کالم

مہاتیرمحمدکی پاکستان آمد۔۔۔دونوں ممالک کے مابین مختلف معاہدوں پردستخط

adaria

یوم پاکستان کی تقریب کے مہمان خصوصی کے طورپرملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیرمحمد تشریف لے کرآئے ،وہ تین روزہ دورے پر پاکستان آئے ہیں اس دوران پاکستان اورملائیشیا کے درمیان بہت سارے معاہدوں پردستخط بھی ہوئے اور دوست ملک نے جے ایف 17تھنڈرمیں خصوصی طورپردلچسپی کااظہارکیا۔ نیز ٹینک شکن میزائل خریدنے میں بھی دلچسپی ظاہر کی۔سرمایہ کاری کے حوالے سے ملائیشیاپاکستان پہلاکارپلانٹ بھی لگائے گا اس موقع پردونوں ممالک کے ہم منصب سربراہان نے مشترکہ پریس کانفرنس بھی جس میں اس بات کااظہارکیاگیاکہ اسلاموفوبیا کوجان بوجھ کرپھیلایاگیا اس کامقابلہ محبت سے کرناہوگا۔ پاکستان نے ملائیشیا کے ساتھ پاکستان میں کار پلانٹ لگانے سمیت 5بڑے منصوبوں کی مفاہمتی یاد داشتوں پر دستخط کئے ہیں۔ ملائیشیا نے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں اور ٹینک شکن میزائلوں کی خریداری میں بھی دلچسپی ظاہر کی ۔ وزیراعظم عمران خان اور ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کی مشترکہ پریس کانفرنس کے بعد دونوں ممالک کے درمیان وفود کی سطح پر مذاکرات ہوئے۔ ملائیشیا پاکستان سے حلال گوشت اور چاول خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔ دونوں ممالک کے مابین بینکوں کی شاخیں کھولنے پر بھی اتفاق ہوا فریقین نے مختلف شعبوں میں لاکھوں ملین ڈالرز کے کاروبار اور سرمایہ کاری پر اتفاق کیا۔ وزیراعظم عمران خان نے ملائیشیا کے وزیراعظم کو بھارت کے ساتھ حالیہ کشیدگی اور پاکستان کی خطے میں امن و استحکام کی خواہش کے بارے میں بھی بتایا۔اس موقع پر ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہا کہ انتہا پسندی کے خاتمہ کیلئے کوششیں کرنا ہوں گی، ہم غریب نہیں ہوتے کرپشن ہمیں غریب کر دیتی ہے، پاکستان کرپشن روکنے کیلئے ملائیشیا کے تجربات سے استفادہ کر سکتا ہے، دونوں وزرا اعظم کے درمیان تنہائی میں ملاقات ہوئی اور وفود کے سطح پر مذاکرات ہوئے۔ اس سے قبل مہاتیر محمد جب پی ایم ہاؤس پہنچے تو ان کا استقبال وزیر اعظم عمران خان نے کیا، معزز مہمان کو مسلح افواج کے دستے نے گارڈ آف آنر پیش کیا، دوطرفہ مذاکرات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان مختلف شعبوں میں تعاون کے پانچ سمجھوتوں پر دستخط کئے گئے۔ ملائیشیا کے وزیر اعظم مہاتیر محمد نے کہاکہ میں پاکستان اور ملائیشیا کی طویل دوستی میں نئے دور آنے پر بہت خوش ہوں، یوم پاکستان کی تقریب میں شرکت کرنا باعث اعزاز ہے جبکہ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ اسلامو فوبیا کے نتیجے میں مسلمانوں کی جدوجہد کو نقصان پہنچایا گیا اور کرائسٹ چرچ کا واقعہ بھی اسلامو فوبیا کا نتیجہ ہے۔ملائیشیا مسلم دنیا کیلئے ماڈل کے طور پر ابھرا اور اس نے مسلم دنیا کے معاملات کو حل کرنے کیلئے کردار ادا کیا۔ دہشت گردی نے اسلامی ممالک کو بہت متاثر کیا جبکہ دنیا بھر میں جان بوجھ کر اسلامو فوبیا کی ترغیب دی گئی۔ ملک کیلئے امن و استحکام ضروری ہے، ورنہ کوئی سرمایہ کاری نہیں کرے گا، ہمارے سب سے اچھے تعلقات ہیں سوائے اسرائیل کے۔ اسرائیل سے ہم نے کسی بھی قسم کا کوئی بھی تعلق نہیں رکھا۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے پاکستان اور ملائیشیا کے درمیان سرمایہ کاری بڑھانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں امن و استحکام کے بغیر کوئی بھی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ ملائیشین وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے وزرا پھولوں کے سوا کوئی تحفہ قبول نہیں کرتے۔ ملائیشیا میں 500 ڈالر سے زیادہ تحفہ کرپشن کے زمرے میں آتا ہے۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد نے وزیراعظم پاکستان کو ملائیشین کارکی چابی پیش کی اور تقریب میں پاکستان میں کار پلانٹ لگانے کا اعلان بھی کیا۔ ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد کو ایوان صدر میں تقریب کے دوران نشان پاکستان ایوارڈ سے نوازا گیا۔

او آئی سی نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے اقدامات کو سراہا

نیوزی لینڈ کے سانحہ کرائسٹ چرچ میں پچاس مسلمانوں کی شہادت کے بعدوہاں کی وزیراعظم نے انتہائی اہم اقدامات اٹھائے جس میں خطرناک اسلحہ پرپابندی، مسلمانوں کے ساتھ اظہاریکجہتی ، نیوزی لینڈ کی پارلیمنٹ کاآغازتلاوت کلام پاک سے ہونا اور پھر خصوصی طورپرنیوزی لینڈ کی فضا اللہ اکبر سے گونج اٹھی جبکہ مسجد النور کے سامنے نمازِ جمعہ کے اجتماع میں وزیراعظم جیسنڈا آرڈرن کے علاوہ ہزاروں غیر مسلم افراد نے بھی شرکت کی،خطبے میں امام کا کہناتھاکہ ہم دل شکستہ ضرورلیکن حوصلے نہیں ٹوٹے، ہم سب متحد ہیں، نماز جمع سے قبل وزیر اعظم نے تقریر کا آغاز آنحضرت ﷺ کے ذکرسے کیا ، مسلمانوں کے ساتھ ساتھ غیر مسلم خواتین بھی حجاب میں نظر آئیں جبکہ مسلمانوں سے اظہار یکجہتی میں پورے ملک میں 2منٹ کی خاموشی بھی کی گئی ۔ اذان سے قبل جیسنڈا آرڈرن نے مسلمانوں کے نام ایک مختصر خطاب کیا ۔ انہوں نے مسلمانوں سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ نیوزی لینڈ آپ کے ساتھ سوگوار ہے، ہم ایک ہی ہیں۔اسلامو فوبیا ایک قاتل حقیقت ہے جس کا درد مسلمان کئی برسوں سے محسوس کررہے ہیں۔ نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے یہ انتہائی احسن اورقابل تقلیداقدام ہیں دیگرممالک کو بھی ان پرعمل کرنے کی ضرورت ہے۔دوسری جانب اوآئی سی کے چھ نکاتی اعلامیے میں پاکستان کے چارنکات بھی شامل ہیں ،او آئی سی نے کہاکہ اسلا مو فوبیاپھیلانے والوں کو دہشت گرد قراردیاجائے ، سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ کی طرف سے نفرت اورجرم پرمبنی تقریر روکنے کیلئے نظام وضع کرنے کی حمایت کی جائے۔بھارت جو نام نہاد جمہوریت کادعویدار ہے اسے بھی ہدف تنقیدبنایاگیا نیز پاکستان کی جانب سے پیش کردہ چارنکات کو بے حد پذیرائی ملی۔او آئی سی نے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم کے اقدامات کو سراہاہے۔
یوم پاکستان کے موقع پرمودی کی ٹوئیٹ کامثبت جواب
23مارچ کے موقع پر بھارتی وزیراعظم نریندرمودی نے یوم پاکستان پروزیراعظم عمران خان کے نام نیک خوہشات کا پیغام بھیجا ہے ،اپنے ٹویٹ میں وزیر اعظم مودی کا پیغام شیئر کیا جس میں بھارتی وزیر اعظم نے پاکستان کے عوام کو یوم پاکستان کی مبارک باد دی اور نیک تمناؤں کا اظہاکیا۔دریں اثنا وزیر اعظم عمران خان نے اپنے جوبی ٹویٹ میں کہا ہے کہ وہ وزیر اعظم مودی کی طرف سے پاکستانی عوام کے نام پیغام کا خیر مقدم کرتے ہیں ،جیساکہ ہم پوم پاکستان منا رہے ہیں ،میںیقین رکھتا ہوں کہ وقت آگیا ہے کہ مسئلہ کشمیر جو مرکزی تنازعہ ہے سمیت تمام ایشوز کو حل کیلئے بھارت کے ساتھ جامع بات چیت شروع کی جائے۔وزیراعظم پاکستان نے ہمیشہ کی طرح فوری طورپر بھارت کو مثبت انداز میں جواب دیا۔اب مودی کوچاہیے کہ وہ اپنی ٹوئیٹ پرقائم رہتے ہوئے امن کی جانب مزیدآگے بڑھے۔
کراچی میں ٹارگٹ کلنگ،مولاناتقی عثمانی بال بال بچ گئے
شہرقائدایک مرتبہ پھردہشت گردی اورٹارگٹ کلنگ کے نرغے میں آگیاہے ۔گزشتہ روزکراچی کے علاقے گلشن اقبال میں ممتاز عالم دین مولانا تقی عثمانی اور مولانا عامر شہاب کی گاڑیوں پر فائرنگ کے نتیجے میں 2 محافظ جاں بحق ہوگئے ہیں۔ نیپا پل کے قریب موٹر سائیکل پر سوار نامعلوم ملزمان نے دارالعلوم کورنگی کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ دارالعلوم کورنگی کے مولانا شہاب زخمی ہوگئے جبکہ مولاناتقی عثمانی کواللہ تعالیٰ نے بال بال بچالیا۔وزیراعظم عمران خان نے مفتی محمد تقی عثمانی پر حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ۔

منحرف بلوچوں کو بدامنی کیلئے استعمال کیا جا رہا ہے

اس حقیقت سے انکار نہیں کہ بھارت صوبے میں علیحدگی پسند تحریک کی فنڈنگ کرتا ہے۔ گوادر پورٹ کی نہ صرف سیاسی، بلکہ جغرافیائی سطح پر بھی بڑی اہمیت ہے اور اس کو استعمال کے قابل بنانے سے دیگر علاقائی بندرگاہوں کیلئے مدد گاہ ثابت ہو گا۔ سی پیک اور گوادر بندرگاہ کے قابل عمل ہونے کے بعد کچھ دیگر پڑوسی ممالک پاکستان کو غیر مستحکم کرنے اور صوبہ میں بدامنی پھیلانے کیلئے بھارت کی مدد کرسکتے ہیں۔ کیونکہ گوادر پورٹ کی تعمیر سے چین، وسطی ایشیائی ممالک، افغانستان اور پاکستان کے درمیان تجارت کی ایک راہ ہموار ہوگی جس سے ملک کی معاشی صورتحال میں بھی بہتری آئے گی جو بھارت کو منظور نہیں۔ گوادر پورٹ سے ملکی معیشت مستحکم ہونے کے ساتھ ساتھ صوبے میں نوجوانوں کو روز گار کے مواقع میسر آئیں گے۔ بھارت افغانستان میں پناہ گزین براہمداخ بگٹی کے علاوہ دیگر بلوچوں کو بلوچستان میں بدامنی کیلئے استعمال کر رہا ہے۔ بھارت بلوچستان کے علیحدگی پسندبھارتی سرمائے سے یورپی ممالک برطانیہ، کینیڈا، دبئی، اومان کے ہوٹلوں میں رہائش پذیر ہیں۔ را کے زیر سرپرستی بلوچ علیحدگی پسندوں کو تخریبی کارروائیوں کیلئے افغانستان میں قائم مختلف تعلیمی اداروں میں ورغلا کرعظیم تر بلوچستان کے بارے میں گمراہ کن تھیوریاں بتائی جا رہی ہیں جس میں انہیں پاک فوج اور آئی ایس آئی سے متنفر کرنے کیلئے خصوصی سیمینار کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ بلوچستان میں لا پتہ افراد کو ڈھونڈنے کیلئے حال ہی میں اقوام متحدہ کے مشن کی آمد ، امریکہ کی آزاد بلوچستان تحریک اور منحرف بلوچ رہنماؤں کی بھارت نواز زبانیں اس بات کا ثبوت ہیں کہ بلوچستان کی پاکستان سے علیحدگی کی تیاریاں زوروں پر ہیں۔ بالکل ایسے ہی جیسے 1998 میں انڈونیشیا کے ستائیسویں صوبے مشرقی تیمور کی ملک سے علیحدگی اور اسے ڈیموکریٹک ری پبلک آف تیمور کے نام سے نیا ملک بنانے میں اقوام متحدہ کابھیانک کردار۔ وہاں تو اقوام متحدہ نے یہ بہانہ بنایا تھا کہ مشرقی تیمور میں عیسائی آبادی زیادہ ہے اور ان کو اپنا علیحدہ وطن بنانا چاہیے۔ جس کے بعد آسٹریلیا نے مشرقی تیمور میں عیسائی آبادی میں نفرت کے الاؤ بھڑکائے۔فوج اور عوام کے درمیان تصادم کی راہ ہموار ہوئی تو اقوام متحدہ کے مختلف کمشن اور گروپ حرکت میں آگئے۔ نام نہاد جنگ کو جنگ آزادی کا نام دیا گیا اور یوں 20 مئی 2002 میں انڈونیشیا اپنے ایک صوبے سے محروم ہوگیا جیسے 1971 میں پاکستان ، مشرقی پاکستان سے محروم ہوگیا تھا۔ مگر سوال یہ ہے کہ بلوچستان میں رہنے والے تمام بلوچی مسلمان ہیں لہذا مذہبی منافرت کے طورپر تو علیحدگی کا تصور نہیں ۔ لسانی بنیادوں پر بھی علیحدگی پسندوں کی اتنی بڑی تعداد نہیں کہ ان کے کہنے پر بلوچستان کو علیحدہ کر دیا جائے۔ تو کیا لسانی ، گروہی اور قبائلی بنیاد پر اقوام متحدہ کے گروپ اور کمشن بلوچستان کو پاکستان سے علیحدہ کرنے کے درپے ہیں ۔ایک برطانوی ادارے کے سروے کے مطابق ۶۳ فیصدبلوچی عوام پاکستان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ یہ حقیقت ہے کہ بلوچستان میں کشیدگی کی وجہ بہت سارے عناصر اور ایسے قوتیں ہیں جو محب وطن نہیں۔ایف سی کی یونیفارم میں شر پسند عناصر نے بہت سی تخریب کارروائیوں میں حصہ لیا ،پنجابیوں کو ماراگیا ،بات نہ بنی تو پھر سندھیوں کو قتل کیا گیا پھر اس کے بعد فقیر ،مسافراور دیگر لوگوں کو نشانہ بنایا گیا۔ یہ کام بیرونی اشاروں پر چلتی ہوئی علیحدگی پسند تنظیموں کا ہے۔ لوگوں کے اغوا اور قتل میں بھی یہی تنظیمیں ملوث ہیں۔بھارت بلوچستان کے باغیوں کی نہ صرف پیٹ ٹھونک رہا ہے بلکہ انہیں مالی وسائل بھی مہیا کر رہا ہے۔ بھارتی سازشوں کا مرکز افغانستان کے صوبہ قندہار میں ہے اور اس کی بیشتر برانچیں اب افغانستان کے دوسرے صوبوں میں بھی میں کھل گئی ہیں۔ جہاں پاکستان سے اغوا کیے گئے بے روزگار پڑھے لکھے جوانوں کو معاشی ترغیبات سے اپنے ہی ملک کے خلاف بھڑکایا جاتا ہے۔ بلوچستان کے بے روزگار نوجوانوں کو دس دس ہزار روپے تنخوادہ دے کر ملک دشمن سرگرمیوں کے لئے استعمال کیا جارہا ہے۔بلوچستان میں بھارتی ایجنٹ سرگرم عمل ہیں۔ اب تو صوبے میں باقاعدہ دہشت گردی ہورہی ہے۔ میزائل حملے جاری ہیں اورلوگوں کو گوادر اور فوجی چھاؤنیوں کی تعمیر کے خلاف بھڑکادیا گیا ہے۔موجودہ صورتحال بھارتی سیاست کی چانکیائی ٹرکس کی منظر کشی کرتی ہے۔بھارت کی طرف سے بلوچستان میں کھلی مداخلت کے بھارت کے سازشی کھیل کا ہی کوئی حصہ ہے جسے بلوچستان کے عوام اور حکومت پاکستان مل کر ہی ناکام بنا سکتے ہیں۔ بلوچستان میں جاری شورش کو بھارت پہلے بھی ہوا دیتا رہا ہے بلکہ بھارتی خفیہ ایجنسی را کے سابق سربراہ ’بی رامن‘ نے تو بلوچستان میں حکومت پاکستان کے خلاف لڑنے والوں کی مدد کرنے کو بھارت کی تاریخی و اخلاقی ذمہ دار قرار دیتے ہوئے یہاں تک کہا کہ بلوچستان میں پاکستانی فورسز کی طرف سے جاری آپریشن کا سبب ہندوبلوچ بنے جنہیں پاکستانی حکومت صوبہ بلوچستان سے بے دخل کرنا چاہتی تھی اور اس مقصد کیلئے ان پر ہوائی حملے بھی کئے گئے جن کے سامنے بلوچ قوم پرست ڈھال بن گئے اور انہوں نے کمال ہوشیاری اور جرات سے پاکستانی فورسز کی توجہ ہندو بلوچوں سے ہٹانے کیلئے سوئی گیس کی تنصیبات اور بلوچستان کو دیگر صوبوں سے ملانے والی ریلوے لائن کو بارود سے اڑانا شروع کر دیا۔بھارتی انٹیلی جنس ادارے ’’را‘‘ کے اڈوں نے بلوچستان اور ہمارے قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد کو ہدف بنا رکھا ہے۔ بھارت کو افغانستان میں حامد کرزئی جیسے لوگ میسر آگئے ہیں جن کا اقتدار چاہے اپنے محل تک محدود ہو ، بات وہ یوں اچھل اچھل کر کریں گے جیسے آدھی دنیا پر حکومت کرتے ہوں۔ جب اس بات کی تصدیق ہو چکی ہے کہ بلوچستان میں حالات خراب کرنے میں را مصروف عمل ہے اور ہمارے ہی نوجوانوں کو ہمارے خلاف لڑایا جا رہا ہے تو ہمارے حکمرانوں نے ان کے خلاف اب تک کیا اقدام کئے۔ عالمی سطح پر بھارت سے احتجاج کیا نہ مقامی سطح پر علیحدگی پسند تنظیموں کے خلاف کارروائی کی۔ پھر بلوچستان میں امن و امان قائم کرنا حقیقت میں دیوانے کا خواب دیکھنے کے مترادف ہے۔

بھارت کا الیکشن کمیشن بھی انتہا پسند

پاکستان میں بھارتی سیکولر لابی کی زبانی دوسری تعریفی باتوں کے علاوہ یہ بھی سنتے آئے ہیں کی بھارتی الیکشن کمیشن با لکل آزاد اور سیکولر ہے۔ ظاہر ہے کہ بھارتی سیکولر آئین کے مطابق، بھارتی الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط میں بھی اس کے سیکو لر نظریہ کو سامنے رکھتے ہوئے سیاست میں مذہب کے استعمال نہ کرنے کے پر ضرور پابندہو گا۔کیا بھارتی سیکولر آئین کی موجودگی میں ، بھارتی دہشت گرد انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کا بنیادی رکن، گجرات کاقصائی ،مسلمانوں کا دشمن ، بھارت کا دہشت گرد انتہا پسند وزیر اعظم،نرنیدرا مودی کو بھارتی الیکشن کمیشن کے قواعد و ضوابط کی کھلی خلاف وردی پر روک نہیں سکتا؟ کیا دہشت گرد مودی گجرات میں چار ہزار مسلمانوں کا قتل عام کروا کے گجرات کا وزیر اعلیٰ نہیں بنا تھا؟اور اب جب وہ سیکولربھارت کا وزیر اعظم ہے مذہب کو استعمال کر کے ووٹ نہیں مانگ رہا ؟ کیا مودی اور اس کی دہشت گرد نام نہادسیاسی پارٹی نے ہندو اکثریت کو مسلمانوں کے خلاف اُکسا کر مسلمانوں کا جینا حرام نہیں کر دیا؟ مودی اور اس کی دہشت گرد حکومتی نام نہاد سیاسی پارٹی نے ہندو اکثریت کو پورے بھارت میں مسلمانوں کے خلاف نہیں کر دیا ہے؟ ملک میں بھارتی میڈیا اور انتہا پسند ہندوؤں نے جنگ کا ماحول پیدا نہیں کر دیا؟ کیا اس کی بنیاد پر بھارت میں مسلمانوں کے خلاف دہشتگردی عام نہیں ہو گئی ہے؟ اب ایک عرصہ خاموشی کے بعد اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم نے رپورٹ شائع کی ہے کہ بھارت میں اقلیتوں، خاص کر مسلمانوں کو مذہب کی بنیا دپر تشدد کا نشان بنایا جا رہا ہے ۔ یہ سب کچھ مودی سرکار الیکشن جیتنے کیلئے کر رہی ہے۔ مثلاًایک ویڈیو وائرل ہو چکی ہے۔ اس میں دکھایا جا رہاہے کہ ایک مسلمان کو ایک پلر کے ساتھ باندھا ہوا ہے۔ ایک دہشت گرد انتہا پسند ہندو اسے ڈنڈے ماررہا ہے۔ اورکہتا جا رہا ہے کہ بولو’’ جے شری رام۔ جے شری رام‘‘ ادھ موہ زخموں سے چور چورمظلوم مسلمان اس کا انکار کر رہا ہے۔ دہلی میں ایک مسلمان کو شک کی بنیاد پر کہ اس کے فریج میں گائے کا گوشت رکھا ہوا ہے دہشت گردانتہا پسند ہندوؤں کے ایک گروہ نے اسے اذیتیں دے دے کر شہید کر دیا۔ بعد میں تحقیقی کمیشن نے ثابت کیا کہ مسلمان کے گھر فریج میں رکھا ہوا گوشت گائے کا نہیں بلکہ بکرے کا تھا۔ایک مسلمان ڈرائیور اپنی گاڑی میں میں گائے کو ایک جگہ سے دوسری جگہ ٹرانسپورٹ کرنے کی وجہ سے شک کی بنیاد پر کہ گائے کو ذبح کرنے کیلئے جا رہاہے شہید نہیں کر دیا؟ بھارتی مقامی انتظامیہ کی طرف سے مسلمانوں کووارننگ دی جاتی ہے اور کہا جاتا ہے کہ اپنے مردوں کو دفنانے کے بجائے ہندوؤں کی طرح جلا دیاکرو۔ کیونکہ بھارت میں مسلمانوں کے قبرستانوں کی وجہ سے زمین کم پڑتی جا رہی ہے۔ اس پالیسی پر عمل کرتے ہوئے، مسلمانوں کے قبرستانوں میں قبروں سے مردے نکال زمین ہموار کی جا رہی ہے۔ بستیوں میں اعلان کر دیا گیاکہ فلاں دن ہندوؤں کا کوئی تہوار ہے۔ لہٰذا راستے کی مساجد میں اذان نہیں دی جائے گی۔ کوئی مسلمان نماز پڑھنے بھی نہیں جائے گا۔اُس دن اس علاقے میں کوئی مسلمان ٹوپی پہن کر بھی باہر نہیں نکلے گا۔ اگر ان احکامات کی پابندی نہ کی گئی تو نقصانات کے خود ذمہ دار خود مسلمان ہونگے انتظامیہ نہیں ہو گی۔کئی برس پہلے بابری مسجد کو یہ کہہ کر دہشت گرد انتہا پسند ہندوؤں نے شہید کر دیا کہ جہاں پر ہندوؤں کا مندر تھا۔ مقدمہ بھارت کی سپریم کورٹ میں چل رہا ہے ۔ متعصب بھارتی عدلیہ آج تک اس کا فیصلہ نہیں کر سکی۔ بھارت میں کئی مساجد کیلئے کہا جا رہا ہے یہ مندر توڑ کر بنائی گئی تھیں۔ پورے بھارت میں کئی مساجد کے خلاف دہشت گرد انتہا پسند ہندوؤں یہ مہم چلائی ہوئی ہے۔یہ مہم اُس وقت جب یہ مساجد بنائی جا رہی تھیں کیوں نہیں چلائی گئی؟ دنیا کے آٹھویں عجوبہ تاج محل آگرہ کیلئے بھی کہاجا رہا ہے کہ یہ بھی ایک مندر کو توڑ کر مغل بادشاہ نے اپنی بیگم ملکہ ممتاز محل کی محبت کی یاد میں تعمیر کیا تھا۔ طارق فتح نامی ایک مرتد مسلمان کے ذریعے بھارتی میڈیامیں مہم چلا ئی جا رہی ہے کہ ہندوستان پر ہزار سال سے زیادہ حکومت کرنے والے مسلمان حکمران لٹیرے اور غاصب تھے۔ آریہ بھی ہندوستان پر حملہ آور ہوئے تھے کیا وہ بھی لٹیرے اور غاصب نہیں ہیں؟بھارتی مسلمانوں کے خلاف پر تشدد واقعات کی ایک لمبی فہرست ہے۔ جس میں تاجروں، کھلاڑیوی،م صنفین، گلوگاروں، فلم سازوں ، فلمی ادکاروں اور بھارت میں رشتہ داروں سے ملنے کیلئے جانے والے عام مسلمان شامل ہیں۔ان کے خلاف ایک دہشت گردانہ مہم ہے جو بھارتی دہشت گردوں نے چلائی ہوئی ہے۔ سب سے بڑی مہم دہشت گرد مودی نے ملکی الیکشن جیتنے کیلئے چلائی ہوئی ہے۔ پاکستان پرموجودہ فضائی حملہ کرنے سے پہلے بھی ایئر اسٹرائیک کا شوشہ چھوڑا تھا اور دعویٰ کیا تھا کہ ایک پاکستان کے اندر کھس کرکئی لوگوں کو شہید کیا ۔اس جھوٹ کے مقابلے میں پاکستانی فوج نے بین الاقوامی صحافیوں کو جائے وقوع کا دورہ کرایا۔ آزادصحا فیوں نے جائزہ لینے کے بعد تصدیق کی تھی کہ پاکستان میں کوئی بھی شہادت نہیں ہوئی بھارت کی طرف سے سب کچھ جھوٹ ہے۔ کشمیر میں نسل کشی اور کشمیری عزت مآب خواتین کے ساتھ بھارتی سفاک فوجیوں کی اجتماہی آبرو ریزی سے تنگ آکر آخر ایک کشمیری نوجوان نے بھارتی فوجی قافلہ پر کشمیر پلومہ میں فدائی حملہ کیا اور بھارت کے چالیس سے زیادہ فوجیوں کوجہنم رسید کیا تو فوراً بغیر تحقیق کے مودی نے الزام پاکستان کے سر لگا دیا۔ اپنے انتخابی جلسوں میں اعلان کیا کہ پاکستان کو اس کا سبق سکھایا جائے گا۔ پھر پلاننگ سے پاکستان پر کئی سمتوں ہوئی حملے کی کوشش کی۔کچھ جگہوں پر پاکستان فضائی فوج نے بھارتی طیاروں کو مار بھگایا۔ کشمیر میں تین جگہوں پر حملہ کرتے ہوئے جب پاکستانی کی بین الاقوامی حدود کی خلاف دردی کرتے ہوئے ،بھارتی پائلٹ اپنے پے لوڈ بالاکوٹ کے میدان میں گرا کر بھاگ گئے۔ بھارتی حکومت اور میڈیا نے دعویٰ کیا کہ بالاکوٹ میں جیش محمد کے دہشت گردٹھکانے کو تباہ کر دیا گیا اور ۳۵۰ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔ مگر پاکستان اور بین الاقوامی میڈیا نے جائے وقوعہ کا مشاہدہ کیا۔ میڈیا کے مطابق وہاں کچھ صنوبر کے درختوں کو نقصان پہنچا اور ایک گھڑے میں ایک کوہ مرا ہوا پایا گیا۔ امریکی سیٹلائٹ نے بھی فضا ء سے لی گئی تصاویر میں بھارتی جھوٹ کو آشکار کیا۔ بھارت کی اپوزیشن ثبوت مانگ رہی ہے اور مودی کہتا کہ بھارتی فوج سے ملک دشمن ثبوت مانگ رہے ہیں۔اس سے بھارت فوج کا مورال متاثر ہو گا۔ پاکستان پر بھارت فضائی حملے پر پاکستان کی فوج اور پاکستان کے وزیر اعظم نے اعلان کیا تھا کہ بھارت نے ہماری ملک پر حملہ کرکے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے۔ اس کاہم بدلہ لیں گے۔ اس کے بعد پاکستان فضائی فوج نے کشمیر میں بھارت پر فضائی حملہ کیا۔ پاکستانی جہازوں کی زد میں بھارتی گولا بارود کا ڈیپو تھا۔ مگر پاکستان نے فضائی حملہ ایک خالی جگہ پر کیا۔ بھارتی جہازوں نے پاکستانی جہازوں کا پیچھا کیا اور پاکستان کی فضائی حدود کو جب کراس کیا تو پاکستانی جہازوں نے دو بھارتی جہازوں کو مار گرایا۔ ایک جہاز کاملبہ بھارتی اور ایک کاپاکستانی علاقے میں گرا۔ پاکستان نے ایک بھارتی پائلٹ ابھے نندن کو بھی زندہ گرفتار کر لیا۔ پاکستان نے کہا کہ ہم امن چاہتے ہیں پاکستان نے اس کا ثبوت دیتے ہوئے بھارتی پائلٹ کو رہا کر دیا۔ پاکستان کی پر امن پالیسی کی پاکستان ،بھارت اور دنیا کے امن پسند حلقوں نے تعریف اورکی بھارت کی مذمت کی مگر دہشت گردد مودی انتہا پسند مودی اپنی انتخابی جلسوں میں کہتا ہے کہ پہلے حملہ تو صرف پائلٹ پراجیکٹ تھا اصل ابھی کرنا باقی ہے۔ ایسی صورت حال میں میں دو ایٹمی ملکوں کے درمیان بین الاقوامی میڈیا نے جنگ کی پیش گوئی کی ہے۔ جس کاذمہ داردہشت گرد مودی کے ہو گا۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ بھارت کے دہشت گردانتہا پسند وزیر اعظم مودی کو اپنی مسلم اور پاکستان مخالف مہم کو ختم کر کے اپنی کارکردگی کی بنیاد پر الیکشن لڑنا چاہیے مگر مودی پہلے بھی مسلم دشمنی اورپاکستان دشمن منشور پر الیکشن جیت کر آیا تھا۔ اب بھی پرانے نسخے پر عمل کرتے ہوئے اسی پالیسی پر الیکشن لڑے گا۔ مودی کی اس پالیسی سے دو ایٹمی ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کا خطرہ ہے۔ اس کو امن پسند حلقے یا بھارت کے سیکولر آئین کے تحت قائم بھاتی الیکشن کمیشن اپنے اختیارات کو استعمال کرتے ہوئے مودی کو مذہب کو استعمال کر کے الیکشن لڑنے سے ہی روک سکتا ہے۔ دنیا دیکھے گی کہ کیا بھارت کا الیکشن کمیشن بھی انتہا پسند ہے یا سیکولرپسند ۔ کیا بھارتی الیکشن کمیشن اور پاکستان میں موجود بھارت سیکولر لابی بھارت سیکولر آئین پر عمل درآمد کرا تے ہیں کہ نہیں؟

خطرہ موجود ہے

azam_azim

تعجب کی بات ہے کہ پاک بھارت غیر اعلانیہ جنگ کے ٹینشن کے ماحول میں پارلیمنٹ میں حکومت اور اپوزیشن روایتی سیاست کررہی ہیں، حالانکہ یہ وقت متحد ہونے اور دُشمن کو اپنے اتحاد سے خوف دِلانے کاہے۔ کم از کم ابھی تو حکومت اور اپوزیشن کو ایک پیچ پر ہونا چاہئے تھا۔ مگر چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے، حزبِ اقتدار اور حزبِ اختلاف اپنے ذاتی اور سیاسی مفادات اور مسائل کو ایوانوں میں لا کر چیخ چلا رہے ہیں، جس کا فائدہ دُشمن کو ہوگا ۔جبکہ حکومت ہے کہ یہ جنگی جنون میں مبتلا دُشمن بھارت کی طرف سے سرحدوں پر ٹینشن ہونے کے باوجود بھی منافع بخش قومی اداروں کی فروخت کا منصوبہ بنارہی ہے،وزیراعظم عمران خان اپنے پیشرو نوازشریف، آصف علی زرادی اور پرویز مشرف کی حکومتوں سے آج تک قرضوں کے بوجھ تلے دبی پاکستانی قوم کو قرضوں سے نجات دِلانے کیلئے ڈیڑھ سال کے عرصے میں پہلے مرحلے میں ایس ایم ای بینک ، فرسٹ وومن بینک، بلوکی پاور پلانٹ ، حویلی بہادر پاور پلانٹ ، مری پٹرولیم، جناح کنونشن سینٹر، لاکھڑاکول مائنز اور سروسز انٹرنیشنل ہوٹل سمیت8 قومی ادارے جبکہ دوسرے مرحلے میں یعنی کہ 5سال میں 49 منافع بخش ادارے اسٹیٹ لائف ، اوجی ڈی سی ایل، پاورکمپنیاں ،پی این ایس سی ، پورٹ قاسم، کے پی ٹی شامل ہیں۔ یہاں یہ امر یقیناًقابل توجہ اور غور طلب ضرور ہے کہ کس طرح وزیراعظم عمران خان اپنی حکومت میں کے پی ٹی جیسے منافع بخش قومی اداروں کی نج کاری کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ اِنہیں اِس ادارے کی نج کاری کے فیصلے پر لازمی نظر ثانی کرنی چاہئے جبکہ سیاسی بنیادوں پر تقرریوں کے باعث ازل سے ہی خسارے میں چلنے والے قومی اداروں اسٹیل ملز ، پی آئی اے، سی اے اے، ریلویز سمیت 15اداروں کو خود پالنے کا ادارہ رکھتے ہیں۔ حالانکہ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ جو ادارے خسارے والے ہیں۔ حکومت پہلے اپنے وسائل بروئے کار لاتے ہوئے۔اِنہیں خسارے سے نکالنے کی کوشش کرے۔ اگر یہ پھر بھی خسارے میں ہی رہیں۔ تو پھر بیشک، حکومت اِن کی نجکاری کرے ۔مگر افسوس کی بات ہے کہ آج وزیراعظم اپنی نئی منطق لے کر چل رہے ہیں ۔نواز شریف ، آصف علی زرداری اور پرویز مشرف کی حکومتوں میں لیئے گئے قرضوں کی وجہ سے قرضوں کے بوجھ تلے دبی پاکستانی قوم کو قرضوں کے بوجھ سے نجات دِلانے کے لئے اوجی ڈی سی ایل ، پورٹ قاسم اور کے پی ٹی جیسے منافع بخش اداروں کو ہی فروخت کرکے آخر کیا چاہتے ہیں؟ منافع بخش اداروں کی نج کاری کے بعد اِنکے ملازمین کا کیا ہوگا؟کیا اداروں کی نج کاری سے مُلک میں بے روزگاری میں اضاضہ نہیں ہوگا؟وزیراعظم نے تو کروڑوں کو روزگار دینے کا وعدہ کیا ہے۔!!بہر کیف ،بھارت میں جاری انتخابات کے دوران پلوامہ حملہ سمیت دیگر پرتشدد واقعات تو محض ایک بہانہ ہیں ، اصل بات یہ ہے کہ بھارت کو پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا جواز چاہئے تھا ، جو پلوامہ حملے کی بھارتی ڈرامہ بازی کے بعد اِس کے ہاتھ لگ گیا ، جس کو بنیاد بنا کر دہشت گردِ اعظم بھارتی وزیراعظم نرریندر مودی کے اشارے پر رات کی تاریکی کا فائدہ اُٹھا کر بھارتی فضائیہ کے طیاروں نے پاکستان کی سرحدی حدو دکی خلاف ورزی کی اور دراندازی کرنے کے بعداپنا پے لوڈگرا کر بھاگ گئے ۔جسکے اگلے ہی روز پاک فضائیہ نے جنگی جنون میں مبتلا بھارتیوں کو دن کی روشنی میں اِن کے وطن میں گُھس کر جو سبق سیکھایا ہے۔ اِسے بھارتی تاقیامت یاد رکھیں گے،جب بھی بھارتیوں میں جنگ کی تاریخ دُہرائی جائے گی۔ سارے بھارتی ہاتھ لگا کر روئیں گے، اِس سے اِنکار نہیں ہے کہ پاکستان کی افواج کی جنگی صلاحتیں پیشہ وارانہ ہیں ، جو جذبہ جہاد اور جذبہ شہادت سے سرشاراور بہرامند ہیں، مگر پھر بھی خطے کا بھارت جیسا کوئی پڑوسی مُلک یہ سمجھے کہ یہ طاقت میں زیادہ ہونے کی وجہ سے پاکستان پر جنگی سبقت لے جائے گا ؛تو یہ اِس کی کم خیالی ہے۔ کسی بھی بھارتی جارحیت کے جواب میں پاکستان چاہے، تو بھارت کو چند گھنٹوں میں صفحہ ہستی سے مٹاسکتاہے۔ مگر پھر بھی پاکستان کی امن پسندی ہے کہ یہ بھارت کو قائم دیکھنا چاہتا ہے۔ اَب اِس پر پھر بھی بھارت اِسے پاکستان کی کمزروی سمجھے تو یہ اِس کا پاگل پن ہے۔بظاہرغیر اعلانیہ پاک بھارت جاری جنگ میں پاکستان کے بروقت اور درست فیصلوں سے جزوقتی طور پر جنگ ٹل تو گئی ہے۔ مگر بھارتی ہٹ دھرمی کم نہیں ہوئی ہے، کیوں کے بھارت کو پاکستان پر جنگ مسلط کرنے کا امریکا ٹاسک ملا ہوا ہے۔ بھارت کے ساتھ اسرائیل اور درپرہ امریکا بھی شامل ہیں ،جسکی چال ہے کہ بس کسی بھی طرح سے بھارت پاکستان پر جنگ مسلط کردے ،پھر باقی کا کام وہ سنبھال لے گا، بیشک ، افغانستان سے امریکا کی واپسی کے بعدافغانستان میں نمایاں تبدیلیاں تو آئیں گی ۔ تو وہیں پاکستان بھی حالتِ جنگ سے نکل جا ئے گا، اقتصادی اور معاشی اعتبار سے اپنے تابناک مستقبل کیلئے کوششیں تیز کردے گا ۔جو امریکا کبھی نہیں چاہتاہے کہ پاکستان کسی بھی حوالے سے معاشی اور اقتصادی لحاظ سے مستحکم ہو اور معاشی بحرانوں سے نکل کر اپنے پیروں پر کھڑا ہو، اِسی لئے پاک چین راہداری منصوبہ امریکا اور اِس کے حوارویوں بھارت اور اسرائیل کی آنکھ میں کھٹک رہاہے ، جنہیں لگ پتہ گیاہے کہ پاک چین راہداری منصوبہ اور پاکستانی سمندری حدود میں تیل کی تلاش کا کام تکمیل کو پہنچ کر کامیابیوں سے ہمکنار ہوگیاجیسا کہ تیزی سے کامیابی کے منازل طے کرتے ہوئے آگے بڑھ رہاہے۔ توپاکستان اقتصادی و معاشی حوالوں سمیت پیٹرولیم مصنوعات کے شعبے میں خطے کا کامیاب ترین مُلک بن جائے گا اور امریکی تسلط سے آزاد ہوکر اپنے فیصلے خود کرے گا۔یہی وہ خدشتہ ہے جو امریکا کوکھٹک رہاہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکا بھارت کو درپردہ پاکستان سے جنگ پر اُکسا رہا ہے، جنگ ٹلی نہیں ہے ، خطرہ موجود ہے، مشکل وقت ختم نہیں ہوا ہے ،کشیدگی میں کمی کا آغاز تو ہوگیاہے، مگر بھارتی جارحیت متوقع ہے، دُشمن کا دندان شکست جواب دینے کیلئے پاک فوج ہمہ وقت تیار ہے، پاکستان کی امن پسندی کی حکمتِ عملی نے بھارت کو بتادیاہے کہ کسی بھی سمت سے بھارتی جارحیت کا کئی گنا زیادہ قوت سے جواب دیا جائے گا۔مگر افسوس ہے کہ ہمارے ایوانوں میں حکومت اور اپوزیشن بی جمالو والی روایتی سیاست کرنے سے باز نہیں آرہی ہیں، نہ صرف یہ بلکہ سونے پہ سہاگہ کہ عمران خان بھارت کی جانب سے غیر اعلانیہ جنگی ماحول میں بھی منافع بخش قومی اداروں کی فروخت کیلئے اپنی دُکان کھولے بیٹھے ہیں۔

**

نفسانفسی کاعالم

دیکھا جائے تو زندگی کے ہرشعبے میں انقلابی اصطلاحات کی ضرورت ہے اگر چہ اس دور میں عام آدمی ان اصطلاحات کو ایک فریب ہی سمجھتا ہے لیکن موجودہ سرمایہ دارانہ نظام میں یہ وقت کی ضرورت بھی ہے اور تقاضا بھی ۔جس طرح غریبی دور کرنے کے افسانے سنائے جاتے ہیں سماجی برائیوں کے خاتمے کی بات کی جاتی ہے اور سرمایہ دارانہ نظام کے استحکام کیلئے غریبی دور کرنے کے نام پر دنیا کے غریب ممالک کو زبردستی سرمایہ دارنہ نظام کے سرکل میں داخل کیا جارہا ہے ۔سرمایہ دارانہ نظام انسانوں کو ایسے حال پر رکھتا ہے کہ دیکھنے میں وہ معزز انسان نظر آئے لیکن اندر سے وہ کھوکھلا ہو چنانچہ اس سلسلے میں وقتاًفوقتاً غریبی دور کرنے کے اعلانات بھی ہوتے رہتے ہیں لیکن عملی اقدامت اٹھانے سے عموما گریز کیا جاتا ہے اور یہ اعلانات اپنی جگہ صحیح ہیں کہ غربت کی وجہ سے انسان کے جسم میں خون ہی نہ رہا تو اسے چوسا کس طرح جائیگا ؟ اس ظاہری طور پر غریبی دور کرنے کے اعلانات اور ہمارے سیاسی لیڈروں اور حکومتی اعلانات وغیرہ سب عالمی سرمایہ دارانہ نظام کی حصہ معلوم ہوتاہے اور ایسی پالیسیاں بنائی جاتی ہیں کہ عام آدمی اپنی معاشی ضروریات اور اخراجات پورا کرنے کیلئے وہ جانور وں کی طرح محنت کرتا ہے اور وہ خوشحالی کی چمک حاصل کرنے کیلئے اپنی ذندگی کی انتہائی ئی قیمتی لمحات کچھ ایسے طریقے سے ضائع کرتا ہے کہ وہ سوچنے اور شعور حاصل کرنے کے لمحات کو کو بھی اپنے پاس نہیں پاتا ہے ۔ یہ حقیقت ہے کہ زندگی ایک بار ملتی ہے اس لئے اس کا لطف اٹھانا چایئے اور کامیاب لوگ بھی وہ ہوتے ہیں جو بھر پور انداز میں زندگی گزارنے کا ہنر جانتے ہیں جیسے ہمارے لیڈر حضرات اور خواتین جو سیاست میں ہیں جن کے پاس دولت بھی ہوتا ہے اور شہرت بھی ، زندگی کی حرکت ان میں بھرپور نظر آتی ہے اور یہ ذہین اور فطین بھی ہوتے ہیں ان کا دماغ کمپیوٹر کی طرح کام کرتا ہے اور الیکشن کے دنوں میں ان کو عوام کی بھیڑ اچھی لگتی ہے یہ موقع شناس ہوتے ہیں اور اپنی زبان اور بیان سے عام آدمی کو اپنا گرویدہ بنالیتے ہیں اور معاملہ فہمی اور روشن دماغی کی وجہ سے وہ مشہور ہوتے ہیں اور عام آدمی بے چارہ تو ہمیشہ دھکے اور سرمایہ داروں کے مکے کھاتا ہے اور ووٹ کا حق استعمال کرتے ہیں اور ضرورت پڑ نے پر سرمایہ داروں کی کال پر سڑکوں پر نکلتے ہیں اور اس نشے میں بعض اوقات وہ خود کش بمبار کا نشانہ بن کر ان کے پرخچے بھی اٹھ جاتے ہیں ۔ سرمایہ داریت جسے کمرشلزم کا نام دیا جاتا ہے اس نے عام آدمی کیلئے خوش مزاجی اور زندہ دلی کو معدوم جنس بنادیا ہے ، بس اب تو نفسا نفسی ہے اورافراتفری ہے اور ہنگامہ خیزی ہے اور تیز رفتار زندگی کے دوڑ نے اکثریت کیلئے خوش دلی کو نایاب اور کمیاب بنادیا ہے اور سرمایہ دار کی قسمت میں کامیابی ہی کامیابی ہے۔عام آدمی تو نہ خوشی سے شادی کرسکتا ہے اور نہ بیوی کو رکھ سکتا ہے ا ور نہ چھوڑ سکتا ہے اسی ضرورت کو مد نظر رکھ کر ویانا میں طلاق میلے کی داغ بیل رکھی گئی ہے اور اسی طرز ممکن ہے کہ اس نوعیت پر آسان اور سستے طور پر خودکشی کرنے کے طریقے سکھانے کیلئے بھی میلے منعقد کئے جائینگے جسکے نتیجے میں ذندگی کا خاتمہ ممکن ہوسکے گا۔چونکہ انسان فطری طور پر جدت پسند ہے اور وہ نئی نئی ایجادات کرتا ہے اور اختراعات کا عمل کرتا ہے اور جدید نظریات کی بنیاد رکھ کر ذندگی کی گاڑی چلاتا ہے اور یہ بھی فطری تقاضہ ہے کہ انسان امیر ہو یا غریب وہ کچھ رومانی طبیعت بھی رکھتا ہے اور صنف مخالف کیلئے محبت کے معاملے میں بھی وہ سیلانی طبیعت کے مالک ہوتا ہے اور بعض اوقات اس کے دل میں دوسری شادی کی خواہش بھی پیدا ہوتی ہے ، عام طور پر اس فطری خواہش کو پورا کرنے کیلئے وہ شادی بھی عموما جلدی کرلیتا ہے اور ذندگی کی گاڑی چلانا شروع کرلیتا ہے اور اگر کوئی اچھی سے بیوی صابر اور شاکر بیوی مل گئی تو پھر وارے نیارے ہیں ۔ اگرچہ یہ بھی حقیقت ہے کہ نئے دور کے تقاضوں کا انکار ممکن نہیں ہے اور تخلیقی صلاحیتوں کے اندر نکھار پیدا کر کے ترقی کے منازل کو طے کیا جاسکتا ہے لیکن دور حاضر میں سائنسی ترقی اور مادی ضروریات اور معاشی اور اقتصادیات کے نئے نئے ڈھنگ اور ذرائع ابلاغ کے تنوع کے ساتھ دنیا میں اب کافی تبدیلی آگئی ہے اور اس تبدیلی کے ساتھ انصاف اور عدل کے معیار بھی بدل گئے ہیں ذندگی کی برق رفتاری نے انسان کو شارٹ کٹ راستہ اختیار کرنے پر مجبور کردیا ہے انسان مشینی دور میں مشین کی گراری کی طرح زندگی گزارنے پر مجبور ہے اور جو حقائق ہیں وہ بھت تلخ ہیں اقتصادی ترقی کی بجائے تباہ کاری کا گراف بلند ہوا ہے اور یہ ایک ایسی حقیقت ہے جو چھپانے سے چھپنے والا نہیں ہے ، انسانیت غربت کی چکی میں پس رہی ہے ایسے حالات میں اگر کنواروں کے گھر میں اگر ایک کنوارے نے شادیانے بجا بھی دئے تو کیا ؟ کل اسے مہنگائی کا عفریت، ٹیکسوں کا جدید بظام،غیرملکی سرمایہ کاری کے نام پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا عمل دخل ،نجکاری کے نام پر قومی دولت کو ہڑپ کرنے کے منصوبے، برآمدات کو بڑھانے کے نام پر ملکی کرنسی کی قیمت کم کرنے کے اعلانات ،اور عالمی اداروں سے قرض لے کر ملک چلانے کے کے طور وطریقے؟اور ایسی صورت میں کیا وہ ترقی کی منازل اور رفعت کی مکو پالے گا؟ یہ ایک کڑوا سوال ہے جس کا جواب آپ نے دینا ہے!

وزیراعظم کی سینئرصحافیوں سے ملاقات۔۔۔اچھے دنوں کی نوید

adaria

وزیراعظم عمران خان نے بتادیاہے کہ حالات بہت تیزی سے مثبت انداز میں آگے کی جانب رواں دواں ہیں اور وہ قوم کو بہت جلدخوشخبری سنانے والے ہیں،یقینی طورپر جب معیشت مضبوط ہوگی تو معاشی حالات خوشحال ہوں گے ،عوام سکھ کاسانس لے گی، روزگار کے مواقع ملیں گے، امن وامان ہوگا، چین کی جانب سے بھی بہت جلدبھاری رقم ملنے والی ہے اس سلسلے میں حکومت پاکستان اورچین کے درمیان تمام معاملات طے ہوچکے ہیں تاہم وزیراعظم نے سینئرصحافیوں سے ملاقات کرتے ہوئے کچھ تحفظات کابھی اظہارکیا جن کی وجہ سے مسائل پیدا ہورہے ہیں، انہوں نے کہاکہ بیوروکریٹ فیصلے نہیں کررہے ،یہ بات بالکل حقیقت پرمبنی ہے کیونکہ اگر بیورو کریسی صحیح انداز میں نہیں چلے گی وہ مسائل کو فائلوں کے اندر ہی گھماتی رہے گی تو پھرنہ ہی کوئی پراجیکٹ پایہ تکمیل تک پہنچے گااورنہ ہی کوئی منصوبہ بندی ہوگی نہ ہی کوئی معاہدے ہوں گے ،فائل ورک کاہونا انتہائی ضروری ہے یہی بنیاد ہوتی ہے جس کے ذریعے تمام تر پالیسیاں آگے چلتی ہیں، ٹیم کے کپتان کاکام ٹیم کو بہترانداز میں لیکرچلنا ہوتا ہے لیکن اگر اس میں ٹیم ورک نہ ہوتو پھراکیلاایک شخص کچھ بھی نہیں کرسکتا ،یہاں ہم وزیراعظم کو یہ ضرور عرض کریں گے کہ جس طرح انہوں نے وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کوکہاہے کہ وہ صحیح طریقے سے معاملات چلائیں اوراگرکابینہ میں تبدیلی کرناچاہتے ہیں تواس میں بھی انہیں مکمل اختیارحاصل ہے۔نیز انہوں نے بزدارکی تبدیلی کی افواہوں کو بھی قطعی طورپرمسترد کردیا ہم یہاں یہ کہیں گے کہ جس طرح وزیراعظم نے عثمان بزدار کومکمل اختیارات دیئے ہیں تو وہ خودبھی اپنے اختیارات اسی طرح بے رحمی سے استعمال کریں ،بیوروکریسی ہو ،وفاقی کابینہ ہو یا کوئی بھی دیگرادارے جن کے متعلقہ افسران یا دیگربیوروکریسی کام نہیں کررہے ہوں تو انہیں بیک جنبش قلم فارغ کردیں نہ صرف ان کی فراغت کی جائے بلکہ کام نہ کرنے کی پاداش میں قرار واقعی سزابھی دی جائے جس طرح کہ گزشتہ دنوں وزیراعظم عمران خان نے کہاکہ تھا کہ ایف بی آراگرکام نہیں کرے گا تواس کی جگہ نیاادارہ بنادیاجائے گا۔ نئے پاکستان میں عوام اسی توقع سے بیٹھی ہوئی ہے کہ کچھ نہ کچھ ضرور بہتر ہوگا ،یہ تمام تراختیارات وزیراعظم کے پاس ہیں خوشخبری وہ ضرورسنائیں مگر دیگرجومعاملات ہیں ان کوحل کرنابھی انہی کی ذمہ داری ہے۔ قوم نے ان کے کندھوں پریہ بھاری ذمہ داری عائد کی ہے وہ کپتاان ہیں اس کو نبھانا ان کے عین فرائض میں شامل ہے۔ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہاکہ حکومتی مشکلات بڑھ رہی ہیں نیب ہرکیس کھولنے کی بجائے بڑے مقدموں پر توجہ دے بڑے، لوگوں کو سزا ملتے ہی چھوٹے بدعنوان خودبخود ٹھیک ہوجائیں گے تین دفعہ وزیراعظم رہنے والے نواز شریف نے بیرون ملک اپنے بیٹوں کے نام پر اربوں روپے اکٹھے کر رکھے ہیں بھارت میں جنرل الیکشن کے انعقاد تک ہماری سرحدوں پر خطرات منڈلاتے رہیں گے انڈیا کے علاوہ افغانستان ایران کی سرحدوں کو محفوظ بنا رہے ہیں، عرب امارات نے ادھار پر پاکستان کوتیل فراہمی کا کبھی ہم سے وعدہ نہیں کیا ہم نے ضرور اس کی درخواست کی مگر انہوں نے پہلے ہی روز دو ٹوک الفاظ میں بتا دیا کہ ڈیفرڈ پے منٹ پر پٹرول وغیرہ کی فراہمی کا ان کے ہاں کوئی قانون نہیں اسمگلنگ کی لعنت ملکی معیشت کو دیمک کی طرح چاٹ رہی ہے۔ افغان حکومت اور ہماری سوچ ہے کہ افغان ٹرانزٹ ٹریڈ کے ذریعے آنے والے مال پر کسٹم کراچی بن قاسم بندر گاہوں پر ہی کر لیا جائے۔ ایف بی آر میں ٹیکس وصول اور ٹیکس پالیسی کے نظام کو الگ کیا جارہا ہے پاکستان میں جودودھ مل رہا ہے وہ دودھ نہیں واشنگ مشین میں کیمیکل ڈال کر بن رہا ہے۔ نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں نے اتفاق کیا مگر سابقہ حکومتوں نے عملی اقدامات نہیں اٹھائے۔ پلوامہ واقعہ کے بعد بلوچستان میں دشمن کی طرف سے دہشت گردی بڑھنے کی انٹیلی جنس رپورٹیں ہمارے پاس ہیں جن کی روشنی میں اقدامات جاری ہیں۔ بدقسمتی کی بات ہے کہ ہم نے دین کا ٹھیکیدار مولانا فضل الرحمان اور ان جیسے دوسرے لوگوں کو بنا دیا ان جیسے لوگوں نے ہمیں اوردین کو یرغمال بنا رکھا ہے ۔کالادھن رئیل اسٹیٹ میں چلا گیا ہے آئی ایم ایف ہمیں بہترشرائط پر قرض دینے کو تیار ہو گیا ہے۔ دہشت گردتنظیموں کو ختم کرکے رہیں گے وزیراعلیٰ بزدار کی کارکردگی میں مزیدبہتری آئے گی۔ وزیراعظم نے نیوز پیپر انڈسٹری کو درپیش بحران کے بارے میں سوالوں کے جواب میں کہاکہ اس بات پر ہمدردانہ غور کر رہے ہیں کہ جن صحافیوں کو بے روزگاری کا سامنا ہے اس کا ازالہ کرسکیں کیونکہ وہ چاہتے ہیں کہ بے روزگار صحافیوں کو تنخواہیں ملنی چاہئیں۔ عمران خان نے کہا کہ کم وبیش ہر سرکاری کارپوریشن بشمول پی آئی اے میں بڑے بڑے کنویں موجود ہیں جہاں اربوں روپے چلے جاتے ہیں ا سٹیٹ لائف میں خسارہ 50 ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔جب ان سے پوچھا گیا کہ گزشتہ روز چاروں سروسز چیفس نے اکٹھے آکر ان سے ملاقات کی کیا کوئی خاص بات ہے، وزیراعظم نے کہا کہ اس وقت بھارت میں الیکشن کا موسم ہے مودی سرکار کسی بھی وقت کچھ بھی کر سکتی ہے تاکہ الیکشن جیتے مگرپاکستانی مسلح افواج، حکومت اور قوم ہر چیلنج کیلئے تیار ہیں۔ ہم دشمن کو ایسی کسی بھی صورتحال کے باوجود کوئی فائدہ نہیں اٹھانے دینگے ہم ہر جارحانہ اقدام کا منہ توڑ جواب دینگے ۔

23مارچ یوم تجدیدعہدکادن
ہم ہر سال 23 مارچ کادن بھرپور طریقے سے مناتے ہیں ، اس دن قرارداد پاکستان منظور ہوئی تھی اوراس قرارداد کی بنیادی اساس کے تحت ہم آزادی کی فضاء میں سانس لے رہے ہیں یہ دن یقینی طورپر ہمارے لئے اللہ تعالیٰ کی جانب سے کسی نعمت سے کم نہیں اس روز مساجد میں شکرانے کے نوافل ادا کئے جاتے ہیں ، دن کا آغاز خصوصی دعاؤں سے ہوتا ہے اور 21 توپوں کی سلامی بھی دی جاتی ہے پاکستان کے چاروں صوبوں ،شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر میں مختلف تقاریب منعقد ہوتی ہیں ، بڑے شہروں میں رات کو چراغاں کیا جاتا ہے۔23 مارچ کا دن ہمیں ان قربانیوں کی یاد بھی دلاتا ہے جو ہمارے بزرگوں نے اس وطن عزیز کو حاصل کرنے کے لئے دیں ، ہمیں چاہیے کہ پاکستان کو خوشحال اور مضبوط بنانے کیلئے محنت اور لگن سے کام کریں ، اپنے وطن کو بین الاقوامی برادری میں مقام دلانے کیلئے کوششیں کریں ، پاکستان اسلام کا مضبوط قلعہ ہے پاکستان مضبوط ہو گا تو ہم سب خوشحال ہوں گے ، اس وقت پاکستان امت مسلمہ میں وہ واحد مدنی ریاست کی طرز پر ایک ایٹمی اسلامی قوت موجود ہے جو نہ صرف پاکستان بلکہ خانہ کعبہ اور مدینہ پاک ، بغداد شریف کی حفاظت کا ضامن ہے اس وقت یہودونصاری ٰکی تمام تر نظریں اسلامی اور اس ناقابل تسخیر قوت کی طرف ہیں جو اسے مختلف سازشوں میں الجھا کر اپنے مذموم مقاصدکے حصول کیلئے سرگرداں ہیں۔آج ایک بار پھر وقت تقاضا کرتا ہے کہ قائد اعظم محمد علی جناحؒ اور ڈاکٹر علامہ محمد اقبالؒ کی تعلیمات اور جدوجہد آزادی کے اصولوں پر عمل پیرا ہو کر یک زبان و دل ہو کر مملکت پاکستان کی ترقی اور استحکام کیلئے اپنا عملی کردار ادا کیا جائے ۔

قرارداد پاکستان میں دو قومی نظریہ کی وضاحت

23 مارچ 1940ء کو لاہور کے منٹو پارک میں آل انڈیا مسلم لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کی صدارت میں ہونے والے اجلاس میں ا یک قرارداد منظور کی جو آج قرارداد پاکستان کے نام سے مشہور ہے۔ یہ وہ تاریخی قرار داد تھی جو حصول آزادی کیلئے نہ صرف ایک سنگ میل کی حامل ٹھہری بلکہ اس قرارداد نے تاریخ کے دھارے کا رخ بدل کر رکھ دیا۔ یہ قرارداد مولوی اے کے فضل حق نے پیش کی اور چودھری خلیق الزمان نے اس کی تائید کی جن دوسرے عمائدین نے قرار داد کی بھرپور حمایت کی ان میں مولانا ظفر علی خان ، سردار اورنگزیب خان، عبداللہ ہارون، نواب اسماعیل خان، قاضی محمد عیسیٰ، عبدالحمید خان، آئی آئی چندریگر، عبدالروف اور بیگم محمد علی شامل تھے۔ اس قرارداد کی منظوری کے بعد پاکستان کے حق میں برصغیر میں ایک ایسی لہر اٹھی جسے کوئی بھی نہ روک سکا۔ شاعر مشرق علامہ محمد اقبالؒ نے نہ صرف پاکستان کا تصور دیا بلکہ یہ بھی ان کا قوم پر احسان عظیم ہے کہ انہوں نے قوم کو ایک عظیم رہنما قائد اعظم محمد علی جناح کی صورت میں دے دیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ قرارداد کی منظوری کے بعد صرف سالوں میں ہی انگریز حکمرانوں کو برصغیر نہ صرف چھوڑنا پڑا بلکہ 14 اگست 1947ء کو دنیا کے نقشے پر پاکستان کا نام ابھرا اور یوں 23 مارچ 1940 کو منٹو پارک میں مسلمانان ہند جو عزم کیا تھا وہ پورا ہوا۔ ہندو، مسلمانوں کے مذہبی عقائد کے بالکل برعکس اجرام فلکی، بزرگوں کی روحوں اور بتوں کو خدائی صفات و اختیارات کا حامل سمجھتے تھے اور مانتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو اپنے مخصوص اختیارات میں شریک کر رکھا ہے مسلمانوں کی طبع پر سب کچھ گراں گزرتا تھا یہ حقیقت ان کی اسلامی رویئے اور طرز حیات پر ایک کاری ضرب تھی۔ مسلمانوں کے اخلاق اور قوانین ہندوؤں سے یکسر علیحدہ تھے۔ ان کی خریدوفروخت، بول چال، کھانے پینے کی عادات اور وضع قطع سب ہندوؤں سے بالکل جدا تھیں۔ سرسید نے یہ بات واضح کر دی کہ ہندوستان ایک ملک نہیں بلکہ ایک برصغیر ہے جہاں دو قومیں آباد ہیں۔ معروف انگریز سکالر ہنڈرل مون نے اس بات کا اعتراف کرتے ہوئے کہا کہ دو قومی نظریہ پیش کر کے سرسید احمد خان نے نہ صرف حقیقی مسئلے پر انگلی رکھ دی بلکہ بالاواستہ حل بھی تجویز کر دیا یعنی اگر دو قومیں ایک گدی پر نہیں بیٹھ سکتیں تو اسے کیوں نہ تقسیم کر دیا جائے۔مسلم لیگ نے محسوس کر لیا کہ ہندو اصولوں پر قائم سیاسی اور معاشرتی نظام میں کسی مسلمان کی آزادی قائم کی ہی نہیں جا سکتی۔ وہ مسلمانوں کے خلاف مہم جوئی سے کام لے رہے تھے جس کے نتیجے میں ہر وہ دروازہ بند ہوگیا جو ہندو مسلم اتحاد کی طرف لے جاتا تھا۔ قائد اعظم نے بالآخر کہا کہ ہمارا کوئی دوست نہیں۔ نہ ہمیں انگریز پر بھروسہ ہے نہ ہندو بنئے پر، ہم دونوں کے خلاف جنگ کریں گے۔ انہوں نے جداگانہ مسلم قومیت کے تصور کو پوری محنت اور دیانت داری سے اس طرح بیان کیا کہ انگریز اور پڑھے لکھے ہندوؤں کا ایک بڑاطبقہ سمجھ گیا کہ پاکستان کی تحریک محض ایک علیحدگی کی تحریک نہیں بلکہ مسلمانوں کے قومی وجود کے قیام کی تحریک تھی۔ کانگریس کے پلیٹ فارم سے بالآخرکانگریس کمیٹی کے رکن امین سخاوت نے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہندو مسلم قضیے کا حل یہی ہوگا کہ ہندوستان میں ہندو، مسلم کو دو قومیں سمجھ لیا جائے اور متحدہ قومیت کا خیال ہمیشہ ہمیشہ کیلئے دل سے نکال دیا جائے۔ہندو ایک سازش کے تحت مسلمانوں کو اپنے زیر اثر رکھنے کیلئے مشترکہ جدوجہد آزادی کی باتیں کرتے تھے تاکہ انگریز سے چھٹکارا پانے اور وطن کو آزاد کرانے کیلئے مسلمانوں کو استعمال کرسکیں اور پھر آزادی کے بعد محکومیت کی دوسری شکل میں ہندوؤں کے زیر اثر زندہ رہیں۔ وہ چاہتے تھے کہ مسلمان ہندوؤں کے ساتھ ایک قوم بن کر انگریز سے دفاع کی کوشش کریں۔ اس کے برعکس مسلمان غلامی کے فتنے سے نجات پا کر ایک ایسا دارالسلام چاہتے تھے جس میں اللہ کا دین اپنی پوری حکمتوں سے رائج ہو سکے۔ وہ ایسے ذرائع کی تلاش میں تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کی زمین کو ایمان اور تقویٰ کا گڑھ بنا سکیں۔23 مارچ کے اجلاس کے بعد یہ جدوجہد حصول پاکستان ایک نئے موڑ پر آپہنچی۔ قائد اعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت، مسلمانوں کی شبانہ روز محنت، اعتماد، اتحاد اور تنظیم کی عظمت کے زیریں اصول مہر عالم تاب کی طرح چمک اٹھے اور انہوں نے حصول پاکستان کے تمام کانٹے صاف کر دیئے۔ علامہ محمد اقبالؒ کے تصور پاکستان کے خواب کے آہنی عزم نے امیدوں کے چراگ روشن کر دیئے۔ اللہ تعالیٰ نے اسلامیان ہند کو پذیرائی عطا فرمائی۔27 ماہ رمضان المبارک 14 اگست1947ء کو ایک نئی سلطنت اسلامی جمہوریہ پاکستان دنیا کے نقشے پر ضوفشاں ہوگئی۔ 23 مارچ 1940ء صرف مسلمانان ہند کیلئے ہی سنگ میل کی حیثیت نہیں رکھتا بلکہ تمام عالم اسلام کیلئے بڑی اہمیت کا باعث تھا کیونکہ اس عظیم قرارداد کی منظوری کے سات سال بعد ایک ایسی ریاست دنیا کے نقشے پر ابھری جسے اسلامی دنیا کے فلک پر مہتاب بن کر چمکنا تھا۔ پاکستان دنیا کی واحد ریاست ہے جو نظریے کی بنیاد پر حاصل کی گئی جسے حاصل کرنے کیلئے برصغیر کے مسلمانوں کے پاس ایک مضبوط دلیل تھی کہ وہ مسلمان ہیں اور مذہبی آزادی چاہتے ہیں۔ گو یہ اس عظیم مملکت کی بنیاد اسلامی نظریہ تھی۔ پاکستان کو اسلامی تہذیب و تمدن اور علوم و فنون کا گہوارہ بنانے ، اسلامی اور تیسری دنیا سے اس کے رشتوں کو استوار کرنے اور قوموں کی برادری میں اسے ممتاز اور سرفراز رکھنے ، اسے بنی نوع انسان کی خدمت اور دستگیری کے قابل بنانے کیلئے لازم ہے کہ پاکستان کے عوام کی یکسوئی اور یکجہتی کے تمام لوازم فراہم کئے جائیں اور انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ اگر وہ اپنے اندر وہی جذبہ پھر سے زندہ کر لیں جس کا اظہار انہوں نے تحریک پاکستان کی صورت میں کیا تھا تو وہ پاکستان کو ایک رفیع الشان اسلامی و فلاحی مملکت بنانے کا مقصد حاصل کر سکتے ہیں اور بیرونی سازشوں کو بھی ناکام بنا سکتے ہیں۔ جب قومیں بیدار متحد اور منظم ہوں تو اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب اور سرخرو ہوتی ہیں۔آج ہم جب 23 مارچ کے حوالے سے یوم استقلال منا رہے ہیں تو ہمیں تحریک پاکستان کے محرک اور اساسی نظریے پر اپنے یقین کی تجدید کرنی چاہیے اور قائد اعظم ؒ کے فرمودات کی روشنی میں پاکستان کو حقیقی معنوں میں ایک اسلامی اور فلاحی مملکت بنانے کیلئے اپنے تمام صلاحیتوں اور تونائیوں کو وقف کرنے کا عہد کرنا چاہیے۔

*****

’خطبہ الٰہ آباد۔‘تخلیقِ پاکستان کی جدوجہد کا آغاز

برس قبل 1930 دسمبر کی صبح ہند کے شہر الہ آباد میں کونے کونے سے جوق درجوق مسلمانوں کے قافلے میں کھینچے چلے آرہے تھے’ برصغیر کے مسلمانوں میں جوش وخروش پایا جارہا تھا آل انڈیا مسلم لیگ کا بہت اہم اور تاریخی جلسہ عام تھا اس اہم تاریخ ساز جلسہ عام کی صدارت کیلئے حکیم الاامت ڈاکٹر علامہ اقبال تشریف لانے والے تھے، الہ آباد کا یہی خصوصی اہمیت کا وہ جلسہ عام تھا، جس میں مسلمانوں کے ملی’قومی اورثقافتی نظرئیے کے بارے میں اْٹھنے والے شکوک وشبہات دیگرمبینہ اعتراضات کرنے والے معترضین کیلئے ٹھوس دلائل مفکر پاکستان سے سننے کیلئے مسلمان وہاں کثیرتعداد میں جمع ہوئے تاکہ ہند کے معترضین کے ساتھ انگریز سامراج بھی سن لے کہ ‘تصور پاکستان کا اصل نکتہ نظر ہے کیا؟’ مفکر پاکستان علامہ اقبال نے جب جلسہ عام میں اپنا تار یخی اورایمان افروز کلیدی خطبہ پیش کیا تو ہزاروں مسلمانوں کا مجمع خوشگوارامکانات کے عالم میں منہمک ہوگیا علامہ اقبالؒ نے اپنے صدارتی خطبہ کی ابتداء کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ’یہ بڑی جسارت ہوگی اگر میں ان مسائل میں جن کے بارے میں فیصلہ سننے کیلئے ہند کے مسلمان آج یہاں جمع ہوئے ہیں ذاتی طور پرمیں ان کی رہنمائی کا دعویٰ کروں؟ علامہ اقبال نے فرمایا میں کسی جماعت کا رہنما نہیں’ میں نے اپنی زندگی کا زائد حصہ اسلام’اسلامی فقہ وسیاست ‘اسلامی تہذیب وتمدن اور ادبیات کے مطالعہ میں صرف کیا ہے اللہ تعالی کا میں شکرگزار ہوں کہ اْس ذات والہ صفات نے مجھے یہ مقام عطا فرمایا ہے یہ خصوصی بصیرت مجھ میں پیدا فرمائی ہے کہ’ میں سمجھ سکوں کہ عالمگیر حقیقت کے اعتبار سے مستقبل قریب یا مستقبل بعید میں ہند میں اسلام اور مسلمانوں کی سماجی و سیاسی حیثیت کیا ہوگئی؟’یہاں اور بہت سے سماجی اور سیاسی معاملات کی طرح ہمیں یہ بات ذہن نشین کرلینی ہوگئی کہ دنیا کے دوسرے ممالک کی طرح ہند میں بھی مسلمانوں کی سماجی ومعاشی ہیت ترکیبی اور قومی شناخت اسلام ہی کی نمایاں رہین منت ہیں’ علامہ اقبالؒ نے خطبہ الہ آباد دیتے ہوئے پرجوش لب ولہجے میں اپنی فکری اسلامی بصیرت کی جلا کو اجاگر کیا اور ارشاد فرمایا کہ ‘اسلام اب بھی ایک زندہ قوت ہے جو ذہن انسانی کو وطن اور نسل سے آزاد کراسکتی ہے اسلام کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ مذہب کو فرد اور ریاست دونوں کی زندگی میں غیر معمولی حیثیت حاصل ہے تو پھر مجھے اگر یقین ہے تو آپ کو بھی یقین ہونا چاہیئے کہ ‘اسلام کی تقدیر خود اْس کے اپنے ہاتھ میں ہے اسلام کو کسی دوسرے کی تقدیر کے حوالے نہیں کیا جاسکتا اور یاد رہے صرف یہی وہ واحد بنیادی اور اہم ترین مسئلہ ہے جس کے مستقل حل پر اس امرکا دارومدار ہے کہ ہم لوگ آگے چل کر اپنی ملی وقومی حیثیت میں ایک ممتاز تہذیب کے حامل قرار پاسکیں گے’ یہاں تک پہنچنے کے بعد علامہ اقبال نے اپنی ایمانی فہمی بصیرت کا کْلی نکتہ پیش کرتے ہوئے فرمایا تھا’ اسلام پر ابتلاو آزمائش کا ایسا سخت اور کڑا وقت پہلے کبھی نہیں آیا ہے جیسا کہ آج ہمیں درپیش ہے’ یہ فرماکر علامہ اقبال نے جلسہ عام میں موجود ہر ایک مسلمان کی دھڑکتے ہوئے دلوں اور چلتی ہوئی نبضوں پر ہاتھ رکھ دیا اس وقت سننے والوں میں سے کم لوگوں نے اس اہم بنیادی نکتہ کے دوررس مضمرات پر دھیان دیا ہو گا یا اْس پر غور کیا ہوگا لیکن اتنا کچھ کہنے کے بعد اب ضروری ہوگیا تھا کہ مفکر پاکستان علامہ اقبالؒ برصغیر کے مسلمانوں اور اْن کی آئندہ نسلوں کی بقاء کیلئے اور اْن کے دینی اور قومی مسائل کا حل اْن کے سامنے پیش کرتے علامہ اقبالؒ نے اْن کے دلوں کی آواز سن لی اگلے ہی لمحہ میں الہ آباد کے تاریخ ساز جلسہ عام میں موجود مسلمانوں نے سنا علامہ قبال نے ہند کے مسلمانوں کے لئے ایک الگ وطن کا تصور پیش کرتے ہوئے ارشادفرمایا تھا ‘یہ نہ فراموش کیا جائے کہ ہند کی سرزمین میں ‘واحد جنس’ کی کوئی قوم رہتی ہے آپ جانتے ہیں کہ ہند مختلف اقوام کا وطن ہے جن کی نسلیں’جن کی زبانیں’جن کے ثقافتی اور سماجی اقدار جداجدا ہیں، ان حقائق اور عوامل پر غورکیا جائے تویہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ ‘ہند میں واحد جنس’ کی کوئی قوم نہیں ، پس یہ امر کسی طرح بھی مناسب نہیں ہے کہ مختلف سماجی وثقافتی اکاِیؤں کے وجود کا خیال کیئے بغیرمتحدہ ہند کے اندر ایک ‘مسلم ہند ریاست کا قیام’ ہوسکتا ہے؟ یہ ممکن نہیں ہوسکتا علامہ اقبالؒ نے اپنے اْٹھائے گئے منطقی استدلال کے جواب میں فرمایا ‘جی ہاں یہ نہیں ہوسکتا موجودہ زمینی حالات وواقعات میں ایسا کیوں نہیں ہوسکتا اب ذرا سوچیں کہ پنجاب’ سرحد’سندھ اور بلوچستان کوملاکر ایک مسلم ریاست کیوں نہیں بن سکتی؟لیکن مجھے تو ایسا ہوتا ہوا ممکن نظرآرہا ہے، آج نہیں تو کل خوشحال مغربی ہند اورمشرقی بنگال کے مسلمانوں کو بلاآخر ایک منظم اسلامی ریاست قائم کرنا ہی پڑے گی یہی حرف آخر ہے’جیسا ابتدا میں لکھا گیا کہ خطبہ آلہ آباد کے بنیادی نکات یعنی مسلمانوں کیلئے ایک علیحدہ ریاست کا تصور جہاں مسلمان اپنے دینی فرائض آزادانہ ماحول میں ادا کرسکیں، اپنے سیاسی وسفارتی اور معاشی فیصلوں کو بروئے کار لاسکیں، مفکر پاکستان علامہ اقبال نے اس کا دوٹوک فیصلہ آج سے کم وبیش89 برس پیش کردیا تھا یوں 1930 سے 23 مارچ 1940 تک 10 برس کے اس عرصہ میں مسلمانان ہند نے فیصلہ کرلیا 23 مارچ 1940 کو خطبہ الہ آباد کے فیصلہ کن اجلاس کی’’ قرارداد پاکستان‘‘ کی شکل میں مسلم لیگ نے مہرتصدیق ثبت کردی آج ہم بحیثیت پاکستانی ‘یوم پاکستان’ مناتے ہوئے ہم اپنے بزرگوں کے دوررس اور نتیجہ خیزفیصلوں کو خراج عقیدت پیش کرتے ہیں واقعی علامہ اقبال نے خطبہ الہ آباد میں علیحدہ مسلم ریاست کا’کلیدی نکتہ‘ پیش کرکے ہند کے مسلمانوں کی ترجمانی کا حق ادا کیا تھا چونکہ 1925 کو ناگپور میں ہندوقوم پرست تنظیم ‘راشٹریہ سوائم سیکوک سنگھ آرایس ایس قائم ہوچکی تھی علامہ اقبالؒ نے آرایس ایس کے متشدد ہندوتوا کے جنونی عزائم کے خطرات کو89 برس قبل بھانپ لیا تھا کہ انگریزوں کے واپس جانے کے بعد ہندواپنی عددی برتری کے زعم میں مسلمانوں پر زندگی بہت ہی اجیرن بنادیں گے کاش! مولانا ابوکلام آزاد حیات ہوتے اْن کے ہم عصر نظریہ پاکستان کے مخالف کیمپ میں جانے والے کانگریسی مسلمان زعما حیات ہوتے اور وہ ولبھ بھائی پٹیل جیسے انتہا پسند جنونی ہندوقائدین کے اندرچھپے ہوئے آرایس ایس کی سوچ رکھنے والے نام نہاد ‘سیکولروں’ کی بدنیتوں کو پہچان لیتے؟ کاش!اگر ہم یہ کہیں تو بے جا نہ ہوگا کہ ‘ ہند کے مسلمانوں کے لئے ایک علیحدہ مسلم ریاست کا تصور 1930 کے خطبہ الہ آباد میں علامہ اقبال نے اْس وقت پیش کیا تھا جب 1925 کو ناگپور میں آرایس ایس کی بنیاد رکھی جاچکی تھی جس نے قیام پاکستان سے اب تک مسلمانوں کو تقسیم ہند کی آڑ میں اور آزادی کے بعد سے تادم تحریر مسلم کش فسادات میں بڑی بیدردی اورسفاکی سے شہید کیا ہے حالات کی ستم ظریفی ملاحظہ فرمائیے آرایس ایس کے ہاتھ میں بھارت کی مرکزی حکومت کی باگ دوڑ ہے، بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناحؒ نے بھی مفکر پاکستان علامہ اقبال کی فکری پیش بندی کی نشاندہی کی 1937 میں علامہ اقبال کی وفات سے ایک برس قبل متشدد ہندو ذہنیت کا پردہ چاک کرتے ہوئے لکھنو کے اجلاس میں قائداعظم نے فرمایا تھا کہ’ ہند میں مسلمانوں کو ایک کامل متحدہ محاذ کے بینر تلے سچے نصب العین کے حصول کیلئے اپنے آپ کو منظم کرنا ہوگا ،تاکہ کانگریسی قائدین کی’ہندوذہنیت’بے نقاب ہوسکے کانگریسیوں کے طرز عمل سے ثابت ہوگیا ہے کہ’ہند صرف ہندووں کا دیش بنے گا’ قائداعظمؒ کے اعلان حق کے بعد ہند کے طول وعرض میں آزادی کی ہلچل بپا ہوگئی انگریزوں کے اقتدار کی چولیں ہل گئیں، قائد اعظم کی للکار نے مسلمانان ہند کی اکثریت کو ایک متحدہ قوت بنادیایوں مسلمان جوق درجوق اپنے رہبرکے ہمراہ سیلاب بلا کی مانند چلنے لگے، 14 اگست 1947 کو علامہ اقبال کا تصور پاکستان عالمی حقیقت بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرا اوردشمنان پاکستان اپنے ہاتھ ملتے رہ گئے ہندومتشدد تنظیم آرایس ایس کے ناپاک ارادوں‘منصوبوں اور ہند کے مسلمانوں کو غلام بنائے رکھنے کی سازشیں شروع ہونے سے قبل ہی منتشرہوگئیں۔

*****

Google Analytics Alternative