- الإعلانات -

وفاقی کابینہ کے مستحسن فیصلے

وفاقی کابینہ نے ملک کی خراب معاشی صورتحال کے پیش نظر چندمستحسن فیصلے کئے ہیں جو ڈوبتے کوتنکے کاسہاراکے مترادف ہیں مگر بہرحال یہ ا قدام خوش آئند ہے کہ کسی نے اس بارے سوچا توصحیح۔ہماری معیشت بری طرح بیرونی قرضوںمیں جکڑی ہے جس پرہرماہ ہمیں اربوں روپے کے سود کی ادائیگی بھی کرناہوتی ہے اس کے علاوہ پوراملک درآمدات پرچل رہاہے ،سوئی سے لیکرجہاز تک اورپٹرولیم مصنوعات تک ہمیں باہرسے درآمدکرناپڑتی ہیں مگر حکمرانوں کے اللے تللے دیکھ کرکوئی اس بات کاانداز ہ تک نہیں کرسکتاکہ ہماری معیشت اس حال تک پہنچ چکی ہے۔ گزشتہ سترسالوں میں ہم نے بیرونی دنیا سے تجارت کرنے کی بجائے اپناکشکول ان کے آگے پھیلانے کوترجیح دی ہے ۔زندہ قومیں ایسا نہیں کیاکرتیں بلکہ وہ اپنے پیٹ پرپتھرباندھ کر اپنے قدموں پرکھڑاہونے کی کوششیں کرتی ہیں مگرافسوس کے ساتھ کہناپڑتاہے کہ جہاں جو بھی حکمران آیا اس نے سابقہ حکومت پرالزام عائد کیاکہ وہ خزانہ خالی چھوڑ گئے ہیں اورخودقرضوں کابھاری حجم اگلے آنے والے حکمران کے لئے چھوڑ کرجاتارہا۔ ماضی کے مسلمان حکمرانوں کی روایات رہی ہیں کہ وہ بیت المال میں سے ایک روپیہ تک خرچ نہیں کرتے تھے اور اگر رات کی تاریکی میں کسی کے ساتھ ذاتی بات کرناپڑتی تو وہ سرکاری چراغ تک بجھادیاکرتے تھے کہ عوام کے پیسے سے روشن چراغ ذاتی استعمال میں نہ آئے مگر اب ایسے حکمرانوں کاملنامحال ہے۔ گزشتہ روزوزیر اعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ نے ملک میں توانائی بحران پر قابو پانے کیلئے اہم فیصلوں کی منظوری دیدی،جن کے تحت کابینہ اراکین اور سرکاری عہدیداروں کے ایندھن کے کوٹے میں 40فیصد کٹوتی،ہفتے کی چھٹی کو بھی بحال کردیا گیا ہے جبکہ سرکاری استعمال میں ہر طرح کی گاڑیوں کی خریداری ،سرکاری حکام کے بیرون ملک علاج و معالجے اور دفاتر میں لنچ ، ڈنراور ہائی ٹیز پر مکمل پابندی عائد کردی گئی ہے۔وفاقی وزیر اطلاعات مریم اورنگزیب نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو غیر معمولی ہیٹ ویو کا سامنا ہے،مسلم لیگ ن کے گزشتہ دور میں 2018میں 14000میگاواٹ بجلی سسٹم میں شامل ہوئی،تحریک انصاف کی حکومت میں بجلی کے منصوبے نامکمل رہے،مسلم لیگ ن نے اپنے دور حکومت میں بجلی کی طلب کے مسئلے کو احسن انداز سے حل کیا،بدقسمتی سے پی ٹی آئی کی حکومت نے بجلی کے منصوبوں پر توجہ نہیں دی،وزیراعظم نے گزشتہ دو روز سے لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر قابو پانے کے حوالے سے اجلاس کیے۔ کابینہ نے 4سال کے دوران بجلی کی پیداوار، موسم کی تبدیلی کے باعث طلب کی صورتحال اور اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔ ملک میں بجلی کی طلب 28ہزار 400میگا واٹ ہے جس میں سے 2700میگا واٹ نقصان میں چلنے والے فیڈرز میں چلی جاتی ہے جنہیں نکال کر بجلی کی مجموعی طلب 25ہزار 600میگا واٹ ہے اور سپلائی 21ہزار میگا واٹ ہے یوں طلب اور رسد میں 4ہزار 600کا میگا واٹ کا فرق ہے۔وزیر اطلاعات نے بتایا کہ کابینہ نے 6سے 15جون تک ساڑھے 3گھنٹے لوڈشیڈنگ کی منظوری دی ہے16جون سے ساہیوال کے کوئلے سے چلنے والے پلانٹ سے 600میگا واٹ مزید بجلی سسٹم شامل ہوجائے گی جس کے بعد لوڈشیڈنگ کا دورانیہ کم ہوجائے گا اور 16سے 24جون تک 3گھنٹے کی لوڈشیڈنگ پر آجائے گا۔انہوں نے بتایا کہ جس کے بعد 25سے 29جون کراچی کا ایک ہزار 40میگا واٹ کا کے ٹو پاور پلانٹ کے فعال ہونے سے سسٹم میں مزید بجلی شامل ہوگی اور لوڈشیڈنگ کا دورانیہ ڈھائی گھنٹے ہوجائے اور 30جون کے بعد پورٹ قاسم پر کوئلے سے چلنے والے پلانٹ کا 600میگا واٹ سسٹم میں آجانے کے بعد 2گھنٹے ہوجائے گا ۔انہوں نے کہا کہ دیگر منصوبوں کو فعال کرنے کی بھی منظوری دے دی گئی ہے۔انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات غیر معمولی ہیں اور جس بحران سے ہم گزر رہے ہیں اس پر قابو پانے کے لیے کابینہ نے ہفتے کی چھٹی کو بحال کردیا ہے، اس ایک دن سے سالانہ 38کروڑ 60لاکھ ڈالر کی بچت ہوگی اور درآمدی بل ہر اس کا 77 ارب روپے کا اثر پڑے گا۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ جمعہ کے روز گھر سے کام کرنے کی تجویز دی گئی ہے جیسا کہ کورونا وائرس کے حالات میں ہوا تھا جس پر وزیراعظم نے اس تجویز کا جائزہ لینے کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے کہ اس سے موثر فائدہ اٹھایا جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ متبادل اسٹریٹ لائٹ کو بند کرنے کی تجویز پر سیر حاصل گفتگو ہوئی اور صوبائی، بلدیاتی حکومتوں کے ساتھ مل کر اس کو یقینی بنانے کی منظوری دی گئی جس سے توانائی کی بچت ہوگی۔وزیر اطلاعات نے کہا کہ مارکیٹ کی جلد بند کرنے کی بھی تجویز تھی جس پر تمام صوبوں کے وزرائے اعلی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور وزیراعظم ان سے مشاورت کریں گے جس کے بعد اس کا اعلان کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ شہریوں کے لیے آگاہی مہم چلانے کی بھی منظوری دی گئی ہے، سرکاری اجلاسوں کو زیادہ سے زیادہ ورچوئل اور ڈیجیٹل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔بازار رات میں جلد بند ہونے سے متعلق انہوں نے بتایا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی میٹنگ ہوگی جس میں چاروں وزرائے اعلی بھی موجود ہوں گے ان کے ساتھ یعنی صوبوں کے ساتھ مل کر بات چیت کے بعد بازار جلد بند کرانے کے معاملے کا اعلان کیا جائے گا اس سے قبل تاجروں کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ نیز وزیراعظم نے کابینہ ارکان اور حکومتی ارکان کا پٹرولیم کوٹہ 40فیصد کم کر دیا ہے،کابینہ کو پٹرولیم کوٹے میں حکومتی اہلکاروں کے لئے 33فیصد کمی کی تجویز دی گئی تھی، حکومت نے سرکاری استعمال میں ہر طرح کی گاڑیوں کی خریداری پر پابندی لگا دی ہے، کابینہ نے سرکاری حکام کے بیرون ملک علاج و معالجے پر بھی پابندی لگا دی ہے،تمام سرکاری دفاتر میں لنچ ، ڈنراور ہائی ٹیز پر مکمل پابندی عائد کردی ہے۔جتنے فیصلے کابینہ میں کیے گئے ہیں ان پر عمل شروع ہوگیاہے۔دیکھنے میں آیاہے کہ ماضی میں ایوان صدر اور وزیراعظم آفس میں روزانہ منوں گوشت، سبزیاں اورمشروبات کے ٹرک آتے رہے، اسی طرح ہرروز کسی نہ کسی پارٹی کے نام پر لاکھوں روپے اڑائے جاتے رہے۔ اگر حکمران طبقہ اپنے اخراجات میں کمی لانے میں کامیاب ہوجائے تو ان شا ءاللہ ہم نہ صرف اپنے قدموں پرکھڑے ہوں گے بلکہ کسی کے آگے ہاتھ بھی نہیں پھیلائیں گے۔
جرمن وزیرخارجہ کی مسئلہ کشمیرپرپاکستانی موقف کی تائید
جرمنی عالمی سطح پر نہایت اہمیت کاحامل ملک ہے جس کے پاکستان کے ساتھ دوستانہ روابط قائم ہیں ، پاکستان کے اندر کئی منصوبے جرمنی کی معاونت سے چل رہے ہیں خاص طورپر پاکستان میں تیل کی تلاش کے لئے جرمن کمپنیوں کی معاونت کئی دہائیوں سے جاری ہے ، حال ہی میں جرمنی کی وزیرخارجہ نے پاکستان کادورہ کیا اور دنیا کے سب سے قدیم مسئلے مسئلہ کشمیر پر نہ صرف پاکستانی موقف کی تائید کی بلکہ اقوام عالم کو بھی کہاکہ مقبوضہ کشمیرسمیت تمام معاملات مذاکرات سے حل ہونے چاہئیں اور بھارت کو اس پرسنجیدگی کامظاہرہ کرناچاہیے، یہ پاکستانی موقف کی نہ صرف تائید ہے بلکہ بہت بڑی کامیابی ہے جس کاکریڈٹ موجودہ حکومت کوجاتاہے۔ جرمن وزیر خارجہ کی بلاول بھٹو زرداری سے خوشگوار ملاقات ہوئی وزیر خارجہ بننے کے بعد ان کا پاکستان کا پہلا دورہ ہے جس سے دونوں ممالک کے درمیان باہمی تعلقات‘ معاشی اور ثقافتی ‘ ماحولیاتی تبدیلی اور اقتصادی ترقی اور افغانستان کی صورتحال پر بات چیت ہوئی ۔ اقتصادی ترقی اور باہمی تعلقات کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی مسائل پر بھی تبادلہ خیال ہوا ۔ جرمنی پاکستان کا بڑا تجارتی پارٹنر ہے۔ پاکستان اور جرمنی دوست ممالک ہیں گزشتہ سال پاکستان نے جرمنی کے ساتھ 25ملین ڈالر کی تجارت کی پاکستان جرمنی کے درمیان طویل عرصے سے انتہائی گرمجوشی پر مبنی تعلقات قائم ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان باہمی امور پر تبادلہ خیال ہوتا رہتا ہے جس کے انتہائی مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں جس سے علاقائی مسائل کے حل اور خطے میں دیرپا امن قائم ہوتا ہے۔انکے دورے سے پاکستان میں دونوں ممالک کے درمیان باہمی روابط مزید مضبوط ہوئے ہیں اور امید ہے کہ تجارتی حجم مزید بڑھے گا۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی اسلاموفوبیا پر بھی بات چیت ہوئی۔ جرمن وزیر خارجہ کے پاکستان کے دورے سے خطے میں پائیدار امن کی راہیں ہموار ہوں گی۔