- الإعلانات -

یوم استحصال، عالمی برادری اپنی ذمہ داریاں پوری کرے

یوم استحصال کے موقع پر دنیا بھر کو یہ باور کراگیا کہ بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں ظلم وستم کے پہاڑڈھا رکھے ہیں لیکن عالمی برادی اس جانب کوئی توجہ نہیں دے رہی،وادی میں صرف بنیادی حقوق کا استحصال نہیں ہورہا بلکہ وہاں پر نہتے معصوم کشمیریوں کو مولی گاجر کی طرح کاٹا جارہا ہے،بے گناہ کشمیریوں کے لہو سے سڑکیں سرخ ہیں، زندگی ارزاں ہوچکی ہے،پوری وادی پابند سلاسل ہے، پاکستان ہر موقع پر،ہر فورم پر مسئلہ کشمیر کو اجاگر کررہا ہے لیکن بھارت ہر فورم سے راہ فرار اختیار کررہا ہے۔ آج دنیا میں جو امن کے پیامبربننے ہوئے ہے ان کیلئے وادی کے حالات ایک سوالیہ نشان ہیں، اقوام متحدہ کی قراردیں موجود ہونے کے باوجود مسئلہ کشمیر حل نہیں ہورہا، مودی نے ظلم کی انتہا کر رکھی ہے۔ کشمیریوں کیساتھ وہ سلوک ہورہا ہے جو ہٹلر کے دور میں باغیوں نے یہودیوں کیساتھ کیا تھا۔ آج مودی کے ظلم دیکھ کر زمین بھی کانپ رہی ہے، آسمان بھی لرز رہا ہے، لیکن اگر مودی یہ سمجھتا ہے کہ کشمیریوں کے جذبہ آزادی کو دبا لیا جائے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔اس پس منظر میں اسلام آباد میں وزیراعظم کی زیرصدارت کابینہ کا ایک اہم اجلاس ہو اجس میں یوم استحصال کشمیر کی تیاریوں کا جائزہ لیاگیا۔وفاقی کابینہ نے مختلف امور سے متعلق 13 نکاتی ایجنڈے کی منظوری دی اجلاس میں ملکی سیاسی اور معاشی صورتحال پر گفتگو کی گئی اور کئی اہم فیصلے کئے گئے۔اس موقع پر وزیراعظم عمران نے کہا کہ آرٹیکل370 ختم کرکے بھارت نے اپنے غیر قانونی قبضے والے جموں و کشمیر کو کھلی جیل میں بدل دیا ہے۔ وہاں آٹھ لاکھ بھارتی فوجی تعینات ہیں، ایک سال میں کشمیر کی معیشت کو تباہ کردیا گیا۔ بعد ازاں پاکستان کے نئے سرکاری نقشے کی تقریب رونمائی سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ کشمیر کو پاکستان کا حصہ بنانے کیلئے یہ نقشہ ایک پہلا قدم ہے، جب تک میں زندہ ہوں کشمیر کے لیے جدوجہد جاری رہے گی۔ نیا نقشہ پاکستان کے لوگوں کی امنگوں کی ترجمانی کرتا ہے، اب یہی پاکستان کا آفیشل نقشہ ہے تمام کشمیری قیادت تمام اپوزیشن اور ملکی قیادت نے نئے نقشے کی تائید کی ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ بھارت نے جو 5 اگست کو اقدام اٹھایا یہ نقشہ اس کی نفی کرتا ہے، مسئلہ کشمیر کا ایک ہی حل ہے کہ اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کیا جائے۔ وزیراعظم عمران خان نے کشمیر کا مسئلہ ہر فورم پر اٹھانے کا عزم کیا اور کہا کہ عالمی برادری اپنا وعدہ پورا کرے۔ کشمیریوں کو ان کا حق ابھی تک نہیں ملا۔ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونا ہے۔ کشمیر کا صرف ایک حل ہے، وہ حل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں میں ہے، جو کشمیر کے لوگوں کو حق دیتی ہیں کہ ووٹ کے ذریعے فیصلہ کریں کہ وہ پاکستان یا بھارت کے ساتھ جانا چاہتے ہیں ‘۔عمران خان نے کہا کہ ‘یہ حق انہیں عالمی برادری نے دیا تھا جو ابھی تک نہیں ملا اور ہم دنیا کو واضح طور پر کہنا چاہتے ہیں کہ اس کا واحد یہی حل ہے، اس کے علاوہ کوئی اور حل جیسا ہندوستان نے 5 اگست 2019 کو کیا اس سے کبھی حل نہیں ہوگا۔ عمران خان نے کہا کہ ہم فوجی حل کو نہیں بلکہ سیاسی حل کو مانتے ہیں، اقوام متحدہ کو باربار یاد دلائیں گے کہ آپ کا ایک وعدہ تھا جس کو آپ نے پورا نہیں کیا’۔انہوں نے کہا کہ ‘ان شااللہ ہماری جدوجہد جاری رہے گی۔وزیراعظم نے کہا کہ ‘مجھے اپنے اللہ پر یقین ہے کہ ہم ان شااللہ ایک دن اس منزل پر پہنچ جائیں گے۔اس موقع پر بریفنگ دیتے ہوئے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ نیا نقشہ پیش کرنے کا اعزاز وزیراعظم عمران خان کو جاتا ہے۔ ہم نے اس نقشے میں سرکریک پر بھارتی موقف کی نفی کر دی ہے۔ سیاہ چن کل اور آج بھی ہمارا ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا نیا نقشہ جموں کشمیر پر ہمارے موقف کی بھی تائید کرتا ہے۔ سیاسی نقشے میں پہلی بار بھارتی غیر قانونی مقبوضہ جموں وکشمیر کو شامل دکھایا گیا ہے۔یہ نقشہ اب اقوام متحدہ میں پیش کیا جائے گا۔ نئے نقشے میں اب پورے کشمیر کو شامل کرلیا گیا ہے۔اس سے قبل وفاقی کابینہ نے پاکستان کے سرکاری نقشے کی تیاری اوراجرا کشمیر ہائی وے کا نام تبدیل کرکے سری نگر ہائی وے رکھنے کی منظوری دی۔ کابینہ کے اجلاس میں یوم استحصال منانے کے فیصلے کی توثیق کی گئی پاکستان کی تاریخ میں پہلی دفعہ سیاسی نقشے کا اجرا کیا جا رہا ہے۔ اجلاس میں وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بتایا کہ اس سیاسی نقشے پر ملک کی تمام سیاسی قیادت بشمول تمام کشمیری قیادت اور سیاسی پارٹیاں مکمل طور پر متفق ہیں۔اس دوران ارکان نے کہا کہ بھارت نے غیرقانونی طور پر کشمیرکی آئینی حیثیت تبدیل کرنے کی کوشش کی ہے لہذا کشمیر میں بھارتی مظالم کا عالمی برداری کو نوٹس لینا چاہیے۔کابینہ ارکان نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ کشمیریوں کی اخلاقی، سفارتی اور سیاسی حمایت جاری رکھی جائے گی کشمیر کی صورتحال پر وزارت خارجہ میں میڈیا اینکرز کو دی گئی بریفنگ کے موقع پر وزیر خارجہ نے ملک کے معروف صحافیوں /اینکرز کو بھارتی قابض افواج کے مظالم اور خطے میں امن و امان کی مجموعی صورتحال کے حوالے سے آگاہ کیا اور کہا کہ تمام کشمیری 5 اگست 2019 کو کشمیر سے متعلق بھارت سرکار کے غیر آئینی اور یکطرفہ اقدامات کو یکسر مسترد کر چکے ہیں۔پاکستان نے بھارت کی ہندتوا پالیسیوں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو ہر عالمی فورم پر بے نقاب کیا۔بھارت سرکار کی نفرت آمیز پالیسیوں نے، پورے خطے کے امن و امان کو خطرات سے دو چار کر دیا ہے۔ بھارت نے اقلیتوں کے حقوق کو جس طرح غصب کیا ہے آج پوری دنیا اسے تنقید کا نشانہ بنا رہی۔ مزید برآں وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے تنازعہ جموں وکشمیر پر سکیورٹی کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ کر دیا ہے۔ دفتر خارجہ کے مطابق غیرقانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں پانچ اگست دوہزار انیس کے بھارت کے غیر قانونی اور یک طرفہ اقدامات کو ایک سال ہونے پر وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے صدر کو ایک اورخط لکھا ہے جس میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے مسلسل ارتکاب، آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی کوششوں، جنگ بندی کی خلاف ورزیوں میں اضافے اور پاکستان کے خلاف گھسٹے پٹے الزامات پر اضافی معلومات فراہم کی گئی ہیں کیونکہ بھارتی اقدامات سے علاقائی اور عالمی امن وسلامتی خطرے سے دوچار ہے۔ اپنے خط میں وزیر خارجہ نے اجاگر کیا کہ کیسے کشمیر میں فوجی محاصرے کے ساتھ انٹرنیٹ اور کمیونیکیشن کا بلیک آوٹ جاری ہے، کشمیری سیاسی رہنما قید اورکشمیری نوجوان پس زنداں صعوبتیں برداشت کررہے ہیں۔ پاکستان نے سلامتی کونسل کے دو آفیشل دستاویزات بھی جاری کئے ہیں۔ ان میں سے پہلا تنازعہ جموں وکشمیر کے قانونی پہلوؤں سے متعلق ہے جبکہ دوسرا غیرقانونی طورپر بھارت کے زیرقبضہ جموں وکشمیر میں بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کے ارتکاب کے بارے میں ہے۔
بیروت میں المناک دھماکا،پاکستان کا اظہار افسوس
لبنان کے دارالحکومت بیروت کے وسط میں واقع ساحلی ویئرہاؤس میں ایک خوفناک دھماکا ہو اہے۔یہ دھماکہ اتنا شدید تھا کہ اس کی آواز دوسو کلومیٹر تک محسوس کی گئی۔ معاشی بحران سے دوچار اور کورونا وائرس کے بڑھتے ہوئے کیسز سے نبردآزما بیروت میں گزشتہ کئی سالوں کے دوران ہونے والا سب سے زوردار دھماکا ہے۔صدر مچل عون کہنا ہے کہ 2ہزار 750ٹن امونیم نائٹریٹ کا فرٹیلائزر اور بموں میں استعمال کیا گیا جسے بغیر کسی حفاظتی تدابیر کے چھ سال سے پورٹ پر ذخیرہ کیا جا رہا تھا، یہ عمل ناقابل قبول ہے۔ مقامی وقت کے مطابق شام 6بجے ہونے والے اس دھماکے کے ملبے سے ابھی تک دھواں بلند ہو رہا ہے اور دھماکے چند گھنٹوں بعد نارنجی رنگ کے بادل نے آسمان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ زوردار دھماکے سے 1975 سے 1990 تک جاری رہنے والی خانہ جنگی کی یاد تازہ ہو گئی جب لبنان میں آئے دن دھماکے، شیلنک اور اسرائیل کی فضائی کارروائیاں ہوتی تھیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے بیروت میں دھماکے اور قیمتی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس مشکل وقت میں اپنے لبنانی بھائیوں کے ساتھ ہیں۔