کالم

برطانوی اخبار ڈیلی میل کی’’ عجب کرپشن کی غضب کہانی ‘‘

پاکستان میں کرپشن اور منی لانڈرنگ کی کہانیاں زبان زدعام ہیں ، ایک کہانی ختم نہیں ہو پاتی کہ دوسری شروع ہو جاتی ہے، برطانوی اخبار ڈیلی میل نے توعجب کرپشن کی غضب کہانی بیان کی ہے جس میں متاثرین زلزلہ زدگان کی امداد کو بھی نہیں چھوڑا گیا اور اس نے الزام عائد کیا ہے کہ یہ پیسہ شہباز شریف نے منی لانڈرنگ کے ذریعے اپنے اکاءونٹ میں ٹرانسفر کرایا لیکن ن لیگ اس حوالے سے تردید کررہی ہے جبکہ خبر دینے والا صحافی اپنی خبر پر قائم ہے کیونکہ ایک اکاءونٹ اچانک جس میں ڈیڑھ لاکھ پاءونڈ ہوں وہ کروڑوں تک پہنچ جائے تو یقینی طورپر شکوک و شبہات پیدا ہوتے ہیں ۔ اب اس منی لانڈرنگ میں تو میاں برادران کا سارا خاندان ہی شامل ہوگیا ہے، داماد ،بیٹا ، شہبازشریف بھی، نواز شریف بھی اور ابھی تو پتہ نہیں کتنے کتنے رازوں سے پردہ واشگاف ہوگا ۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس کہانی کو اب منطقی انجام تک پہنچائے اور جس جس نے کرپشن کی ہے ان کے چہرے عوام کے سامنے لائے جائیں تاکہ ان سے لوٹا ہوا پیسہ ملکی خزانے میں واپس لایا جاسکے ۔ برطانوی اخبار نے شہباز شریف اور انکے اہل خانہ پر الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ کی جانب سے زلزلہ زدگان کو دی گئی 500ملین پاونڈز کی امداد میں سے لاکھوں پاونڈز چرا کر اپنے اکاءونٹس میں ڈلوالی، شہباز شریف اور انکے خاندان نے برطانیہ کی جانب سے ملنے والی امداد میں خردبرد کر کے لاکھوں پاونڈز منی لانڈرنگ کے ذریعے برطانیہ منتقل کئے ہیں ، شریف خاندان پہلے ہی کرپشن اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا کر رہا ہے ۔ اخبار کے مطابق 2003 میں شریف فیملی کی دولت ڈیڑھ لاکھ پاءونڈ (2 کروڑ 97 لاکھ روپے) تھی جو 2018 میں 20 کروڑ (39 ارب 72 کروڑ روپے)تک پہنچ گئی، اخبار کے مطابق زیر حراست برطانوی شہری آفتاب محمود نے شہباز خاندان کیلئے منی لانڈرنگ کی، داماد نے امداد کے فنڈ میں سے 10 لاکھ پاءونڈ (19 کروڑ 86 لاکھ روپے) وصول کیے، رقم برمنگھم بھیجی گئی بعد میں شہباز کے خاندانی اکاءونٹس میں منتقل کر دی گئی، 2005 سے 2012 کے درمیان ایرا کو 54 کروڑ پاءونڈ (10 ارب 71 کروڑ روے) امداد دی، بڑا حصہ علی عمران اور شہباز کو منتقل ہوا، واضح رہے کہ اسی برطانوی اخبار نے گزشتہ سال نواز اور انکے بیٹوں کو پینٹ ہاءوس قذاق قرار دیتے ہوئے 32 ملین پاءونڈ (6 ارب 35 کروڑ روپے) کی جائیداد کی تفصیلات دی تھیں ۔ دوسری جانب سلیمان شہباز کا کہنا ہے کہ برطانوی اخبار کی رپورٹ میرے خاندان کیخلاف سازش ہے ۔ برطانوی اخبار ڈیلی میل میں شاءع ہونے والی رپورٹ کے مطابق برطانیہ کے ادارہ برائے بین الاقوامی ترقی(ڈی ایف آئی ڈی) نے برطانیہ کے ٹیکس دہندگان کے پیسے سے شہباز شریف کی صوبائی حکومت کو 50کروڑ پاونڈز بطور امداد اس وقت دیے جب وہ پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے ۔ تحقیق کاروں کے مطابق ڈی ایف آئی ڈی نے یہ رقم سیلاب متاثرین کی بحالی اور دیگر امدادی سرگرمیوں کیلئے دی گئی تھی تاہم شہباز شریف اور ان کے اہل خانہ نے امدادی رقم میں سے لاکھوں پاونڈز کی خرد برد کی اور منی لانڈرنگ کے ذریعے لاکھوں پاونڈز برطانیہ منتقل کئے ۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ منتقل کی گئی رقم امدادی رقم سے چرائی گئی ۔ روزنامے نے دعویٰ کیا ہے کہ اس حوالے سے منی لانڈرنگ میں ملوث کئی افراد کے انٹرویوز کئے گئے ہیں جو ایک برطانوی شہری آفتاب محمود سمیت جیل میں بند ہیں ۔ رپورٹ کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے بدعنوانی اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے اعلی سطح کی تحقیقات کے دوران کرپشن ، خرد برد اور منی لانڈرنگ کا انکشاف ہوا ہے ۔ دوسری جانب ریکوڈک کیس میں بھاری جرمانے اور مالی نقصان کی تحقیقات کے لئے وزیر اعظم عمران خان نے کمیشن بنانے کی ہدایت کر دی ہے جبکہ پاکستان نے عالمی عدالت میں نظر ثانی درخواست دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ کمیشن تحقیقات کرے گا یہ صورتحال کیسے پیدا ہوئی اور پاکستان کو جرمانہ کیوں ہوا، کمیشن ملک کو نقصان پہنچانے والوں کا تعین بھی کرے گا ۔ واضح رہے انٹرنیشنل سینٹر فارسیٹلمنٹ ;200;ف انوسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے ریکوڈک کا معاہدہ منسوخ کرنے کی پاداش میں پاکستان پر 4 ارب 10 کروڑ روپے جرمانہ عائد کیا ہے جس پر ایک ارب 87 کروڑ ڈالر سود بھی ادا کرنا ہوگا ۔ عالمی بینک کے ثالثی ٹریبونل نے سات سال بعد ریکوڈک کیس کا فیصلہ سنا دیا ۔ ریکوڈک میں سونے اور تانبے کی تلاش کے لیے ٹیتھیان کمپنی کا لائسنس منسوخ کرنے پر پاکستان کو 59 لاکھ ڈالر ہرجانہ ادا کرناہو گا ۔ پاکستان ٹیتھیان کمپنی کو 58 لاکھ 40ہزار ڈالر ادا کرنے کا پابند ہے جس میں 17 لاکھ ڈالر سود بھی شامل ہے، 6 کروڑ 20لاکھ ڈالر سے زائد قانونی مدد میں بھی دینا پڑیں گے ۔ یاد رہے کہ 2011 میں چیف جسٹس پاکستان افتخار چوہدری نے ٹیتھیان کمپنی کا لائسنس منسوخ کیا تھا ۔ وزارات قانون کے ذراءع کے مطابق فیصلے کا جائزہ لیا جا رہا ہے اسی ٹربیونل میں نظر ثانی درخواست دائر کی جائے گی جس پر فیصلہ ;200;نے میں دو سے تین سال لگ سکتے ہیں ۔

کرتارپور راہداری مذاکرات;224224; مثبت پیشرفت

کرتارپور راہداری پر مذاکرات میں پیشرفت کے بعد امید کی جارہی ہے کہ دونوں ممالک میں تعلقات مزید بہتر ہوں گے اور قربتیں بھی بڑھیں گی جس سے خطے میں امن و امان قائم ہوسکے گا ۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان کرتارپور راہداری منصوبے پر مذاکرات میں اہم امور زیرغور ;200;ئے، بھارت سے ;200;نے والے سکھوں کیلئے کرنسی کی مقدار، رجسٹریشن اور ویزوں کی معیاد پر بات چیت ہوئی، منصوبے کے افتتاح کی تقریب کیلئے تاریخ کے تعین کے معاملے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا ۔ کرتاپور راہداری منصوبے پر پاکستان اور بھارت میں مذاکرات کا دوسرا را ونڈ واہگہ بارڈ پر ہوا، بارہ رکنی پاکستانی وفد کی قیادت ترجمان ڈاکٹر فیصل نے کی ۔ بھارت کی جانب سے جوائنٹ سیکرٹری داخلہ ایس سی ایل داس ;200;ٹھ رکنی وفد کے ہمراہ شریک ہوئے ۔ منصوبے کی تعمیر کیلئے پاکستان کی جانب سے سڑک کی تعمیر اوردریا ئے راوی پر پل کا کام بھی کافی حد تک مکمل ہو گیا ہے ۔ ڈاکٹر محمد فیصل نے مذاکرات شروع ہونے سے پہلے صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ وزیراعظم کی ہدایت اور وعدے کے مطابق پاکستان بابا گورونانک دیوجی کے 550 ویں جنم دن تک کرتار پور صاحب راہداری کو عملی شکل دینے کیلئے پرعزم ہے ۔ پاکستان کی حدود میں کام تیزی سے جاری ہے اور گوردوارہ کمپلیکس، ٹرمینل کی عمارت اور سڑک کا ستر فیصد سے زائد کام مکمل کرلیاگیا ہے ۔ کرتارپورراہداری مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے ، دونوں ممالک کے درمیان راہداری پر 80فیصدمعاملات طے پاچکے ہیں ، کرتارپورراہداری کھولنے کامقصدامن کاحصول ہے ۔ راہداری کے کھلنے کے بعد دونوں ممالک کے مابین جہاں قربتیں بڑھیں گی وہاں پر آپس میں تجارت بڑھنے کے ساتھ ساتھ کدورتیں ، خلش اور ایک دوسرے کیخلاف جو خیالات ہیں وہ بھی معدوم ہوں گے جب خطے کے حالات بہتر ہوں گے تو یقینی طورپر ترقی بھی ہوگی ۔ آخر کار پاکستان اور بھارت کب تک ایک دوسرے کے ساتھ کشیدہ ماحول میں زندگی بسر کرسکیں گے ۔ دنیا بھر کے ممالک ایک دوسرے کے قریب آرہے ہیں لیکن بھارت اس راستے پر آنے کیلئے تیار نہیں ، پاکستان نے ہمیشہ امن کی جانب قدم بڑھایا لیکن بھارت کو جب بھی موقع ملتا ہے تو وہ ڈسنے سے باز نہیں آتا ۔ دونوں ممالک کے مابین جو بھی مسائل ہیں ان میں مسئلہ کشمیر یا دیگر معاملات ہوں سب کے سب مذاکرات کے ذریعے ہی حل کیے جاسکتے ہیں ۔

پانی کے بغیر پنجاب سندھ کے زرخیز علاقے بنجر بن جائینگے

ماضی میں آبی ذخائر کی تعمیر بارے اہم منصوبوں اور سفارشات کی پروانہ کر کے مجرمانہ غفلت کی گئی اور نتیجتاً اب صاف نظر آرہا ہے کہ اگر موجودہ حکومت اور اس کے بعد آنے والی حکومتوں نے بھی اس اہم مسئلہ پر فوری توجہ نہ دی تو مستقبل میں ملک کےلئے خطرناک مسائل کھڑے ہوسکتے ہیں ۔ پنجاب اور سندھ کے زرخیز علاقے بنجر ہو سکتے ہیں ۔ ایک طرف ہ میں داخلی طور پرچند ناعاقبت اندیش اور ملک دشمن سیاستدانوں کی مخالفت کا سامنا ہے تو دوسری طرف ہمارا ازلی دشمن ملک بھارت ہ میں قدم بہ قدم معاشی طورپر تباہ کرنا چاہتا ہے ۔ وہ کافی عرصہ سے اسی ایجنڈہ پر کام کر رہا ہے ۔ ایک بھارتی اخبار کی رپورٹ کے مطابق ڈیمز نہ بنانے دینا پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے کی بین الاقوامی سازش ہے تاکہ وہ مکمل طورعالمی مالیاتی اداروں پر انحصارکرے ۔ بھارت سندھ طاس معاہدوں کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے ۔ اقوام متحدہ بھی کوئی کردار ادا کرنے کو تیار نہیں ۔ قیام پاکستان سے لے کر آج تک مسئلہ کشمیر حل نہ کروانا اسی سازش کا حصہ ہے کیونکہ دریائے جہلم، چناب،نیلم، وولر جھیل اور دریائے سندھ کا پانی کشمیر سے ہی آرہا ہے ۔ اسی لئے قائد اعظم نے کشمیر کو پاکستان کی شہہ رگ قرار دیا تھا ۔ ملک اس وقت ترقی کی راہ پر گامزن ہے اور اس ترقی کے عمل کو جاری رکھنے کے لئے ملک میں کم از کم چار آبی ذخائر کی تعمیر انتہائی ضروری ہے ۔ اس وقت صورتحال یہ ہے کہ ملک کے تین بڑے آبی ذخائر تربیلا ڈیم، منگلا ڈیم اور چشمہ میں ریت اور مٹی جمع ہونے کی وجہ سے پانی کے ذخائر کی گنجائش کم ہوتی چلی جا رہی ہے ۔ آئندہ برسوں میں بڑے آبی ذخائر تعمیر نہ کئے گئے تو اس کا ملک کو شدید نقصان پہنچے گا ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور اس وقت ملک میں زرعی پیداوار بڑھانے کی سخت ضرورت ہے ۔ پاکستان کی آبادی میں تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے ۔ پاکستان کی کھیتی باڑی کا بیشتر انحصار آبپاشی پر ہے ۔ آبپاشی کا نظام سندھ طاس کے نظام سے منسلک ہے ۔ 1951ء میں آبپاشی کےلئے 5650 کیوبک میٹر پانی دستیاب تھا جو اب کم ہو کر 400 کیوبک میٹر رہ گیا ۔ جس ملک میں ایک ہزار کیوبک میٹر سے کم پانی دستیاب ہو اسے قحط زدہ ملک سمجھا جاتا ہے ۔ اس لئے نئے ڈیموں کی تعمیر انتہائی ضروری ہے ۔ اگر اس وقت نئے ڈیم تعمیر نہ کئے گئے تو آئندہ نسلوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے پاکستان کو دریاؤں اور گلیشیئرز کی دولت سے مالا مال کیا ہے ۔ ان آبی وسائل سے بھرپور فائدہ اٹھانے کےلئے نئے ڈیم بنانے کی ضرورت ہے ۔ اگر کالاباغ ڈیم یا بھاشا ڈیم نہ بنایا گیا تو پاکستان پانی کی قلت کے مسئلے سے دوچار ہوجائے گا ۔ آبی وسائل کی ترقیاتی کونسل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ اگر فوری طور پرڈیموں کی تعمیر شروع نہ ہوئی تو ملک کو آگے چل کر بجلی اور پانی کے زبردست بحران کا سامنا کرنا پڑے گا اور ملک کو نا قابل تلافی نقصان پہنچے گا ۔ بھاشا ڈیم کا محل وقوع تربیلا ڈیم کے شمال میں دو سو میل پر ہے ۔ دریائے سندھ کو صرف برفباری کے ذریعے 50;776570; یعنی کروڑ ایکڑ فٹ پانی کی سالانہ دستیابی ہوتی ہے یہاں پر مون سون برسات کی پہنچ نہیں ہوتی ۔ ڈیم کے ڈیزائن اور پیرا میٹر جو ماضی میں استعمال کئے گئے تھے انہیں مخصوص وجوہ کی بنا پر از سرنو تبدیل کر دیا گیا مثلاً اب ڈیم کی اونچائی 908 فٹ ہے پہلے یہ 680 فٹ تھی ۔ قابل استعمال ذخیرہ ;776570; 7;46;34 یعنی 73 اعشاریہ 4 لاکھ ایکڑ فٹ کی بجائے 5;46;7;776570; یعنی 57 لاکھ ایکڑ فٹ مکمل کرنے کی مدت سات سال کی بجائے دس سال کردی گئی ہے ۔ بجلی بنانے کی قوت 3360 ;7787; یعنی 3 ہزار 3 سو 60 میگا واٹ ہے ۔ بھاشا کنکریٹ گریویٹی ڈیم جس کی اونچائی 908 فٹ ہوگی جو ماڈرن ٹیکنالوجی کے مطابق ہوگا ۔ اس وقت پنجاب سندھ اور بلوچستان تینوں صوبے پینے کے صاف پانی سے محروم ہیں ۔ جبکہ زراعت کےلئے پورا ملک پانی کی قلت کا شکار ہے اور ہماری آبادی جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کے مطا بق اگر ہم نے اب بھی نئے آبی ذخائر بنانے کی جانب توجہ نہ کی تو آنے والے چند برسوں میں ملک قحط کا شکار ہوجائے گا اور زمینیں بنجر ہوجائیں گی ۔ ہماری بد قسمتی یہ ہے کہ ہم نے پانی کا بحران دور کرنے کے بجائے بڑے ڈیم کی تعمیر جیسے فنی اور آبی مسئلہ کو ایک سیاسی ایشو بنا دیا ہے ۔ حالانکہ ہم بجلی اور پانی کی شدید قلت سے دوچار ہیں ۔ پانی اور بجلی کی فراہمی ہماری قومی ترقی و خوشحالی کےلئے سب سے زیادہ اہم ہے مگر ہم بذات خود اپنی ترقی اور خوشحالی کی راہ میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کر رہے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہماری یہ قومی بے حسی اور مجرمانہ غفلت دور کرے اور ہ میں صراط مستقیم پر چلنے اور قومی ترقی کےلئے اپنی ترجیحات کا صحیح تعین کرنے کی ہمت اور توفیق عطا کرے ۔ اب ڈیموں کی تعمیر میں مزید تاخیر کی قطعاً گنجائش نہیں ۔

بھارتی دہشت گردی کے دستاویزی شواہد !

ہندوستانی حکمرانوں نے توسیع پسندی پر مبنی جو پالیسی عرصہ دراز سے اپنا رکھی ہے وہ ایسا کھلا راز ہے جس کی بابت غالباً ہر ذی شعور بخوبی آگاہ ہے ۔ اسی تناظر میں ماہرین نے رائے ظاہر کی ہے کہ اسے جنوبی ایشیاء کی بدقسمتی قرار دیا جائے یا حالات کی ستم ظریفی کہ تمام جنوبی ایشیائی ممالک کی زمینی یا سمندری حدود بھارت سے متصل ہیں جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے دہلی سرکار کی ہمیشہ سے یہ شعوری کوشش اور خواہش رہی ہے کہ جنوبی ایشیاء میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہ ہو سکے اور تمام ہمسایے کسی نہ کسی طور بھارت کے دستِ نگر رہیں ۔ اپنی اسی توسیع پسندانہ حکمت عملی کے تحت ایک طویل عرصے تک سری لنکا بھارتی سازشوں کا مرکز رہا اور سری لنکا کے علاقے ’’جافنا‘‘ کو لے کر بھارت نے دہشتگردی کے سلسلے کو بے پناہ طوالت دی ۔ بعد ازاں سری لنکا میں ’’انڈین پیس کیپنگ فورس‘‘ کے نام پر بھارت نے باقاعدہ اپنی فوج داخل کر دی اور اس کے بعد ہونے والے واقعات و حوادث تاریخ کا ایک اہم باب ہیں ۔ یہ امر بھی کسی سے پوشیدہ نہیں کہ اپنی ہی بھڑکائی ہوئی اس آگ کے نتیجے میں غالباً مکافات عمل کا شکار ہو کر سابق بھارتی وزیراعظم ’’راجیو گاندھی‘‘ بھی دہشتگردی کی نذر ہو گئے ۔ اس کے بعد بھی ایل ٹی ٹی ای اور تامل ٹائیگرز کے ذریعے یہ خطہ کسی نہ کسی طور متاثر ہوتا چلا آیا ہے ۔ پاکستان کے خلاف بھارتی ریشہ دوانیوں کا سلسلہ تو اتنا دراز ہے کہ اس کا مکمل طور پر احاطہ کر پانا ممکن نہیں ۔ کشمیر سنگھ، فقیر چند، کرنل پروہت ، سادھوی پرگیہ ٹھاکر، سوامی اسیم آنند، میجر اپادھیا اور راجیو ورما جیسے کئی دہشتگردوں کے ذریعے پاکستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوششیں عرضہ دراز سے جاری ہیں ۔ دوسری طرف اپنے چھوٹے ہمسایے مالدیپ کے خلاف بھارت نے جس طرح فوج کشی کی ، وہ بھی بھارتی تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے اور یہ سلسلہ تاحال جاری ہے ۔ پھر سابقہ مشرقی پاکستان میں تو دہلی سرکار نے اپنی فوج کشی کر کے پاکستان کو دولخت کر دیا اور اس کا اعتراف اندرا گاندھی سے لے کر مودی، واجپائی ، حسینہ واجد اور ہر چھوٹے بڑے بھارتی حکمرانوں نے فخریہ طور پر کیا اور اس کی تفصیلات ساری دنیا پر عیاں ہےں ۔ جون 2015 کے پہلے ہفتے میں مودی نے دورِ ڈھاکہ کے دوران پاکستان کی بابت جو زہر اگلا تھا وہ بھی ریکارڈ کا حصہ ہے ۔ علاوہ ازیں 1987-88 میں نیپال کی اقتصادی ناکہ بندی کی گئی ۔ اس کے علاوہ نیپال میں نئے آئین کے نفاذ کے حوالے سے بھارت نے چند روز قبل کھلی اشتعال انگیزی پر مبنی جو رویہ اختیار کیا اس کی مذمت کے لئے الفاظ ڈھونڈ پانا بھی شاید ممکن نہیں ۔ بھوٹان میں بھی اکثر و بیشتر بھارت اپنی شرائط منواتا چلا آیا ہے ۔ دوسری طرف اس معاملے کی تفصیلات کا جائزہ لیتے مبصرین نے کہا ہے کہ 2016 کے سارک سربراہ اجلاس کو بھی بھارت نے پاکستان پر بے بنیاد الزمات لگا کر ان کی آڑ میں سبوتاژ کر دیا تھا ۔ اپنی خفیہ ایجنسی را، آئی بی اور کابل میں بھارتی مہرے این ڈی ایس کے ذریعے بلوچستان ، کے پی کے اور پاکستان کے دیگر علاقوں میں دہشت گردی کو ہر ممکن ڈھنگ سے پروان چڑھانے کی سعی کی جا رہی ہے اور ان معاملات کے دستاویزی ثبوت پاکستان کی جانب سے ایک سے زائد بار دنیا کے سامنے لائے گئے ہیں ۔ اس سلسلے میں بھارتی دہشتگرد کلبھوشن یادو کے ذریعے جس طرح خود بھارتی ایجنسیاں دہشتگردی کو پروان چڑھا رہی تھیں ، وہ بھی سب کے سامنے آ چکا ہے ۔ علاوہ ازیں مودی نے اجیت ڈووال کو اپنے دوسرے دور حکومت میں بھی فوری طور پر دوبارہ بھارتی نیشنل سیکورٹی ایڈوائرز تعینات کیا اور مکمل وفاقی وزیر کا درجہ بھی دے دیا، تمام انڈین میڈیا انھیں بھارتی جیمز بانڈ قرار دے رہا ہے ۔ علاوہ ازیں مہندر سنگھ دھونی کو اعزازی کرنل کا درجہ بھی عرصہ دراز سے دے رکھا ہے ۔ یہاں یہ امر بھی قابلِ توجہ رہنا چاہیے کہ دہلی کے حکمرانوں نے گوا ،دکن حیدرآباد، مناور، جوناگڑھ ، سکم اور مقبوضہ کشمیر کو ہڑپ کیا اور جنوبی تبت (مقبوضہ ارونا چل پردیش) میں اشتعال انگیزیوں پر مبنی جو پالیسی اپنا رکھی ہے اس میں بھی گاہے بگاہے شدت آتی رہی ہے ۔ اس سے بخوبی اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دہلی کے حکمران اپنے سارے چھوٹے اور بڑے ہمسایوں کے ساتھ قیام امن کی بابت ذرا بھی مخلص نہیں اور وہ خطے میں اپنی بالا دستی پر مبنی پالیسیاں اپنی شرائط پر آگے بڑھانے کا مکروہ عمل جاری رکھنے کی سعی کر رہے ہیں ۔

دولت کی غیر مساویانہ تقسیم

اگر ہم موجودہ دور میں عالمی اور پاکستان کے مسائل پر نظر ڈالیں تو وہ بُہت سارے ہیں مگر ان میں جو سب سے اہم مسئلہ بھوک اور افلاس ہے ۔ اگر عالمی شما ریات پر طا ئرانہ نظر ڈالی جائے تو اس سے یہ بات ظاہر ہے کہ دنیا کے 6 ارب لوگوں میں ایک ارب لوگ خوراک نہ ہونے کی وجہ سے متا ثر ہو رہے ہیں ۔ جن میں 98 فی صد لوگ ایشیاء میں سکونت پذیرہیں ۔ بالفا ظدیگر کرہ ارض پر 6ارب انسانوں میں سے ایکارب بھوک اور افلاس کا شکار ہے ۔ اگر ہم افریقی ممالک پر نظر ڈالیں تو افریقی ممالک میں بھوک اور افلاس کی شرح اور بھی زیادہ ہے یعنی وہاں پر 4 میں سے ایک انسان انتہائی بھوک اور افلاس کا شکار ہے ۔ بد قسمتی سے ترقی پذیر ممالک میں 100 ملین بچے کم وزن کے پیدا ہوتے ہیں ۔ اور 66 ملین سکول کے ایسے بچے بھی ہیں جنکو مناسب خوراک کی عدم دستیابی کا سامنا ہے ۔ اگر ہم نے ان 66 ملین یعنی 6;46;6 کروڑ بچوں کو مناسب خوراک دینی ہے تو اس کام کے لئے 3;46;2 ارب ڈالر درکار ہوں گے ۔ اگر ہم غُربت کو ایک ڈالر کی شرح سے تصور کر تے ہیں تو جنوبی ایشیاء جو ڈھائی ارب لوگوں کا مسکن ہے اور جس میں بھارت، پاکستان ، نیپال، سری لنکا، بھوٹان، مالدیپ شامل ہیں تو اس وقت بھارت میں 44 فیصد لوگ خطر ناک غُربت کی سطح سے نیچے رہنے پر مجبو ر ہیں ، نیپال میں 38 فیصد ، پاکستان میں 31 فیصد، اور بنگلہ دیش میں 29 فیصد لوگ با لفاظ دیگر 6 ارب انسانوں کی آبادی میں 1;46;4 ارب انسان انتہائی غُربت کا شکار ہے ۔ اگر ہم غُربت کی شرح کو دو ڈالر کی تناسب سے کرتے ہیں تو پھر چین میں غُربت کی لکیر سے نیچے رہنے لوگوں کی تعداد 30 فی صد، بنگلہ دیش میں 77 فیصد، بھارت میں 69 فیصد، سری لنکا میں 29 فیصد ، نیپال میں 57 فیصد فلپائن میں 41 فیصد اور پاکستان میں 70 فیصد لوگ انتہائی غُر بت کا شکار ہے ۔ دنیا کا دوسرا بڑا مسئلہ خو راک کا ضیاع ہے ۔ یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ دنیا میں خوراک بڑی وافر مقدار میں ضائع ہو تی ہے ۔ امریکہ خوراک ضائع ہو نے کی فی کس شرح 760 کلوگرام ، آسڑیلیا میں 690 کلوگرام فی کس، ڈنمارک میں 660 کلوگرام فی کس، سوئزر لینڈ میں 650 کلوگرام فی کس اور ہالینڈ میں 610کلوگرام سالانہ خوراک فی کس ضائع کیا جا رہا ہے ۔ اگر ان خوراک کو ضا ءع ہونے سے بچایا جائے تو اس سے اُن غریبوں کی خوراک کی ضرو ریات پو ری کی جا سکتی ہیں جو خوراک کی کمی کا شکار ہیں ۔ اقوام متحدہ کے مطابق پو ری دنیا میں ایک تھائی خوراک ضائع کیا جا رہا ہے ۔ اگر ہم غذا کی سیکیو رٹی یعنی ذخیرہ کرنے کے نظام کو دیکھیں تو پاکستان اپنی ضروریات کا خوراک ذخیرہ کرنے والے 105 ممالک میں 77ویں نمبر پر ہے جبکہ اسکے بر عکس سری لنکا خوراک ذخیرہ کرنے والے ممالک میں 105 ممالک میں 60 ویں نمبر پر ، بھارت 67 ویں نمبر پر شامل ہے جبکہ اسکے بر عکس ترقی یافتہ ممالک میں امریکہ خوراک ذخیرہ کرنے والے ممالک میں پہلے نمبر پر ، کنیڈ ا 7 ویں نمبر پر، اور بر طانیہ 15 ویں نمبر پر ہے ۔ تیسرا بڑا مسئلہ جس سے پوری دنیا پریشان ہیں وہ غریب اور امیر کے درمیان فر ق ہے ۔ آج کل دنیا میں 10 فیصد مالداروں کے پاس 90 فیصد دولت ہے جبکہ 90 فی صد لوگوں کے پاس 10 فی صد ہے ۔ دنیا میں موجودہ سرمایہ دارانہ نظام کی وجہ غریب اور امیر کے درمیا فر ق حد سے بڑھ گیا اور بد قسمتی سے پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں بھی غریب اور امیر کے درمیان حد سے بڑھ گیا ۔ یا تو لوگ حد سے زیادہ امیر ہے اور یا حد سے غریب ۔ موجودہ دور میں درمیانہ اور سفید پو ش طبقہ آخری سانسیں لے رہاہے ۔ اگر ہم پاکستان میں غُربت بھوک اور افلاس کو دیکھیں تو ان مسائل میں پاکستان کی فضول پالیسیاں ، کرپشن اور بد عنوانی، زمینوں کی نامناسب تقسیم، ملاک جمع کر نے کی سعی، علم اور تعلیم کی کمی، بڑے پیمانے پر امپورٹ ، لیڈر شپ کی کمی اور نج کا ری جیسے مسائل شامل ہیں ۔ دنیا میں غُربت افلاس اور بھوک کا سب سے بڑا مسئلہ دولت کا غیر مساویانہ تقسیم ، غیر پیداواری اخراجات اور کسی حد تک دفا عی اخراجات بھی ہیں ۔ سی آئی اے اور دوسرے مقتدر اداروں کے مطابق دنیا میں ٹوٹل دفا عی اخراجات تقریباً 1747 بلین ڈالر ہے جس میں سب سے زیادہ دفا عی اخراجات امریکہ کی ہے جو اپنی دفا ع پر تقریباً 700 بلین ڈالر خر چ کر رہا ہے ۔ جبکہ بر طانیہ کی دفا عی اخراجات 60 ارب ڈالر، جاپان کی 56ارب ڈالر، چین کی 166 ارب دالر اور روس کی دفا عی اخراجات 90 ارب ڈالر ہے ۔ اور پاکستان جیسے غریب ترقی پذیر ملک بھی دفا ع 7 ارب ڈالر سالانہ خرچ کررہا ہے ۔ اگر ہم مندر جہ بالا دفاعی اخرا جات پر نظر ڈالیں تو اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ دنیا کے سارے ممالک اپنے وسائل کا ایک بڑا حصہ دفا ع پر فضول خرچ کر رہا ہے جو ایک پاگل پن کے علاوہ کچھ بھی نہیں ۔ لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ ہ میں مندرجہ بالا فضول معاملات سے اپنے آپکو بچا نا چاہئے اور پو ری توجہ لوگوں کے س مسائل اور بالخصوص بھوک افلاس کو ختم کرنے پر دینا چاہئے ۔ اس کے علاوہ جب تک غریب اور امیروں کے درمیان فرق کو کم نہیں کیا جائے گا اُ س وقت تک غُربت ، بھوک اور افلاس پر قابو نہیں پایا جاسکتا ۔ میں اس کالم کے تو سط دنیا کے ہر مذہب کے عالموں ، سکالروں ، شاعروں ، ادیبوں ، دانا لوگوں ، اہل علم و دانش سے استد عاکرتا ہوں کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں پریشر گروپ بنائیں اور حکومتوں کو اس بات پر مجبور کریں کہ وہ اپنے علاقائی مسائل بات چیت کے ذریعے حل کریں اور دفاع اور دوسرے غیر پیداواری چیزوں پر جو رقم خرچ کر رہے ہیں اُنکو اپنے لوگوں کے فلا ح و بہبود پر خرچ کریں ۔ تاکہ دنیا میں امن آشتی کو فروع ہو ۔ جب تک دنیا میں امن نہیں ہوگا اُس وقت تک ترقی ناممکن ہے ۔ مسلمان ممالک سے استد عا ہے کہ وہ اپنے ممالک میں اسامی اقتصادیاتی نظام اور بینکاری کو فروع دیں کیونکہ اسلامی نظام اقتصادیات میں سارے اقتصادی مسائل کا حل موجود ہے ۔ دنیا کا کوئی اور اقتصادی نظام دنیا میں اقتصادی خو شحالی کی گا رنٹی نہیں دے سکتا ۔

کلبھوشن کسی ریلیف کا حقدار نہیں

عالمی عدالت انصاف پاکستان میں گرفتار بھارتی جاسوس کمانڈر کلبھوشن یادیو کے کیس کا فیصلہ کل 17جولائی کو سنانے جا رہی ہے ۔ بلوچستان سے گرفتاری اورملٹری کورٹ سے سزائے موت سنائے جانے کے بعد بھارت کلبھوشن کو بچانے کیلئے اس معاملے کو ;200;ئی سی جے میں لے گیا جہاں کیس کی سماعت رواں سال کے ;200;غاز میں 18 فروری سے 21فروری تک جاری رہی ۔ بھارت نے کلبھوشن کو پھانسی دینے کے پاکستانی فیصلے کے خلاف اور ان تک سفارتی رسائی کے لیے اپیل کر رکھی ہے ۔ 18 فروری کو بھارت نے کلبھوشن کیس پر دلائل کا ;200;غاز کیا اور19فروری کو پاکستان نے اپنے دلائل پیش کیے ۔ 20 فروری کو بھارتی وکلا نے پاکستانی دلائل پر بحث کی اور21 فروری کو پاکستانی وکلا نے بھارتی وکلا کے دلائل پر جواب دیئے جبکہ سماعت مکمل ہونے کے بعد عالمی عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا تھا ۔ اب پانچ ماہ بعد کیس کا فیصلہ کل سنایا جائے گا ۔ عالمی عدالت انصاف کا قیام 1945 میں اقوام متحدہ کے وجود میں ;200;نے کے فوری بعدعمل میں لایا گیا جس کا بنیادی مقصد دو ممالک کے درمیان قانونی معاملات کو حل کرانا ہے ۔ اگر اس بنیادی نکتے کو دیکھا جائے تو کلبھوشن کیس پہلے دن ہی ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا جانا چاہئے تھا ۔ یہ عدالت نہ تو تحقیقات کا حق رکھتی ہے اور نہ خود مختار ریاستوں کے اقدام پر سماعت کر سکتی ہے ۔ تاہم یہ ایک الگ سوال ہے کہ ایسا کیوں ہوا ۔ ہالینڈ کے شہر دی ہیگ میں قائم یہ عدالت15ججوں پر مشتمل ہے جن کا تعلق چین، سلواکیہ ،فرانس، مراکش، برازیل، اٹلی، یوگینڈا، بھارت، جمیکا، ;200;سٹریلیا، روس، لبنان، جاپان اور بلجیم سے ہے ۔ عبدالقوی احمد یوسف عالمی عدالت انصاف کے صدر ہیں ان کا تعلق صومالیہ سے ہے جبکہ چین سے تعلق رکھنے والے زیو ہینجن اسکے نائب صدر ہیں ۔ تمام ججز نو سال کے لیے منتخب ہوتے ہیں ۔ فیصلہ ;200;ئی سی جے کے صدر جج عبدالقوی احمد یوسف سنائیں گے ۔ کیس اور اس کا فیصلہ دونوں ممالک کےلئے اہم ہے ۔ اگر اس کا فیصلہ بھارت کے خلاف ;200;یا جسکے کافی امکانات ہیں تو بھارت کی ساکھ کو شدید دھچکا لگے اور اس پر یہ ثابت ہو جائے گا کہ وہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی کے پیچھے ریاستی طور پر ملوث ہے ۔ جہاں تک دوسرے امکان کلبھوشن کو رہا کرنے کا ہے تو ایسا ممکن نہیں ہے کیونکہ اسے تحقیقات کا اختیار نہیں ، اور نہ اس کیس میں ایسا کیا گیا ہے ۔ ہاں البتہ عدالت سفارتی رسائی کا حکم دے سکتی ہے اگر عدالت ایسا کرتی ہے تو یہ بھی جانبداری کے زمرے میں ;200;ئے گا اور فیصلہ متنازعہ سمجھا جائے گا ۔ بھارتی خفیہ ایجنسی ’را‘ کے جاسوس کلبھوشن یادیوپر دہشت گردی کا جرم ثابت ہوا ہے اور ویانا کنونشن کے تحت ;200;ئی سی جے کو یہ اختیار بھی نہیں ہے،تاہم ایسا فیصلہ ;200;تا ہے تو پاکستا ن اس کا احترام کرے گا ۔ کلبھوشن کو مارچ 2016 میں بلوچستان کے علاقے ماشکیل سے اسے گرفتار کیا گیا تھا جو کچھ مقامی دہشت گردوں کے ساتھ مل کر ایک نیٹ ورک چلا رہا تھا ۔ ;39;را;39; ایجنٹ کی گرفتاری کے چند روز بعد اس کی ویڈیو بھی سامنے لائی گئی تھی، جس میں کلبھوشن یادیو نے اعتراف کیا تھا کہ اسے 2013 میں خفیہ ایجنسی ;39;را;39; میں شامل کیا گیا اور وہ اس وقت بھی ہندوستانی نیوی کا حاضر سروس افسر ہے ۔ کلبھوشن نے یہ بھی مانا تھا کہ 2004 اور 2005 میں اس نے کراچی کے کئی دورے کیے جن کا مقصد ;39;را;39; کے لئے کچھ بنیادی ٹاسک سرانجام دینا تھا جب کہ 2016 میں وہ ایران کے راستے بلوچستان میں داخل ہوا ۔ پاکستان میں داخل ہونے کا مقصد فنڈنگ لینے والے بلوچ علیحدگی پسندوں سے ملاقات کرنا تھا ۔

یادیو ایک دہشت گرد ہے اور پاکستان کی فوجی عدالت (ان عدالتوں کو ;200;ئینی تحفظ حاصل تھا) میں یہ چیز ثابت ہونے کے بعد پاکستان ;200;رمی ایکٹ کے تحت 10 اپریل کویادو کو پھانسی کی سزا سنائی گئی ۔ کلبھوشن کے پاس حسین مبارک پٹیل کے نام سے پاسپورٹ موجود تھا جسکے اصل ہونے کی برطانیہ کا فرانزک ادارہ تصدیق کر چکا ہے ۔ اسی پاسپورٹ یادیو نے حسین مبارک پٹیل کے نام سے 17بار دہلی کا فضائی سفر کیا ۔ بھارت ویانا کنونشن کے معاہدوں کے تحت سفارتی رسائی کی بات کرتا ہے تو کسی دوسرے ملک میں جاسوس بھیجنا بھی ویانا کنونشن کی خلاف ورزی ہے ۔ ویانا کنونشن کے مطابق کسی بھی ملک میں جاسوسی کرنے والے اور ملکی سیکورٹی کے لیے خطرہ بننے والے کو سفارتی رسائی نہیں دی جاتی ۔ بھارت کلبھوشن کے اعترافات کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار نظر ;200;یا، اس نے کلبھوشن کی رہائی کے لیے پاکستان پر دباءو ڈالا الزامات ا ور دھمکیوں کا سلسلہ شروع کیا مگر پاکستان کسی دباءو کو خاطر میں نہ لایا اورعالمی عدالتِ انصاف میں پوری تیاری اور مہارت سے کیس لڑا ہے ۔ اس کیس کا عالمی عدالت میں لڑے جانے کا یہ بھی فائدہ ہوا کہ بین الاقوامی پلیٹ فارم پربھارت کا صل چہرہ کھل کر سامنے آیا کہ بھارت کس طرح پڑوسی ممالک میں دہشت گردی کو فروغ دینے میں مصروف ہے ۔ اس حوالے سے بھارت کا ٹریک ریکارڈ خراب ہے ۔ سری لنکا میں ہونے والی دہشت گردی کئی سال تک بھارتی سرزمین استعمال ہوتی رہی ۔ سربجیت سنگھ اور کشمیر سنگھ جیسے دہشت گرد جاسوس بن کر پاکستان بھیجے جاتے رہے ۔ کبھی سندھی قوم پرستوں اور کبھی بلوچ قوم پرستوں کے سر پر ہاتھ رکھا جاتا رہا ،ان دنوں پی ٹی ایم اس کی کٹھ پتلی پتلی بنی ہوئی ہے ۔ کلبھوشن کے نیٹ ورک پکڑے جانے کے بعد بلوچستان میں دہشت گردانہ سرگرمیوں واضح کمی آئی اور بھارت کے عزائم پر پانی پھر گیا ہے ۔ کیس میں پاکستان کا پلڑا بجاطور پر بھاری نظر ;200;تا ہے ۔ بھارتی وکلابہت سے سوالات کا جواب نہ دے سکے ۔ بھارت یہ بتانے میں ناکام رہاہے کہ کلبھوشن کا اصل نام کیا ہے کلبھوشن یادیو یا مبارک حسین پٹیل ۔ اسی طرح شروع شروع میں وہ یہ ماننے کو بھی تیار نہیں تھا کہ کلبھوشن ایک حاضر سروس کمانڈڑ ہے ۔ امید ہے کہ فیصلہ پاکستان کے حق میں ;200;ئے گا جس سے کلبھوشن کی سندھ، بلوچستان میں کاروائیوں کے متاثرہ خاندانوں کو انصاف مل سکے گا ۔ اقوام متحدہ کے قانون94کے تحت عالمی عدالت انصاف کا فیصلہ حتمی تصور کیا جاتا ہے اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جاسکتی تاہم کوئی بھی فریق فیصلے کے دائرہ کار کو چیلنج کرسکتا ہے جس کی عدالت کو تشریح کرنا پڑے گی ۔

ہڑتالیں مسئلے کا حل نہیں ،معاملہ مل بیٹھ کر حل کیا جائے

وزیر اعظم عمران خان نے اپنے ٹوءٹربیان میں جس کرب کا اظہار کیا ہے اس کی ایک جھلک گزشتہ روز کی شٹر ڈاوَن ہڑتال اور حالیہ دنوں میں سامنے آنے والی ججز ویڈیو سکینڈل میں دیکھی جا سکتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا کہ جس طرح سسلین مافیا بیرون ملک جمع اربوں روپے بچانے کیلئے ریاستی اداروں پر دباءو ڈال رہاہے،اسی طرز پر پاکستانی مافیا بھی رشوت ، بلیک میلنگ اور دھمکیوں کے ہتھکنڈے استعمال کر رہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستانی مافیا منی لانڈرنگ کے ذریعے بیرون ملک جمع کی گئی اربوں مالیت کی دولت کو تحفظ دینے کیلئے ریاستی اداروں اور عدلیہ پر دباوَ ڈال رہا ہے‘ ۔ یہ ایک انتہائی خطرناک صورتحال ہے کہ ایک ایسے وقت میں جب ملک کو شدید معاشی بحران کا سامنا ہے اور حکومت کو ناچار ;200;ئی ایم ایف سے مزید بیرونی قرض اٹھانا پڑا ہے ملک کی کاروباری سرگرمیاں تاجروں نے ہی معطل کر کے ٹیکس کلچر کے فروغ میں رکاوٹیں کھڑی کر نے کی کوشش کی ہے ۔ یہ ایک نا مناسب رویہ ہے جس سے ملکی معیشت پرمزید منفی اثر پڑے گا ۔ گزشتہ روز کی ہڑتال اگرچہ جزوی رہی اور زیادہ تر تجارتی مراکز علامتی شٹر ڈاوَن کے بعد کھلے رہے مگر تشویش کی بات یہ ہے کہ ;200;خر کب ملک میں ٹیکس کلچر جڑ پکڑ پائے گا ۔ حکومت کی طرف سے ٹیکسز اور تجارتی سرگرمیوں کو دستاویزی شکل دینے کے خلاف آل پاکستان انجمن تاجران جانب سے ہڑتال کی کال دی گئی تھی ۔ پاکستان میں موجودسینکڑوں تاجر تنظی میں اور لاکھوں تاجر ریٹیل شعبے سے وابستہ ہیں اور ان میں سے بعض نے اس ہڑتال پر سخت موقف اپنایا توبعض نے اس میں حصہ نہ لینے کا اعلان کیا ۔ تاہم ناقدین نے اس ہڑتال کو تاجروں کی حکومت کو بلیک میل کرنے کی کوشش قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ یہ عمل انکم ٹیکسز سے بچنے کےلئے معیشت کو بغیر دستاویزات سے رکھنے کا حربہ ہے ۔ تاجر برادری کو اپنے اس رویے پر نظر ثانی کرنا پڑے گی اور حکومت بھی ان کے جائز خدشات کو ایک بار پھر دور کرنے کی کوشش کرے ۔ اس سے کون ;200;گاہ نہیں کہ ایک دن کی ہڑتال سے اربوں روپے کا نقصان ہوتا ہے اور تمام معاشی اشاریے گرنے لگتے ہیں ۔ ملک پہلے ہی اربوں ڈالر کا مقروض ہے، بیشتر ملکی اثاثے گروی رکھے جا چکے ہیں اور ڈیفالٹ کا خطرہ ہر وقت سروں پر منڈلاتا رہتا ہے ۔ ابھی گزشتہ روز ہی ایک عالمی عدالت میں چلنے والا ریکوڈیک کیس کا فیصلہ بھی پاکستان کے خلاف سامنے ;200;یا ہے جس میں پاکستان کو چھ ارب ڈالر جرمانہ عائد کیا گیا ہے ۔ ورلڈ بینک گروپ کے 5 اداروں میں سے ایک انٹرنیشنل سینٹر برائے سیٹلمنٹ ;200;ف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس نے ریکوڈک کیس میں پاکستان کےخلاف 5;46;976 ارب ڈالر ہرجانہ ادا کرنے کا حکم دیا ہے ۔ ٹیتھیان کاپر کمپنی (ٹی سی سی)کی انتظامیہ نے اس کیس11;46;43 ارب روپے کے نقصانات کا دعویٰ کیا تھا ۔ کمپنی کی جانب سے یہ دعویٰ بلوچستان حکومت کا کمپنی کے لیے لیزنگ درخواست مسترد ہونے کے بعد ;200;ئی سی ایس ;200;ئی ڈی میں 2012ء میں دائر کیا گیا تھا ۔ پاکستانی حکومت اور عالمی کمپنی کے درمیان یہ کیس 7 سال تک جاری رہا تھا ۔ ٹربیونل کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ آف پاکستان معاہدے کو کالعدم کرتے ہوئے بین الاقوامی قوانین سے نابلد تھی اور ان کے پاس پیشہ وارانہ مہارت بھی نہ تھی ۔ اگر پاکستان یہ ادائیگی نہ کر پایا تو پاکستان کے بیرون ملک اثاثے ضبط ہو سکتے ہیں ۔ اس صورتحال کا تقاضہ ہے کہ ملکی معیشت کی بہتری کے لئے سب کو مل کر اقدامات اُٹھانے چاہئیں ۔ ساتھ ہی ہم سب پر بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ صرف ملک کی خاطرمشکل فیصلوں حکومت کے ساتھ کھڑے ہوں اور مفادات کے اسیروں سے کنارہ کریں ۔ یہاں بڑے بڑے مافیا ملک کو جونکوں کی طرح چمٹے ہوئے ہیں ۔ یہ فیصلہ اب کرنا ہوگا کہ ان جونکوں سے کس طرح نجات حاصل کرنی ہے ۔ وزیر اعظم نے اپنی ٹویٹ میں جو تصویر کشی کی ہے وہ درست ہے ۔ انہوں نے سابق اطالوی صدر کی تصویر بھی لگائی ہے جنہوں نے یہ کہا تھا کہ مافیا ریا ست کو بلیک میل کر رہا ہے ۔ انہوں سابق صدر نیپلی ٹانو کے عدالتی بیان کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ اطالوی سرکاری زعما نے کس طرح ساز باز کر کے 20سال قبل بم دھماکوں میں مافیا کا ساتھ دیا، بم دھماکے میں 21 معصوم افراد کےساتھ مافیا مخالف جج بھی مارے گئے تھے ۔ وزیراعظم عمران خان نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے فرمان کا حوالہ بھی اور لکھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ کسی ملک کی تباہی اور بربادی کا اصل سبب غربت ہوتی ہے، غربت کی اصل وجہ حکمرانوں کا صحیح یا غلط طریقے سے دولت اکٹھا کرنا ہے ۔ آج ملک کو جو معاشی بحران درپیش ہے اس میں ایک رتی بھر بھی شک نہیں رہا کہ یہ ماضی کے حکمرانوں کی ہوس زرنے وطن عزیز کو اس نہج پر پہنچایا ہے ۔

بھارتی آرمی چیف کی گیدڑ بھبکی

بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت نے پاک فوج کو مستقبل میں کسی قسم کی مہم جوئی سے باز رہنے کی دھمکی دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ ماضی میں پاکستان نے بارہا یا تو انڈیا میں مداخلت کی یا دہشت گردی کی سرکاری سرپرستی کی ہے ۔ جنرل راوت نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے یہ بھی کہا کہ پاکستانی فوج کی جانب سے ہر قسم کی طالع آزمائی کی سزا دی جائے گی اور اسے کسی بھی طرح کی دہشت گردی کا خمیازہ بھگتنا پڑے گا ۔ اسے کہتے ہیں الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے ۔ شاید موصوف چند ماہ قبل کا ایڈونچر بھول گئے جس میں لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزی پر دوجہاز گرائے گئے اور ایک پائلٹ ابھی نندن زندہ گرفتارہوکر جنرل روات کے منہ تمانچہ بنا ۔ رہ گئی بات مہم جوئی اور مدخت کی تو شاید وہ گریباں میں جھانکنا بھول گئے کی اس کا ملک کیا کررہا ہے ۔ جنوبی ایشیا کا کونسا ملک ہے جو بھارتی کارستانیوں سے محفوظ رہا ہو ۔ کلبوشن پاکستان میں کیا کرنے آیا تھا اور نہیں تو یہی یاد کر لیتے تو یقینی طور پر جنرل راوت کو کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوتی ۔ کلبھوشن ایک ایسا مجرم ہے جو بھارتی دعوں کی نفی کرتا ہو اس کا اصل چہرہ ہے ۔

شمالی وزیرستان،چوکی پر حملہ

شمالی وزیرستان جو امن کی طرف لوٹ چکا ہے وہاں امن دشمن اورشر پسندوں کی فائرنگ سے دو سیکورٹی اہلکار شہید ہوئے ہیں ۔ یہ حملہ شمالی وزیرستان کی تحصیل دتہ خیل میں ایک چیک پوسٹ پر کیا گیا جس میں دو سیکورٹی اہلکاروں جام شہادر نوش کیا ۔ اللہ شہداء کے درجات بلند کرے جو ملک کے دفاع کی خاطر جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں ۔ پاک سکیورٹی فورسسز نے دہشت گردوں کا قلع قمع کردیا ہے لیکن بعض مقامی شرپسندوں کی پشت پناہی کی وجہ سے کوئی کارروائی کر ڈالتے ہیں لیکن انہیں اور انکے پشت پناہوں کے مذموم مقاصد کبھی کامیاب نہیں ہونگے ۔

خون کا عطیہ

ارشاد ہے ;34;کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گو یا اُس نے پو ری انسانیت کی جان بچائی ;34; ۔ اگرہم اسلامی تعلیمات کی روشنی میں تجزیہ کریں تو بُہت سے ایسے مختلف طریقے اور کام ہیں جس سے کسی انسان کی جان بچا ئی جا سکتی ہے ان مختلف طریقوں میں ایک طریقہ خون کا عطیہ دینابھی ہے ۔ ایک زمانہ تھا کہ;34; ھلال احمر;34; کا عملہ مختلف سکولوں ، کالجوں اور یو نیور سٹیوں کے دورے کر تا اور عام لوگوں بالخصوص نو جوانوں اور طالب علموں کو عطیہ خون دینے کی طر ف آمادہ کرتے ۔ مگر بد قسمتی یہ ہے کہ اب لوگوں میں یہ جذبہ ناپید اور ختم ہوتا جا رہا ہے مگر پھر بھی اللہ کا کرم اور فضل ہے کہ ہمارے معاشرے میں کچھ ایسے اللہ کے بندے ہیں جو نفسا نفسی اور مادہ پر ستی کے اس دور میں بھی نیکی اور بھلائی کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے ہیں ۔ گذشتہ دن ملک کے ممتاز ماہر امراض قلب ، میڈیکل سپیشلسٹ اور جنیاتی انجینیرنگ کے ڈائریکٹر جنرل سید علی رضا کا ظمی سے عطیہ خون کی مو ضوع پر بات ہو رہی تھی ۔ کا ظمی صا حب کا کہنا ہے کہ کسی بھی انسان کےلئے خون کا کوئی متبادل نہیں ۔ کسی بھی انسان کواگر خون کی ضرورت ہو تی ہے توانسانی زندگی کو بچانے کے لئے صرف انسانی خون کو بروئے کار لایا جاسکتا ہے جو کسی بھی مصنوعی طریقے سے نا ممکن ہے ۔ فرماتے ہیں کہ ہر تین سیکنڈ بعد دنیا کے کسی بھی حصے میں انسانوں کو خون کی ضرورت ہو تی ہے اور ان میں 20 فی صد صرف اور صرف بچے ہوتے ہیں جن میں زیادہ تر کینسر کے مریض ہوتے ہیں ۔ علی رضاکا ظمی صا حب کا کہنا ہے کہ پاکستان میں 60 فی صد لوگ ایسے ہیں جو خون کا عطیہ دے سکتے ہیں ، مگر بد قسمتی سے ان میں صرف تین فی صد لوگ خون دیتے ہیں ۔

اگر خون عطیہ دینے وا لا سال میں دوسے چار دفعہ خون کا عطیہ دیں تو اس سے مریضوں کے لئے ہسپتالوں میں خون کی قلت پر قابو پایا جا سکتا ہے اور کئی انسانوں کو زندگی کی نویدمل سکتی اور انکے چہروں پر مُسکراہٹ آسکتی ہے ۔ اُنکا کہنا تھا کہ دنیا میں سالانہ 10 لاکھ لوگ مختلف قسم کے کینسر کے امرا ض میں مبتلا ہوتےہیں اور ان میں اکثر کو کیمو تھراپی کے دوران خون کی اشد ضرورت ہو تی ہے ، اور اسی طر ح دنیا اور با لخصوص پاکستان میں تھیلی سیمیا یعنی خون کے مریضوں میں بے پناہ اضافہ ہورہا ہے ، لہذاء خون کا عطیہ دینا انتہائی نیکی اور بھلائی کا کام ہے ۔ ڈاکٹر کا ظمی کا کہنا ہے کو خون کی منتقلی کا پو را عمل ایک گھنٹہ اور 15 منٹ پر مخیط ہو تا ہے ،جس میں ایک گھنٹہ;34; ہیپی ٹاءٹس ;34;بی ;34; ;34;سی ;34; اور;34; ایڈز;34; ٹائیفائیڈ ;34;کے ٹسٹوں پر اور خون کی منتقلی پر صرف12 منٹ صرف ہو تے ہیں ۔ ڈا کٹر کا ظمی کا کہنا ہے کہ خون کی ایک تھیلی بیک وقت تین انسانوں کی جان بچانے کے لئے کا رگر ثابت ہو سکتی ہے کیونکہ خون میں چار اجزاء ہو تے ہیں ، جن میں ;34;سُر خ جسیمے;82;ed ;67;ells ;34;،;34; پلیٹلٹ;3480;latelets، ;34;پلاز مہ;3480;lazma ;34; کرائی پپیٹیٹپائے ;34; ;67;ryopecpitate جاتے ہیں ۔ مر د حضرات جنکا وزن50 کلو گرام اور عمر 17 سال سے لیکر 66 سال اور اگر 70 سال تک بھی ہووہ خون کا عطیہ دے سکتے ہیں اور عورت جس کا وزن 65 کلو گرام ، قد ساڑھے پانچ فُٹ اور عمر 20 سال یا اس سے زیادہ ہو تو وہ خون کا عطیہ دے سکتی ہیں ۔ اگر ہم حالات اور واقعات کا تجزیہ کریں تو ہ میں ہر صو رت خون کا عطیہ دینا چاہئے کیونکہ ایک انسان کی زندگی بچانا پو ری انسانیت کو بچا نا ہے ۔ میری والدہ اور بچہ جو;34; ایک پرائیویٹ ہسپتال میں پیچیدہ امراض کی وجہ سے داخل تھے تو اُس وقت مُجھے خون کی اہمیت کا اندازہ ہو گیا کہ ہ میں ہر صورت خون کا عطیہ دینا چاہئے اور ہ میں نیکی اور بھلائی کے کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہئے ۔

اب میری کو شش ہوتی ہے کہ میں کچھ عرصہ بعد خون کا عطیہ دوں ۔ عام طور پر لوگوں میں یہ تا ثر پایا جاتاہے کہ خون کا عطیہ دینے سے انسان جسمانی طو ر پر کمزور ہوتا ہے مگر یہ ایک بے بنیاد اور فضول مفروضے زیادہ کچھ نہیں ۔ ڈاکٹرز کا کہنا ہے کہ خون دینے کے بعد اسکی کمی چند دنوں میں دور ہو جا تی ہے ۔ اگر ہم صحت مند ہیں اور مندرجہ بالا لوازمات پر پورا اُتر تے ہیں تو ہ میں ہر صورت خون دینا چاہئے کیونکہ موت کے بعد کوئی کسی کے کام نہیں آتا یہی زندگی میں اور جیتے جی ہم ایک دوسرے کاکام آسکتے ہیں ۔ ملک میں بُہت سارے ادارے ہیں جن کو خون کا عطیہ دے کر اس نیک کام میں حصہ لے کر دُکھی انسانیت کی خدمت کی جا سکتی ہے ۔ پشاور میں حمزہ ویلفیئر ہسپتال اور بلڈ سروسز اس سلسلے میں پیش پیش ہے ۔ گذشتہ ۶ مہینے میں ہسپتال نے خیبر پختون خوا کے 28 ضلعوں کے تھیلیسیمیاء ،ہےمو فیلیاء اور کینسر کے مریضوں کو 87268 بیگ خون دیا جس میں افغانستان سے تعلق رکھنے والے 200 مریض بھی شامل ہے ۔ میں کسی وجہ سے اس ویلفیر ادارے کانام نہیں لیتا مگر میں صرف اسکی کا رکردگی اور انسانی خدمت کی بنیاد کی وجہ سے اس ادارے کا ذکر کر رہاہوں ۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ وطن عزیز میں ایسے بُہت سارے ادارے ، تنظی میں اور این جی اوز ہیں جو خون کا عطیہ لیتی ہیں لہذاء ہ میں کو شش کرنی چاہئے کہ ہم باعتماد اور مستند قسم کے اداروں اور این جی او ز کو خون کا عطیہ دے کر انسانیت کی خدمت کریں ۔

’عالمی عدالت ِ انصاف‘‘ ۔ 20 کروڑ عوام کو ’’انصاف‘‘ کی امید

اقوام عالم کی برادری میں پاکستان کا شمار ایک ذمہ دارباوقار ملک کی حیثیت سے ہوتا ہے دنیا تسلیم کرتی ہے کہ پاکستان اپنے عارضی فوائد کے لئے قومی سلامتی کے امور پرکبھی سمجھوتا نہیں کرے گا پاکستان پر اپنے قیام سے اب تک بارہا بیرونی دباوآئے پاکستان کی ماضی حکومتوں نے بعض اوقات عوام کی مرضی جانے بناء یقینا چند ناخوشگوار اقدامات اْٹھائے جنکے ناخوشگوار سیاسی وسفارتی نتاءج کا بوجھ اور اخلاقی نقصان ماضی کے اْن ہی سیاست دانوں کے نامہ اعمال میں لکھے گئے ہیں اور پاکستانی عوام آج تک قومی اور ملکی مفاد کے خلاف عالمی فیصلوں میں مدد واعانت کرنے والوں کو اچھے نام سے یاد نہیں کرتی ہر ملک وقوم پر آزمائش کی گھڑیاں آتی ہیں جہاں آج دنیا تبدیل ہوئی ہے وہاں پاکستان کا سیاسی منظر نامہ بھی توقع سے زیادہ روز بروز بہتر سے بہتر ہورہا ہے پاکستان کی آج کی قیادت کل سے بہت بہتر ہے عوام میں مقبول ہے پاکستان اور پاکستانی عوام کے مستقبل کے مستحکم بنیادوں پر پائیدار بنانے کے عزم سے سرشار پاکستان کی جمہوری قیادت کا یہ پہلا فیصلہ یہ پہلا قدم دنیا کو اس امر سے باور کرانے میں بڑاکامیاب رہا کہ اب پاکستان میں ;39;عدل;39; کے نظام میں پائی جانے والی کالی بھیڑوں کا جتنی جلد ہوسکے نکال باہر کیا جائے گا ;39;عدل;39; کے حقیقی اسلامی اصولوں پر استوار سچائی کی کسوٹی پر پورے اترنے والے ہی اب پاکستان میں ;39;عدل;39; کے ترقی یافتہ سسٹم کو مضبوط بنائیں گے تبھی کہیں جاکر پاکستان کے سیاسی وسماجی معاشرے میں عوام اور حکومت کے مابین اعتماد قائم ہوگا ایک قابل لحاظ متمدن معاشرے کی پہلی پہچان ہی ;39;عدل;39; کا بے داغ نظام ہوتا ہے آج پاکستان کے تین اداروں موجودہ سیاسی حکومت;39; موجودہ نظام ;39;عدل;39; جسے اور لائق احترام بنانے کی فوری اور اشد ضرورت پر ترجیحی بنیادوں پر سپریم کورٹ آف پاکستان نے کام کا آغاز کردیا ہے تیسر ا ادارہ ملکی سیکورٹی کا ادارہ ہے جس میں افواج پاکستان کی تینوں سروسنزاور ملکی سپریم انٹیلی جنس ادارہ آئی ایس آئی شامل ہے یہ تینوں اہم قومی ادارے پاکستانی عوام کی امنگوں اور تمناوں کا مرکز ومحور تصور کیئے جاتے ہیں یہاں ہم آج اپنے ان سطور میں آئی ایس آئی کے اْن جرات مند جوانوں اور افسروں کو خراج تحسین پیش کریں گے جنہوں نے اپنے شب روز موسموں کے سردوگرم حدتوں کو برداشت کرتے ہوئے اپنے پیاروں سے ہزاروں کلومیٹر دور بلوچستان کی سرحدوں کی نگرانی میں بسر کیئے تادم تحریر بھی وطن کی سلامتی وتحفظ کے ان امور میں یہ جوان اور افسر اپنے فراءض سرانجام دے رہے ہیں آج سے غالباتین ساڑھے تین برس قبل 3 مارچ 2016 کو بھارتی نیوی کے ایک کمانڈر کلبھوش یادیوکو کئی روز کی مشقت آمیز نگرانی اور ریکی کے بعد آئی ایس آئی نے بلوچستان کے سرحدی علاقے سے رنگے ہاتھوں جاسوسی کے آلات سمیت گرفتار کیا تھا اور دنیا میں جاسوسوں کے گرفتاری کی تاریخ میں یہ پہلا موقع تسلیم کیا گیا ہے کہ ;39;فوج کے کسی حاضر سروس مین جوکہ ایک افسر رینک رکھتا ہے اْسے آئی ایس آئی نے گرفتار کیا ہے پہلے تو بھارتی حکام مان ہی نہیں رہے تھے کہ کلبھوش یادیو نامی جاسوس بھارتی ہے پاکستانی سیکورٹی اداروں کی تفتیش جب منظر عام پر آناشروع ہوئیں تو بھارت نے گھٹنے ٹیک دئیے اور اْس تک ;39;کونسلر;39; رسائی مانگ لی جوکہ جینوا کنویشن کے چارٹرز کے خلاف اس وجہ سے تھی کہ یہ گرفتارکلبھوشن یادیو جاسوس ہونے کے علاوہ پاکستانی تفتیشی اداروں کے روبرو اعتراف کرچکا تھا کہ اْس نے پاکستان میں ;39;را;39; کی ایماء پر پاکستان کے مختلف شہروں میں دہشت گردی کی کئی سنگین کارروائیوں میں وہ خود ملوث رہا تھا اس بارے میں کافی کچھ پہلے ہی لکھا جاچکا ہے چونکہ ایک حاضرسروس افسر ہونے کی بناء پر ظاہر ہے اس کا کورٹ مارشل ہونا تھا جو ہوا جس میں اسے کافی وقت دیا گیا کہ وہ اپنی بے گناہی ثابت کرئے اسی دوران میں اس کی بیوی اور اس کی ماں کی اس سے ملاقات کرائی گئی اس کی بیوی اور ماں پاکستان سے مطمئن واپس گئی ہیں اْنہوں نے کلبھوش سے ملاقات کے بعد عالمی میڈیا کو بتایا ہے کہ اْس پر کوئی دباو اور کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں کیا گیا کبھوشن یادیوکو پاکستان میں دہشت گردی کے سنگین جرائم میں ملوث پائے جانے کے ثبوت سامنے آنے کے بعد ملٹری کورٹ نے سزائے موت سنادی 10 اپریل 2017 کو آرمی چیف جنرل قمر جاوید نے کلبھوشن کی سزائے موت کی توثیق کردی کمانڈر کبھوشن یادیونے 22 جون 2017 کوآرمی چیف سے اپنی سزائے موت کے خلاف رحم کی اپیل کردی اس رحم کی اپیل میں بھی کمانڈر کلبھوشن یادیو نے;39;را;39; کا ایجنٹ ہونے پاکستان میں جاسوسی اور دہشت گردی پھیلانے کا اعتراف کیا کمانڈر کلبھوشن یادیو کے اعترافات ملٹری کورٹ کی پروسیڈنگ ویڈیوز میں تاریخ بہ تاریخ موجود ہیں یہ سوال یقینا عالمی عدالت میں سامنے آیا ہوگا کہ بھارتی حکام نے اس بارے میں عالمی عدالت انصاف سے رجوع کرنے میں 14 ماہ کی تاخیر کیوں کی;238;جبکہ عالمی عدالت انصاف یہ ریمارکس دے چکی ہے کہ ملٹری کورٹ کے فیصلے کے خلاف نظرثانی کی درخواست پاکستانی ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں دائر کی جاسکتی تھیں بھارت نے یہ آپشنز کیوں استعمال نہیں کیئے اب جبکہ جرح مکمل ہوچکی ہے اور فیصلہ بھی محفوظ ہوچکا ہے شنید ہے کہ 17 جولائی کو یہ فیصلہ سنادیا جائے اس فیصلے میں کئی ممکنات کا اظہارکیا جارہا ہے یقینا پاکستان کی جانب سے یہ موقف ضرور اْٹھایا گیا ہوگا کہ بھارت کا اپنے پڑوسی ممالک میں جاسوسی اور دہشت گردی کا ٹریک ریکارڈ حد سے زیادہ تاریک تر ہے سری لنکا میں کئی برسوں تک بھارت کی سرزمین سے تامل ٹائیگرز نامی دہشت گرد تنظیم نے ایک قیامت بپا کیئے رکھی پاکستان میں بھی سربجیت سنگھ اور کشمیر سنگھ اور روند کوشی جیسے دہشت گرد جاسوس کے آنے جانے کا سلسلہ رہا ;39;را;39; سندھی قوم پرستوں اور بلوچ قوم پرستوں کوآئین پاکستان کے خلاف اکسانے میں اْن کی بیرون ملک مالی اعانت کرنے اپنی ایک بدترین تاریخ رکھتی ہے کلبھوشن یادیو کے پھیلے گئے دہشت گردی کے نیٹ ورک نے پاکستانی قبائلی علاقوں میں کالعدم ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں نہ صرف جنگی تربیت فراہم کی بلکہ اْنہیں مہلک اسلحوں کی کھیپ دی گئی کلبھوشن نے تسلیم کیا ہے کہ اے پی ایس پشاور کے سانحہ میں اْس کی کڑیاں بھی شامل تھیں پھراْسے پاکستان کیسے اور کیوں کونسلر رسائی دے دیتا;238; یہ سمجھ آنے والی بات نہیں ہے کہ ایک حاضر سروس ملٹری پرسنل جو جاسوسی اور دہشت گردی کے واقعات کا مجرم ہو اْس کا کیس کسی ملک کی سویلین کورٹ چلایا جاسکتا ہے;238; یہ بھارتی مکاریاں ہیں جوکہ شائد اْس نے عالمی عدالت انصاف میں اْٹھائی ہونگی;238;بھارت یقینا پچھتا ضرور رہا ہوگا کاش وہ پاکستان کے ساتھ ;39;ملزمان;39; کے سلسلے میں کوئی معاہدہ ہی کرلیتا دوطرفہ باہمی معاہدے ایسے ہی مواقعوں پر کوئی کام دے جاتے ہیں اور ہاں ایک اہم نکتہ یہ رہ گیا کہ بھارتی حکام نے کبھوشن یادیوکو ;39;مبارک پیٹل;39; نام دے کر اْس کا پاسپورٹ بھی بنوا کر اْسے دیا ہوا تھا اْس کی تحویل میں سے دوبھارتی پاسپورٹ پاکستانی حکام کے ہاتھ لگے جس جواب عالمی عدالت انصاف میں کیسے دیا ہوگا;238; اس سب کے باوجود اب عالمی عدالت انصاف جو فیصلہ بھی دے پاکستان عالمی عدالت انصاف کے ہر فیصلے کا پابند ہے اورعالمی عدالت میں اس کیس کے جانے سے واضح ہوگیا کہ پاکستان میں دہشت گردی بیرونی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتی،بھارت میں تعینات پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط نے واضح کیا ہے کہ کلبھوشن کے خاندان کو ویزا اور قونصلر رسائی کا فیصلہ میرٹ پر ہوگا ;63;پاکستان ایک ذمہ دار ملک ہے ;63; عارضی فوائد کیلئے قومی سلامتی کے امور پر سمجھوتہ نہیں کرے گا پاکستانی قیادت نے ہر عالمی فورم پر اپنے اس اعادہ کو دہرایا ہے پاکستان بھارت سے تمام تصفیہ طلب معاملات پر بامعنی مذاکرات چاہتا ہے آج نہیں تو 5 سال بعد 5 سال بعد نہیں تو 10 سال بعد بھی بھارت کو مذاکرات کی میز پر آنا ہی پڑے گا پاکستان کا اس حوالے سے ابتدا ہی سے موقف رہا ہے جاسوسی اور دہشت گردی کے اس سنگین جرم میں پاکستانی فوج کی ملٹری کورٹ سے موت کی سزا پانے والے بھارتی جاسوس کلبھوشن یادیو کے حوالے سے پاکستان کی پوزیشن قانونی اعتبار سے مضبوط ہے اور عالمی عدالت میں اس کیس کے جانے سے واضح ہوگیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی بیرونی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتی اور یہ یاد رہے کہ پاکستان نے اپنے عارضی فوائد کے لیے معروف عالمی طے شدہ اصولوں پر نہ ماضی میں سمجھوتہ کیا نہ ہی کرئے گا قومی سلامتی کے امور پرتو قطعاً کوئی سمجھوتہ ہوہی نہیں ہوسکتا ۔

Google Analytics Alternative