کالم

پاکستان میں مہنگائی،آئی ایم ایف اورسٹیٹ بنک کے متضادبیانات

کسی بھی جمہوریت کے کامیاب ہونے میں جمہور کو بنیادی سہولیات فراہم کرنا بہت اہمیت کے حامل ہیں ، اگرروزمرہ کی ضروریات عوام کو ارزاں نہ مل رہی ہوں تو پھر وہ نظام ہی بیکار ہوجاتاہے ،حکومتوں کی کامیابی میں بھی یہ عنصر بنیادی اہمیت رکھاہے ۔ آج تک جو بھی حکومت آئی اس نے بیانات کی حد تک مہنگائی کو کم کرنے کے دعوے ضرور کئے لیکن عملی طورپر ایسا خال خال ہوتا نظرآیا ۔ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک جمیل احمد نے کہاکہ مہنگائی مزید دوسال رہ سکتی ہے، شرح سود میں اضافے کے باعث مہنگائی میں اضافہ ہوا، شرح سود7;46;50 فیصد سے بڑھ کر13;46;25فیصد تک پہنچ گئی تاہم 24ماہ میں مہنگائی کی شرح5;46;7فیصدتک آجائے گی ۔ قائمہ کمیٹی خزانہ کی ذیلی کمیٹی کا اجلاس کنوینئرعائشہ غوث پاشا کی زیرصدارت ہوا جس میں مہنگائی میں کمی لانے کےلئے مختلف تجاویز کاجائزہ لیاگیا ۔ اب یہاں اگر ہم پاکستان کاطائرانہ موازنہ بھارت یابنگلہ دیش سے کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ انڈیا اوربنگہ دیش کی پالیسی ریٹ کے ساتھ یہ موازنہ ممکن نہیں ، بنگلہ دیش میں افراط زر5;46;2، انڈیا میں 3;46;2اور پاکستان میں افراط زر11;46;6فیصد ہے ،ہم ایکسپورٹرزکوسبسڈی دے سکتے ہیں لیکن ویلیو ایڈیشن نہیں کررہے ، کوئی سرمایہ کاری نہیں ہورہی، ایکسچینج ریٹ کابڑا مسئلہ ہے ۔ دراصل حقیقت یہ ہے کہ جب ملک میں سیاسی عدم استحکام موجود ہوتو معاشی حالت خودبخود ہی سسکیاں لیناشروع کردیتی ہے، ایسی صورتحال میں ہ میں آئی ایم ایف کے پروگرام پرنظرثانی کی ضرورت ہے ۔ حکومت کی پالیسیاں بھی یہاں قابل تنقید ہیں ،تعلیم اورصحت کے لئے فنڈنہیں ،بلڈکینسرکے مریض فنڈ نہ ملنے کی وجہ سے تڑپ تڑپ کرمررہے ہیں ، اگرہیپاٹاءٹس کے مریض کو دوانہیں ملتی ایسی کفایت شعاری کاہم نے اچارڈالناہے ،کتے کے کاٹنے کی ویکسین ناپید ہے ،ہیلتھ کارڈ کی پالیسی بھی نظرثانی مانگتی ہے ۔ اس وقت حکومت کو سب سے بڑاچیلنج ہی مہنگائی کاہے ۔ ادھر دوسری جانب انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے پاکستان کی جانب سے آئی ایم ایف پروگرام پرعملدرآمد کے حوالے سے اطمینان کا اظہارکیا اور پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح 2;46;4فیصدتک رہنے کی پیشن گوئی کردی ہے ،ساتھ یہ بھی خوش آئندبات کی کہ آنے والے وقتوں میں مہنگائی کم ہوتی نظرآرہی ہے ،بیرونی ادائیگیوں کا عدم توازن بہتر رہے گا، ٹیکس وصولیوں میں بھی بہتری آئے گی،یہاں یہ ہم بتاتے چلیں کہ آئی ایم ایف کے مشن نے 16 سے 20ستمبرتک پاکستان کا دورہ کیاتھا اور مذاکرات میں ابتدائی جائزے کے بعداعلامیہ جاری کیاتھا جس میں مثبت اقدام کی جانب اشارہ کیاگیا لیکن آئی ایم ایف نے سٹیٹ بنک کے معاشی ترقی کے 3;46;5فیصد امکان کے برعکس پاکستان کی معاشی ترقی کی شرح کو 2;46;4فیصدبرقراررکھا ۔ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ نے گزشتہ مالی سال2018-19 کے حسابات کوتوقع سے بھی بدترقراردیتے ہوئے اس امرکا امکان ظاہر کیا ہے کہ یہ صورتحال موجودہ مالی سال میں برقرارنہیں رہے گی اور نئے مالی سال کے اہداف کوپورا کیاجائے گا ۔ اب دراصل بات یہ ہے کہ ڈپٹی گورنر سٹیٹ بنک کی جانب سے جوصورتحال پیش کی گئی اورآئی ایم ایف نے جو اعلامیہ جاری کیا ہے اس کے تحت دونوں میں واضح فرق نظر آتا ہے ۔ زمینی حقائق یہ بتاتے ہیں کہ فی الوقت مہنگائی بے قابو ہے ۔ پٹرولیم مصنوعات سے لیکراشیائے خوردونوش تک ہر قیمت میں ہوشرباء اضافہ ہے ، پرائس کنٹرول کمیٹیاں اپنی حیثیت اوروقعت کھوچکی ہیں اختیارات کا استعمال نہیں کیاجارہا،ایک ہی چیز کی قیمت ایک ہی مارکیٹ میں مختلف ہے ، کوئی دکانداردودھ 100روپے کلوفروخت کررہاہے ، کوئی110 اور کوئی120روپے ۔ یہ توایک معمولی سی مثال ہے یہی حالات دیگراشیاء کے ہیں ۔ اب صرف کسی ایک ہفتہ واربازار کاہی وزٹ کرلیں تووہاں پرسٹال ہولڈرزنے سبزیوں تک کے اپنے اپنے ریٹ مقررکئے ہوئے ہیں ، گوکہ وہاں متعلقہ اداروں کی کمیٹیاں موجود ہیں ، ان میں تعینات افسران وملازمین بھی ڈیوٹیوں پرموجود ہیں لیکن کارکردگی کچھ بھی نہیں ،’’چمک‘‘ نے ہمارے معاشرے کوتباہ وبرباد کرکے رکھ دیاہے،مہنگائی ایک ایساعنصر ہے جو بڑی بڑی حکومتوں کو لے ڈوبتاہے ،آپ کسی بھی دکان پر چلے جائیں آپ کو ریٹ لسٹ آویزاں نظرنہیں آئے گی، جب کاروبار تباہ ہوں گے ،قوت خرید جواب دے جائے گی جس چیز پرہاتھ رکھیں اس کو آگ لگی ہوگی تو پھرآپ کیونکہ تصورکرسکتے ہیں کہ ملک میں سرمایہ کاری ہوگی یابیرونی دنیا سے سرمایہ کارآئیں گے، آپ کی شرح نمو کی حالت بھی دگرگوں ہے ادارے تباہ حال ہیں ، صنعتیں بند ہورہی ہیں ،بیروزگاری پھیل رہی ہے ۔ ایسے میں کیسے سرمایہ کاری باہرسے آئے گی اداروں کی صورتحال بھی غیرتسلی بخش ہے ،تعلیم اورصحت جودوبنیادی ضروریات ہیں ان کی حالت بھی ناگفتہ بہ ہے ،ادویات کی قیمتیں آسمان تک جاپہنچی ہیں ، غریب آدمی دوا تونہیں خرید سکتا موت کوگلے لگالیتا ہے ۔ عوام نے حکمرانوں کو ووٹ اس لئے دیئے تھے کہ انہیں سہولیات ملیں گی لیکن ہرنیاروز مہنگائی کی نویدسناتاہے، ٹیکسوں کی بھردیتاہے ایسے میں غریب عوام کدھرجائے ۔ آئی ایم ایف کی پیشن گوئیاں اورتسلیاں اپنی جگہ لیکن حقائق کچھ اورہی بتارہے ہیں ۔ یہ اچھی بات ہے کہ آئندہ چندمہینوں میں مہنگائی بڑھنے کی شرح میں کمی ہونے کی نوید آرہی ہے ،اللہ کرے کہ اسی طرح ہو، مگروقت مہنگائی میں اضافہ ہونے کاعندیہ دے رہاہے جوں تو حکومت نے پٹرول سستا کیا مگر اب بین السطور خبرآرہی ہے کہ اس میں دس سے بارہ روپے لیٹر اضافہ ہوگا جب پٹرولیم مصنوعات مہنگی ہوگئیں تو پھرہرچیز کی قیمت خودبخودبڑھ جائیں گی، پہلے ہی عوام بجلی اور گیس کے بلوں میں دفن ہورہی ہے ۔ ضرورت اس امرکی ہے کہ حکومت نے جووعدے وعیدکئے تھے انہیں پوراکرے ،نہ کشکول ٹوٹا،نہ مہنگائی کنٹرول ہوئی، نہ روزگارملے، نہ چھت ملی، جو بھی سبزباغ دکھائے تھے ان پرتوابھی خزاں ہی کاراج ہے کم ازکم اپنے کئے گئے وعدے تو پورے کئے جائیں ۔

پاک افغان سرحد پربارودی سرنگ کادھماکہ،میجراورسپاہی شہید

ضلع مہمند میں پاک افغان بارڈر پر بارودی سرنگ کے دھماکے میں پاک فوج کامیجر اورسپاہی شہید ہوگئے، ڈی جی آئی ایس پی آرمیجرجنرل آصف غفور کے ٹوئیٹ کے مطابق ضلع مہمند کے علاقے میں شدت پسندعناصرسرحد پار سے دراندازی کرتے تھے، پاک فوج کے جوان میجرعدیل کی قیادت میں پاک افغان سرحدپرضلع مہمند کے اس علاقے میں باڑ لگانے کے کام کی نگرانی پرمامورتھے کہ اس دوران دہشت گردوں کی جانب سے نصب کی ہوئی بارودی سرنگ کے دھماکے کی زد میں آگئے، شہید میجرعدیل شاہد کاتعلق کراچی جبکہ شہیدسپاہی فرازحسین کاکوٹلی آزادکشمیرسے تھا ۔ چندروز قبل بھی پاک افغان سرحد پرباڑلگانے میں مصروف پاک فوج کے اہلکاروں پر دہشت گردوں کی فائرنگ کے نتیجے میں تین جوان شہید اورایک زخمی ہو گیا تھا ۔ یادرہے کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان دوہزارکلومیٹر سے زائد طویل سرحد پرباڑلگانے کاکام جاری ہے اور پاکستان پہلے ہی900کلومیٹر سے زائدحصے پریہ کام مکمل کرچکا ہے ۔ باڑ لگانے کا مقصد شرپسندوں اور دہشت گردوں کی پاک افغان سرحد پرنقل وحرکت کوروکنا ہے ۔ حکومتی واپوزیشن رہنماءوں نے پاک افغان بارڈرپرفوجی افسر اورجوان کی شہادت پرافسوس کا اظہار کیا ہے ۔ دوسری طرف دفترخارجہ کے ترجمان نے افغان وزارت امورخارجہ کے حالیہ بیان کوغیرذمہ دارانہ اوربلاجوازقراردیتے ہوئے کہاہے کہ پاکستان اورافغانستان کے درمیان سرحدعالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے اورتمام متعلقہ عالمی قوانین اور ضابطوں کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سرکاری سرحد ہے ۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ پاکستان اورافغانستان سرحد پر طورخم پوائنٹ کاچوبیس گھنٹے کیلئے کھل جاناسرحد کے دونوں طرف کے عوام کی سہولت بہم پہنچانے کےلئے نہایت اہم قدم ہے تاہم ایسے بیانات دونوں ملکوں کے درمیان امن اور تعاون کے عزم کوگزندپہنچاتے ہیں اوران سے احترازبرتاجاناچاہیے ۔ پاک افغان بارڈر پر بارودی سرنگ کادھماکہ نہایت ہی افسوسناک ہے جس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے دہشت گرد اپنے مذموم عزائم میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے، پاک فوج نے ملکی دفاع اور سلامتی کےلئے ہمیشہ بے مثال قربانیاں دی ہیں ،دہشت گرد بزدلانہ کارروائیاں کرکے جوانوں کے عزم اورحوصلے کومتزلزل نہیں کرسکتے ۔ شہیدہونے والے جوان پاک دھرتی کافخر ہیں ،قوم کو ایسے بہادرسپوتوں پرناز ہے ۔ شہداء کی عظیم قربانیاں رائیگاں نہیں جائیں گی،دشمن کے ناپاک عزائم خاک میں مل جائیں گے ۔ ہرپاکستانی دہشت گردی کے خلاف سینہ سپراپنی فورسز کے شانہ بشانہ کھڑاہے ۔

کشمیر:آئیں آپ کو بھارتی جھوٹوں سے ملائیں !

کشمیر کا مسئلہ ا قوام متحدہ میں بھارت کے وزیر اعظم پنڈت جواہر لال نہرو صاحب ۸۴۹۱ء میں لے کر گئے تھے ۔ وہ اس طرح کہ تقسیم ہند کے وقت جموں و کشمیری مسلم کانفرنس نے سری نگر میں اپنے ایک اجتماع میں تقسیم ہند کے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ فارمولے کے تحت الحاق پاکستان کی قرارداد منظور کی تھی ۔ دوسری طرف راجہ ہری سنگھ جب کشمیر سے بھاگ رہا تھا تو اُس نے بھارت کوالحاق کشمیر کا خط لکھا ۔ بھارت کا نمائندہ راجہ کو ملنے جموں پہنچا ۔ مگر راجہ افراتفری میں اس سے ملاقات نہ کر سکا ۔ خط وصول کے بغیر واپس بھارت چلا گیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک تو مسلم ریاست کشمیر کا ہندو راجہ بھارت سے الحاق کرنے کا مجاز ہی نہیں تھا ۔ دوسری طرف جعلی الحاق کے خط کو بھارتی نمائندہ وصول بھی نہ کر سکا ۔ تو الحاق کا معاملہ بھارت کا (جھوٹ نمبرون) ہے ۔ اسی دوران گلگت بلتستان میں مقامی کشمیریوں نے راجہ ہری سنگھ کی فوجوں کو بگا کر اپنا علاقہ آزاد کرا لیا ۔ دوسری طرف پونچھ کے کشمیری، پاکستان کے قبائل اور پاکستانی فوجی بھارت اور راجہ کی فوجوں سے لڑتے ہوئے سری نگر تک پہنچنے والے تھے کہ پنڈت نہرو نے اپنے سیاسی رہنما چانکیا کی جھوٹی سیاسی بصیرت کو استعمال کرتے ہوئے جنگ کے شعلے بجھانے اور کشمیر کے دارالخلافہ سری نگر کو بچانے کے لیے چال چلی ۔ اقوام متحدہ کو لکھ کر دیا کہ کشمیر میں حالات درست ہونے پر کشمیریوں کو حق خودارادیت دوں گا ۔ وہ اپنے آزادانہ رائے سے فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں یا بھارت کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں اس لیے جنگ بند کی جائے ۔ ۰۶۹۱ء تک بھارت اس وعدے کوبین الاقوامی فورم پر دوھراتا رہا ۔ مگر یہ بھارت کا( سفید جھوٹ نمبر۲) تھا ۔ بلکہ صرف وقت حاصل کرنے کی چال تھی ۔ جس میں پاکستان کو پھنسایا گیا تھا ۔ پاکستان کے سامنے قرآنی ہدایت تھیں کہ جب دشمن صلح کرنے پر آمادہ ہو تو صلح کر لینی چاہیے ،کہ اللہ فساد کے بجائے امن پسند کرتا ہے ۔ اور اس سے دنیا کی قوموں کے سامنے مسلمانوں کی امن و سلامتی اور بہادری کی خوبی بھی آشکار ہوتی ہے ۔ مگر معاملہ منہ پر رام رام اور بغل میں چھری والی قوم سے تھا ۔ اگر اس وقت لڑائی جاری رہتی تو کشمیر آزاد ہو جاتا ۔ چانکیہ سیاست والے بھارت کے وزیر اعظم نہرو کا کشمیر بارے یہ جھوٹ جو وفا نہ ہوا ۔ جو اس نے بین الاقوامی برادری کے سامنے بولا تھا ۔ کشمیری اُسی وقت سے آزادی کی تحریک چلائے ہوئے ہیں ۔ بھارت نے اپنا ہر حربہ استعمال کر لیا مگر آزادی کی تحریک زور پکڑتی گئی ۔ اپنی آٹھ لاکھ سفاک فوج کشمیری کی جاری تحریک آزادی کو کچلنے کے لیے لگائی ،جو دنیا کے ملکوں نے کسی بھی جنگی محاذ پر نہیں لگائی، مگربھارت نے تو آٹھ لاکھ فوج صرف امن پسند کشمیریوں کی نسل کشی کے لیے لگائی ۔ کانگریس کشمیر میں جعلی انتخابات کرواتا رہی ۔ اس کا ثبوت بھارت کے وزیر داخلہ امت شاہ کا وہ بیان ہے جو ۰۷۳;241; اور ۵۳;241;اے بھارتی آئین کی دفعہ کےلئے راجیا سبھا(پارلیمنٹ ) میں دیا ۔ امت شاہ نہیں بھارتی پارلیمنٹ میں ثبوت کے ساتھ بیان دیا کہ کانگریس نے اپنے دور میں سارے انتخابات میں دھاندلی کرکے کشمیریوں پر اپنے جعلی نمائندے مسلط کیے رکھے ۔ جبکہ بھارت نے دنیا کے سامنے (سفید جھوٹ نمبر۳) بولتا رہا کہ کشمیریوں نے انتخابات کے ذریعے کئی دفعہ بھارت سے الحاق کی رائے دے دی ۔ کیا یہ جعلی انتخابات رائے شمار کانعم البدل ہو سکتے ہیں ;238; نہیں ہر گز نہیں ۔ مگر بھارت مسلسل دنیا کے سامنے سفید جھوٹ بولتا رہا ۔ جس کا بھانڈا بیچ چوراہے پر بھارت کے وزیرداخلہ امت شاہ نے بھارتی پارلیمنٹ میں پھوڑ دیا ۔ گریٹ گیم کے تحت بھارت، اسرائیل ، امریکا اور قوم پرست افغانستان نے پاکستان کے اندر اتنی دہشت گردی پھیلائی کہ اگر کوئی اور ملک ہوتا اور ابھی تک گھٹنے ٹیک چکا ہوتا ۔ ہمارا ایمان کہ پاکستان اللہ کی طرف سے برصغیر کے مسلمانوں کو اللہ نے اس لیے دیا کہ ہم نے کہا تھا کہ پاکستان کا مطلب کیا ’’لا الہ الا اللہ‘‘ تو اللہ نے مثل مدینہ ریاست پاکستان دی ۔ اللہ ہی اس کی حفاظت کر رہا ہے ۔ بھارت، اسرائیل،قوم پرست افغانستان اور امریکا نے پاکستان کی بری،بحری اورفضائی انسٹالیشن پر، بازاروں ، لڑکیوں کے اسکولوں ، مسجدوں ، امام بارگاہوں ،چرچوں ، مزاروں یعنی کوئی جگہ نہیں چھوڑی ۔ پاکستان کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ حتہ کی پاکستانی فوجی ادارے دفاعی پوزیشنیں لے کر اپنی بیرکوں تک معدود ہو گئے تھے ۔ ۰۵۱ ;241;ارب کے مالی نقصان کے ساتھ، ۵۷ہزار شہریوں نے اپنی جانوں کی قربانی بھی دی ۔ بھارت اس سے فاہدہ اُٹھا کر اپنا اکھنڈ بھارت کے ا یجنڈے کو مکمل کرنے کےلئے پاکستان پر حملہ کرنے کے منصوبے بناتا ہے ۔ بمبئی میں خود ہوٹل پر حملہ کرایا اور پاکستان کے سر تھوپ دیا ۔ جبکہ بیرونی دانشور اپنی کتابوں میں ثابت کر چکے ہیں کہ یہ بھارت، امریکا اور اسرائیل نے مل کر کیا ہے ۔ کبھی اوڑی جیسے حملوں کا ڈرامہ رچاتا ہے ۔ کیادنیا کو معلوم نہیں کہ بھارت میں جاری مسلح درجنوں علیحدگی پسند تحریکوں کے کارکن ظلم کا بدلہ لینے کے لیے یہ کاروائیاں کر سکتے ہیں ;238; یا بھارت اپنے ناپاک عزاہم کی تکمیل کے لیے یہ نام نہاد حملے خود کراتاہے;238; ۔ کسی بھی حملے کے بعد بھارت بلا تحقیق پاکستان کے ذمے لگادیتا ہے ۔ کیا دنیا کو یہ نہیں معلوم کہ بھارت نے پاکستان میں گوریلا جنگ اور دہشت گردی سے اینٹ سے اینٹ بجا دی ۔ پاکستان کو چاروں طرف سے گھیرا ۔ بھارت جنگ کے بہانے ڈھونڈ رہا ہے ۔ اس حالت میں پاکستان بھارت میں دہشت گردی کی کاروائیاں کیسے کر سکتا ہے;238; ۔ بھارت کاپاکستان پر دہشت گرد حملوں کایہ (سفیدجھوٹ نمبر ۴)ہے ۔ آر ایس ایس جو بھارت کو ہٹلر کی پیروی کرتے ہوئے، صرف ہندو مذہب کے لوگوں کا ملک مانتی ہے ۔ بھارے کے ۵۲کروڑمسلمانوں کو کہتی ہے یا تو ہند بن جاءو یا ملک چھوڑ دو ۔ دہشت گرد مودی آر ایس ایس کا بنیادی فعال رکن ہے ۔ وہ ۴۱۰۲ ء اور ۹۱۰۲ء کا الیکشن مسلمان دشمنی پر ہی جیتا ہے ۔ پاکستان کو سبق سکھانے کے لیے پاکستان پر حملہ کر دیا ۔ کہا کہ بلا کوٹ میں دہشت گردوں کے ٹکانے تباہ کرتے ہوئے جیش محمد کے۰۵۳ دہشت گردوں کو مار دیا ۔ اسی لمحے اس جھوٹ کی قوالی بھارتی میڈیا نے شروع کر دی ۔ پاکستان نے مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کو جائے واردات کے مشاہدہ کرایا ۔ تو معلوم ہوا کہ وہاں ایک مرا ہوا کوا ملا ۔ چند چیڑ کے درختوں کو نقصان پہنچا ۔ اس جگہ پرنہ کوئی دہشت گردی کاکیمپ تھا نہ کوئی جانی نقصان ہوا ۔ اس کے جواب میں پاکستان کی فضایہ نے حملہ کیا ۔ جہاں بھارتی چیف میٹنگ کررہا تھا اس کے برابر بم گرائے ۔ پیچھا کرنے والے بھارتی فضایہ کے دو جہاز گھرا دیے ۔ ایک کاملبہ پاکستان اور ایک بھارتی مقبوضہ کشمیر میں گھرا ۔ پائلٹ اسکورڈن لیڈرابھی نندن کو بھی گرفتار کیا ۔ بھارتی میڈیا مسلسل جھوٹ بولتا رہا ۔ بھارت نے دعویٰ کیا کہ ابھی نندن نے پاکستان کا ایف سولہ جہاز گرایا ۔ ایف سولہ بنانے والی کمپنی نے پاکستان میں اپنے جہازوں کی گنتی کی اور بیان جاری کیا کہ پاکستان کو سپلائی کیے گئے سارے جہاز پاکستان کے پاس موجود ہیں ۔ پھر بھی بھارت ( سفیدجھوٹ نمبر ۵ ) بولتا رہاکہ ابھی نندن نے پاکستان کا ایک ایف سولہ جہاز مار گرایا ہے ۔ اس جھوٹ کی انتہا کہ ابھی نندن کو اس پر ایوارڈ سے بھی نواز رہا ہےساری دنیا جانتی ہے کہ کشمیری بھارت کے ساتھ نہیں رہنا چاہتے ۔ وہ پاکستان کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں ۔ اس کے لیے کشمیری لازوال قربانیاں دے رہے ہیں ۔ مگر بھارت مسلسل جھوٹ پرجھوٹ بول رہا ہے کہ کشمیر میں دودھ کی نہریں بہہ رہی ہیں امن و امان ہے ۔ جبکہ کشمیر میں مسلسل ۸۴ ;241;دن سے کرفیو لگا ہوا ہے ۔ انٹرنیٹ، فون ،اخبارات اور ٹی وی اسٹیشن بند ہیں ۔ دکانیں ، بازاراسکول اور کالج بند ہیں ۔ ۹;241; لاکھ سفاک بھارتی فوجی اور آر ایس ایس کے غنڈے کشمیر کے ہر گھر کے دروازے پر گھڑے ہیں ۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کی رسائی بند ہے ۔ کیا یہ بھارت کا( سفید جھوٹ نمبر ۶) نہیں تو کیا ہے;238;ہٹلر کی پیروی کرنے والادہشت گرد مودی کہتا کہ ہم پاکستان میں گھس کر ماریں گے ۔ ہاں ایک دفعہ جنگ بندی لین عبور کے پاکستان میں گھس کر کاروائی کا شوشہ بھی چھوڑا تھا ۔ پاکستان نے اس کی نفی کی اور بین الاقوامی میڈیا کوجائے وقوع کا معائنہ کرا کربھارت کے( جھوٹ نمبر ۷) کو بھی دنیا کے سامنے رکھا تھا ۔ جھوٹ پر جھوٹ کا سہارا لینے والے بزدل بھارت کب تک جھوٹ کے سہارے اپنی قوم کو زندہ رکھوں گے;238; صاحبو! دہشت گرد مودی اورہندو قوم ہٹلر کی پیروی کرتی ہے ۔ ہٹلر نے جرمنی کو برتر قوم کے جھوٹ میں مبتلاکر کے غرق کیا ۔ ہٹلر کے جھوٹ کو اتحادی فوجوں نے شکست کر ہٹلر کو نشان عبرت بنا دیا ۔ یہ جھوٹ اور بہت سارے دوسرے جھوٹ، ہندولیڈر چانکیہ کی تعلیمات کی وجہ سے بول رہے ہیں ۔ کیونکہ کہ چانکیہ نے ہندو قوم کو یہی سبق پڑھا یا تھاکہ پہلے دشمن سے دوستی کرو ۔ بعد میں اس کو قتل کرو ۔ پھر اس کی لاش پر آنسو بہاءو ۔ کیا ایسی تعلیمات یعنی منہ پر رام رام اور بغل میں چھری والی قوم زیادہ دیر زندہ رہ سکتی ہے ۔ ہ میں تولگتاہے جیسے اتحادیوں نے ہٹلر کو ختم کیا تھا دہشت گرد مودی اورہٹلر والی ہندو ذہنیت کا خاتمہ بھی غزوہ ہند کے ذریعے ہی ہو گا ۔ ان شاء اللہ ۔

لاک ڈاوَن اور ادویات کی کمی سے کشمیریوں کی شہادتیں

مقبوضہ کشمیر میں بھارت کی فوجی دہشت گردی لاگو کئے ڈیڑھ ماہ کا عرصہ ہوگیا ہے جس نے مقبوضہ وادی اس وقت دنیا کی سب سے بڑی جیل بنا دیا ہے ۔ سری نگر سمیت وادی کے دوسرے بڑے شہروں میں بھی اہم چوراہوں پر بھارتی فوج نے بلٹ پروف بنکرز بنا لیے ہیں ۔ کرفیو، لاک ڈاوَن، جگہ جگہ بھارتی فوجی تعینات ۔ قابض بھارتی فورسز نے سری نگر کے جہانگیر چوک، بخشی سٹیڈیم، سبزی منڈی چوک میں بلٹ پروف بنکرز بھی قائم کر لئے ۔ لاک ڈاوَن کے باعث مقبوضہ وادی میں بچوں کے دودھ، ادویات اور اشیائے ضروریہ کی شدید قلت ہوگئی ہے جبکہ ٹیلیفون، موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بھی مسلسل بند ہیں ۔ کشمیریوں کے لیے آواز اٹھانے والے عالمی اداروں کے خلاف بھارت کی سازشیں ناکام ہو گئیں ۔ غاصب بھارتی فوج کی جانب سے اب تک 40 ہزار سے زائد کشمیریوں کو حراست میں لیا گیا ہے ۔ تمام تر بندشوں کے باوجود بھارتی فورسز کشمیریوں کا جذبہ آزادی نہ دباسکیں ۔ بھارت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور روزانہ 20 کے قریب مظاہرے ہوتے ہیں ۔ 44 روز میں مقبوضہ وادی میں 722 احتجاجی مظاہرے کیے گئے ہیں ۔ مسلسل پابندیوں سے مقبوضہ وادی میں انسانی المیہ جنم لے چکا ہے ۔ بچے بوڑھے اور بیمار کرب کی کیفیت میں ہیں ۔ مقبوضہ کشمیر میں ان حالات کی بنا پر انسانی حقوق کے تحفظ کے عالمی اداروں نے بھی بھارتی جارحیت کو کھول کر رکھ دیاہے ۔ ایمنسٹی انڈیا نے بھی مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی بربریت کا چہرہ بے نقاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ کشمیر میں انتظامی نظربندی کے قوانین کے تحت ہزاروں سیاسی رہنماؤں ، سماجی کارکنوں اورصحافیوں کو خاموش کروانا جاری ہے جو انسانی حقوق کے بین الاقوامی معیار کے منافی ہیں ۔ مقبوضہ جموں کشمیر کی تاریخ میں پیلک سیفٹی ایکٹ کو کئی بار غیر قانونی طریقے سے استعمال کیا جا چکا ہے ۔ مودی حکومت نے ایمنسٹی کو کچلنے کی بدترین کوشش کی ۔ بھارت نے سرکاری طور پر اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ اسکی فورسز مقبوضہ وادی کشمیر میں 5 اگست سے اب تک چار ہزار سے زائد افراد کو حراست میں لے چکی ہیں ۔ کرفیو اور مواصلاتی بندش سے ہر مذہب، عمر اور عقیدے کے تمام شہری بلا امتیاز متاثر ہوئے ہیں ۔ بھارتی ڈاکٹروں کے مطابق صورہ ہسپتال سری نگر میں روزانہ چھ سے زیادہ مریض لاک ڈاءون اور ادویات کی کمی کی وجہ سے شہید ہو جاتے ہیں ۔ ہسپتال بند ہونے کی وجہ سے زخمی نوجوانوں کی مرہم پٹی مساجد میں لا کر کی جاتی ہے ۔ گزشتہ ہفتے یورپی پارلیمنٹ میں مسئلہ کشمیر پر بحث میں بتایا گیا کہ بھارت نے کشمیر میں بڑی تعداد میں فوج بھیج رکھی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں بہت سے سیاسی کارکنوں کو گرفتار کیا گیا ہے ۔ بھارت کشمیر میں انسانی حقوق بحال کرے ۔ ان حقائق کے سامنے آنے پر یورپی پارلیمنٹ میں ارکان بھارتی مظالم کے خلاف پھٹ پڑے ۔ چیئرمین انسانی حقوق کمیٹی ماریا ایرینا نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہو رہی ہے ۔ مقبوضہ کشمیر میں دس لاکھ فوج ہے ۔ رکن پارلیمنٹ پی پی ای نے کہا مقبوضہ کشمیر میں صورتحال قیامت خیز ہے جو ناقابل قبول ہے ۔ محمد شفق ایم ای پی نے کہا کہ یورپ کو انسانی حقوق کیلئے کھڑا ہونا ہوگا ۔ ایم ای پی گرین پارٹی کا کہنا تھا کہ بھارت کشمیری عوام کے بنیادی حقوق بحال کرے ۔ آئی ڈی پارٹی کا کہنا تھا کہ ہ میں اس تنازع میں سے ایک فریق کو سپورٹ نہیں کرنا چاہئے ۔ رچرڈ کوریٹ نسوشلٹ نے کہا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں تمام حقوق معطل کر دیئے ہیں ۔ لبرل پارٹی کے فل بینین نے کہا بھارت کے تمام اقدامات غیرقانونی ہے ۔ مبارک آئی پی پی نے کہا کہ بھارت کے جبر اور ظلم پر خاموشی پر مجھے شرم آتی ہے ۔ یہ بات بھی مد نظر ہونی چاہیے کہ یورپی پارلیمنٹ کے اجلاس میں 12 سال بعد کشمیر کی صورتحال پر بحث ہوئی ۔ یورپی یونین نے جنیوا میں ہونے والی انسانی حقوق کونسل کی قرارداد کا جائزہ لینے کے بعد کہا کہ کشمیر میں صورتحال انتہائی نازک ہے ۔ مسئلہ کشمیر کا حل کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق چاہتے ہیں ۔ جنوبی ایشیا میں علاقائی تعاون آج سب سے زیادہ اہم ہے ۔ مسئلہ کشمیر کو عالمی قوانین کے مطابق مذاکرات سے حل ہونا چاہئے ۔ محصور کشمیریوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کےلئے بیرون ملک کے ساتھ ساتھ اندرون بھارت بھی بہت سی آوازیں اٹھ رہی ہیں ، ریلیاں اور جلوس نکالے جا رہے ہیں ۔ بھارتی ریاست پنجاب کے دارالحکومت چندی گڑھ میں مجوزہ ریلی میں شرکت کے لیے جانے والے ہزاروں افرادکو پولیس کی طرف سے روکنے پر مظاہرین نے احتجاجی دھرنے دیے اوربھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے پتلے نذر آتش کئے ۔ موہالی میں بھی کسانوں اور طلباء کی مختلف یونینوں سے وابستہ خواتین سمیت درجنوں کارکنوں کو احتجاجی مارچ میں شرکت سے روکنے کےلئے گرفتارکیاگیا ۔ بائیں بازو سے تعلق رکھنے والے ان گروپوں نے پنجاب کے گورنر وی پی سنگھ بڈنورکے لیے ایک یادداشت تیار کی تھی جس میں دفعہ 370 اور35;65;کی بحالی ، کشمیریوں کے لیے حق خودارادیت اورمقبوضہ کشمیر میں کالے قانون آرمڈ فورسز سپیشل پاورز ایکٹ کی منسوخی کا مطالبہ کیاگیا ہے ۔ بھارتی حکومت کی طرف سے مظاہرین کو موہالی پہنچنے سے پہلے روکنے کا فیصلہ اس کے لیے الٹا پڑ گیا کیونکہ ہزاروں افراد نے وہیں پر دھرنا دیا جہاں پر ان کو روکا گیا ۔ زیادہ تر دھرنے جنوبی پنجاب کے اضلاع بھٹنڈا، منسا، فریدکوٹ، مختصر،سنگرور، فیروز پور اور برنالہ میں دیے گئے جبکہ موہالی اور ترن تارن میں مظاہرین نے بھارتی وزیر اعظم کے پتلے بھی نذر آتش کردیے ۔ ریلیوں اور جلوس کے شرکاء کا کہنا تھا کہ بھارتی حکومت نے جس طرح دفعہ 370اور35;65; کو منسوخ کیا یہ بھارتی آئین اور پارلیمانی جمہوریت کے منافی اور کشمیری عوام کے انسانی حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے ۔

خود ساختہ ’’بِگ برادر ‘‘کی ثقافتی یلغار

دو ہفتے قبل ہندوستانی بارڈر سیکورٹی فورس نے بھارت بنگلہ دیش سرحدی علاقے میں کاشت کاری کر رہے بنگلہ دیشی کسانوں پر ربڑ کی گولیاں برسائیں جن کے نتیجے میں 11 لوگ شدید زخمی حالت ہسپتال پہنچ گئے ۔ نامور بنگلہ دیشی اخبار ڈھاکہ ٹریبیون سے بات کرتے ان کسانوں کا کہنا تھا کہ ;668370; نے بغیر ان سے کوئی بات کئے آتے ساتھ ان پر گولیوں کی بوچھاڑ کر دی جس کے نتیجے میں آنکھ میں پیلٹ بلٹ لگنے کے باعث تین کسانوں کی بینائی بھی جزوی طور پر متاثر ہوئی ۔ ڈھاکہ ٹریبیون کے مطابق ;668370; کی جانب سے اس قسم کی جارحیت کے واقعات تسلسل سے پیش آنے لگے ہیں جس سے بنگلہ دیشی عوام میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے ۔ مبصرین نے اس صورتحال کا جائزہ لیتے کہا ہے کہ بھارتی وزیر اعظم مودی نے کچھ عرصہ قبل کہا کہ دہلی سرکار کی بابت یہ الزام غلط ہے کہ اس نے اپنے پڑوسی ملکوں کے حوالے سے ’’ بِگ برادر ‘‘ کا طرزِ عمل اور سبھی ہمسایوں کے ساتھ دھونس اور دھاندلی پر مبنی رویہ اپنا رکھا ہے ۔ ان کے بقول حقیقت تو یہ ہے کہ ہندوستان اپنے ہمسایوں کے ساتھ ’’ بِگ برادر ‘‘ کی بجائے ’’ ایلڈر برادر ‘‘ کی حیثیت سے اپنے سبھی پڑوسی ممالک کا ’’ دھیان ‘‘ رکھنا اپنی اخلاقی ذمہ داری سمجھتا ہے ۔ موصوف نے ان خیالات کا اظہار 6 مئی 2015 کو لوک سبھا میں تقریر کرتے ہوئے کیا تھا ۔ یاد رہے کہ اسی روز بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان زیریں ’’ لوک سبھا ‘‘ نے بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدی تنازعات حل کرنے کی بابت اتفاق رائے سے ایک بل کی منظوری دی تھی جس کی حمایت میں 331 اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا تھا ۔ اس سے ایک روز پہلے یعنی 5 مئی کو بھارتی پارلیمنٹ کے ایوان بالا ’’ راجیہ سبھا ‘‘ میں بھی بنگلہ دیش کے ساتھ سرحدی تنازعات کی بابت یہی بل اتفاق رائے سے منظور ہوا تھا جہاں اس کے حق میں 180 اور مخالفت میں کوئی ووٹ نہیں پڑا ۔ اس بل کو بھارتی آئین کی 100 ویں ترمیم کے طور پر ہندوستانی آئین میں شامل کیا گیا ۔ اس آئینی ترمیم کی منظوری کے بعد مودی نے اپوزیشن بینچوں پر جا کر سونیا گاندھی اور دوسرے اپوزیشن لیڈروں کا شکریہ ادا کیا جنہوں نے بھارت کے مفادات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے پارٹی سیاست سے بالا تر ہو کر اس آئینی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیں تو چند باتیں واضح طور پر نظر آتی ہیں ۔ اول تو یہ کہ قومی مفادات کے حوالے سے بھارت کی حکومتی اور اپوزیشن جماعتیں بڑی حد تک اکھٹی ہیں ۔ اس کے ساتھ دوسرا پہلو یہ ہے کہ نریندر مودی نے پڑوسی ملکوں کے حوالے سے اس حقیقت کو بالواسطہ طور پر تسلیم کر لیا ہے کہ بھارت خود کو ان سے برتر اور بڑا سمجھتا ہے اور ان کا ’’دھیان‘‘ رکھنے کے نام پر ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت اپنا قومی اور مذہبی فریضہ سمجھتا ہے اور موصوف نے ’’ بگ برادر ‘‘ اور ’’ ایلڈر برادر ‘‘ کے حوالے سے جو مو شگافی کی ہے اس کی حیثیت بے سر و پا اورلا یعنی دلیل لفاظی کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھی ۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ بھارت نے پاکستان اور دیگر ہمسایہ ممالک کے خلاف ثقافتی جارحیت اور مداخلت کا لا متناہی سلسلہ عرصہ دراز سے شروع کر رکھا ہے اور سب کو معلوم ہے کہ دو عشرے قبل کانگرسی سربراہ سونیا گاندھی نے کہا تھا کہ پاکستان کے خلاف کسی قسم کے مسلح حملے کی ضرورت ہی نہیں ، ضرورت اس امر کی ہے کہ اس پر ثقافتی یلغار کی جائے اور ثقافتی یلغار کا ہتھیار اتنا خطرناک ہوتا ہے جس کے آگے بڑے سے بڑا دفاع بھی کمزور پڑ جاتاہے ۔ اور یقینا دہلی کے حکمرانوں نے گذشتہ 30 برس سے اپنے اس ایک نکاتی ایجنڈے پر بڑی تن دہی سے عمل کرنے کی ٹھان رکھی ہے اور اصل المیہ اور بد قسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستان کا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی اکثریت نے اس بھارتی ایجنڈے کو برضا و رغبت نہ صرف قبول کیا ہے بلکہ اس پر عمل کرنا غالباً گویا اپنا قومی بلکہ مذہبی فریضہ تصور کر لیا ہے کیونکہ اکثر چینلز کے نیوز بلٹن کے آخری حصہ صرف بھارتی فلموں اور اداکاروں کی پبلسٹی کے لئے مخصوص کر دیا گیا یوں نادانستگی میں بھارتی کلچر کو پوری طرح فروغ دیا جا رہا ہے ۔ حالانکہ پاکستانی فلم انڈسٹری کے ابتدائی دو عشروں میں بہت سی شاہکار فل میں اور گیت تخلیق کیے گئے جن کو اگر پاکستانی میڈیا ہندوستانی فلموں کی بجائے اپنے نیوز خبر ناموں میں شامل کرے تو اس کے کاروباری مفادات کو نقصان پہنچنے کے بجائے غالباً فائدہ ہو گا اور نئی نسل کو بھی یہ ٹھوس پیغام جائے گا کہ کلچر اور ثقافت کے محاذ پر بھی پاکستان تہی دامن نہیں بلکہ اس معاملے میں وہ بھارت سے بھی اگر آگے نہیں تو کم از کم پیچھے بھی نہیں ۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ پاکستانی میڈیا کے چند حلقے اس ضمن میں اپنا قومی فریضہ نبھاتے ہوئے قائدانہ کردار ادا کر رہے ہیں اور انھوں نے ثابت کیا ہے کہ کاروباری فوائد کے ساتھ ساتھ قومی مفادات کا بھی بیک وقت تحفظ احسن طریقے سے کیا جا سکتا ہے ۔ امید کی جانی چاہیے کہ آنے والے دنوں میں اس ضمن میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ساتھ ساتھ حکومتی ادارے اور سول سوساءٹی اپنا کردار مثبت ڈھنگ سے نبھائے گی ۔

سابقہ ادوار میں ترقیاتی کاموں کی نظیرنہیں ملتی

کئی لوگ سیاست کو عبادت کہتے ہیں مگر میں پاکستان کی موجودہ سیاست کو عبادت نہیں ، تجارت سمجھتا ہوں ۔ بلکہ یہ ایسی تجارت جس میں جائز اور ناجائز کا بُہت کم خیال رکھا جاتا ہے ۔ اس تجارت میں لوگ سرمایہ کاری کرکے اقتدار میں آکر کسی نہ کسی طریقے سے کئی گنا کما لیتے ہیں ۔ ان میں اکثر خاندان ایسے بھی ہوتے ہیں جو اقتدار میں آکرصرف اپنا حلقہ انتخاب میں ترقیاتی کام کرتے ہیں ۔ گوکہ اُن میں اکثر کا تعلق مین سٹریم بڑی سیاسی پارٹیوں سے ہوتا ہے مگر وہ ہمیشہ اقتدار کی مسند پر بیٹھنے کےلئے یہی حکمت عملی اختیار کرتے ہیں پھر وہ ملک اور صوبے کی سیاست نہیں بلکہ اپنی ذات اور خاندان کی سیاست کرتے ہیں اور انکی کوشش ہوتی ہے کہ اپنے لئے اور آئندہ آنی والی نسلوں کےلئے صوبائی اور قومی اسمبلیوں میں سیٹ پکی کرلیں ۔ جہاں تک پیسے کا سیاست میں عمل دخل کاتعلق ہے وہ تو تقریباً سارے سیاست دان کرتے ہیں کیونکہ فی الوقت تیسری دنیا اور بالخصوص پاکستان میں سیاست پیسے کے بغیر کی نہیں جا سکتی ۔ وطن عزیز میں صوبائی اسمبلی کا الیکشن لڑنے کےلئے 4 سے 5 کروڑ روپے اور قومی اسمبلی الیکشن لڑنے کےلئے 10 سے 15 کروڑ روپے تک ضرورت ہوتی ہے ۔ کئی بڑے سیاسی خاندانوں کے بچے بچیاں میرٹ یا سیلف فناس سکیم کے تحت میڈیکل ، انجینئرنگ یا دوسرے پیشہ ورانہ کالجوں میں چلے جاتے ہیں اور جو پڑہائی میں اچھے نہیں ہوتے وہ ان نالائق اور نکٹو قسم بچوں کو سیاست میں لاتے ہیں ۔ اورکہتے بھی ہیں کہ فلاں بیٹا یا بیٹی پڑھائی میں ٹھیک نہیں انکو سیاست میں لایا جائے گا ۔ ویسے تو اکثر و بیشتر سیاست دان ایسے ہوتے ہیں کہ وہ اپنے آبائی انتخابی حلقوں میں ترقیاتی کاموں کو ترجیح دیتے ہیں مگر خیبر پختون خوا میں کچھ ایسے مُنتخب نمائندے ، وزیر اور سپیکر ہوتے ہیں جو صرف اپنے انتخابی حلقوں میں کام کر رہے ہوتے ہیں ۔ یہی سیاسی خاندان جو ہمیشہ حکومتی مشینری کا حصہ ہوتے ہیں اور جو کسی بھی سیاسی پارٹی میں ہوتے ہیں الیکشن جیت جاتے ہیں اور کسی نہ کسی صورت حکومت کا حصہ ہوتے ہیں ۔ ان خاندانوں میں سلیم سیف اللہ خاندان اور ارباب فیملی سرفہرست ہیں اور اب جو خاندان اسی نقش قدم پر چلنے کی کوشش کرتا ہے وہ اسد قیصر خاندان ہے ۔ ارباب جہانگیر سے ایک دفعہ گاءوں کے لوگوں نے پوچھا کہ آپ پارٹیاں کیوں تبدیل کرتے ہیں تو اسپر ارباب جہانگیر نے کہا کہ آپکو کام چاہئے یا میری پا رٹیاں بدلنا ۔ مُجھ سے پارٹیوں کے بدلنے کے بارے میں مت پوچھیں مجھ سے کام کے بارے میں پو چھیں ۔ مندرجہ بالا دو خاندان یعنی ارباب اور سلیم سیف اللہ فیملی ہمیشہ کسی نہ کسی صورت اقتدار میں ہوتے ہیں اور یہ ہمیشہ اپنا حلقہ انتخاب میں کام کر رہے ہوتے ہیں اور خیبر پختونخوا کے دوسرے حلقوں کی طرف اتنی زیادہ توجہ نہیں دیتے جتنی توجہ یہ اپنے انتخابی حلقوں کی طرف دیتے ہیں ۔ جن جن وزارتوں کے یہ وزیر ہوتے ہیں اُن میں دھڑا دھڑ اپنے علاقے کے لوگوں کو کھپاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں کئی مثا لیں ہمارے سامنے ہیں ۔ موجودہ دور میں اسد قیصر قومی اسمبلی کے سپیکر ہیں مگر اسد قیصر کے بارے عام لوگوں کی یہ رائے ہے کہ اسد قیصر اپنے آبائی حلقے جس سے وہ خود قومی اسمبلی اور اُنکے بھائی صوبائی اسمبلی کےلئے مُنتخب ہوئے ہیں ، اُنکے ترقیاتی کام صرف ان دو حلقوں میں اپنے علاقے تک محدود ہے ۔ اے این پی کے سابق دور میں صوابی میں شہید بے نظیر یو نیور سٹی بنائی گئی تھی اور سپیکر صاحب اب اس یونیورسٹی کو اپنے حلقہ انتخاب میں شفٹ کیا تاکہ انکے حلقے کے عوام خوش ہوں اور آئندہ الیکشن اُن کو ووٹ ملے ۔ حالانکہ جس وقت یونیورسٹی کےلئے فیزیبلٹی رپورٹ اور پی سی ون تیار کیا جا رہا ہوگا تو ماہرین نے فزیبلٹی اور پی سی ون رپوٹ پر 100 دفعہ سوچ لیا ہوگا کہ کیا یہ یونیورسٹی کےلئے لوکیشن ٹھیک ہے کہ نا ۔ اور کافی سوچ و بیچار کے بعد یونیورسٹی بلڈنگ اور دوسرے اہم اُمور پر کام شروع ہو چکا ہوگا ۔ یہ یو نیو رسٹی جس مقام پر ہے یہ ایک انتہائی اچھی اور;65;ccessibleلوکیشن ہے اور مردان روڈ اور جہانگیرہ روڈ پر ضلع کے جتنے بھی گاءوں اور مضافات ہیں وونوں اطراف سے اس یونیور سٹی تک آسانی تک پہنچا جا سکتا ہے ۔ مگر یہاں پر قومی مفادات کا نہیں بلکہ ذاتی مفادات کا سوچا جاتا ہے ۔ سپیکر صاحب کے بارے لوگوں کی یہ بھی رائے ہے کہ اسد قیصر نے جتنے بھی سولر لاءٹس اور ٹیوب ویلز لگائے ہیں وہ زیادہ تر انکے حلقہ انتخاب میں لگے ہیں ۔ اگر ہم غور کرلیں تو ۷۴۹۱ سے لیکر اب تک خیبر پختونخوا کے 21 وزرائے اعلیٰ اور 30 گورنر رہ چکے ہیں ۔ اگر ہم خیبر ختونخوا کے ماضی قریب اور بعید کے وزیر اور وزرائے اعلیٰ کی کا ر کر دگی کا جائزہ لیں تو اُن میں خیبر پختونخوا کے امیر حیدر خان، ریٹائرڈ لیفٹیننٹ فضل حق ،سردار حسین بابک، فضل علی حقانی اور موجو دہ وقت میں صوبائی وزیر بلدیات عنایت اللہ خان ایسے وزرائے اعلیٰ اور صوبائی وزیر ہیں جنہوں نے و ریر خیبر پختونخوا میں تعمیراتی کام کئے ہیں ۔ فضل حق اورا میر حیدر خان ہوتی نے خیبر پختونخوا میں جتنے ترقیاتی کام کئے اُنکی نظیر نہیں ملتی ۔ امیر حیدر خان ہوتی نے خیبر پختونخوا کے ہر حصے میں کالج یونیورسٹی اور سکول بنائے ۔ اس طر ح مرحوم فضل حق نے اپنے دور اقتدار میں صوبے ہر علاقے میں ترقی یافتہ کام کرائے تھے، موجودہ دور میں وزیر بلدیات نے صوبے کے مختلف علاقوں میں بے تحاشہ ترقی یافتہ کام کرائے ہیں ۔ ان سب کو انکی اچھی اور شاندار کار کر دگی پریاد رکھا جائے گا ۔

جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل عمران خان کا کامیاب دورہ سعودی عرب

جنرل اسمبلی میں خطاب سے قبل وزیراعظم عمران خان کا دورہ سعودی عرب انتہائی اہمیت کا حامل رہا ۔ کیونکہ عمران خان نے کہاکہ وہ سعودی عرب کو مقبوضہ کشمیر کی صورتحال سے آگاہ کرنا چاہتے تھے ۔ سو اسی وجہ سے انہوں نے دورہ کیا ۔ سعودی عرب کے فرمانروا نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا ہے ۔ ولی عہد محمد بن سلمان سے بھی ملاقات ہوئی ۔ بھارت کو مقبوضہ کشمیر کے معاملے پر ہرجگہ شکست کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے ۔ لیکن اس کے باوجود وہ اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے لیکن وادی میں انڈیا کو کسی صورت فتح حاصل نہیں ہوسکتی ۔ وہ کشمیریوں کی تحریک آزادی کو سلب نہیں کرسکتا ۔ کشمیریوں نے ایک فیصلہ کرلیا ہے کہ انہوں نے بھارتی تسلط سے آزادی حاصل کرنی ہے چاہے اس کیلئے کتنی بھی بڑی قربانی کیوں نہ دینی پڑے ۔ آئے روز نہتے کشمیری شہید ہورہے ہیں ۔ پیلٹ گنوں سے نوجوانوں کو آنکھوں سے معذور کیا جارہا ہے ان تمام مظالم کے باوجود مقبوضہ کشمیر کا ہر نوجوان برہان وانی کی صورت اختیارکرچکا ہے ۔ نیز بین الاقوامی سطح پر بھی مسئلہ کشمیر کے حوالے سے پاکستان کو پذیرائی حاصل ہورہی ہے ۔ سعودی ولی عہد سے عمران خان کی ملاقات کے دوران وزیراعظم نے سعودی تیل تنصیبات پر حملوں کی مذمت کی ۔ ملاقات کے دوران علاقائی سلامتی بھی زیر بحث آئی ۔ وزیراعظم نے بھی اس عزم کا اعادہ کیا کہ حرمین شریفین کے تقدس کے حوالے سے پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہے ۔ نیز دونوں ممالک کے مابین دوطرفہ تعلقات بڑھانے، باہمی دلچسپی کے امور، تجارت سرمایہ کاری اور اقتصادی تعلقات پر بھی سیرحاصل بات چیت کی گئی ۔ دوسری جانب امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بھی سعودی ولی عہد سے ملاقات میں تیل تنصیبات پرحملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے ان حملوں کا الزام ایران پر عائد کردیا ا س پر ایران نے سخت ردعمل دکھاتے ہوئے کہاکہ سعودی عرب یا امریکہ کی جانب سے ایران کیخلاف کسی بھی قسم کی کارروائی کا مطلب کھلی جنگ ہوگی ۔ اقوام متحدہ نے تصدیق کی کہ آئل تنصیبات پر حملے کے حوالے سے تحقیقات کرنے کے لئے ماہرین کا پینل سعودی عرب پہنچ گیا ہے ۔ نیز امریکہ نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ حملے کا حکم خامنہ ای نے دیا تھا چونکہ خطے کے حالات پہلے ہی اتنے خراب ہیں کہ کوئی بھی ذرا سی غلطی اس خطے میں جنگ کی چنگاری بھڑکا سکتی ہے ۔ لہذا تمام ممالک کو انتہائی سمجھداری سے اقدام کرنے ہوں گے ۔ کسی بھی مسئلہ کا حل جنگ نہیں ہوتی ۔ اگرایران اور سعودی عرب کے مابین کوئی بھی جنگی صورتحال پیدا ہوئی تو یہ کسی بہت بڑے نقصان کا باعث بنے گی ۔ مائیک پومپیو نے سعودی ولی عہد سے ملاقات کے دوران کہاکہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کا حق حاصل ہے اور اس سلسلے میں امریکہ سعودیہ کی حمایت کرے گا ۔ سعودی عرب کو دیکھ لینا چاہیے کہ پہلے گلف وار میں امریکہ کے ہاتھوں سخت نقصان اٹھا چکا ہے اتنا مالی نقصان پہنچا تھا کہ آج تک سعودی عرب اس کو بھگت رہا ہے چونکہ کفارکی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ مسلمان آپس میں لڑتے مرتے رہیں ، امت مسلمہ میں اتحاد وقت کا تقاضا ہے اگر تفرقہ بازی جاری رہی تو اس کا براہ راست فائدہ کفار اور سلام دشمن عناصر کو ہوگا ۔ آج تک دنیا میں جتنی بھی جنگیں ہورہی ہیں وہ تمام کی تمام امریکی سرحدوں سے ہزاروں کوسوں میل دور ہیں ان کا ایک فوجی بھی مر جائے تو حتمی نتاءج کو پہنچنے والے مذاکرات محض ایک ٹویٹ کے ذریعے منسوخ کردئیے جاتے ہیں جبکہ مسلمانوں کو گاجر ، مولی کی طرح کاٹا جارہا ہے مقبوضہ کشمیر ہو ، مسئلہ فلسطین ہو، ایران ہو یا عراق ، بوسنیا ہو یا چیچنیا یا پھر افغانستان ہر جانب مسلمانوں کا لہو ہی ارزاں ہے اور مارنے والے یہ کفار ہی ہیں مسلمانوں کو یہ بات سمجھنا ہوگی کہ باقاعدہ سازش کے تحت مسلمانوں کو متحد نہیں ہونے دیا جارہا ہے ۔ ایک چھوٹے سے اسرائیل نے دنیا بھر کو عذاب کا شکارک یاہوا ہے لیکن دنیا بھر میں ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کی زندگی تنگ کردی گئی ہے ۔ آخر تمام دہشت گردی کے واقعات مسلم ممالک میں ہی کیوں ہوتے ہیں ، ان کے پیچھے بھی امریکہ، یورپ، اسرائیل اور بھارت ہی کارفرما ہے ،ان سب کا مقابلہ کرنے کیلئے مسلم اتحاد کی ضرورت ہے ۔

پارلیمنٹ کے تقدس کا احترام ملحوظ خاطر رکھا جائے

خورشید شاہ کی گرفتاری کے بعد قومی اسمبلی کے اندر اور باہر اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج اور واک آءوٹ کیا، حکومت کیخلاف نعرہ بازی کی گئی ہے ۔ اجلاس میں بازوءوں پر سیاہ پٹیاں باندھ کر اجلاس میں شرکت کی ۔ اپوزیشن نے وفاقی وزیر مواصلات مراد سعید کی جانب سے کشمیر سے متعلق اپوزیشن پر عائد کئے گئے الزام کا جواب نہ دینے پر سپیکر ڈائس کا گھیراءو کر لیا ۔ اس دوران ڈپٹی سپیکر اور احسن اقبال کے درمیان تلخ جملوں کا تبادلہ ہوا ۔ ارکان کو فلور نہ دینے پر اپوزیشن نے احتجاجا ایوان سے واک آءوٹ کر دیا ۔ اپوزیشن نے گرفتار کئے گئے رہنماءوں کے پروڈکشن ;200;رڈر جاری نہ کرنے کے خلاف پارلیمنٹ ہاءوس باہر احتجاج کیا اور احتجاجی کیمپ بھی لگایا گیا ہے،پیپلز پارٹی کے سید نوید قمر نے کہا کہ سپیکر کا کام ہے کہ تمام حقوق کا تحفظ کرے،اس ایوان میں کی گئی کوئی بھی بات کسی بھی عدالت میں چیلنج نہیں ہو سکتی،اپوزیشن کو بند کرنے سے حکومت اپنی نا اہلیاں نہیں چھپا سکتی، مسلم لیگ(ن)کے پارلیمانی لیڈر خواجہ آصف نے کہا کہ حکمران اشرافیہ میں سیاستدان واحد برادری ہیں جو ایک دوسرے کی دشمنی میں سبقت لینے کی کوشش کرتے ہیں ، باقی تمام طبقے اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے ایک ہوتے ہیں ،مگر سیاستدان اپنے بھائیوں کی دشمنی میں پیش پیش ہوتے ہیں ، خواجہ آصف نے کہا کہ بطور رکن میرا اور سپیکر کا فرض بنتا ہے کہ وہ اپنے ساتھیوں کے حقوق کا تحفظ کرے،ہ میں اپنی سیاسی برادری کے حقوق کا تحفظ کرنا چاہیے ۔ پاکستان مسلم لیگ (ن)کے پارلیمانی لیڈرخواجہ ;200;صف نے کہا کہ سپیکر قومی اسمبلی نے اسیر ارکان پارلیمنٹ کے پروڈکشن ;200;رڈر جاری نہ کرکے ان کو حق نمائندگی سے محروم کیا ہے ،سینیٹ میں اسیر ارکان کو لایا جارہا ہے وہ حق نمائندگی ادا کر رہے ہیں ، پارلیمنٹ مقتدر ادارہ ہے ، سپیکر کے رویئے سے پارلیمنٹ کی اتھارٹی کمپرو مائز ہو رہی ہے ، ان اقدامات سے سپیکر کا حلف مجروح ہو رہا ہے، خواجہ ;200;صف نے کہا کہ ارکان کا اپنے حلقوں کی نمائندگی کرنے کا استحقاق ہے، ان کا حق چھینا جارہا ہے،ایسے ا قدامات 72 سال میں بہت سے لوگوں نے کئے وہ ;200;ج نہیں رہے،ملک میں جمہوریت پر حملے ہو رہے ہیں ، اگر پروڈکشن ;200;رڈر جاری نہیں کئے جاتے تو ہم عدالتوں سے رجوع کریں گے دو تین دنوں میں یہ سلسلہ شروع ہو جائے گا ۔ ایوان میں احتجاج اچھی بات ہے لیکن اس کی بھی حدودو قیود ہوتی ہیں یہ پارلیمان قانون سازی کیلئے ہے لیکن ابھی تک یہاں ذاتی اور سیاسی مقاصد کے تحت ہی بحث ہورہی ہے، عوامی مسائل پر کوئی بات نہیں کی جاتی اگر کسی نے کرپشن کی ہے تو اسے قرارواقعی سزا ملنا انتہائی ضروری ہے اس کیلئے کسی بھی قسم کا شوروغوغا ،احتجاج ، واک آءوٹ بے معنی ہے ۔

افغانستان کے مسئلے پر امریکہ کا ایک اور یوٹرن

افغانستان کے حوالے سے امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کامیابی سے ہمکنار ہوتے نظر نہیں آرہے مصداق اس کے کہ ہنوز دلی دوراست ۔ طالبان سے مذاکرات ختم ہونے کے بعد امریکہ نے یوٹرن لیتے ہوئے افغان حکومت کی امداد روک لی،امریکی وزیر خارجہ نے کہا کہ افغان حکومت کرپشن کیخلاف جنگ میں ناکام ہوگئی ہے ۔ ادھر ننگر ہار میں امریکی ڈرون حملے میں 30 مزدور اور کسان ہلاک ہوگئے جبکہ افغان صوبے زابل میں طالبان کے ایک حملے میں 20 افراد ہلاک ہوگئے ۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے کہا کہ ہم ان کیخلاف ہیں جو اپنے اختیارات کا غلط استعمال کرتے ہیں اور لوگوں کو ان کے حق سے محروم کرتے ہیں ۔ امریکا کرپشن الزامات کی روشنی میں افغان حکومت کے ساتھ کام نہیں کرے گا کیونکہ وہ شراکت داری کے قابل نہیں ہے، ہم امید کرتے ہیں کہ افغان حکومت کرپشن کیخلاف جنگ کا مظاہرہ کرے اور افغان عوام کی خدمت کا اپنا عزم ظاہر کرے، افغان رہنما جو کام کرنے میں ناکام رہے ہیں ان کا احتساب ہونا چاہیے ۔ امریکا بڑے توانائی منصوبے کے 100 ملین ڈالرز واپس لے رہا ہے ،انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکا اسے افغان حکام کے ذریعے دینے کی بجائے براہ راست دےگا ۔ امریکا افغانستان کے پروکیورمنٹ حکام کی مدد کیلئے 60 ملین ڈالرز امداد کے منصوبے کو بھی روک رہا ہے ۔ افغانستان کی وزارتِ دفاع اور افغانستان میں تعینات امریکی فوج کے ایک ترجمان نے علاقے میں ڈرون حملے کی تصدیق کی ہے لیکن اس میں شہریوں کی ہلاکتوں کی تعداد نہیں بتائی ہے ۔

آزاد کشمیر پر حملے کی بھارتی دھمکی

بھارتی فوج کے سربراہ جنرل بپن راوت آزاد کشمیر پر قبضے کا خواب دیکھنے لگے ۔ انہوں نے دھمکی دی ہے کہ بھارتی فوج پاکستان کے آزاد کشمیر پر قبضہ کرنے کے لیے پوری طرح تیار ہے ۔ تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ حکومت کو کرنا ہے ۔ اگر حکومت ہ میں حکم دے تو ہماری تمام پیشہ ورانہ تیاری مکمل ہے ۔

موجودہ صورتحال میں جب ہر محاذ پر بھارت کو شکست ہو رہی ہے ۔ مسئلہ کشمیر کھل کر دنیا کے سامنے آگیا ہے اور پوری دنیا میں کشمیریوں پر بھارتی ظلم وستم کا پول کھل گیا ہے لیکن بھارت کےلئے اب بھی کھلی آنکھوں سے خواب دیکھنا بھارت کی عادت بن گئی ہے ۔ صرف بھارتی آرمی چیف ہی نہیں بلکہ بی جے پی کے یونین وزیر جتندا نے بھی ہرزہ سرائی کی کہ بھارت کا اگلا ایجنڈا آزاد کشمیر پر قبضہ ہونا چاہئے ۔ جنگی جنون میں اندھا بھارت، لگتا ہے بالا کوٹ کی مار بھول گیا جب پاک فضائیہ کے شاہینوں نے نہ صرف دراندازی کرنے والے بھارتی طیارے کو مار گرایا تھا بلکہ پائلٹ بھی گرفتار کیا ۔ نہ بھولنےوالی درگت کے بعد ابھی نندن ایسا ڈرا کہ بزدل آٹھ ماہ بعد دوبارہ جنگی جہاز میں بیٹھا ۔ آزاد کشمیر پر حملے کےلئے بھارت کا کہنا ہے کہ اس کی تیاریاں مکمل ہیں ۔ جنگی ٹینک، ہیلی کاپٹر، بھاری ہتھیار اور خصوصی فوجی دستہ ماونٹین اسٹراءک کارپس لائن آف کنٹرول پر بھیجے جا رہے ہیں ۔ اس دستے میں 15 ہزار فوجی اہلکار شامل ہوں گے ۔ بھارتی فوج نے دھمکی دی ہے کہ خصوصی فوجی دستہ ماونٹین اسٹراءک کارپس کے اہلکار سرحد پار کر کے مخصوص علاقے کو اپنے قبضے میں لینے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ۔

صدر آزاد کشمیر مسعود خان کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے جنگ کا خطرہ تو موجود ہے ۔ آزاد کشمیر پر حملے کی بھارتی دھمکی کا جواب یہ ہے کہ افواج پاکستان جنگ کے لیے تیار ہیں ۔ پاکستان کشمیر کے لیے ہر حد اور ہر سطح تک جائے گا ۔ پاکستان اور بھارت کے مسائل مشترکہ ہیں ۔ ہماری کوشش تھی سب کے ساتھ اچھے اور دوستانہ تعلقات ہوں ۔

وزیراعظم عمران خان نے بھارتی وزیراعظم کو واضح پیغام دیا ہے کہ ہم مودی کی اینٹ کا جواب پتھر سے دیں گے اور وقت آگیا ہے کہ انہیں ایک سبق سکھائیں ۔ ہمارے سامنے ایک خوفناک نظریہ کھڑا ہے، جو آر ایس ایس کا نظریہ ہے جس کا مودی بچپن سے ممبر ہے ۔ آر ایس ایس نے اپنا نظریہ ہٹلر کی نازی پارٹی سے لیا ۔ اس نظریے کے پیچھے مسلمانوں کے خلاف نفرت ہے ۔ یہ لوگ عیسائیوں سے بھی نفرت کرتے ہیں کہ انہوں نے بھی ان پر حکومت کی ۔ آر ایس ایس نے ماضی میں اپنے لوگوں کے ذہنوں میں ڈالا ہے کہ مسلمان حکومت نہ کرتے تو ہم ایک عظیم قوم بننے جارہے تھے ۔

مودی نے کشمیر پر جو قدم اٹھایا ہ میں خوف ہے کہ کرفیو اٹھے گا تو کیا کیا پتا چلے گا ۔ وہاں اتنی فوج بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ۔ کشمیرسے سیاحوں اور زائرین کو نکال لیا گیا ۔ مودی نے اپنا آخری کارڈ کھیل دیا ہے ۔ یہ مودی اور بی جے پی کو بہت بھاری پڑے گا ۔

مقبوضہ کشمیر کا ظلم و جبر کے ماحول کے ساتھ ساتھ بھارت کی جنونی مودی سرکار نے کنٹرول لائن پر پاکستان کے ساتھ بھی مسلسل کشیدگی برقرار رکھی ہوئی ہے جہاں جنگ بندی کی آئے روز کی خلاف ورزیوں اور بھارتی فوج کی اشتعال انگیزیوں کے باعث پاکستان سکیورٹی فورسز کے اہلکار ہی نہیں ‘ سول باشندے بھی شہید ہو رہے ہیں ۔ کنٹرول لائن پر اور مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجوں کے یہ ننگ انسانیت مظالم عالمی دباءو کے باوجود جاری ہیں اور مودی سرکار کسی بھی عالمی لیڈر اور کسی بھی عالمی اور علاقائی نمائندہ فورم کو خاطر میں نہیں لارہی ۔ سلامتی کونسل نے پاکستان کی درخواست اور چین کے دباءو پر گزشتہ ماہ اپنے خصوصی ہنگامی اجلاس میں پچاس سال بعد مسئلہ کشمیر کو اپنے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل کیا اور اسکے تمام مستقل اور غیرمستقل ارکان نے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم‘ لاک ڈاءون اور کرفیو کی پابندیوں پر بیک زبان تشویش کا اظہار کیا‘ بھارت پر مقبوضہ وادی میں حالات معمول پر لانے پر زور دیا اور مسئلہ کشمیر یواین قراردادوں اور چارٹر کے مطابق حل کرنے کا تقاضا کیا ۔ اسی طرح یورپی یونین‘ برطانوی پارلیمنٹ‘ او آئی سی اور شنگھائی کانفرنس سمیت دنیا کے متعدد نمائندہ فورمز کی جانب سے مقبوضہ کشمیر میں جاری بھارتی مظالم پر تشویش کا اظہار اور اسے علاقائی اور عالمی امن و سلامتی کیلئے سنگین خطرے کا باعث قرار دیا گیا ہے اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی روشنی میں مسئلہ کشمیر کے حل پر زور دیا جارہا ہے مگر مودی سرکار کشمیر کو ہڑپ کرنے اور پاکستان کی سلامتی کو نقصان پہنچانے کے ایجنڈے پر ہی عمل پیرا ہے جس نے مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے امریکی صدر ٹرمپ کی ثالثی کی باربار کی پیشکش پر بھی اپنے مظالم کا سلسلہ ترک نہیں کیا ۔

بھارت جان لے کہ پاک سرزمین کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو ہر بار جذبہ خیر سگالی نہیں دکھائی جائے گی ۔ اس مرتبہ کسی’’ ابھی نندن’’ نے مہم جوئی کی کوشش کی تو نہ صرف ماتا پتا یاد کرتے رہیں گے بلکہ بھارت سرکار بھی طویل عرصے تک بھلا نہ پائے گی کہ کیا کر بیٹھے ۔

بھارتی میڈےا کی چمچہ گےری ۔ ۔ ۔ !

رواں سال بہترےن صحافت پر بےن الاقوامی;34; میگ سےسے;34; اےوارڈ وصول کرنے والے صحافی وبھارتی ٹی وی چےنل اےن ڈی ٹی وی کے منےجنگ اےڈےٹر روےش کمار نے بھارتی میڈےا کو ;34;گودی مےڈےا;34; اور نرےندر مودی کی چمچہ گےری کرنے والے قرار دےا ۔ انھوں نے کہا کہ ;34;بھارتی میڈےا ہر روز بھارتی جمہورےت کا قتل کرتا ہے، جس میں میڈےا کی چونی خرچ نہیں ہوتی،دےکھنے والے اس چمچہ گےری کو سمجھ نہیں پارہے ۔ ;34;بھارتی میڈےا کی چمچہ گےری سمجھنے کےلئے ہ میں اس کے پس منظر پر طائرانہ نظر دوڑانا پڑے گی ۔ آج سے تقرےباً 574سال قبل ےہودیوں کی تھینک ٹےنک نے منصوبہ بناےا جیسے حرف عام میں عظےم سازشی منصوبہ کہتے ہیں ۔ ےہ دراصل اقوام عالم کو اپنے کنٹرول میں کرنے کا اےک منصوبہ تھا ۔ اس منصوبے میں اقوام متحدہ، ورلڈ بینک اور آئی اےم اےف نما جےسے اداروں کا بھی ذکر تھا ۔ ان اداروں کو بنانے کےلئے مخصوص ماحول پیدا کرنا بھی اس منصوبے میں شامل تھا ۔ ماحول کو تخلیق کرنے کےلئے مےڈےا کا رول مخفی نہیں ہے ۔ ےہودی تھےنک ٹےنک نے ےہ فےصلہ بھی کیا تھاکہ دنےا کی معےشت کو اپنے کنٹرول میں کرنے کےلئے صحافت کا بھی استعمال کرنا ہوگا ۔ مےڈےا کے سرکش گھوڑے پر سوار ہوکر اس کی باگ دوڑ اپنے قبضے میں رکھےں گے ۔ ےہودےوں نے اپنے منصوبے کی تکمیل کےلئے مےڈےا پر فوکس کیا ۔ دنےا کی زےادہ تر مےڈےا کمپنیوں کے مالک ےہودی ہیں ۔ میڈےا سے مراد صرف ٹی وی ےا اخبارات نہیں بلکہ سوشل مےڈےا بھی اس میں شامل ہے ۔ مےڈےا کا حملہ اےسا کارآمد ہوتا ہے کہ وہ اےک مخصوص رخ دےنے میں سرعت سے کامےابی حاصل کرلےتا ہے ۔ مےڈےا کے ذرےعے قوموں اور خصوصاً نئی نسل کے دماغ کو دھو ےاجاتاہے ےعنی برےن واش کیا جاتا ہے ۔ ان کے خیالات و افکار ، حرکات و سکنات کو تبدیل کیا جاتا ہے ۔ نئی نسل کی عقل کو مفلوج اور کردار کو مسخ کیا جاتا ہے ۔ نئی نسل کا مزاج اور اخلاق بگڑانے میں روشن خیال مےڈےا کا اہم کردارہے ۔ اگر مےری بات پر ےقےن نہ آئے تو خود مشاہدہ کرےں ۔ دن جاگنے اور کام کےلئے ہے جبکہ رات سونے اور آرام کےلئے ہے لیکن اب لوگ رات کو جاگتے اور دن کو سوتے ہیں ۔ اولاد اپنے والدےن کی عزت کرتے تھے جبکہ اب بے عزتی کرتے ہیں ۔ روشن خیالی کے نام سے پرانی رواےت کو دقےانوسےت کے بھےنٹ چڑھاتے ہیں ۔ سےکولر ذہنیت کے فروغ کے نام پر لادےنت کا رواج عام کررہے ہیں ۔ اس کے برعکس ہم خواب غفلت میں ہیں ۔ اپنی نئی نسل کی تربےت روح کا اہتمام نہیں کرتے ۔ اسلامی ممالک مےڈےا پر توجہ نہیں دے رہے ہیں ۔ ہم خاموش تماشائی کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ مذہبی طبقہ مےڈےا کی جانب آنے سے کتراتا ہے ۔ علماء کرام اور دانش ورمےڈےا کی طرف آنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔ جب علماء کرام اور دانش ور مےڈےا میں نہیں آئےں گے توےہ مےدان سےکولر لوگوں کےلئے خالی ہوجاتاہے ۔ اس لئے سیکولر لوگ صحافت کے مےدان میں زےادہ آرہے ہیں اور ان کے گمراہ کن خیالات اور رہنمائی کے باعث لوگ اسلامی شعار سے دور ہوتے جارہے ہیں ۔ اسلامی ممالک کے ساتھ ساتھ دےگر ممالک میں بھی صحافت میں انسان دوست خیالات کے مالک لوگ کم آرہے ہیں ۔ ظاہر ہے کہ اگر اچھے خیالات کے مالک لوگ صحافت میں نہیں آئےں گے تواےسے لوگ مےدان صحافت میں آئےں گے جو نرےندر مودی جےسے لوگوں کی چمچہ گےری کرےں گے ۔ نرےندر مودی ;34;گجرات کے قصاب;34; کے نام سے معروف ہے ۔ اس کی وجہ ےہی ہے کہ انھوں نے بھارت میں مختلف اوقات اور مواقع پر مسلمانوں اور دےگر اقلیتوں کا قتل عام کیا ۔ نرےندر مودی کا سب سے اہم کارنامہ ےہی ہے کہ وہ بے گناہ مسلمانوں کا قاتل ہے ۔ بھارتی مےڈےا کے پیچھے بھی ےہودی سرماےہ اور افکار ہیں ۔ بھارتی مےڈےا اپنے عوام کی سدھ بدھ کیوں نہیں لیتی;238; بھارتی مےڈےا بھارت کے لوگوں کے مسائل کو اجاگر نہیں کرتی لیکن نرےندرمودی کی چمچہ گےری کرتی ہے ۔ بھارت کی اکثرےت آبادی خطہ غربت سے تلے زےست بسر کرنے پرمجبور ہے ۔ عام لوگوں کے پاس بنےادی سہولےات کا فقدان ہے جبکہ بھارتی حکمران زےادہ تر پیسہ اسلحہ خرےدنے پر خرچ کررہے ہیں ۔ کوئی پڑوسی ملک بھارت کو تنگ نہیں کررہا ہے لیکن بھارت کی شر انگےزےوں سے پڑوسی ممالک محفوظ نہیں ہےں ۔ بھارت کشمےر، جونا گڑھ اور حےدر آباد دکن وغےرہ پر قابض ہے ۔ بھارتی پنجاب میں سکھوں کا قتل عام اور ان پرستم کسی سے پوشےدہ نہیں ۔ بے گناہ اور معصوم سکھوں کا خون بہاےا گےا ۔ ان کے مسلسل ظلم کی وجہ سے سکھ برادری خالصتان کےلئے جدوجہد کر رہے ہیں ۔ سکھوں کی محنت راءگاں نہیں جائے گی ۔ وہ دن بعےدنہیں ،جب سکھوں کو آزادی نصےب ہوگی ۔ نرےندر مودی نے لاکھوں کشمےرےوں کو اپنے گھروں میں مقےد کیا ہے ۔ بھارتی افواج کشمےر میں ظلم وستم کررہی ہے ۔ کشمےرےوں کو قتل کررہے ہیں ،ان کے جانوروں کو مار رہے ہیں اور ان کے پھل دار درختوں کو کاٹ رہے ہیں لیکن اس بارے میں بھارتی مےڈےا کو سانپ سونگھ گےا ،اس لئے چپ سادھ لی ہے ۔ بھارتی مےڈےا کاکام صرف نرےندر مودی کی چمچہ گےری ہے بس ۔

Google Analytics Alternative