کالم

یوم پاکستان کی شاندار تقریب، دفاعی قوت کا بھرپور مظاہرہ

تحریک آزادی پاکستان کے دوران 23 مارچ 1940 کو مولوی فضل الحق نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی قیادت میں لاہور کے منٹوپارک میں مسلم لیگ کے اجتماع میں تاریخی قرارداد پاکستان پیش کی ،جسے بھاری اجتماعی اکثریت سے منظوری دی گئی۔اسی قرارداد ہی کی وجہ سے برصغیر کے مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ وطن کے قیام کی راہ ہموار ہوئی۔اس عظیم دن کی مناسبت سے ہم بحیثیت قوم ہر سال23 مارچ کو یوم پاکستان کے طور پر مناتے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس بار بھی ملک بھر میں قرار دادِ پاکستان پیش کیے جانے کے 79سال پورے ہونے پر یومِ پاکستان خصوصی جوش و جذبے سے منایا گیا۔اس دن کی مناسبت سے مرکزی تقریب اسلام آباد میں منعقد ہوئی جس میں فوجی قوت اور اتحاد کا بھر پورمظاہرہ کیا گیا۔ اسلام آبادپریڈ گراؤنڈ میں ہونے والی پریڈ میں پاکستان کی مسلح افواج کیساتھ دوست ممالک چین، ترکی، سعودی عرب بحرین ، سری لنکا ، اور آذربائیجان کے دستے اور ہوا باز بھی شریک ہوئے،پریڈ میں تینوں مسلح افواج کے دستوں نے صدر پاکستان کو سلامی پیش کی، ائر ماشل مجاہد انور نے فلائی پاسٹ کی قیادت کی۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر ، وزیراعظم عمران خان اور صدرِ مملکت عارف علوی تقریب کے مہمانِ خصوصی تھے جبکہ غیر ملکی مہمان بحرین کی نیشنل گارڈ کے سربراہ اور آذربائیجان کے وزیر دفاع بھی تقریب میں شریک تھے۔ علاوہ ازیں چیئرمین جوائنٹ چیفس، تینوں سروسز چیف، حکومتی شخصیات، غیر ملکی سفراء اور زندگی کے مختلف شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی شخصیات نے مرکزی تقریب میں شرکت کی۔ قرار داد پاکستان کے 79 سال بعد بھی قوم میں جذبہ پاکستان کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے اور وطن عزیز کی مسلح افواج اسی مناسبت سے پریڈ اور دفاعی طاقت کی نمائش کرتی ہیں جس کو یوم پاکستان پریڈ کہا جاتا ہے۔یوم پاکستان پریڈ کی رنگا رنگ تقریب میں بری، فضائی اور بحری افواج کی جانب سے اپنی مہارت کا شاندار مظاہرہ کیا گیا۔اس دن کے آغاز پر شاندار روایت کو برقرار رکھتے ہوئے علی الصبح وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں 31 توپوں اور صوبائی دارالحکومتوں میں 21، 21 توپوں کی سلامی دی گئی، جبکہ نماز فجر کے بعد مساجد میں ملک کی سلامتی، ترقی، خوشحالی کے لیے خصوصی دعاؤں کا اہتمام کیا گیا جبکہ مفکر پاکستان علامہ اقبال اور بانی پاکستان کے مزارات پر پر گارڈز کی تبدیلی کی پروقار تقاریب بھی منعقد ہوئیں۔اسلام آباد کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے ایک جامع خطاب کیا کیا،انہوں نے پوری قوم کو مبارک دیتے ہوئے کہا ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں، جس نے ہمیں آزادی کی نعمت عطا فرمائی، 23 مارچ ہماری قومی تاریخ کا وہ دن ہے جس دین برصغیر کے مسلمانوں نے قرار داد پاکستان پیش کی۔انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ بابائے قوم نے مسلمانوں میں وہ روح پھونک دی کہ حالات کی بندشیں بھی قیامِ پاکستان کی کوئی رکاوٹ پیدا نہ کرسکیں۔صدر مملکت کا کہنا تھا کہ جس طرح آزادی کا حصول قربانی کا متقاضی ہوتا ہے اسی طرح اسے برقرار رکھنے کیلئے مزید قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔انہوں نے دشمن کی رشہ دوانیوں اور سازشوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تاریخ میں بہت نشیب و فراز آئے، ہم پر جنگیں مسلط کی گئیں، ہمیں دہشت گردی کا سامنا کرنا پڑا لیکن ہم نے عزم، مہارت اور حکمت عملی سے دہشت گردی کا مقابلہ کیا اور انہیں کامیاب نہیں ہونے دیا۔ دیں امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے ہم دنیا کی واحد قوم ہیں جس نے دہشت گردی کے خلاف اتنی لمبی لڑائی لڑی جس میں ہم سرخرو ہوئے۔صدر نے پڑوسی ملک بھارت کو پرامن رہنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ بھارت کی کوتاہ بینی ہے کہ وہ پاکستان کو 1947 سے پہلے کے نظریات کی عینک سے دیکھتا ہے جو خطرناک ہے، اسے پاکستان کی حقیقت کوتسلیم کرنا ہوگا۔پلوامہ حملے کے بعد بھارت نے غیر ذمہ داری کامظاہرہ کرتے ہوئے تمام بین الاقوامی قوانین کو بلائے طاق رکھتے ہوئے جارحیت کی جس کا جواب دینا ہمارا حق اور فرض تھا۔انہوں نے دشمن پر یہ بھی واضح کیا کہ قوم کے عزم اور افواج پاکستان کی جرأت و بہادری سے ہم سرخرو ہوئے اور الحمداللہ آج ہم ابھرتی ہوئی معاشی قوت کیساتھ ساتھ دفاعی ایٹمی قوت ہیں۔ہم امن چاہتے ہیں، ہمیں جنگ کے بجائے تعلیم اور روزگار پر توجہ دینی چاہیے،ہماری اصل جنگ غربت کے خلاف ہونی چاہیے ۔ صدر نے سرحدوں پر دفاع وطن کا فریضہ انجام دینے والے جوانوں کو بھی سلام پیش کیا اور کہا کہ بلاشبہ آپ قوم کا فخر و وقار ہیں، آپ کے دل میں موجود جذبہ حب الوطنی نے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنا دیا ہے۔ پاکستان الحمداللہ محفوظ ہے، ہماری معاشی ترقی سیکیورٹی حالات کی وجہ سے متاثر ہوئی ہے لیکن اب پاکستان کو ترقی کی طرف لے جانے کا وقت آگیا ہے، ترقی یافتہ پاکستان شہدا اور غازیوں کیلئے سب سے بڑا خراج تحسین ہوگا۔قبل ازیں یومِ پاکستان کے موقع پر وزیراعظم عمران خان نے بھی قوم کے نام خصوصی پیغام جاری کیا اور کہا کہ حکومت ایک ایسے معاشرے کے قیام کیلئے پرعزم ہے جہاں ہرکوئی اپنی بہترین صلاحیتوں کے مطابق ملک کی سماجی واقتصادی ترقی میں اپناکرداراداکرسکے۔انہوں نے کہا کہ قومی دن کے موقع پرہمیں اپنے ان کشمیری بھائیوں کوفراموش نہیں کرناچاہیے جو طویل عرصے سے بھارت کی ریاستی دہشت گردی کانشانہ بن رہے ہیں اورمصائب ومشکلات میں زندگی بسرکرنے پرمجبورہیں۔وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج کا پاکستان نیا پاکستان ہے، پاکستان قوم ماردِ وطن کو اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے لیے کوشاں ہے۔ہم ایسا معاشرہ بنانے کے لیے کوشاں ہیں ہمدردی و انصاف کی بنیاد پر مبنی ہو جس میں موجود ہر شخص معاشی و اقتصادی ترقی میں اپنی صلاحیت کے مطابق کردار ادا کر سکے۔پاکستان برابری کی بنیاد پر اپنے ہمسایوں کے ساتھ پرامن اور دوستانہ تعلقات چاہتا ہے۔ہم چاہتے ہیں کہ خطے کے تمام ممالک ایک دوسرے کے ساتھ مل کر خطے میں غربت و افلاس کو ختم کریں اور لوگوں کی سماجی و معاشی ترقی حاصل کریں۔وزیراعظم عمران خان نے بھی دنیا کو باور کرایاکہ پاکستان کی امن کوششوں کو کمزور نہیں سمجھنا چاہیے، اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے پاکستان کا دفاع ناقابلِ تسخیر ہوگیا۔
پاکستانی تقریب کا بائیکاٹ،مودی سرکار کا قابل مذمت رویہ
سفارتی آداب و روایات سے بے بہرہ بھارت نے ایک بار پھر سطحی حرکت کی اور نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن میںیوم پاکستان کی ضیافت کا بائیکاٹ کیا جسکا جواز حریت پسندرہنماؤں کو تقریب میں مدعو کرنا کا گھڑاگیا۔تاہم دوسری طرف بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنے ہم منصب عمران خان کو خیر سگالی کا پیغام بھی بھیجا جس میں مل جل کر کام کرنے اور امن کو فروغ دینے پر زور دیا گیا۔اس دوہرے عمل پر بھارت میں مودی کو شدید تنقید کا سامنا ہے تو وہ درست ہے۔یہ کتنا افسوسناک امر ہے کہ نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمیشن کے باہر بھارتی پولیس اور سادہ کپڑوں میں خفیہ ایجنسیوں کے اہلکاروں نے گھیراؤ کیے رکھا اور وہ یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کیلئے آنے والے مہمانوں کو ہراساں کرتے رہے۔ان کے نام پوچھتے رہے سادہ کپڑوں اور یونیفارم میں پولیس اہلکارشرکت کرنے والوں کو روک کر انہیں بتاتے کہ حکومت نے یوم پاکستان کا بائیکاٹ کر رکھا ہے ، صحافی جو اس تقریب کی رپورٹنگ کیلئے آئے تھے انہیں بھی شرکت نہ کرنے کا پیغام دیا گیا۔مودی سرکار کا یہ رویہ قابل مذمت ہے۔

مودی کی بی جے پی خطرے میں

بھارت پاکستانی طیارہ گرانے کی خواہش میں بہت زیادہ جنونی ہو چکا ہے۔ بھارت نے افغانستان سے درخواست کی تھی کہ وہ کسی طرح پاکستان کا طیارہ گرادیں مگر ہمارے شاہینوں کی پھرتی اور چابکدستی دیکھ کر افغانستان نے انکار کر دیا۔ اب بھارت اپنی بہادری اور فتح کو ثابت کرنے کیلئے کئی ایسے اقدامات کر رہا ہے جو بھارت کی مزید تذلیل کا باعث بن رہے ہیں۔ محاورہ ہے کہ سانپ کا ڈرا ،رسی سے بھی ڈر جاتا ہے ۔ وہی حال آج کا بھارت کا ہورہا ہے۔ بھارت اپنے جہاز گنوانے کے بعد اب غباروں کو میزائلوں سے نشانہ بنا رہا ہے۔ پاکستان سے ہیپی برتھ ڈے کے چند غبارے فضا میں بلند ہو کر ہوا کے زور پر بھارتی سرزمین پہنچ گئے۔ جس پر بھارتی فضائیہ نے اسے پاکستانی جہاز سمجھ کر اپنے سخوئی 30 طیارے فضا میں بھیج دیئے اور ان طیاروں نے بھی ان غباروں کو پاکستانی جہاز سمجھ کر پہلے ان پر گولیاں برسائیں پھر ان پر میزائل داغ دیئے۔ بھارتی پائلٹوں کی مشاقی دیکھیئے کہ وہ چند گولیوں سے ان غباروں کو نشانہ نہ بنا سکے آخر کار لاکھوں ڈالر کا فضا سے فضا میں مارکرنیوالا میزائل ان غباروں پر داغ دیا جس سے غبارے پھٹ گئے۔ بھارتی فضائیہ ان غباروں کو پاکستانی جہاز سمجھ کر خوشی مناتی رہی اور حکومت کو بھی خبر کر دی کہ ہم نے پاکستانی جہاز مار گرایا ہے۔ لیکن بعد میں پتہ چلا کہ وہ پاکستانی جہاز نہیں بلکہ 25 روپے والے ہیپی برتھ ڈے کے غبارے تھے۔ پاک فضائیہ نے بھارت کی نیندیں حرام کرتے ہوئے ایک اور ملکی ساختہ میزائل کا کامیاب تجربہ کیا۔ میزائل کا تجربہ جے ایف 17تھنڈر کے ذریعے کیا گیا۔جے ایف17سے داغے گئے ملکی ساختہ میزائل نے 100فیصد درستگی کیساتھ ہدف کونشانہ بنایا۔ساختہ میزائل طویل فاصلے تک مارکرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔جے ایف 17 تھنڈر سے ملکی ساختہ میزائل کا تجربہ عظیم سنگ میل ہے۔ قابل فخرسائنسدانوں ، انجینئرز کی شبانہ روز محنتوں اور صلاحیتوں کی وجہ سے یہ ہدف مکمل ہوا۔پاک فضائیہ کے جے ایف 17 تھنڈرز کو ملکی سطح پر تیار کیے جانے والے جدید میزائل سے لیس کردیا گیا۔ ملکی ساختہ میزائل کے شامل ہونے سے روشنی اور اندھیرے میں اہداف کو ٹھیک نشانہ بنانے کی صلاحیت بھی حاصل ہوگئی۔ میزائل کا ہدف کو درست طریقے سے نشانہ بنانا ماہرین کی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ پاکستان ایک امن پسند ملک ہے مگر اگر کسی دشمن ملک نے جارحیت مسلط کرنے کی کوشش بھی کی تو اسے بھرپور اور منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔حالیہ فضائی جنگ میں بھارت کے دو طیارے تباہ ہوئے ایک مقبوضہ کشمیر میں گرا اور دوسرا آزاد کشمیر میں۔ اپنے ہاں گرنے والے طیارے کو بھارت نے ایف 16 بنا کر پیش کرتے ہوئے پروپیگنڈہ کیا کہ پاکستانی طیارہ کو ہم نے مار گرایا ہے۔ بھارتی فوجی حکام نے اس طیارے پر پاکستانی پرچم بھی بنا دیا مگر وہ بھول گئے کہ پاک طیاروں پر مکمل پاکستانی پرچم ہمیشہ الٹا اور مکمل پینٹ کیا جاتا ہے جبکہ تباہ شدہ جہاز پر پاک پرچم سیدھا بنا ہوا تھا۔ دوسری غلطی جو بھارتی فوجیوں نے کی وہ اس کا سیریل نمبر تھا جو وہ مٹانا بھول گئے۔ ساری دنیا جانتی ہے کہ بھارتی فضائیہ C کے سیریل نمبر استعمال کرتی ہے۔ تیسری بڑی غلطی جہاز کا انجن تھا ۔ ایف 16 فائٹر جیٹ ایک ڈوئل انجن ایئر کرافٹ ہے جبکہ مگ 21 سنگل انجن پر مشتمل طیارہ ہے۔ بہرحال ان غلطیوں کی وجہ سے بھارتی عوام اور پوری دنیا کو پتہ چل گیا کہ یہ ایف 16 نہیں بلکہ بھارتی مگ 21 کا ملبہ ہے۔ بھارت نے اپنی عوام کو بیوقوف بنانے کی بہت کوشش کی مگر اس کے عسکری ماہرین نے بھونڈے دعوے اور جھوٹ کی قلعی کھول کر رکھ دی۔ اسی وجہ سے عالمی سطح پر جگ ہنسائی کا باعث بن رہا ہے۔ ایک اور خبر بھی گردش کر رہی تھی کہ بھارت نے پاکستان کو بدنام کرنے اور اپنی عوام کو مطمئن کرنے کیلئے افغانستان سے ایف 16 جنگی طیارے کا سکریپ لاکر اسے پاکستانی ایف سولہ بنا کر پیش کرنے کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔ ایم این ایس کے سربراہ راج ٹھاکرے نے پٹھان کوٹ اور پلوامہ حملوں کو الیکشن سے جوڑتے ہوئے کہا کہ انتخابات جیتنے کی کوشش میں ایک دو ماہ میں کوئی پلوامہ جیسا واقعہ ہو سکتا ہے اور مودی نیا حملہ کرا سکتے ہیں۔اب جب کہ الیکشن شیڈول آگیا ہے تو یہ حملہ بھی جلد ہونے کا امکان ہے۔بی جے پی کیلئے آئندہ انتخابات میں کامیابی حاصل کرنا ناممکن ہے کیونکہ بالا کوٹ حملہ اور اپنے دو جہاز تباہ کرانے کے بعد مودی سرکار کوہزیمت کا سامنا ہے۔مودی کے سر پر اب بھی جنگی جنون سوار ہے لہٰذا بھارت نے اسرائیل اور فرانس کیساتھ مل کر پاکستان پر پھر سے حملہ کرنے کی منصوبہ بندی شروع کردی ۔ اس سلسلے میں اسرائیلی، فرانسیسی اور بھارتی حکام کے درمیان کئی ملاقاتیں ہو چکی ہیں۔ممالک کے ردعمل اور تعلقات خراب ہونے کے ڈر سے مودی بظاہر اپنے دوست ممالک کے سامنے امن پسند بننے کی کوشش کر رہا ہے۔ اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس کا پاکستان مخالف سرگرمیوں میں بھارت کا ساتھ دینے کا انکشاف ہوا ہے۔یوں بھی اسرائیل کی ملٹری انٹیلی جنس پاکستان کے خلاف بھارتی افواج کی جارحیت میں معاون کا کردار ادا کر رہی ہے اور ان کے انٹیلی جنس ایڈوائزر پاکستان کے خلاف کارروائیوں میں ایڈوائس اور آن گراؤنڈ سپورٹ فراہم کر رہے ہیں۔اس بات کا بھی انکشاف ہو اہے کہ اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کا یونٹ 269 بھارتی ملٹری انٹیلی جنس افسران کو ٹریننگ بھی دیتا ہے۔اسرائیل پاکستان کے نیوکلئیر پروگرام کو نقصان پہنچانا چاہتا ہے اور بھارت اس کام کیلئے بہترین کور ہے۔ اسرائیلی ملٹری انٹیلی جنس کا یونٹ 1391 بھی بھارتی ملٹری انٹیلی جنس کی سپیشل ٹریننگ کرتا ہے جس کا فوکس مقبوضہ کشمیر کی جدوجہد آزادی اور پاکستان ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ بھارت اور اسرائیل مل کر پاکستان پر حملہ کرنا چاہتے تھے تاہم انٹیلی جنس اطلاعات کی بنیاد پر حملے کو ناکام بنا دیا گیا۔ بھارت کے دو ممکنہ حملے پیشگی اطلاع کی بنیاد پر ناکام بنائے گئے۔ دنیا کی اہم شخصیات پاکستان اور بھارت سے رابطے میں ہیں۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان براہ راست رابطہ نہیں ہے تاہم دونوں ممالک کی سیکیورٹی ایجنسیز کا رابطہ برقرار ہے۔

*****

علامہ محمد اقبالؒ ، جواہر لال نہرو اور محمد علی جناحؒ (1)

rana-biqi

تحریکِ پاکستان کی تاریخ میں 23 مارچ 1940 کا دن انتہائی اہمیت کا حامل ہے کیونکہ اِس دن برطانوی حکومت ہندکے پُرآشوب دور میں لاہورکے منٹو پارک میں قائداعظم محمد علی جناحؒ کی زیر صدارت قراردادِ لاہور جسے تاریخ میں قراردادِ پاکستان کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ، کے ذریعے بّرصغیر ہندوستان میں مسلمانانِ ہند کے قومی نصب العین کا تعین کیا گیا تھا۔ یہ قرارداد دراصل اعادہ تھا حکیم الاُمت علامہ اقبالؒ کی اُس ویژن کا جس میں اُنہوں نے 1930 میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطبہ ء صدارت میں شمال مغربی ہندوستان(موجودہ پاکستان) میں یہ کہتے ہوئے کہ ہندوستان میں مسلمان ایک علیحدہ قوم کہلانے کے حق دار ہیں کیونکہ یہ اسلامی فکر و نظر کے حوالے سے ایک علیحدہ نظریہ ء حیات رکھتے ہیں جنہیں ایک علیحدہ ریاست کی ضرورت سے علیحدہ کرکے نہیں دیکھا جا سکتا ہے۔ اُنہوں نے فرمایا تھا کہ اُنہیں شمال مغربی ہندوستان میں ایک مربوط مسلم ریاست کی تشکیل کم از کم پنجاب، سندھ ، سرحد اور بلوچستان پر مشتمل شمال مغربی ہندوستان میں مسلمانوں کا مقدر دکھائی دیتی ہے۔علامہ اقبال نے لندن میں گول میز کانفرنسوں میں بھی شرکت کی تھی جہاں اُنہیں قائداعظم محمد علی جناح سے تفصیلی ملاقاتوں کا موقع بھی ملا۔ علامہ کی نگاہ بینا میں جناح ہی وہ واحد شخصیت تھے جو اُمت اسلامیہ کی کشتی منجدھار سے نکال کر کنارے لگا سکتے تھے۔ چنانچہ علامہ نے بل خصوص 1936/37 میں بیماری کے عالم میں بھی قائداعظم سے کانفیڈینشل خطوط کے ذریعے حصول پاکستان کیلئے مشاورت جاری رکھی اور مسلم لیگ کا سالانہ اجلاس لاہور میں منعقد کرنے کی تجویز دی تھی۔ چنانچہ جب قرارداد لاہور کا 1940 میں لاہور کے منٹو پارک میں تعین کیا گیا تو قائداعظم نے اِسی قرارداد کی روشنی میں جسے تاریخ میں قرارداد پاکستان کے نام سے منسوب کیا گیا ہے کی منظوری کے بعد سیاسی دانشوروں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر آج علامہ اقبالؒ زندہ ہوتے تو یقیناًضرور خوش ہوتے کیونکہ ہم نے ایسا ہی کیا ہے جیسا کہ وہ چاہتے تھے۔اِسی اَمر کا اعادہ کرتے ہوئے 1943 میں شائع ہونے والے کتابچے ،،علامہ اقبالؒ کے جناح کے نام خطوط،، کے پیش لفظ میں قائداعظم نے خود لکھا تھا کہ ،، میرے خیال میں یہ خطوط زبردست تاریخی ا ہمیت کے حامل ہیں ، خاص طور پر وہ خطوط جن میں اقبالؒ کے خیالات واضح طور پر مسلم انڈیا کے سیاسی مستقبل کی پیش گوئی کرتے ہیں اور جس نتیجے پر وہ خود برسوں کی سوچ بچار کے بعد پہنچے تھے ،،۔ اندریں حالات یہ کہاجا سکتا ہے کہ علامہ اقبالؒ کے ویژن کی تکمیل قائداعظم کی عملی جدوجہد کے بغیر ممکن نہیں تھی جسے بہرحال قائداعظم نے انگریز اور ہندو شدت پسند مخالفت کے باوجود جس میں انگریز سیاستدانوں کے علاوہ ہندو کانگریس پارٹی کے رہنما گاندہی جی اور چناکیہ کوٹلیہ میکاولی منفی صفت کے ماہر پنڈت جواہر لال نہرو پیش پیش تھے، کا سیاسی میدان میں مقابلہ کرتے ہوئے پایہء تکمیل تک پہنچایا۔

حقیقت یہی ہے کہ بھارت کے بانی وزیراعظم جواہر لال نہرو جنہیں متحدہ ہندوستان کی آزادی کے حوالے سے انگریز سیاست دانوں کی حمایت حاصل تھی ، دراصل ماضی میں جنوبی ایشیا میں ہندو مرکزی حکومت کے خالق چندر گپت موریہ کے سیاسی مشیر چناکیہ کوٹلیہ کی میکاولی صفت کے قائل تھے اور تحریکِ پاکستان کے حوالے سے متحدہ ہندوستان کی راہ میں علامہ اقبالؒ اور محمد علی جناحؒ کی رفاقت کو بڑی رکاوٹ سمجھتے تھے۔ چنانچہ اُنہوں نے بظاہر جناح اقبال تعلق میں دراڑ ڈالنے کی نیت سے تب پنجاب کانگریس کے صدر میاں افتخار الدین کے ہمراہ 1937 میں عیادت کیلئے علامہ اقبال سے ملاقات کی۔ علامہ اقبالؒ کے ایک خانوادے یوسف صلاح الدین نے قومی اخبار نوائے وقت کو ماضی میں انٹرویو دیتے ہوئے علامہ ا قبال کی اِس ملاقات کے حوالے سے کہا تھا کہ میاں افتخارالدین کے ہمراہ جواہر لال نہرو علامہ اقبال کو ملنے کیلئے آئے تو نہرو کرسی پر بیٹھنے کے بجائے زمین پر بیٹھ گئے اور کہا کہ علامہ صاحب ہم تو آپ کو مسلمانوں کا لیڈر مانتے ہیں لیکن علامہ ا قبالؒ نے جواب دیا کہ وہ تو اپنے آپ کو قائداعظم کا ادنیٰ سا سپاہی سمجھتے ہیں۔ جبکہ جواہر لال نہرو نے علامہ سے اِس ملاقات کے حوالے سے اپنی کتاب تلاش ہند (Dicovery of India) میں شاطرانہ طور پر لکھا ہے کہ اپنی وفات سے چند ماہ قبل علامہ نے مجھے بلا بھیجا میں نے بڑی خوشی سے اُن کے حکم کی تعمیل کی۔جب میں مختلف مسائل پر اُن سے گفتگو کر رہا تھا تو میں نے محسوس کیا کہ باوجود اختلاف کے ہم دونوں میں کس قدر اشتراکِ خیال ہے اور کتنی آسانی سے اُن کیساتھ نباہ ہو سکتا ہے۔ میرے رخصت ہونے سے ذرا دیر پہلے اُنہوں نے مجھ سے فرمایا کہ تم میں اور جناح میں کیا چیز مشترک ہے، وہ ایک سیاستدان ہیں اور تم ایک محب وطن؟ مجھے اُمید ہے کہ مجھ میں اور جناح میں بہت کچھ مشترک ہوگا۔ اب رہا میرا محب وطن ہونا تو آجکل یہ کوئی قابل تعریف چیز نہیں ہے۔البتہ جواہر لال نہرو نے علامہ اقبالؒ کی وفات کے بعد 1945 میں اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ دراصل مسلمان عوام اور نئے متوسط طبقے خصوصاً نوجوانوں کو متاثر کرنے میں اقبال کا اہم حصہ ہے، شروع میں اُنہوں نے اُردو میں نظمیں لکھیں جو بہت مقبول ہوئیں ۔ جنگ بلقان کے دوران اُنہوں نے اسلامی موضوع اختیار کئے اور مسلمانوں کے جذبات کو شدید تر کر دیالیکن وہ شاعر عالم اور فلسفی تھے اور عوام کی قیادت نہیں کر سکتے تھے۔ اُنہوں نے اپنی اُردو اور فارسی شاعری کے ذریعے تعلیم یافتہ مسلمانوں کیلئے ایک فلسفیانہ نظریہ مہیا کر دیا اور اُن میں تفریقی رجحان پیدا کر دیا ۔ یوں تو اُن کی ہردلعزیزی اُن کی کمال شاعری کی وجہ سے تھی لیکن اُس کا ایک بڑا سبب یہ بھی تھا کہ وہ مسلم ذہن کی اس ضرورت کو پورا کر رہے تھے کہ اُسے اپنے لئے ایک لنگر مل جائے۔ کیونکہ ہندوستان کی قومی تحریک میں ہندوؤں کا غلبہ تھا اِس لئے مسلم ذہن میں کشمکش پیدا ہوئی چنانچہ بہت سے لوگوں نے اِس قومیت کو قبول کرکے علیحدگی کی تحریک میں اپنا اثر ڈال دیا۔ اندریں حالات جواہر لال نہرو کی علامہ اقبالؒ سے اِس ملاقات کے حوالے سے یہی محسوس ہوتا ہے کہ نہرو جس مقصد سے علامہ صاحب سے ملاقات کیلئے آئے تھے اُسے حاصل کرنے میں ناکام رہے کیونکہ اُنہوں نے اپنی اِسی کتاب میں یہ بھی لکھا ہے کہ خان عبدالغفار خان کی قیادت میں (95 فی صد مسلم آبادی والا صوبہ سرحد) مضبوطی سے کانگریس کیساتھ رہا اور یہی حال ملک کے دوسرے حصوں میں متوسط طبقے کے اُن بہت سے مسلمانوں کا تھا جن میں سیاسی شعور پید اہو چکا تھا ( نہرو کی اِن مسلمانوں سے مراد صوبہ سرحد کی خدائی خدمت گار تحریک کے علاوہ جمعیت علمائے ہند اور مجلس احرار سمیت دیگر مسلم مذہبی جماعتوں سے لیتے تھے جو کانگریس کیساتھ تعاون کی پالیسی اپنائے ہوئے تھیں) جبکہ قائداعظم محمد علی جناح کے بارے میں نہرو کی رائے تلخیوں سے بھری ہوئی تھی۔ اپنی اِسی شہرہ آفاق کتاب میں وہ لکھتے ہیں کہ ہندوستان کا تانا بانا اُس کی تاریخ ، جغرافیہ ، مشترکہ تہذیب اور بعض دوسرے اسباب سے مل کر بنا ہے ۔ ہم میں سے اکثر کی رائے یہ ہے کہ ہندوستان ایک قوم ہے جبکہ مسٹر جناح نے دو قوموں کا نظریہ پیش کیا ہے۔مسٹر جناح کہتے ہیں کہ ہندوستان میں دو قومیں آباد ہیں ، ہندو اور مسلمان۔ مجھے نہیں معلوم آخر یہ دو قومیں کیسے ہو گئی ہیں؟ نہرو ایک جانب تو متحدہ ہندوستان کے نام پر مشترکہ تہذیب کی بات کرتے ہیں ۔ جبکہ دوسری جانب وہ بدھ مت اور جین مت کو بھی ہندو تہذیب کا حصہ نہیں مانتے ہیں۔وہ لکھتے ہیں کہ بدھ مت اور جین مت کو ہم ہندو مت نہیں کہہ سکتے ہیں اور نہ ہی ویدک دھرم۔ہندوستان کا رہنے والا بدھ یا جینی گو سو فی صد ہندوستانی تخیل اور تہذیب کی پیداوار ہے پھر بھی ہم اُسے ہندو نہیں کہہ سکتے۔ ہم اپنی تہذیبی روایات کیلئے خواہ کوئی سا لفظ استعمال کریں انڈین، ہندی یا ہندوستانی ، ہماری تہذیب اور قوم کی اہم خصوصیت ترکیب و امتزاج کی کا وہ داخلی رجحان ہے جو ہندو فلسفیانہ طرز خیال کا پیدا کیا ہوا ہے۔بیرونی اثرات مختلف زمانوں میں ہندو تہذیب پر حملہ آور ہوتے تھے لیکن ہندوازم نے ہمیشہ اِن کا کامیابی کیساتھ مقابلہ کیا اور امتزاج اور جذب کے عمل سے اِس پر فتح حاصل کی۔ نہرو ہندوازم کی آفاقیت کے حوالے سے کہتے ہیں کہ بادی النظر میں شمال مغرب کے پٹھان اور جنوب کے تامل میں کوئی چیز مشترک نہیں ، لیکن اِن سب اختلافات کے باوجود پٹھان اور تامل دونوں پر ہندوستان کا نقش صاف نظر آتا ہے۔ سرحد کا علاقہ قدیم ہندوستانی تہذیب کے بڑے مرکزوں میں سے تھا جہاں ابھی تک پرانی عمارتوں اور خانقاؤں کے کھنڈر موجود ہیں۔موہنجو داڑو اور ہڑپہ کو دیکھنے کے بعد یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ اِس تہذیب نے مدتوں ہندوستان کی سرزمین میں پرورش پائی تھی۔ البتہ جواہر لال نہرو یہ کہتے ہوئے کتراتے ہیں کہ موہنجو داڑو اور ہڑپہ کی دراوڑی تہزیب کو تو خود آریا ہندو سماج نے افغانستان کے راستے ہندوستان میں داخل ہو کر تباہی و بربادی کا نشان بنایا تھا۔(۔۔۔۔۔۔جاری ہے)

23مارچ کی اہمیت ،مفہوم اور مقاصد

23مارچ1940ء کی اہمیت سے کون آگاہ نہیں ۔تشکیل پاکستان تک پہنچنے کیلئے رہروان جادہ کی منزل یہی قرارداد تھی ۔ہمارے اجداد کو حصول پاکستان تک جن جاں گسل محنتوں ،قربانیوں اور مشکلات سے دوچار ہونا پڑا اس کو یاد رکھنے ،ازبر کرنے اور دہرانے کی جتنی آج ضرورت ہے شائد اس سے قبل نہیں تھی ۔آج بعض طبقے خصوصاً نئی نسل قیام پاکستان کے مقاصد کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جبکہ دو قومی نظریے کو بھی مشکوک بنایا جا رہا ہے ۔آئیے ناظرین قرار داد پاکستان کے مقاصد کا تاریخی پس منظر میں جائزہ لیں ۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے خاتمے پر انگریز نے فرعونیت و استبدادیت کی حد کر دی۔ہندوؤں نے انگریزوں کے ساتھ مل کر اپنی ہزار سالہ غلامی کا انتقام مسلمانوں سے لیا ۔ہر چیز کیلئے صرف مسلمانوں کو ہی مورد الزام ٹھہرایا جاگیریں بھی ان کی ضبط ہوئیں ،سزائیں اور پھانسیاں بھی انہیں ملیں ۔مسلمانوں کیلئے اس پر آشوب اور کٹھن دور میں مسیحائے ملت کے روپ میں ایک انسان ظاہر ہوا جو قوم کے عروق مردہ میں زندگی بخش حرارت بن کر سرائت کر گیا ۔یہ تھے سر سید احمد خان جن کا مقصد قوم کی نئے سرے سے شیرازہ بندی کرنا اور انہیں مستقل جدا گانہ قوم کی حیثیت سے زندگی بسر کرنے کے قابل بنانا تھا ۔مسلمانوں کو یہ حیثیت دینے کیلئے نہ انگریز تیار تھا نہ ہندو رضا مند ۔سر سید احمد خان نے اعلانیہ کہا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اور مجھے یہ یقین ہو گیا ہے اب دو قومیں دل سے کسی کام میں شریک نہیں ہو سکیں گی ابھی تو کچھ بھی نہیں ہوا ،جوں جوں وقت گزرتا جائے گا یہ مخالفت اور عناد ان ہندوؤں کے سبب ابھرے گا جو تعلیم یافتہ کہلاتے ہیں ،جو زندہ رہے گا وہ دیکھے گا ۔یہ الفاظ1867ء میں بنارس کے کمشنر مسٹر شکسپئیر کے سوال کے جواب میں کہے تھے ۔اس تناظر میں دیکھنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ پاکستان کی بنیاد اس نظریہ پر استوار ہوئی ہے کہ ہندو اور مسلمان دو الگ الگ قومیں ہیں اس لئے ان کی دو مملکتیں بھی الگ الگ ہونی چاہییں ۔یہ تھے پاکستان کے معمار اول جنہوں نے مسلمانان بر صغیر کو اپنی پوری توانائیاں اور توجہ حصول حصول علم پر مرکوز کرنے کیلئے کہا ،علی گڑھ تحریک چلائی ،کالج کھولے ،سائنٹیفک سوسائٹی بنائی ،اہم کتب کے ترجمے کئے اور مسلمان دھڑا دھڑ تعلیم حاصل کرنے لگے ۔مسلمانوں کو پڑھی لکھی قیادت نصیب ہوئی اور ان کی کوششیں ہی قرارداد پاکستان تک پہنچنے کیلئے حتمی محرک ثابت ہوئیں ۔سر سید کی رحلت کے بعد اس شمع کو سیالکوٹ کے ایک نوجوان نے سنبھالا دیا جو ہندوؤں اور مسلمانوں کو وطنیت کا درس دیتا نظر آتا ہے لیکن یورپ کے سفر پرقومیت اور وطنیت کا مشاہدہ اپنی آنکھوں سے کرنے کے بعد اس پر قرآن حکیم میں بیان کردہ حقیقت بے نقاب ہو گئی کہ قومیت کی بنیاد مشترکہ ٓائیڈیالوجی ہے وطن کا اشتراک نہیں ۔علامہ اقبالؒ نے الہٰ آباد کے مقام پر مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس میں خطبہ صدارت دیتے ہوئے یہ اعلان کر دیا کہ مسلمان جداگانہ قوم ہے اس لئے اس کی مملکت بھی الگ ہونی چاہیے ۔30دسمبر 1930ء کو منعقدہ اس کانفرنس میں علامہ اقبال نے فرمایا میری خواہش ہے کہ پنجاب،سرحد اور بلوچستان کے صوبوں کو ملا کر ایک ریاست بنا دی جائے خواہ یہ ریاست برطانوی حکومت کے اندر خود مختاری حاصل کرلے خواہ اس کے باہر۔انہوں نے واضع کہا کہ شمال مغربی مسلم ریاست کا قیام بر صغیر کے تمام مسلمانوں یا کم از کم شمال مغربی علاقوں کے مسلمانوں کا نوشتہ تقدیر ہے۔ مسلمانوں کیلئے علامہ اقبالؒ کا یہ خطبہ روشنی کا مینار ثابت ہوا جس نے انہیں نئی راہ دکھائی اور ایک ایسی منزل کی نشاندہی کی جس کے بغیر ان کے مسائل کا حل نہیں تھا ۔علامہ اقبالؒ کی وفات کے وقت یہ شمع امانت مسٹر محمد علی جناحؒ نے سنبھالی جنہیں پوری قوم کی طرف سے قائد اعظمؒ کہہ کر پکارا جانے لگا ۔انہوں نے اپنی بے لوث خدمت ،بے پناہ محنت اور بلند ترین کردار سے ملت کے اس اعتماد کو سچ کر دکھایا ۔ 23مارچ 1940ء کا دن تاریخ پاکستان میں سب سے عظیم اور سنہری دن تھا ۔مسلمانان ہند کا جم غفیر منٹو پارک لاہور میں جمع تھا ۔مسلمانان ہند اس میں شرکت کیلئے ہندوستان کے کونے کونے سے آئے تھے ۔قائد اعظم محمد علی جناحؒ نے اپنی تقریر میں کہا کہ ہندو اور مسلمان ایک قوم نہیں ان کی قدریں مشترک نہیں ،ان کا جینا مرنا،چلنا پھرنا مختلف ہے ۔ہندوستان میں ان کا اتحاد مصنوعی اتحاد ہے یہ مصنوعی اتحاد انگریز کی سنگینیوں کے سبب قائم ہوا ۔ہماری تہذیب مختلف ہے ۔ہماری قوم دینی ،ثقافتی ، اقتصادی ،معاشی اور سیاسی زندگی میں ہندوؤں سے مختلف ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ ہم دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوں گے ۔ہم اپنا نصب العین نہیں چھوڑیں گے ،ہم ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار ہیں ۔آپ کی تقریر کے خاتمے پرآپ کی تائید و حمائت میں فضا نعروں سے گونج اٹھی ۔یہ قرار داد اے کے فضل الحق نے پیش کی اور چوہدری خلیق الزماں نے اس کی تائید کی ۔ قرار داد میں کہا گیا تھا کہ اس ملک میں دستوری خاکہ قابل عمل نہ ہو گا جب تک مندرجہ ذیل اصول مرتب نہ کئے جائیں ۔جغرافیائی لحاظ سے متعلقہ علاقے خطے بنا دیے جائیں اس طرح علاقائی ضرورتوں اور تبدیلیوں کی ضرورت محسوس کر لی جائے تا کہ جن علاقوں کے اندر مسلمانوں کی آبادی ہے ان کی تشکیل ایسی آزاد ریاستوں کی صورت میں کی جائے جن کی مشمولہ وحدتیں خود مختار اور مقتدر ہوں ۔ اقلیتوں کیلئے آئین میں مناسب،موثراور واجب التحمیل تحفظ کا خاص طور پرانتظام ہوناچاہیے تا کہ ان کے مذہبی ، ثقافتی، معاشی،انتظامی اور دوسرے حقوق کی حفاظت ہو سکے ۔قرار داد میں اگرچہ پاکستان کا نام استعمال نہیں کیا گیا تھا ۔قرار داد لاہورپاس ہوتے ہی کانگریس کے اکابرین نے اس کے خلاف شور و غوغا شروع کر دیا ۔ہندو اخبارات نے مسلمانوں کا مذاق اڑانے کیلئے اسے قرار داد پاکستان لکھا جسے قائد اعظمؒ نے پوری دلیری اورجرأت سے قبول کر لیا اور یوں وہ سفر جو محمد بن قاسم کی فتوحات سے شروع ہوا تھا اپنی منزل کے قریب پہنچ گیا جس کیلئے ہزاروں سال سے سفر جاری تھا مگر اسے کوئی نام نہیں دیا گیا تھا ۔اپنوں اور بیگانوں کی مخالفتوں کے باوجود قائد اعظمؒ اپنی ثابت قدمی اور دلیری سے اپنے مبنی بر صداقت مطالبہ کی نور پاشیوں سے باطل کی تاریکیوں کو ہٹاتا اور مٹاتا چلا گیا ۔قائد اعظمؒ نے مسلم سٹوڈنٹس فیڈریشن کی سالانہ کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا ’’پاکستان کے تصور کو جو مسلمانوں کیلئے ایک عقیدہ کی حیثیت رکھتا ہے مسلمانوں نے اچھی طرح سمجھ لیا ہے ان کی حفاظت ، نجات اور تقدیر کا راز اس میں پوشیدہ ہے ۔اسی سے یہ آواز اقصائے عالم میں گونجے گی کہ دنیا میں ایک ایسی مملکت بھی ہے جو اسلام کی عظمت گزشتہ کو از سر نو زندہ کرے گی ۔بعد ازاں انہوں نے 21نومبر1945ء کو فرنٹیئر مسلم لیگ پشاور کی کانفرنس میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان قیام پاکستان کا مطالبہ اس لئے کرتے ہیں کہ اسی میں ان کی بقاء ہے‘‘۔قیام پاکستان کی جدوجہد سات سال تک جاری رہی جس عمارت کی پہلی اینٹ سرسید نے رکھی تھی اور جسے اقبال کی قرآنی فکر نے تقویت دی وہ قائد اعظمؒ کی بصیرت و کردار کے صدقے ایک حقیقت ثابتہ بن کرتکمیل تک پہنچ گئی ۔پاکستان بن گیا ۔آج نئی نسل کو بتانے اور سمجھانے کی ضرورت ہے کہ قرار داد پاکستان کا ماخذ کیا تھا اور وہ کون سے مقاصد تھے جن کے تحت مسلمانان بر صغیر نے اپنے علیحدہ تشخص کی آواز اٹھائی اور جانوں کے نذرانے پیش کرتے ہوئے عظیم لیڈروں کی پر عزم قیادت میں اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہی ۔جانے والے بے شک چلے گئے لیکن اپنا فرض اور عہد پورا کر گئے ۔وطن عزیز میں بعض مصلحتوں کے پیش زیر اثر نظریہ پاکستان سے رو گردانی اور اسے پس پشت ڈالنے کی ناکام سعی کی گئی ہے ۔

*****

فرقہ وارانہ تعصبات ۔۔۔راء اور این ڈی ایس !

asgher ali shad

یہ امر کسی سے پوشیدہ نہیں کہ حالیہ دنوں میں راء اور این ڈی ایس کی شہہ پر وطن عزیز میں فرقہ وارانہ تعصبات کو ہوا دینے کی نئی لہر جاری ہے، کراچی میں ممتاز عالم دین مولانا تقی عثمانی پر ہونے والا قاتلانہ حملہ بھی غالباً اسی سلسلے کی کڑی کے طور پر دیکھا جانا چاہیے۔ اس تناظر میں ماہرین کا کہنا ہے کہ اسے عالمی امن کی بد قسمتی ہی قرار دیا جانا چاہیے کہ بھارت اور این ڈی ایس تسلسل کے ساتھ وطن عزیز کے خلاف بے بنیاد پراپیگنڈہ کرتے چلے آ رہے ہیں اور یہ سلسلہ رکنے کی بجائے ہر آنے والے دن کے ساتھ دراز سے دراز تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔دشمن ان دنوں بھی پاکستان کے خلاف وہ تمام حربے اور چالیں استعمال کر رہا ہے جس کے نتیجے میں ہمارے ملک کی جڑوں کو (خدانخواستہ) کھوکھلا کیا جا سکے اور مذہبی، لسانی، نسلی و جغرافیائی تعصبات کو ابھار کر ایسا ماحول قائم کیا جائے جو ان کے مکروہ عزائم میں معاونت کا سبب بن سکے مگر یہ حقیقت ہے کہ پاک افواج اور قوم نے ہر قدم پر یہ ثابت کیا ہے کہ پاکستان خدا کے فضل سے قائم رہنے کے لئے وجود میں آیا ہے اور ہر آنے والا دن اسے مضبوط سے مضبوط تر بنائے گا اور پاکستان کے ازلی مخالفین اپنی تمام تر ریشہ دوانیوں کے باوجود بالآخر ناکام اور نامراد ہوں گے۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے سنجیدہ مبصرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ سبھی جانتے ہیں کہ اصل حقائق راء اور این ڈی ایس کے اس پراپیگنڈے سے مختلف ہی نہیں بلکہ قطعاً متضاد ہیں اور اصل حقیقت تو یہ ہے کہ را، این ڈی ایس، موساد اور سی آئی اے پاکستان کے اندر تخریب کاری کو ہر ممکن ڈھنگ سے فروغ دینے کے لئے کوشاں ہیں اور اس ضمن میں ہر وہ حربہ آزمایا جا رہا ہے جس کا تصور بھی کسی مہذب معاشرے میں نہیں ہونا چاہیے۔ مودی سرکار کا جنگی جنون انتہاؤں کو چھو رہا ہے اور امریکہ ہمہ وقت ’’ڈو مور‘‘ کی اپنی راگنی الاپتا رہتا ہے۔ دوسری جانب بھارت میں ہندو انتہاپسندی اور ہجوم کے ہاتھوں معصوم انسانوں کے قتل کے واقعات روز مرہ کا معمول بن چلے ہیں اور ان میں اس قدر اضافہ ہو گیا ہے کہ لگتا ہی نہیں کہ بھارتی اکیسویں صدی میں جی رہے ہیں بلکہ اس کی جگہ یوں محسوس ہوتا ہے کہ شاید یہ کوئی پتھر کا زمانہ ہے جب کوئی ایک طبقہ کسی بھی جگہ کسی معصوم کو قتل کرتا تھا اور کہیں سے کوئی سوال نہیں اٹھتا تھا، بلکہ اس علاقے میں اس بربریت کے خلاف بولنے والے کو بھی جان سے ہاتھ دھونے پڑتے تھے۔ یہی حال اس وقت بھارت کی اقلیتیوں خصوصاً مسلمانوں کا ہے، جن کی آئے روز کسی نہ کسی شکل میں نسل کشی ہوتی ہے اور عالمی برادری اس ساری صورتحال پر ایک خاموش تماشائی کا کردار نبھانے سے زیادہ کچھ نہیں کر رہی۔ یاد رہے کہ چند روز قبل بھارت میں ہولی کے تہوار کے موقع پر بھی ہریانہ کے گوڑگاؤں ( جسے ہندو جنونی آج کل گروگرام کے نام سے پکارتے ہیں) میں جنونی ہندوؤں نے معصوم مسلمانوں کے خون سے ہولی کھیلی ۔ مبصرین کے مطابق یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ پاکستان کی جری افواج نے بیتے چند برسوں میں دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے جو شبانہ روز قربانیاں دیں، ان کا معترف ہر ذی شعور ہے۔ ایسے میں ہونا یہ چاہیے تھا کہ پوری عالمی برادری اس امر کا اعتراف کرتی اور وطن عزیز کی قربانیوں کو خاطر خواہ ڈھنگ سے سراہا جاتا مگر عملاً اس کے الٹ ہو رہا ہے اور الٹا پاکستان کو ہی موردِ الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔ یہ امر بھی پیش نظر رہنا چاہیے کہ ٹرمپ، مودی اور این ڈی ایس نے ڈو مور کی گردان کو اپنا دُم چھلا بنا رکھا ہے اور اٹھتے بیٹھتے اسی کا ورد کرتے رہتے ہیں۔ حالانکہ ’’کلبھوشن یادو ‘‘ جیسے دہشتگرد کی گرفتاری کے بعد بھی اگر دہلی اور این ڈی ایس اپنی پارسائی کے دعوے سے باز نہ آئیں تو اسے جنوبی ایشیاء کی بد قسمتی کے علاوہ بھلا دوسرا نام کیا دیا جا سکتا ہے اورآفرین ہے بھارتی حکمرانوں اور این ڈی ایس پر کہ اپنی شرانگیزیوں پر بجائے نادم ہونے کے وہ اپنی چالبازیوں سے باز آنے کا نام ہی نہیں لے رہے۔ دوسری جانب نہتے کشمیریوں پر ہونے والے مظالم کا سلسلہ بڑھتا ہی چلا جا رہا ہے مگر عالمی برادری کا ضمیر ہے کہ جاگنے کے لئے تیار نہیں۔ ایسے میں امید کی جانی چاہیے کہ پاکستان کے سبھی سماجی ،سیاسی و دیگر طبقات اپنے ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پاکستان کی نوجوان نسل کے لئے مشعل راہ کا فریضہ سرانجام دیں گے اور آنے والے دنوں میں پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی ان بلندیوں پر پہنچانے کا عزم ضمیم کریں گے جس کا خواب بانی پاکستان اور تحریک پاکستان کے دیگر زعماء نے دیکھا تھا۔ اس ضمن میں میڈیا اور سول سوسائٹی کے سبھی حلقے بھی اپنی ذمہ داریوں کو زیادہ موثر ڈھنگ سے نبھانے کی کوشش کریں گے اور عالمی برادری اپنی وقتی مصلحتوں کو خیرباد کہہ کر اپنا انسانی فریضہ نبھائے گی ۔

*****

مہاتیرمحمدکی پاکستان آمد۔۔۔دونوں ممالک کے مابین مختلف معاہدوں پردستخط

adaria

یوم پاکستان کی تقریب کے مہمان خصوصی کے طورپرملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیرمحمد تشریف لے کرآئے ،وہ تین روزہ دورے پر پاکستان آئے ہیں اس دوران پاکستان اورملائیشیا کے درمیان بہت سارے معاہدوں پردستخط بھی ہوئے اور دوست ملک نے جے ایف 17تھنڈرمیں خصوصی طورپردلچسپی کااظہارکیا۔ نیز ٹینک شکن میزائل خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔سرمایہ کاری کے حوالے سے ملائیشیاپاکستان پہلاکارپلانٹ بھی لگائے گا اس موقع پردونوں ممالک کے ہم منصب سربراہان نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی جس میں اس بات کااظہارکیاگیاکہ اسلاموفوبیا کوجان بوجھ کرپھیلایاگیا اس کامقابلہ محبت سے کرناہوگا۔ پاکستان نے ملائیشیا کے ساتھ پاکستان میں کار پلانٹ لگانے سمیت 5بڑے منصوبوں کی مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط کئے ہیں۔ ملائیشیا نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں اور ٹینک شکن میزائلوں کی خریداری میں بھی دلچسپی ظاہر کی ۔ وزیراعظم عمران خان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ ملائیشیا پاکستان سے حلال گوشت اور چاول خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین بینکوں کی شاخیں کھولنے پر بھی اتفاق ہوا فریقین نے مختلف شعبوں میں لاکھوں ملین ڈالرز کے کاروبار اور سرمایہ کاری پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیا کے وزیراعظم کو بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور پاکستان کی خطے میں امن و استحکام کی خواہش کے بارے میں بھی بتایا۔اس موقع پر ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے کوششیں کرنا ہوں گی، ہم غریب نہیں ہوتے کرپشن ہمیں غریب کر دیتی ہے، پاکستان کرپشن روکنے کیلئے ملائیشیا کے تجربات سے استفادہ کر سکتا ہے، دونوں وزرا اعظم کے درمیان تنہائی میں ملاقات ہوئی اور وفود کے سطح پر مذاکرات ہوئے۔ اس سے قبل مہاتیر محمد جب پی ایم ہاؤس پہنچے تو ان کا استقبال وزیر اعظم عمران خان نے کیا، معزز مہمان کو مسلح افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا، دوطرفہ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے پانچ سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہاکہ میں پاکستان اور ملائیشیا کی طویل دوستی میں نئے دور آنے پر بہت خوش ہوں، یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کرنا باعث اعزاز ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے نتیجے میں مسلمانوں کی جدوجہد کو نقصان پہنچایا گیا اور کرائسٹ چرچ کا واقعہ بھی اسلامو فوبیا کا نتیجہ ہے۔ملائیشیا مسلم دنیا کیلئے ماڈل کے طور پر ابھرا اور اس نے مسلم دنیا کے معاملات کو حل کرنے کیلئے کردار ادا کیا۔ دہشت گردی نے اسلامی ممالک کو بہت متاثر کیا جبکہ دنیا بھر میں جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کی ترغیب دی گئی۔ ملک کیلئے امن و استحکام ضروری ہے، ورنہ کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا، ہمارے سب سے اچھے تعلقات ہیں سوائے اسرائیل کے۔ اسرائیل سے ہم نے کسی بھی قسم کا کوئی بھی تعلق نہیں رکھا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و استحکام کے بغیر کوئی بھی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ ملائیشین وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے وزرا پھولوں کے سوا کوئی تحفہ قبول نہیں کرتے۔ ملائیشیا میں 500 ڈالر سے زیادہ تحفہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے وزیراعظم پاکستان کو ملائیشین کارکی چابی پیش کی اور تقریب میں پاکستان میں کار پلانٹ لگانے کا اعلان بھی کیا۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کو ایوان صدر میں تقریب کے دوران نشان پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا۔

او آئی سی نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے اقدامات کو سراہا

نیوزی لینڈ کے سانحہ کرائسٹ چرچ میں پچاس مسلمانوں کی شہادت کے بعدوہاں کی وزیراعظم نے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے جس میں خطرناک اسلحہ پرپابندی، مسلمانوں کے ساتھ اظہاریکجہتی ، نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کاآغازتلاوت کلام پاک سے ہونا اور پھر خصوصی طورپرنیوزی لینڈ کی فضا اللہ اکبر سے گونج اٹھی جبکہ مسجد النور کے سامنے نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی،خطبے میں امام کا کہناتھاکہ ہم دل شکستہ ضرورلیکن حوصلے نہیں ٹوٹے، ہم سب متحد ہیں، نماز جمع سے قبل وزیر اعظم نے تقریر کا آغاز آنحضرت ﷺ کے ذکرسے کیا ، مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم خواتین بھی حجاب میں نظر آئیں جبکہ مسلمانوں سے اظہار یکجہتی میں پورے ملک میں 2منٹ کی خاموشی بھی کی گئی ۔ اذان سے قبل جیسنڈا آرڈرن نے مسلمانوں کے نام ایک مختصر خطاب کیا ۔ انہوں نے مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ آپ کے ساتھ سوگوار ہے، ہم ایک ہی ہیں۔اسلامو فوبیا ایک قاتل حقیقت ہے جس کا درد مسلمان کئی برسوں سے محسوس کررہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے یہ انتہائی احسن اورقابل تقلیداقدام ہیں دیگرممالک کو بھی ان پرعمل کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب اوآئی سی کے چھ نکاتی اعلامیے میں پاکستان کے چارنکات بھی شامل ہیں ،او آئی سی نے کہاکہ اسلا مو فوبیاپھیلانے والوں کو دہشت گرد قراردیاجائے ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی طرف سے نفرت اورجرم پرمبنی تقریر روکنے کیلئے نظام وضع کرنے کی حمایت کی جائے۔بھارت جو نام نہاد جمہوریت کادعویدار ہے اسے بھی ہدف تنقیدبنایاگیا نیز پاکستان کی جانب سے پیش کردہ چارنکات کو بے حد پذیرائی ملی۔او آئی سی نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے اقدامات کو سراہاہے۔
یوم پاکستان کے موقع پرمودی کی ٹوئیٹ کامثبت جواب
23مارچ کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے یوم پاکستان پروزیراعظم عمران خان کے نام نیک خوہشات کا پیغام بھیجا ہے ،اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم مودی کا پیغام شیئر کیا جس میں بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کے عوام کو یوم پاکستان کی مبارک باد دی اور نیک تمناؤں کا اظہاکیا۔دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے اپنے جوبی ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم مودی کی طرف سے پاکستانی عوام کے نام پیغام کا خیر مقدم کرتے ہیں ،جیساکہ ہم پوم پاکستان منا رہے ہیں ،میںیقین رکھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر جو مرکزی تنازعہ ہے سمیت تمام ایشوز کو حل کیلئے بھارت کے ساتھ جامع بات چیت شروع کی جائے۔وزیراعظم پاکستان نے ہمیشہ کی طرح فوری طورپر بھارت کو مثبت انداز میں جواب دیا۔اب مودی کوچاہیے کہ وہ اپنی ٹوئیٹ پرقائم رہتے ہوئے امن کی جانب مزیدآگے بڑھے۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ،مولاناتقی عثمانی بال بال بچ گئے
شہرقائدایک مرتبہ پھردہشت گردی اورٹارگٹ کلنگ کے نرغے میں آگیاہے ۔گزشتہ روزکراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ممتاز عالم دین مولانا تقی عثمانی اور مولانا عامر شہاب کی گاڑیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں 2 محافظ جاں بحق ہوگئے ہیں۔ نیپا پل کے قریب موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے دارالعلوم کورنگی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دارالعلوم کورنگی کے مولانا شہاب زخمی ہوگئے جبکہ مولاناتقی عثمانی کواللہ تعالیٰ نے بال بال بچالیا۔وزیراعظم عمران خان نے مفتی محمد تقی عثمانی پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔

منحرف بلوچوں کو بدامنی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ بھارت صوبے میں علیحدگی پسند تحریک کی فنڈنگ کرتا ہے۔ گوادر پورٹ کی نہ صرف سیاسی، بلکہ جغرافیائی سطح پر بھی بڑی اہمیت ہے اور اس کو استعمال کے قابل بنانے سے دیگر علاقائی بندرگاہوں کیلئے مدد گاہ ثابت ہو گا۔ سی پیک اور گوادر بندرگاہ کے قابل عمل ہونے کے بعد کچھ دیگر پڑوسی ممالک پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور صوبہ میں بدامنی پھیلانے کیلئے بھارت کی مدد کرسکتے ہیں۔ کیونکہ گوادر پورٹ کی تعمیر سے چین، وسطی ایشیائی ممالک، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کی ایک راہ ہموار ہوگی جس سے ملک کی معاشی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی جو بھارت کو منظور نہیں۔ گوادر پورٹ سے ملکی معیشت مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ صوبے میں نوجوانوں کو روز گار کے مواقع میسر آئیں گے۔ بھارت افغانستان میں پناہ گزین براہمداخ بگٹی کے علاوہ دیگر بلوچوں کو بلوچستان میں بدامنی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت بلوچستان کے علیحدگی پسندبھارتی سرمائے سے یورپی ممالک برطانیہ، کینیڈا، دبئی، اومان کے ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔ را کے زیر سرپرستی بلوچ علیحدگی پسندوں کو تخریبی کارروائیوں کیلئے افغانستان میں قائم مختلف تعلیمی اداروں میں ورغلا کرعظیم تر بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن تھیوریاں بتائی جا رہی ہیں جس میں انہیں پاک فوج اور آئی ایس آئی سے متنفر کرنے کیلئے خصوصی سیمینار کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں لا پتہ افراد کو ڈھونڈنے کیلئے حال ہی میں اقوام متحدہ کے مشن کی آمد ، امریکہ کی آزاد بلوچستان تحریک اور منحرف بلوچ رہنماؤں کی بھارت نواز زبانیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے 1998 میں انڈونیشیا کے ستائیسویں صوبے مشرقی تیمور کی ملک سے علیحدگی اور اسے ڈیموکریٹک ری پبلک آف تیمور کے نام سے نیا ملک بنانے میں اقوام متحدہ کابھیانک کردار۔ وہاں تو اقوام متحدہ نے یہ بہانہ بنایا تھا کہ مشرقی تیمور میں عیسائی آبادی زیادہ ہے اور ان کو اپنا علیحدہ وطن بنانا چاہیے۔ جس کے بعد آسٹریلیا نے مشرقی تیمور میں عیسائی آبادی میں نفرت کے الاؤ بھڑکائے۔فوج اور عوام کے درمیان تصادم کی راہ ہموار ہوئی تو اقوام متحدہ کے مختلف کمشن اور گروپ حرکت میں آگئے۔ نام نہاد جنگ کو جنگ آزادی کا نام دیا گیا اور یوں 20 مئی 2002 میں انڈونیشیا اپنے ایک صوبے سے محروم ہوگیا جیسے 1971 میں پاکستان ، مشرقی پاکستان سے محروم ہوگیا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں رہنے والے تمام بلوچی مسلمان ہیں لہذا مذہبی منافرت کے طورپر تو علیحدگی کا تصور نہیں ۔ لسانی بنیادوں پر بھی علیحدگی پسندوں کی اتنی بڑی تعداد نہیں کہ ان کے کہنے پر بلوچستان کو علیحدہ کر دیا جائے۔ تو کیا لسانی ، گروہی اور قبائلی بنیاد پر اقوام متحدہ کے گروپ اور کمشن بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کے درپے ہیں ۔ایک برطانوی ادارے کے سروے کے مطابق ۶۳ فیصدبلوچی عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان میں کشیدگی کی وجہ بہت سارے عناصر اور ایسے قوتیں ہیں جو محب وطن نہیں۔ایف سی کی یونیفارم میں شر پسند عناصر نے بہت سی تخریب کارروائیوں میں حصہ لیا ،پنجابیوں کو ماراگیا ،بات نہ بنی تو پھر سندھیوں کو قتل کیا گیا پھر اس کے بعد فقیر ،مسافراور دیگر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کام بیرونی اشاروں پر چلتی ہوئی علیحدگی پسند تنظیموں کا ہے۔ لوگوں کے اغوا اور قتل میں بھی یہی تنظیمیں ملوث ہیں۔بھارت بلوچستان کے باغیوں کی نہ صرف پیٹ ٹھونک رہا ہے بلکہ انہیں مالی وسائل بھی مہیا کر رہا ہے۔ بھارتی سازشوں کا مرکز افغانستان کے صوبہ قندہار میں ہے اور اس کی بیشتر برانچیں اب افغانستان کے دوسرے صوبوں میں بھی میں کھل گئی ہیں۔ جہاں پاکستان سے اغوا کیے گئے بے روزگار پڑھے لکھے جوانوں کو معاشی ترغیبات سے اپنے ہی ملک کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو دس دس ہزار روپے تنخوادہ دے کر ملک دشمن سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔بلوچستان میں بھارتی ایجنٹ سرگرم عمل ہیں۔ اب تو صوبے میں باقاعدہ دہشت گردی ہورہی ہے۔ میزائل حملے جاری ہیں اورلوگوں کو گوادر اور فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کے خلاف بھڑکادیا گیا ہے۔موجودہ صورتحال بھارتی سیاست کی چانکیائی ٹرکس کی منظر کشی کرتی ہے۔بھارت کی طرف سے بلوچستان میں کھلی مداخلت کے بھارت کے سازشی کھیل کا ہی کوئی حصہ ہے جسے بلوچستان کے عوام اور حکومت پاکستان مل کر ہی ناکام بنا سکتے ہیں۔ بلوچستان میں جاری شورش کو بھارت پہلے بھی ہوا دیتا رہا ہے بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ ’بی رامن‘ نے تو بلوچستان میں حکومت پاکستان کے خلاف لڑنے والوں کی مدد کرنے کو بھارت کی تاریخی و اخلاقی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی طرف سے جاری آپریشن کا سبب ہندوبلوچ بنے جنہیں پاکستانی حکومت صوبہ بلوچستان سے بے دخل کرنا چاہتی تھی اور اس مقصد کیلئے ان پر ہوائی حملے بھی کئے گئے جن کے سامنے بلوچ قوم پرست ڈھال بن گئے اور انہوں نے کمال ہوشیاری اور جرات سے پاکستانی فورسز کی توجہ ہندو بلوچوں سے ہٹانے کیلئے سوئی گیس کی تنصیبات اور بلوچستان کو دیگر صوبوں سے ملانے والی ریلوے لائن کو بارود سے اڑانا شروع کر دیا۔بھارتی انٹیلی جنس ادارے ’’را‘‘ کے اڈوں نے بلوچستان اور ہمارے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کو ہدف بنا رکھا ہے۔ بھارت کو افغانستان میں حامد کرزئی جیسے لوگ میسر آگئے ہیں جن کا اقتدار چاہے اپنے محل تک محدود ہو ، بات وہ یوں اچھل اچھل کر کریں گے جیسے آدھی دنیا پر حکومت کرتے ہوں۔ جب اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب کرنے میں را مصروف عمل ہے اور ہمارے ہی نوجوانوں کو ہمارے خلاف لڑایا جا رہا ہے تو ہمارے حکمرانوں نے ان کے خلاف اب تک کیا اقدام کئے۔ عالمی سطح پر بھارت سے احتجاج کیا نہ مقامی سطح پر علیحدگی پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی۔ پھر بلوچستان میں امن و امان قائم کرنا حقیقت میں دیوانے کا خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔

بھارت کا الیکشن کمیشن بھی انتہا پسند

پاکستان میں بھارتی سیکولر لابی کی زبانی دوسری تعریفی باتوں کے علاوہ یہ بھی سنتے آئے ہیں کی بھارتی الیکشن کمیشن با لکل آزاد اور سیکولر ہے۔ ظاہر ہے کہ بھارتی سیکولر آئین کے مطابق، بھارتی الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط میں بھی اس کے سیکو لر نظریہ کو سامنے رکھتے ہوئے سیاست میں مذہب کے استعمال نہ کرنے کے پر ضرور پابندہو گا۔کیا بھارتی سیکولر آئین کی موجودگی میں ، بھارتی دہشت گرد انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا بنیادی رکن، گجرات کاقصائی ،مسلمانوں کا دشمن ، بھارت کا دہشت گرد انتہا پسند وزیر اعظم،نرنیدرا مودی کو بھارتی الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف وردی پر روک نہیں سکتا؟ کیا دہشت گرد مودی گجرات میں چار ہزار مسلمانوں کا قتل عام کروا کے گجرات کا وزیر اعلیٰ نہیں بنا تھا؟اور اب جب وہ سیکولربھارت کا وزیر اعظم ہے مذہب کو استعمال کر کے ووٹ نہیں مانگ رہا ؟ کیا مودی اور اس کی دہشت گرد نام نہادسیاسی پارٹی نے ہندو اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف اُکسا کر مسلمانوں کا جینا حرام نہیں کر دیا؟ مودی اور اس کی دہشت گرد حکومتی نام نہاد سیاسی پارٹی نے ہندو اکثریت کو پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نہیں کر دیا ہے؟ ملک میں بھارتی میڈیا اور انتہا پسند ہندوؤں نے جنگ کا ماحول پیدا نہیں کر دیا؟ کیا اس کی بنیاد پر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی عام نہیں ہو گئی ہے؟ اب ایک عرصہ خاموشی کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے رپورٹ شائع کی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص کر مسلمانوں کو مذہب کی بنیا دپر تشدد کا نشان بنایا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ مودی سرکار الیکشن جیتنے کیلئے کر رہی ہے۔ مثلاًایک ویڈیو وائرل ہو چکی ہے۔ اس میں دکھایا جا رہاہے کہ ایک مسلمان کو ایک پلر کے ساتھ باندھا ہوا ہے۔ ایک دہشت گرد انتہا پسند ہندو اسے ڈنڈے ماررہا ہے۔ اورکہتا جا رہا ہے کہ بولو’’ جے شری رام۔ جے شری رام‘‘ ادھ موہ زخموں سے چور چورمظلوم مسلمان اس کا انکار کر رہا ہے۔ دہلی میں ایک مسلمان کو شک کی بنیاد پر کہ اس کے فریج میں گائے کا گوشت رکھا ہوا ہے دہشت گردانتہا پسند ہندوؤں کے ایک گروہ نے اسے اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا۔ بعد میں تحقیقی کمیشن نے ثابت کیا کہ مسلمان کے گھر فریج میں رکھا ہوا گوشت گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا تھا۔ایک مسلمان ڈرائیور اپنی گاڑی میں میں گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسپورٹ کرنے کی وجہ سے شک کی بنیاد پر کہ گائے کو ذبح کرنے کیلئے جا رہاہے شہید نہیں کر دیا؟ بھارتی مقامی انتظامیہ کی طرف سے مسلمانوں کووارننگ دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اپنے مردوں کو دفنانے کے بجائے ہندوؤں کی طرح جلا دیاکرو۔ کیونکہ بھارت میں مسلمانوں کے قبرستانوں کی وجہ سے زمین کم پڑتی جا رہی ہے۔ اس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے، مسلمانوں کے قبرستانوں میں قبروں سے مردے نکال زمین ہموار کی جا رہی ہے۔ بستیوں میں اعلان کر دیا گیاکہ فلاں دن ہندوؤں کا کوئی تہوار ہے۔ لہٰذا راستے کی مساجد میں اذان نہیں دی جائے گی۔ کوئی مسلمان نماز پڑھنے بھی نہیں جائے گا۔اُس دن اس علاقے میں کوئی مسلمان ٹوپی پہن کر بھی باہر نہیں نکلے گا۔ اگر ان احکامات کی پابندی نہ کی گئی تو نقصانات کے خود ذمہ دار خود مسلمان ہونگے انتظامیہ نہیں ہو گی۔کئی برس پہلے بابری مسجد کو یہ کہہ کر دہشت گرد انتہا پسند ہندوؤں نے شہید کر دیا کہ جہاں پر ہندوؤں کا مندر تھا۔ مقدمہ بھارت کی سپریم کورٹ میں چل رہا ہے ۔ متعصب بھارتی عدلیہ آج تک اس کا فیصلہ نہیں کر سکی۔ بھارت میں کئی مساجد کیلئے کہا جا رہا ہے یہ مندر توڑ کر بنائی گئی تھیں۔ پورے بھارت میں کئی مساجد کے خلاف دہشت گرد انتہا پسند ہندوؤں یہ مہم چلائی ہوئی ہے۔یہ مہم اُس وقت جب یہ مساجد بنائی جا رہی تھیں کیوں نہیں چلائی گئی؟ دنیا کے آٹھویں عجوبہ تاج محل آگرہ کیلئے بھی کہاجا رہا ہے کہ یہ بھی ایک مندر کو توڑ کر مغل بادشاہ نے اپنی بیگم ملکہ ممتاز محل کی محبت کی یاد میں تعمیر کیا تھا۔ طارق فتح نامی ایک مرتد مسلمان کے ذریعے بھارتی میڈیامیں مہم چلا ئی جا رہی ہے کہ ہندوستان پر ہزار سال سے زیادہ حکومت کرنے والے مسلمان حکمران لٹیرے اور غاصب تھے۔ آریہ بھی ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تھے کیا وہ بھی لٹیرے اور غاصب نہیں ہیں؟بھارتی مسلمانوں کے خلاف پر تشدد واقعات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جس میں تاجروں، کھلاڑیوی،م صنفین، گلوگاروں، فلم سازوں ، فلمی ادکاروں اور بھارت میں رشتہ داروں سے ملنے کیلئے جانے والے عام مسلمان شامل ہیں۔ان کے خلاف ایک دہشت گردانہ مہم ہے جو بھارتی دہشت گردوں نے چلائی ہوئی ہے۔ سب سے بڑی مہم دہشت گرد مودی نے ملکی الیکشن جیتنے کیلئے چلائی ہوئی ہے۔ پاکستان پرموجودہ فضائی حملہ کرنے سے پہلے بھی ایئر اسٹرائیک کا شوشہ چھوڑا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ایک پاکستان کے اندر کھس کرکئی لوگوں کو شہید کیا ۔اس جھوٹ کے مقابلے میں پاکستانی فوج نے بین الاقوامی صحافیوں کو جائے وقوع کا دورہ کرایا۔ آزادصحا فیوں نے جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی تھی کہ پاکستان میں کوئی بھی شہادت نہیں ہوئی بھارت کی طرف سے سب کچھ جھوٹ ہے۔ کشمیر میں نسل کشی اور کشمیری عزت مآب خواتین کے ساتھ بھارتی سفاک فوجیوں کی اجتماہی آبرو ریزی سے تنگ آکر آخر ایک کشمیری نوجوان نے بھارتی فوجی قافلہ پر کشمیر پلومہ میں فدائی حملہ کیا اور بھارت کے چالیس سے زیادہ فوجیوں کوجہنم رسید کیا تو فوراً بغیر تحقیق کے مودی نے الزام پاکستان کے سر لگا دیا۔ اپنے انتخابی جلسوں میں اعلان کیا کہ پاکستان کو اس کا سبق سکھایا جائے گا۔ پھر پلاننگ سے پاکستان پر کئی سمتوں ہوئی حملے کی کوشش کی۔کچھ جگہوں پر پاکستان فضائی فوج نے بھارتی طیاروں کو مار بھگایا۔ کشمیر میں تین جگہوں پر حملہ کرتے ہوئے جب پاکستانی کی بین الاقوامی حدود کی خلاف دردی کرتے ہوئے ،بھارتی پائلٹ اپنے پے لوڈ بالاکوٹ کے میدان میں گرا کر بھاگ گئے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے دعویٰ کیا کہ بالاکوٹ میں جیش محمد کے دہشت گردٹھکانے کو تباہ کر دیا گیا اور ۳۵۰ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ مگر پاکستان اور بین الاقوامی میڈیا نے جائے وقوعہ کا مشاہدہ کیا۔ میڈیا کے مطابق وہاں کچھ صنوبر کے درختوں کو نقصان پہنچا اور ایک گھڑے میں ایک کوہ مرا ہوا پایا گیا۔ امریکی سیٹلائٹ نے بھی فضا ء سے لی گئی تصاویر میں بھارتی جھوٹ کو آشکار کیا۔ بھارت کی اپوزیشن ثبوت مانگ رہی ہے اور مودی کہتا کہ بھارتی فوج سے ملک دشمن ثبوت مانگ رہے ہیں۔اس سے بھارت فوج کا مورال متاثر ہو گا۔ پاکستان پر بھارت فضائی حملے پر پاکستان کی فوج اور پاکستان کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ بھارت نے ہماری ملک پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کاہم بدلہ لیں گے۔ اس کے بعد پاکستان فضائی فوج نے کشمیر میں بھارت پر فضائی حملہ کیا۔ پاکستانی جہازوں کی زد میں بھارتی گولا بارود کا ڈیپو تھا۔ مگر پاکستان نے فضائی حملہ ایک خالی جگہ پر کیا۔ بھارتی جہازوں نے پاکستانی جہازوں کا پیچھا کیا اور پاکستان کی فضائی حدود کو جب کراس کیا تو پاکستانی جہازوں نے دو بھارتی جہازوں کو مار گرایا۔ ایک جہاز کاملبہ بھارتی اور ایک کاپاکستانی علاقے میں گرا۔ پاکستان نے ایک بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو بھی زندہ گرفتار کر لیا۔ پاکستان نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں پاکستان نے اس کا ثبوت دیتے ہوئے بھارتی پائلٹ کو رہا کر دیا۔ پاکستان کی پر امن پالیسی کی پاکستان ،بھارت اور دنیا کے امن پسند حلقوں نے تعریف اورکی بھارت کی مذمت کی مگر دہشت گردد مودی انتہا پسند مودی اپنی انتخابی جلسوں میں کہتا ہے کہ پہلے حملہ تو صرف پائلٹ پراجیکٹ تھا اصل ابھی کرنا باقی ہے۔ ایسی صورت حال میں میں دو ایٹمی ملکوں کے درمیان بین الاقوامی میڈیا نے جنگ کی پیش گوئی کی ہے۔ جس کاذمہ داردہشت گرد مودی کے ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کے دہشت گردانتہا پسند وزیر اعظم مودی کو اپنی مسلم اور پاکستان مخالف مہم کو ختم کر کے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑنا چاہیے مگر مودی پہلے بھی مسلم دشمنی اورپاکستان دشمن منشور پر الیکشن جیت کر آیا تھا۔ اب بھی پرانے نسخے پر عمل کرتے ہوئے اسی پالیسی پر الیکشن لڑے گا۔ مودی کی اس پالیسی سے دو ایٹمی ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ اس کو امن پسند حلقے یا بھارت کے سیکولر آئین کے تحت قائم بھاتی الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مودی کو مذہب کو استعمال کر کے الیکشن لڑنے سے ہی روک سکتا ہے۔ دنیا دیکھے گی کہ کیا بھارت کا الیکشن کمیشن بھی انتہا پسند ہے یا سیکولرپسند ۔ کیا بھارتی الیکشن کمیشن اور پاکستان میں موجود بھارت سیکولر لابی بھارت سیکولر آئین پر عمل درآمد کرا تے ہیں کہ نہیں؟

Google Analytics Alternative