ میں 59 نشستوں کیلئے ووٹنگ کی گئی ۔ اب 23 مئی کو نتاءج کا اعلان ہو گا ۔ راقم کی رائے میں بھلے ہی ;667480; کو فتح حاصل ہو یا پھر کانگرس اور تھرڈ فرنٹ کو حکومت کا موقع ملے، مگر پاکستان کے ساتھ تعلقات میں بہتری کے امکانات خاصے مدہم ہیں جس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ بھارت کے اندر صوبائی انتخابات کا عمل وقفوں سے پورے 5 سال جاری رہتا ہے، ہر چند ماہ بعد کسی بھارتی صوبے میں انتخابات کا بگل بجنے لگتا ہے ۔ اسی وجہ سے ;667480; اور کانگرس نے اپنے ملک (بھارت) میں چناءو جیتنے کا یہ آسان ’’نسخہ کیمیا‘‘ ڈھونڈ نکالا ہے کہ بھارت کے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لئے پاکستان کو ہندوستانی داخلی سیاست کا محور بنائے رکھا جائے ۔ یوں بھارت کے حقیقی مسائل حل کئے بغیر ہی انھیں اپنے مقاصد حاصل ہو جاتے ہیں اور خطے میں مستقل طور پر ایک تناءو کا ماحول برقرار رہتا ہے ۔ پچھلے پانچ سالوں میں تو مودی نے اقتدار سنبھالنے کے روز اول سے ہی گویا طے کر لیا تھا کہ ہندوستان کے اقتصادی مسائل چونکہ انتہائی زیادہ ہیں اس لئے اس ضمن میں کوئی بڑی پیش رفت ان (مودی) کےلئے تقریباً ناممکن ہے، لہٰذا عیاری پر مبنی سفارت کاری کے ذریعے دنیا بھر میں یہ تاثر دیا جائے کہ پاکستان ہی علاقے میں تمام تر مسائل کا ذمہ دار ہے ۔ اپنے اسی ایجنڈے کی تکمیل کی خاطر مودی نے وزیراعظم منتخب ہونے کے چند گھنٹوں میں ہی پہلا حکم انڈین انٹیلی جنس بیورو کے سابق چیف اجیت ڈووال کو بھارتی قومی سلامتی کا مشیر مقرر کرنے کا جاری کیا اور پھر یہ سلسلہ دراز سے دراز تر ہوتا چلا گیا جو تاحال پوری شد و مد سے چل رہا ہے ۔ کسے معلوم نہیں کہ اجیت ڈووال ہی وہ شخصیت ہیں ، جنھوں نے ’’افینسیو ڈیفنس‘‘ کی اپنی نام نہاد تھیوری پر عمل پیرا ہونے کا فخریہ طور پر اعلان کیا اور اپنے قول و فعل سے اس پر عمل کر کے دکھانے کی بھی ہر ممکن سعی کی ۔ اس ضمن میں آنجہانی بھارتی وزیر دفاع منوہر پریارکر نے بھی ایک سے زائد مرتبہ ’’کانٹے سے کانٹا ‘‘ نکالنے کی اپنی پالیسی کا اظہار کیا ۔ اس سے موصوف کی مراد یہ تھی کہ پاکستان کے اندر دہشتگردی کو منظم ڈھنگ سے فروغ دیا جائے گا ۔ علاوہ ازیں بھارتی وزیر مملکت برائے اطلاعات راجیے وردن اور سابق انڈین آرمی چیف جنرل وی کے سنگھ اعتراف اور انکشاف کر چکے ہیں کہ پاکستان کو اندر سے ہی نقصان پہچانے کی ہر ممکن سعی کی جائے گی ۔ پچھلے چند سالوں میں جس طرح سے راء اور این ڈی ایس کے ذریعے سی پیک ، پولیو اور سابقہ فاٹا کے خلاف سازشیں کی جا رہی ہیں ، یہ بھارت کی اسی مکروہ روش کا تسلسل ہے ۔ خطے کے بعض دیگر ممالک بھی وقتا فوقتاً بالواسطہ اور بلاواسطہ دونوں طرح سے اس ضمن میں اپنا حصہ ڈالتے چلے آ رہے ہیں ۔ اس حوالے سے داعش کا نام بھی جس طرح سامنے آ رہا ہے، وہ ظاہر کرتا ہے کہ یہ ساری قوتیں مل کر وطن عزیز کے خلاف ’’سہولت کار‘‘ کا کردار ادا کر رہی ہیں اور یوں یہ بھارتی رعشہ دوانیاں تھمنے کا نام نہیں لے رہیں ۔ حالانکہ کسے معلوم نہیں کہ پاکستان کی تمام تر حکومتیں کہہ چکی ہیں کہ پاکستان بھارت کے ساتھ ‘‘ کسی بھی وقت، کسی بھی جگہ پر کسی بھی سطح کے مذاکرات‘‘ شروع کرنے پر ہمہ وقت تیارہے ۔ مگر چونکہ دہلی کا حکمران ٹولہ اس حوالے سے سنجیدہ نہیں لہذا یہ سلسلہ شروع ہونے کے بعد دہلی کی جانب سے کسی نہ کسی بہانے سے توڑ دیا جاتا ہے اور معاملات پھر جمود کا شکار ہو جاتے ہیں ۔ ایسے میں بھارت میں ہونے والے حالیہ انتخابی نتاءج سے بھی خطے میں کسی بڑی پیش رفت کی توقع غالباً عبث ہی ہو گی ۔ ایسے میں مذاکرات کی کوشش کو اگرچہ جاری رکھا جائے مگر اس حوالے سے کسی مثبت نتیجے کی امید نہ رکھی جائے ۔ دوسری جانب پاکستان کے معاشی مسائل پر تمام تر توجہ مرکوز کی جائے ۔ اسی کے ساتھ ساتھ بھارتی دیرینہ روش کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنے قومی سلامتی کے تقاضوں کی جانب سے کسی قسم کی غفلت اور تساہل ہر گز نہ برتا جائے اور اس بھارتی ففتھ جنریشن وارفیئر کا خاطر خواہ جواب دیا جائے ۔

وزیراعظم کا کرپٹ مافیا سے نجات حاصل کرنے کا عزم اور اپوزیشن کی بے وقت کی راگنی

زیراعظم عمران خان نے کہا کہ بلاول اور مریم کے ملنے پر حیرت نہیں سارے چور اکٹھے ہوناچاہتے ہیں عوام کبھی ان کا ساتھ نہیں دیں گے، معیشت اسی وقت درست ہوسکتی ہے جب اس کرپٹ مافیا سے نجات حاصل کرلی جائے، کپتان کی یہ بات درست ہے کہ کیونکہ جب بھی حکومت کرپشن کیخلاف زیادہ تیزی سے کام شروع کرتی ہے تو اپوزیشن کو جمہوریت اور خدانخواستہ ملکی استحکام خطرے میں نظر آنا شروع ہو جاتا ہے جبکہ حقیقت میں ایسی کوئی بات نہیں ، البتہ ملک میں بڑھتی ہوئی مہنگائی اور بیروزگاری پر ضرور عوام کو تحفظات ہیں تاہم وزیراعظم کا عزم مصمم ہے کہ وہ درست فیصلے کررہے ہیں اور مشکل وقت سے نکل جائیں گے ، اس وقت حکومت اور اپوزیشن کے مابین سیاسی فائرنگ عروج پر ہے اور دونوں ایک دوسرے کیخلاف بے دھڑک، بغیر حدود و قیود کے الزام تراشیاں کررہے ہیں بلکہ اب تو کچھ رہنما ایسے الفاظ بھی استعمال کرجاتے ہیں جن کو کہنے سے پہلے سو مرتبہ سوچنا پڑتا ہے ۔ حکومت اور اپوزیشن دونوں کو چاہیے کہ وہ سیاسی اقدار کو ملحوظ رکھتے ہوئے ایک دوسرے کیخلاف بیان بازی کریں ۔ وزیراعظم عمران خان نے پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے اپوزیشن جماعتوں کے افطار ڈنر کو تنقید کا نشانہ بنا تے ہو ئے کہا ہے کہ ;200;ج سارے جمہوریت بچانے کے نام پر جمع ہوئے ہیں ، بدقسمتی سے ان ہی لوگوں کی وجہ سے ملک ;200;گے نہیں بڑھا، و ہ کہتے تھے دو پارٹی سسٹم کی وجہ سے اقتدار میں نہیں ;200;سکتا، تاریخ کے سب سے بڑے قرضے اور سب سے مشکل حالات میں پاکستان ہ میں ملا لیکن ثابت کرکے دکھا ءوں گا، خطے میں سب سے اوپر پاکستان جائے گا، اسلام آباد میں شوکت خانم ہسپتال فنڈ ریزنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا ملک اس وقت معاشی طور پر مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ ہماری سوچ کی سب سے بڑی طاقت دل کھول کر فلاحی کاموں میں حصہ لینا ہے، مشکل وقت میں قوم کو حوصلہ دینے کی ضرورت ہوتی ہے ان سارے لوگوں کیوجہ سے پاکستان آگے نہ بڑھ سکا ۔ پاکستانی عوام اس ملک کی ترقی کی امید ہیں ۔ جمہوریت بچانے کیلئے جو لوگ اکٹھے ہو ئے ہیں ان لوگوں کی وجہ سے ہمارا ملک آگے نہیں بڑھا،ملک اس وقت معاشی طور پر مشکل دور سے گزر رہا ہے ۔ ڈالر کی بڑھتی ہوئی قیمت، دگرگوں حالات اور اپوزیشن کا گھیرا تنگ ہونے پر گزشتہ روز بلاول بھٹو زرداری نے تمام سیاسی جماعتوں کو افطار ڈنر پر مدعو کیا جس میں اسفندیارولی، محموداچکزئی، اختر مینگل اور سراج الحق شریک نہیں ہوسکے، یہ شرکت گو کہ بوجہ تھی لیکن اس کے پیچھے بھی ایک لمبی کہانی ہے ۔ جماعت اسلامی نے عید کے بعد ملک گھیر احتجاج کا اعلان کردیا ہے جبکہ اپوزیشن نے عید کے بعد حکومت مخالف تحریک کیلئے اے پی سی بلانے کا اعلان کیا ہے ۔ اب عید کے بعد معلوم ہوگا کہ اے پی سی میں کون کون شریک ہوتا ہے تاہم اپوزیشن کو بھی چاہیے کہ اگر کوئی کرپٹ سیاستدان ثبوتوں کے ساتھ پابند سلاسل ہوتا ہے تو اس کی حمایت نہیں کی جانی چاہیے آخر کار کوئی تو ایسا شخص ہو گا جو اس نظام کو درست کرے گا، ابھی حکومت کو پورا سال بھی نہیں ہوا کہ اسے گرانے کی باتیں شروع ہو رہی ہیں لیکن وزیراعظم اپنے موقف پر ڈٹے ہوئے ہیں کہ وہ کرپشن کو ختم کریں گے اور کرپٹ افراد کو کسی صورت نہیں چھوڑیں گے اور نہ ہی کوئی این آراو دیا جائے گا ۔ ادھر دوسری جانبپاکستان کی اپوزیشن کی جماعتوں نے عیدالفطر کے بعد آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا فیصلہ کیا ہے ۔ جس کی سربراہی کے فراءض جمعیت علما اسلام کے (ف)کے امیر مولانافضل الرحمن دیں گے ۔ ان کی دعوت پر بلائی گی آل پارٹیز کانفرنس میں اپوزیشن کی جماعتیں حکومت کے خلاف تحریک چلانے کے لیے لاءحہ عمل طے کریں گے ۔

اپوزیشن کی سیاسی جماعتوں نے عید الفطر کے بعد مہنگائی بیروزگاری روپے کی گرتی ہوئی قدر سے پیدا ہونے والی صورتحال پر اپنا اپنا احتجاج کرنے کا فیصلہ کیا ۔ اپوزیشن جماعتیں نے باہم مل بیٹھنے پر اتفاق رائے کیا ۔ اس بات کا اعلان پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اپوزیشن کی جماعتوں کے قائدین کے اعزاز میں دئیے گے افطار ڈنر کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ بلاول بھٹو زرداری کی جانب سے دیئے گے افطار ڈنر میں شاہد خاقان عباسی، مریم نواز حمزہ شہبازایاز صادق خواجہ آصف پرویز رشید شامل تھے ۔ پیپلز پارٹی کے رہنماوں یوسف رضا گیلانی سید خورشید شاہ رضا ربانی راجہ پرویز اشرف نیئر بخاری فرحت اللہ بابر جماعت اسلامی کے رہنماوں لیاقت بلوچ اور میاں اسلم اے این پی کے رہنماءوں میاں افتخار اور زاہد خان قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاءو نیشنل پارٹی کے سربراہ میر حاصل بزنجو پی ٹی این کے علی وزیر محسن داوڑ اور دیگر رہنماءوں نے شرکت کی ۔ مولانا فضل الرحمن نے کہا ہے کہ کچھ نا اہل لوگ برسر اقتدار آگئے ہیں پچھلے چھ سات ماہ کے اندر ملک کی کشتی گہرے سمندر میں ہچکولے کھا رہی ہے ۔ پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ اس بات پر تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں موجودہ حکومت ملک کو چلانے میں ناکام ہو چکی ہے ۔ جولائی 2018 میں متنازعہ ہونے والے الیکشن کا خمیازہ عوام بھگت رہے ہیں ۔ اب تو مہنگائی کی ابتدا ہوئی ہے نام نہاد احتساب کے نام پر اپوزیشن کو دبایا جارہا ہے ۔ آل پارٹیز کانفرنس میں ایک بیانیہ جاری کیا جائے گا ۔ قومی وطن پارٹی کے سربراہ آفتاب شیر پاو نے کہا کہ نو ماہ موجود ہ حکومت نے عوام کو بیروزگار اور مہنگائی کے سوا کچھ نہیں دیا پاکستان مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا کہ چارٹر آف ڈیموکریسی کا فائدہ یہ ہے کہ دو جمہوری حکومتوں نے اپنی آئینی مدت پوری کی ، چارٹر آف ڈیموکریسی میں مزید نئی چیزیں شامل کی جائیں گی اور ملک کو آگے لے جایا جائے گا ۔ پوائنٹ آف نورٹرن پر بات نہیں پہنچنی چاہیے ۔

چیئرمین نیب کی اہم پریس کانفرنس

چیئرمین نیب جسٹس(ر) جاوید اقبال نے کہا ہے کہ وہ کسی بزنس مین کو نہیں بلائیں گے، آج تک کسی ایک بزنس مین کی ٹیلی گراف ٹرانسفر(ٹی ٹی) میں مداخلت نہیں کی تاہم ارباب اختیار اور حکومت سے اپیل کرتا ہوں کہ جن کے کیسز نیب میں چل رہے ہیں انہیں عہدے نہ دئیے جائیں ، کروڑوں روپے کیسے ملک سے باہر جارہے ہیں ، کیسے آرہے ہیں ، قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے نیب ان سے پوچھنے کیلئے حق بجانب ہے ۔ چیئرمین نیب کی گزشتہ روز ہونے والی پریس کانفرنس انتہائی اہمیت کی حامل تھی کیونکہ ملک میں کاروبار تقریباً تباہی کے دہانے پر پہنچ رہا ہے اور جتنے بھی کاروباری حضرا ت ہیں وہ کسی نہ کسی صورت پریشان ہیں ، اس کی سب سے بڑی وجہ ٹیکس نیٹ کے معاملات تھے مگر جب سے وزیراعظم نے وزارت خزانہ اور ایف بی آر کے سربراہوں کی تبدیلی کی ہے اس کے بعد سے کچھ نہ کچھ سکھ کا سانس آنا شروع ہوگیا ہے ۔ چیئرمین ایف بی آر شبر زیدی نے بھی کاروباری طبقے کو یقین دہانی کرائی کہ کوئی ایسا اقدام نہیں اٹھایا جائے گا جوکہ ان کیخلاف جائے اسی طرح مشیر خزانہ کی جانب سے بھی حوصلہ افزائی کی گئی چونکہ یہ افراد اپنے اپنے شعبوں میں یکتا اور ماہر ہیں چونکہ گزشتہ کچھ عرصے سے ٹی ٹی کے معاملات بھی چل رہے تھے اس کے حوالے سے بھی چیئرمین نیب نے قطعی طورپر سارے معاملات کو کلیئر کردیا ہے، ٹی ٹی کا لگانا کوئی پاکستان میں انوکھا نہیں ہورہا ، ٹی ٹی دنیا بھر میں لگائی جاتی ہے تاہم ہمارے ملک میں گزشتہ دنوں اس مسئلے کو مس ہینڈل کیا گیا جس کی وجہ سے جس کے نتاءج بھی سامنے آئے ، ساتھ ہی چیئرمین نے کہاکہ اگر کوئی شخص 5لاکھ کی جگہ 50 لاکھ روپے خرچ کرے تو کیا نیب خاموش رہے گا ایسی صورت میں کیونکر نیب خاموش رہ سکتا ہے، ملکی خزانے کو بے دریغ لوٹنے والے پابند سلاسل نہیں ہوں گے اس وقت تک مسائل حل نہیں ہوسکتے ، حکومت کو چاہیے کہ جن کرپٹ افراد کو گرفتار کرے ان سے ایک ٹائم فریم کے دوران لوٹی ہوئی دولت کی برآمدگی یقینی بنائے ۔

رمضان کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے

پاکستان ایک اسلامی ملک ہے ۔ اس کے قوانین اسلام کو مد نظر رکھ کر بنائے گئے ہیں ۔ چونکہ یہاں مسلمانوں کے علاوہ دوسری اقلیتیں بھی رہتی ہیں لہذا یہاں کے قوانین میں ان کے مذاہب کا بھی خیال رکھا گیا ہے ۔ سب سے بڑی بات تو یہ ہے کہ اپنے مذہب کی بھرپور پیروی کی جائے اور کسی دوسرے کے مذہب کو چھیڑا نہ جائے ۔ ہمارے ہاں ہر سال رمضان کے مہینے میں احترام رمضان آرڈیننس جاری کیا جاتا ہے جو اقلیتوں سمیت مسلمانوں کو بھی رمضان کے تقاضوں کو پورا کرنے اور ان پر پابند رہنے کی تلقین کرتا ہے ۔ کیوں کہ بعض لوگ رمضان المبارک میں کسی عذر یا بغیر عذر دن کے اوقات میں کھلے عام کھاتے پیتے نظر آتے ہیں تو پولیس حرکت میں آجاتی ہے اور پھر معاملہ گھمبیر ہوجاتا ہے ۔ اس سلسلے میں سب سے پہلے 1981 میں اسلامی جمہوریہ پاکستان کے صدر نے احترام رمضان آرڈیننس جاری کیا جس کے تحت تحت عوامی مقامات پر کھانا پینا اور سگریٹ نوشی ممنوع ہوئی ۔ اس آرڈیننس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو مختلف نوعیت کی سزائیں بھی تجویز ہوئیں ۔ اس کے بعد تقریباً ہر سال احترام رمضان آرڈیننس جاری ہوتا ہے ۔ بحیثیت مسلمان ہ میں تو رمضان کے احترام اور اس کے تقدس کے بارے میں بہت کچھ معلوم ہے ۔ یہ آرڈیننس زیادہ تر اقلیتوں کی یاد دہانی کے لئے نافذ کیا جاتا ہے مگر آج کل کے حالات میں یوں لگتا ہے کہ اس آرڈیننس کی زیادہ ضرورت ہمارے مسلمان عوام کو ہے ۔ ہم نے مذہب کو اس قدر آسان لے لیا ہے کہ اس کا تقدس، احترام اور پابندیاں توڑنا ایک فیشن بن گیا ہے ۔ نماز، روزہ و دیگر اسلامی تعلیمات کا مذاق اڑانا ایک سٹیٹس سمبل بن گیا ہے ۔ ہمارے مسلمان نوجوان لڑکے لڑکیاں بغیر کسی عذر کے روزے نہیں رکھتے ، نماز نہیں پڑھتے اور دوسروں کو بھی اس سے روکتے ہیں ۔ سچے مسلمان جوانوں کو بنیاد پرست کہہ کر پکارتے ہیں ۔ اسلام نے مسافر، بیمار اور بچے پر روزے کی چھوٹ دی ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھلے عام اس چھوٹ کی دھجیاں اڑائی جائیں ۔ رمضان میں کھلے عام کھانا پینا ایک رواج بن گیا ہے ۔ مذہبی طورپر مسافروں کےلئے روزہ کی پابندی میں نرمی ہے ۔ اسی لئے قانونی طورپر بس اڈوں ، ریلوے سٹیشن پر چند ایک ہوٹلوں کو دن میں کھلا رہنے کی اجازت دی گئی ہے وہ بھی اس صورت میں کہ اول تو وہ ہوٹل شہری انتظامیہ سے اس کا اجازت نامہ حاصل کریں اور پھر اپنی ہوٹل کے ارد گرد پردہ کریں تاکہ دوسرے لوگوں کی نظریں ان پر نہ پڑیں ۔ ماحول ایسا رکھیں کہ کھانے کی آواز باہر تک نہ جائے تاکہ روزہ دار پریشان نہ ہوں ۔ لیکن دیکھا یہ جا رہا ہے کہ سفری جگہوں کے علاوہ بھی لا تعداد ہوٹل کھلے ہیں اور علی اعلان کھانا چل رہا ہے ۔ کوئی پوچھنے والا بھی نہیں اور انہیں خود بھی کوئی خیال نہیں ۔ آج کل جیسے کہ گرمی کے روزے ہیں تو دھوپ میں نکلنے والے کو سب سے زیادہ پیاس ہی تنگ کرتی ہے ۔ ایک روزہ دار دفتر آتے جاتے یا کاروباری شخص اپنی دکانوں یا دوسرے کاروبار پر آتے جاتے گرمی اور پیاس سے بے حال ہوتے ہیں ۔ ایسے میں سڑک پر جگہ جگہ شربت اور میٹھے پانی کی ریڑھیاں ان کےلئے پریشانی کا باعث بنتی ہیں ۔ ایک اور بد تہذیبی جو رمضان میں دیکھنے میں آتی ہے وہ سگریٹ نوش افراد ہیں جو ایک پل بھی سگریٹ کے بغیر نہیں رہ سکتے ۔ وہ سرعام ہاتھوں میں سگریٹ لئے بے خوف و خطر پیتے نظر آتے ہیں ۔ بیمار افراد بھی اپنی بیماری کے حساب سے روزے رکھیں ۔ یہ نہیں کہ ہلکی سی کمزوری ہونے ، سر درد ہونے یا طبیعت خراب ہونے کا بہانہ کر کے روزہ چھوڑ دیا جائے ۔ بلکہ خطرناک بیماری کی صورت میں اپنے معالج سے مشورہ کیا جائے اور اس کے کہنے پر روزہ چھوڑا جائے ۔ پھر بھی اس بات کا خیال رکھاجائے کہ روزہ نہ ہونے کی صورت میں دیگر روزہ دار گھروالوں کو پریشانی نہ ہو ۔ روزے کی حالت میں بھوک پیاس لگتی ہے اور جسم میں کمزوری آجاتی ہے ۔ یہ ایک فطری عمل ہے لیکن اس کو بنیاد بنا کر روزہ نہ رکھنا ، اللہ تعالیٰ کے حکم کو نہ ماننا بہت غلط بات ہے ۔ روزہ فرض کیا گیا ہے ۔ یہ کوئی نفلی یا واجب عبادت نہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے خود فرمایا ہے کہ روزہ میرے لئے ہے اور اس کا اجر بھی میں دوں گا ۔ تو جہاں وہ روزہ دار کو اجرعظیم دے گا وہاں وہ روزہ نہ رکھنے پر بازپرس بھی کرے گا اور خاص طور پر ان لوگوں سے جو بلا عذر روزہ نہیں رکھتے اور پھر اس کا احترام بھی نہیں کرتے ۔ جہاں تک بچوں کا سوال ہے تو چھوٹے بچوں پر تو روزہ ویسے بھی فرض نہیں ۔ ایک خاص مدت تک بچوں کو روزے سے چھوٹ ہے ۔ مگر گھر کا ماحول ایسا بنایا جائے کہ چھوٹے بچے بھی روزے کا احترام کریں ۔ ان کو کھانا دیتے وقت کسی علیحدہ جگہ پر بٹھایا جائے ۔ سب سے سامنے پانی پینے یا دیگر اشیاء کھانے سے منع کیا جائے ۔ یہیں سے ان کی تربیت ہوگی جو بڑے ہو کر بھی ان کے کام آئے گی اور احترام رمضان ان کی زندگی میں رچ بس جائے گا ۔ ویسے بھی بحیثیت شہری ہمارا یہ فرض ہے کہ ملکی قوانین سے واقفیت حاصل کریں ۔ اپنی ذمہ داریوں اور حقوق سے واقف ہوں اور خاص طور پر رمضان میں ہ میں اس بات کا خاص خیال رکھنا چاہئے کہ نہ صرف کسی کے مذہبی جذبات مجروح ہوں بلکہ ہم خود بھی قانون کی نظر میں مجرم ٹھہرنے سے محفوظ رہیں ۔

اےران پر بڑھتا ہوا امرےکی دباءو

اےک سال بعد اےران کے ساتھ امرےکہ کے ےک طرفہ طور پر نکل جانے سے اےران نے جواباً اعلان کےا ہے کہ وہ دو ماہ کے اندر اندر افزودہ ےورےنےم کی پےداوار شروع کر دے گا اور اس کے ذخائر بھی رکھے گا البتہ اسے کسی ملک کو فروخت نہےں کرے گا ۔ اےران نے جدےد ٹےکنالوجی مےں مہارت حاصل کرنے کےلئے ےورےنےم کی افزودگی کا پروگرام روس کے فنی تعاون سے شروع کےا ۔ پروگرام کے آغاز کے ساتھ ہی امرےکہ اور اسرائےل کی طرف سے اےران کی اےٹمی تنصےبات کو تباہ کرنے کی دھمکےاں دی جانے لگےں ۔ ان کا کہنا تھا کہ اےران ےورےنےم کی افزودگی مےں مہارت حاصل کرنے کے بعد اس پروگرام کو اےٹمی اسلحے کی تےاری کےلئے استعمال کرے گا ۔ اےران کے اس پروگرام سے اسرائےل سب سے زےادہ خاءف اور معترض رہا اور اسرائےلی وزےر اعظم اور فوجی سربراہوں کی طرف سے متعدد مرتبہ نہ صرف اےران پر حملہ کرنے کے انتباہ جاری کئے گئے بلکہ فوج اور بالخصوص فضائےہ کے سربراہ کی طرف سے تو اسرائےلی فضائےہ کو اےران پر حملہ کرنے اور اےٹمی تنصےبات کو تباہ کرنے کےلئے ہر لمحہ تےار رہنے کی ہداےات بھی جاری کےں ۔ اےران جہاں امرےکہ اور اسرائےل کی دھمکےوں سے مرعوب ہوئے بغےر ہر جارحےت کا منہ توڑ جواب دےنے کا اعلان کرتا رہا وہاں اس نے اپنے اےٹمی پروگرام کے متعلق امرےکہ ،اسرائےل،ےورپی ےونےن اور بعض دوسرے مغربی ممالک کے تحفظات و خدشات دور کرنے مےں بھی کبھی کسی تساہل ےا لےت و لعل کا مظاہرہ نہ کےا ۔ اس کا ہمےشہ ےہ موقف رہا کہ وہ جدےد ٹےکنالوجی پر دسترس حاصل کر کے اسے ملک کی تعمےروترقی کےلئے استعمال کرنا چاہتا ہے اور اےٹمی اسلحہ تےار کرنے کا ہر گز کوئی ارادہ نہےں رکھتا ۔ اس موقف کا عملی ثبوت فراہم کرتے ہوئے اس نے ماضی مےں بےن الاقوامی اےجنسی کو اپنی تنصےبات کا معائنہ کرنے کی اجازت بھی دی ۔ اےجنسی کے سربراہ محمد البرادی نے اےران کی تنصےبات خود بھی دےکھےں اور کہا کہ اےران مےں اےٹمی اسلحہ کی تےاری کے شواہد کہےں نظر نہےں آئے ۔ اےٹمی پروگرام کے حوالے سے اےران کے بھی کچھ تحفظات ہےں اس کا کہنا ہے کہ اسرائےل کے پاس اےک سو اےٹم بم موجود ہےں جبکہ بعض دفاعی اداروں کے مطابق ےہ تعداد اس سے کہےں زےادہ ہے جو عالمی امن کےلئے سنگےن خطرہ ہے ۔ امر واقعہ ےہ ہے کہ امرےکہ اور اسرائےل کےلئے کسی مسلمان ملک کا اےٹمی قوت بن جانا اور جدےد ٹےکنالوجی پر دسترس حاصل کر لےنا کسی بھی صورت قابل برداشت نہےں اس سے پہلے پاکستان کو جس دباءو ،اقتصادی اور دفاعی پابندےوں کا سامنا کرنا پڑا وہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہےں حالانکہ برصغےر مےں اےٹمی اسلحہ کی دوڑ کی ذمہ داری ہر گز پاکستان پر عائد نہےں ہوتی نہ ہی اس نے ےہ پروگرام شروع کرنے مےں پہل کی تھی ۔ اسرائےل کی طرف سے پاکستان کی اےٹمی تنصےبات پر بھی حملے کی کوشش کی جا چکی ہے جسے پاک فضائےہ نے ناکام بنا دےا ۔ 2015ء مےں اقوام متحدہ کی سےکورٹی کونسل کے پانچ رکن ممالک اور جرمنی نے اےران کے ساتھ جوہری معاہدہ طے پاےا تھا جس کے تحت اےران نے نےوکلےائی پروگرام محدود کرتے ہوئے بےن الاقوامی مبصرےن کو دورے کی اجازت دے دی تھی ۔ بدلے مےں عائد پابندےوں مےں کچھ نرمی کی گئی تھی ۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے امرےکی صدر بننے پر مئی 2018ء مےں امرےکہ ےک طرفہ طور پر معاہدے سے دستبردار ہو گےا اور اگست2018ء مےں اےران پر اقتصادی پابندےاں لگا دی گئےں ۔ اس کے رد عمل مےں اےران نے اشارہ دےا کہ اگر معاہدہ مےں شامل دےگر فرےق بھی امرےکہ کے ساتھ ملے تو وہ اپنے جوہری پروگرام کو دوبارہ شروع کر دے گا ۔ اےران کے اس اعلان پر ےورپ اور چےن جو امرےکی دھمکےوں اور پابندےوں کے باعث مخمصے کا شکار تھے دوبارہ جوہری معاہدے کی حماےت کا اعلان کر دےا تا کہ اےران کو جوہری پروگرام پہ عملدرآمد سے روکا جا سکے اور اس پرعائد اقتصادی پابندےاں اٹھائی جائےں ۔ امرےکہ نے اےران کی طرف سے امرےکی فوجوں اور مفادات کو لاحق خطرہ کے پےش نظر اپنا بحری بےڑا ابراہم لنکن اور بی ۔ 52بمبار طےارے بھجوا دیے ہےں ۔ امرےکہ نے اس ساری جنگی صورتحال کا بڑا دلچسپ جواز پےش کےا ہے کہ ہمےں اےران کی طرف سے خلےج مےں اپنی تنصےبات اور اپنے اتحادےوں پر حملے کا خطرہ ہے ۔ اس ملک سے خطرہ سمجھ سے بالا تر ہے جس ملک کے گزشتہ اےک برس کے دوران اسرائےل نے جنوبی اور وسطی شام مےں بےس سے زےادہ اڈے ،تربےتی مراکز اور اسلحہ گودام تباہ کئے ہےں ان حملوں مےں اےران کے بہت سے فوجی اور رضاکار مارے گئے لےکن اےران نے جواب مےں اےک کنکر بھی اسرائےل کی طرف نہےں پھےنکا ۔ ادھر سعودی عرب کے مشرقی صوبہ مےں ملک کی آئل رےفائنری اور تےل کی تنصےبات پر بھی حملہ کی اطلاع ہے ۔ ےمن کی حوثی افواج نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی ہے ۔ سعودی عرب مےں تےل کی تنصےبات اور آئل ٹےنکرز پر ہونے والے حملوں کی نوعےت کا تعےن نہےں ہو سکا اور نہ ہی کسی بھی ملک نے اےران ےا کسی دوسری طاقت پر اس کا الزام عائد کےا ہے تاہم ےہ واقعات اےرانی وزےر خارجہ محمد جاوےد ظرےف کے اس انتباہ کے فوری بعد رونما ہوئے ہےں جس مےں انہوں نے کہا تھا کہ علاقے مےں کوئی بڑا واقعہ رونما ہو سکتا ہے تاکہ کشےدگی مےں اضافہ کا جواز تلاش کےا جا سکے ۔ اےرانی صدر حسن روحانی نے اعتراف کےا ہے کہ امرےکہ کی سخت اقتصادی پابندےوں کی وجہ سے سخت دباءو مےں ہےں ۔ ان کا کہنا ہے کہ اےران کے خلاف نفسےاتی جنگ کا آغاز کر دےا گےا ہے لےکن ہم امرےکہ سے فوجی تصادم کا امکان رد نہےں کر سکتے ۔ آج بظاہر طرفےن کی طرف سے جو جنگی تےارےاں نظر آ رہی ہےں ،ماضی مےں بھی اےسا ہوتا رہا ہے ےعنی خلےج فارس مےں ابراہم لنکن بحری بےڑاکوئی پہلی بار نہےں گےا اور نہ ہی قطر مےں موجود العدےد ائےر بےس پہ پہلی بار بی ۔ 52اترے ہےں ۔ اس سارے منصوبے کے پےچھے اسرائےلی خفےہ معلومات کام کر رہی ہےں ۔ اسرائےلی انٹےلی جنس رپورٹوں کے مطابق اےران خلےج مےں حملے کی تےاری کر رہا ہے ۔ اسرائےل کا اصل منصوبہ ےہ ہے کہ وہ امرےکہ سے اےران کی جوہری تنصےبات پر حملے کروائے اور اےران کو مکمل تباہی سے ہمکنار کر دے ۔ اےک بار پھر امرےکہ کی طرف سے اےران کے خلاف جنگی غبارے مےں اسی طرح ہوا بھری جا رہی ہے جےسے عراق،شام اور لےبےا پر حملوں سے پہلے بھری گئی تھی ۔ اےرانی عوام اپنی حکومت کے ساتھ مخلص ہےں وہ اپنے ملک اور انقلاب کے دفاع کےلئے ہر قسم کی قربانی دےنے کےلئے آمادہ دکھائی دے رہے ہےں ۔ اگرچہ اےرانی عوام کی اےک قابل لحاظ تعداد اےسی ہے جو مغربی آزادی کی خواہاں ہے لےکن ملکی سلامتی کے معاملے مےں سب کی سوچ ےکساں ہے اور ےہ اےک حقےقت ہے کہ امرےکہ کو سب سے زےادہ خطرہ بھی اےرانی عوام کے باہم اتحاد اور ہم آہنگی سے ہے حالانکہ اےرانی عوام کو تقسےم کرنے اور ان کے ذہن سے انقلابی سوچ ختم کرنے کےلئے امرےکہ کروڑوں ڈالر خرچ کر چکا ہے ۔ امرےکہ کے علم مےں ہے کہ اگر اس نے اےران پر حملے کی غلطی کی تو اس کے جواب مےں اےران پوری دنےا مےں امرےکی مفادات کو نقصان پہنچائے گا ۔ اےران کا ممکنہ ردعمل سنگےن تر ہو گا جس سے دنےا مےں تباہی و بربادی کے آثار نماےاں ہوں گے اور اتنے بڑے پےمانے پر انسانی ہلاکتےں ہوں گی جس کا تصور کرنا بھی محال ہے ۔ آبنائے ہرمز مختصر سمندری راستہ ہے جہاں تےل بردار جہازوں کی آمدورفت کا سلسلہ شروع رہتا ہے ۔ جنگ کے دوران اگر اےران اس راستے سے گزرنے والے کسی اےک جہاز کو بھی نشانہ بنانے مےں کامےاب ہو جاتا ہے تو غالب امکان ہے کہ راستہ بند ہو جائے گا جو تےل کی قےمتوں مےں طوےل المدت اضافہ کا سبب بنے گا اور اس کے ساتھ اےسے عسکری گروہوں کی قوت مےں اضافہ ہو گا جو تشدد اور دہشت گردی کے ذرےعے مختلف ملکوں کے امن اور معےشت تباہ کرنے کا سبب بنتے رہےں گے ۔ دہشت گردی کے خلاف اب تک جو کامےابےاں حاصل کی گئی ہےں وہ نہ صرف ضائع ہو جائےں گی بلکہ ان کی شدت مےں اضافہ ہو جائے گا ۔ ا;203; نہ کرے اگر ےہ خطرہ حقےقت بنتا ہے تو ہم اس کی زد مےں ہوں گے کےونکہ جنگ کے مہلک اثرات ہمےشہ پڑوسی ممالک پر مرتب ہوتے ہےں ۔

Google Analytics Alternative