- الإعلانات -

قومی سلامتی کمیٹی کا اجلاس

تحریک طالبان پاکستان کیلئے ایک رستا ہوا ناسور ہے جس کا خاتمہ کرنا ازحد ضروری ہے کیونکہ اس غیر قانونی اور غیر آئینی گروہ نے ملک کی مسلح افواج کیخلاف اعلان جنگ کررکھا ہے اور ملکی مختلف حصوں میں اس کے مسلح دہشتگرد افواج پاکستان کے اہداف پر حملہ آور ہوتے رہتے ہیں ، یہ جنگجوں گروپ اپنے آپ کو ٹی ٹی پی کہلاتے ہیں ، ان گروپوں کو مختلف غیر ممالک سے ہینڈل کیا جاتا ہے گزشتہ حکومت نے اس کیخلاف کی جانے والی کارروائیوں کو روک کر اس کے ساتھ مذاکرات کا سلسلہ شروع کیا تھا تاہم بدقسمتی سے یہ مذاکرات تعطل کا شکار ہوتے چلے گئے ، گزشتہ روز وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی سے متعلق اجلاس کے شرکاءکو عسکری حکام کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کیساتھ ہونےوالے مذاکرات اور افغانستان کی صورتحال سے متعلق تفصیلات سے آگاہ کیاگیا کہ افغان حکومت کی سہولت کاری سے ٹی ٹی پی کیساتھ بات چیت جاری ہے،حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نمائندگی کرتے ہوئے آئین کے دائرے میں بات چیت کررہی ہے جس پر حتمی فیصلہ پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کے لئے فراہم کردہ راہنمائی اور اتفاق رائے سے کیاجائے گا۔وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناءاللہ نے قومی سلامتی اجلاس سے متعلق میڈیا کو بتایا کہ کالعدم ٹی ٹی پی سے مذاکرات امن کے لیے اور آئین کے تحت ہونگے اور یہ مذاکرات پارلیمنٹ کی گائیڈ لائنزکے مطابق ہوں گے ،قومی سلامتی اجلاس سے متعلق ارکان پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا جائے گا،ارکان پارلیمنٹ کو اعتماد میں لینے کیلئے پارلیمان کا ان کیمرہ اجلاس طلب کیا جائے گا، اجلاس کو ملک کی داخلی اور خارجہ سطح پر لاحق خطرات اور ان کے تدارک کےلئے قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں کی جانب سے کئے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیاگیا۔اجلاس کو پاکستان افغانستان سرحد پر انتظامی امور کے بارے میں آگاہ کیاگیا۔ اجلاس کو آگاہ کیاگیا کہ پاکستان نے افغانستان میں امن واستحکام کےلئے نہایت ذمہ دارانہ اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان افغانستان میں امن اور استحکام کےلئے اپنا تعمیری کردار جاری رکھے گا ۔ اس امید کا اظہار کیا گیا کہ افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اجلاس میں قرار دیاگیا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کی کاوشوں اور قربانیوں کو دنیا نے تسلیم کیا۔ پاکستانی قوم اور افواج پاکستان کی بے مثال قربانیوں کی بدولت ملک بھر میں ریاستی عمل داری ، امن کی بحالی اور معمول کی زندگی کی واپسی کو یقینی بنایاگیا ہے۔ آج پاکستان کے کسی حصے میں بھی منظم دہشت گردی کا کوئی ڈھانچہ باقی نہیں رہا۔ اجلاس کے شرکاکو ٹی ٹی پی کے ساتھ ہونےوالی بات چیت کے بارے میں بھی تفصیلات سے آگاہ کیاگیا۔ اجلاس کو اس تمام پس منظر سے باخبر کیاگیا جس میں بات چیت کا یہ سلسلہ شروع ہوا اور اس دوران ہونے والے ادوار پر بریفنگ دی گئی۔ اجلا س کو بتایاگیا کہ افغانستان کی حکومت کی سہولت کاری سے ٹی ٹی پی کے ساتھ بات چیت کا عمل جاری ہے جس میں حکومتی قیادت میں سول اور فوجی نمائندوں پر مشتمل کمیٹی نمائندگی کرتے ہوئے آئین پاکستان کے دائرے میں بات چیت کررہی ہے جس پر حتمی فیصلہ آئین پاکستان کی روشنی میں پارلیمنٹ کی منظوری، مستقبل کےلئے فراہم کردہ راہنمائی اور اتفاق رائے سے کیاجائے گا۔ گزشتہ روز ہونےوالے اجلاس میں کئے جانےوالا فیصلہ خوش آئند ہے کہ پارلیمنٹ کی مشاورت سے اس حوالے سے فیصلے کئے جائیں گے کیونکہ پارلیمنٹ کو ایک قومی جرگے کی حیثیت حاصل ہے اور یہ فورم جو بھی فیصلہ کرے گا وہ ملک و قوم کے حق میں بہتر ہوگا اس لئے جلد یا بدیر سنجیدگی کے ساتھ کوئی فیصلہ کیا جائے تاکہ ملک کو امن کی راہ پر ڈالا جاسکے اور افواج پاکستان کو مصروف رکھنے والے عناصر کو شکست کا سامنا کرنا پڑے۔
چین کی جانب 2.3ارب ڈالر فراہم کرنے کا معاہدہ
موجودہ حکومت کے قیام کے بعد پہلی بار کوئی خوشخبری سننے کو ملی ہے کہ جس کے تحت پاکستان کی معیشت کی بحالی کیلئے دوست ملک عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے پاکستان کو 2.3ارب ڈالر کی امداد دینے پر آمادگی ظاہر کی گئی ہے ۔وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے کہا ہے کہ چینی کنسورشیم پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر فراہم کرے گا۔سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر پیغام جاری کرتے ہوئے مفتاح اسماعیل نے کہا کہ چینی کنسورشیم نے پاکستان کے لئے معاہدہ کر لیا، معاہدے کے تحت کنسورشیم پاکستان کو 2.3 ارب ڈالر فراہم کرے گا، رقم آئندہ چند دنوں میں پاکستان کو مل جائے گی۔وفاقی وزیر خزانہ نے اپنے ٹوئٹ میں مزید لکھا کہ رقم کی فراہمی میں چینی حکومت کے شکر گزار ہیں۔عوامی جمہوریہ چین پاکستان کے ساتھ گزشتہ ستر سالوں سے دوستی کا رشتہ نبھاتا چلا آرہا ہے اور ہر آڑے اور مشکل وقت میں وہ پاکستان کی امداد کیلئے شانہ بشانہ آکھڑا ہوتا ہے ، اس وقت پاکستانی معیشت نہایت سخت مشکلات کا شکار ہے اور گرداب میں پھنسی نظر آتی ہے جس کو نکالنے کیلئے موجودہ حکومت سرتوڑ کوششیں کررہی ہیں ، اس معیشت کو گرداب میں کس نے ڈالا اس بحث میں پڑے بغیر اس وقت پہلا مسئلہ معیشت کی بحالی ہے کیونکہ معیشت کی خرابی کی باعث ملک میں مہنگائی کا ایک طوفان آچکا ہے جس کی زد میں غریب عوام پسے چلے جارہے ہیں جس کو نکالنے کیلئے موجودہ حکومت دوست ممالک کے ساتھ رابطے کررہی ہے جس کا پہلا مثبت نتیجہ عوامی جمہوریہ چین کی جانب سے موصول ہوا ہے، آنیوالی امداد کے باعث ڈالر کی اونچی اڑان پر قابو پانے میں مدد ملے گی اور اس کا اثر براہ راست غربت کے خاتمے پر پڑے گاجس کی بدولت ملک کی معیشت میں بہتری کے امکانات جلد نظر آئیں گے۔
افغانستان میں زلزلہ ، ایس کے این ٹرسٹ کا امداد بھجوانے کا اعلان
آسمانی آفات پر کسی کا زور نہیں ،یہ کسی وقت بھی کسی خطے پر نازل ہوسکتی ہے ، ان حالات میں متاثرہ ملک کی امداد کرنا انسانیت کی خدمت کے مترادف ہوتا ہے ، گزشتہ روز افغانستان میں 6.1 شدت کے زلزلے نے تباہی مچا دی، عمارتیں ملبے کا ڈھیر بن گئیں جبکہ 1 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہو گئے۔افغان میڈیا کے مطابق صوبہ پکتیکا، خوست اور دیگر علاقوں میں 1 ہزار سے زائد افراد جاں بحق ہوئے جبکہ زلزلے سے ہونےوالے حادثات میں سینکڑوں افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق زلزلے کی شدت 6.1 جبکہ اس کی زیر زمین گہرائی 51 کلو میٹر تھی، زلزلے کے جھٹکے رات کے وقت محسوس کئے گئے۔افغان حکام کا کہنا ہے کہ امدادی کارروائیوں کیلئے ٹیموں کو متاثرہ علاقوں کی جانب روانہ کر دیا گیا ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان میں زلزلے سے قیمتی جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مشکل گھڑی میں افغان بھائیوں کے ساتھ ہیں، افغانستان کے عوام کو ہر ممکن مدد فراہم کریں گے۔ انہوں نے پاکستانی حکام کو افغانستان کی مدد کی ہدایت کی۔ افغانستان گزشتہ چار دہائیوں سے جنگوں کا شکار ملک رہا ہے جس کے دوران اس کی معیشت زبوں حالی کا شکار رہی ہے ، لاکھوں افغان مہاجر پاکستان میں پناہ لئے ہوئے ہیں ، حالیہ زلزلے کا شکار متاثر ہ افغان شہریوں کی امداد کیلئے جہاں حکومت نے امداد کا اعلان کیا ہے وہاں ملک کے سب سے بڑے ٹرسٹ ایس کے این ٹرسٹ نے بھی افغانستان میں امدادی سامان بھجوانے کا اعلان کیا ہے جو خوش آئند ہے ، یہ ٹرسٹ اندرون ملک آنے والی آفات کے دوران امداد کرتا چلا آرہا ہے ایسے میں افغان بھائیوں کی ایس کے این ٹرسٹ کی جانب سے امداد انسانی خدمت کی اعلیٰ مثال ثابت ہوگی۔