- الإعلانات -

ایس کے نیازی کا پروگرام اور مستقبل کا سیاسی نقشہ

ایس کے نیازی کا شمار پاکستان کے ان گنے چنے صحافیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے ہمیشہ ملک اور قوم کی بات کی اور ان طبقات کی نمائندگی کا حق ادا کیا کہ معاشرے میں جن کی آواز اٹھانے والا دوسرا کوئی نہیں ہوتا، آپ کی پوری صحافت اسلام ، نظریہ پاکستان اور افواج پاکستان کے استحکام اور سربلندی کی گر د گھومتی نظر آتی ہے ، وہ نوآموز صحافیوں کیلئے پیر کامل اور تجربہ کار اور آزمودہ صحافیوں کیلئے رہنما کی حیثیت رکھتے ہیں ، ہفتے میں تین دن ان کا پروگرام روز ٹی وی پر نشر کیا جاتا ہے جو بلاشبہ ملک کا مقبول ترین پروگرام تسلیم کیا جاتا ہے ، ان کے پروگرام کو عام و خاص سبھی دلچسپی سے دیکھتے ہیں ، خاص طور پر شعبہ صحافت سے تعلق رکھنے احباب اس پروگرام کو نہایت دلچسپی کے ساتھ دیکھتے ہیں کیونکہ یہ پروگرام محض پروگرام ہی نہیں ہوتا بلکہ اس کے اندر بہت ساری ایسی خبریں پوشیدہ ہوتی ہیں جو ابھی تک منظر عام پر نہیں آئی ہوتی، ویسے تو ان کا ہر پروگرام ہی یادگار گنا جاتا ہے مگر گزشتہ روز انہوں نے ٹی وی پر جو پروگرام کیا اس میں انہوں نے مستقبل کی پوری سیاست کا نقشہ کھینچ کر رکھ دیااور یہاں تک کہہ دیا کہ اگلے عام انتخابات میں سابق وزیر اعظم عمران خان کہیں نظر نہیں آرہے ، ایس کے نیازی نے عمران خان کو وزیر اعظم بننے سے چند سال پہلے ہی یہ پیشگوئی کردی تھی کہ ملک کا اقتدار اعلیٰ انہیں سونپ دیا جائیگا،پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روزنیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے پروگرام ” سچی بات “ میںگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ احتساب پہلے پیپلز پارٹی اور ن لیگ کا ہونا چاہئے ، عمران خان کابھی احتساب ہونا چاہئے ، ڈرون حملے عمران خان کے دور میں نہیں ہوئے ، اب کیوں شروع ہو گئے ہیں، باتیںبھی ہیں کہ جو کرے گا وہ بھرے گا، عمران خان ایسے بات کرتا ہے جیسے کل کا بچہ ہے ، جیسے نواز شریف کو نکالا اب عمران خان کو نکالنے کامعاملہ ہے ، عمران خان کو ڈیس کوالیفائی کر کے اور کسی کو بنا دیں گے ، یہ سب لنگر گپ ہے ، بعض اوقات کچھ درست بھی ہو جاتی ہیں، عمران خان ڈرون حملہ نہیں ہونے دیتا، عمران خان سے میرے بہت اختلافات ہیں، لیکن اس کا بیانیہ عوام میں موجود ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ بہت اچھی چیزیں ہمیں پسند نہیں ہوتیں، موجودہ حالات مصنوعی ہیں، حالات اچھے ہوتے ہیں تو شہباز شریف کو سلام کریں گے ، حکومت سٹاک ایکسچینج کو اوپر لے جا سکتی ہے ، عمران خان کے دور میں باہر سے پیسہ زیادہ آتا تھا، سٹاک ایکسچینج مصنوعی حالات کا شکار ہے ، ہمارے تجزئیے غلط ثابت نہیں ہوتے ، میری پیشگوئیاں تقریباً درست ثابت ہوتی ہیں، صحافت میں 25سال ہو گئے ، راولپنڈی ، اسلام آباد میں رہتا ہوں، حالات سے باخبررہتا ہوں، عمران خان نے جنرل باجوہ کو ایکسٹینشن لینے پر مجبور کیا تھا، اب نواز شریف مجبور کرے گا، باجوہ صاحب ایکسٹینشن نہیں لیں گے ، مگر نواز شریف مجبور کرے گا کہ آپ سال ڈیڑھ سال ہمارے ساتھ چلیں ، ہمیشہ ڈیلیں ہوتی ہیں، عمران خان اگلے الیکشن میں مجھے نظر نہیں آتا، اگر اسے کوئی کچھ نہ کہے تو سویپ کر جائے گا، اسٹیبلشمنٹ کو چاہئے ایسا سیٹ اپ لے آئے کہ شفاف الیکشن ہوں، جتنے بھی سرمایہ کار ہیں اور وہ جلسے پر سرمایہ کاری کرتے ہیں تو واپسی رقم کو ڈبل کرتے ہیں، جب لوگوں نے پیسہ لگانا ہے تو جلسے نہ کریں، جلسوں میں گاڑیوں میں تیل کہاں سے آتا ہے ، اور اخراجات کیسے پورے ہوتے ہیں، جب جلسہ ہو تو سیلری نہیںملتی، عمران خان کے دانے ختم ہو چکے ہیں، پرویز الٰہی اسٹیبلشمنٹ کا بندہ ہے ، وزیر اعظم عمران خان نہیں بنے گا، شاہ محمود کی دستار بندی ہو رہی ہے ، ممکن ہے شاہ محمود پی ٹی آئی کو لیڈ کرے گا، عمران خان کے لئے مشکل وقت آگیا ، پرویز الٰہی پی ٹی آئی کے ساتھ نہیں چلے گا، شجاعت نے کہا پرویز الٰہی گھر واپس آئیگا، عمران خان کی طرف آندھی اور طوفان ہے ، الیکشن اصلاحات تب آسکتی ہیں جب تیسری قوت آکر معاملات آگے بڑھا ئے ، الیکشن میں جو جیتا تو دوسرا تسلیم نہیں کرے گا، صدر مملکت بھی نا اہل ہو جائیں گے ، اور فضل الرحمان صدر بن جائیں گے ، ہم اصلاحات کی شروعات ہی نہیں کرتے ، سٹاک مارکیٹ آج 800پوائنٹ میں تھی، اب بہتر حالات آئیں گے ،انتخابات وقت پر یعنی جون میںہونگے ، الیکشن کمیشن کے فیصلے سے معاملات میں مضبوطی آئی ہے ، واضع ہو گیا کہ پی ٹی آئی اب الیکشن پر زور نہیں دے گی۔زمینی حقائق کو اگر دیکھا جائے تو ایس کے نیازی کی تمام باتیں درست ثابت ہوتی محسوس ہورہی ہے کیونکہ اقتدار سے رخصتی سے فوراً بعد عمران خان نے ریاست کے دو بڑے ستونوں کے ساتھ محاذ آرائی کرکے اپنا مستقبل کسی حد تک تاریک کرلیا ہے اور اب ان کی اقتدار میں واپسی دیوانے کا خواب نظر آتی ہے ، ایس کے نیازی کے تجزیئے اور تبصرے ملک کی حالات کا نقشہ کھینچتے نظر آتے ہیں ، اللہ کرے کہ یہ ملک سلامت رہے ، سیاستدان اور شخصیات تو آنے جانی چیز ہیں۔
ڈالر کی قیمت میں کمی خوش آئند خبر
دنیا بھر کی معیشتوں کا دارومدار ڈالر پر انحصار کرتا ہے جس ملک کی معیشت مضبوط اس کے پاس ڈالروں کے ذخائر بھی اتنے ہی زیادہ ہوتے ہیں ، گزشتہ چار سالوں کے دوران ہمارے ملکی معیشت گرداب کا شکار ہے ، زرمبادلہ کے خاطر خواہ ذخائر نہ ہونے کے باعث مہنگائی ، بے روزگاری میں بھرپور اضافہ دیکھنے میں آیا ، اس کے ساتھ ساتھ ڈالر کی اونچی اڑان نے معیشت کی رہی سہی کسر بھی نکال دی مگر گزشتہ روز ملکی تاریخ میں پہلی بار روپے کی قیمت میں 9 روپے 58 پیسے کا اضافہ دیکھا گیا۔ امریکی ڈالر کی قدر میں کمی سے قرضوں میں 14سو ارب روپے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔ بدھ کے روز روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت میں غیر معمولی کمی ریکارڈ کی گئی، کاروبار کے دوران ایک ڈالر کی قیمت میں 12 روپے سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی تھی۔ جولائی میں کم ہونے والی درآمدات اور درآمدی ادائیگیوں کا کم دبا روپے کی قیمت میں بہتری لا رہا ہے اور روپیہ جو 240 کی نچلی سطح پر ڈالر کے مقابلے میں گر گیا تھا اس اب اس میں بہتری آر ہی ہے۔تاہم کاروبار کے اختتام پر سٹیٹ بینک آف پاکستان کی سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں ہفتے کے تیسرے کاروباری روزکے دوران انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قدر میں ملکی تاریخ میں پہلی بار 9روپے 58 پیسے کی کمی ریکارڈ کی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں امریکی ڈالر کی قیمت 238 روپے 38 پیسے سے کم ہو کر 228 روپے 80 پیسے ہو گءیہے۔28جولائی کو ڈالر ریکارڈ 239 روپے 94پیسے پر پہنچ گیا تھا، 28جولائی سے اب تک ڈالر کی قیمت میں 11روپے 15پیسے کمی ہوئی ہے۔ امریکی کرنسی کی قیمت میں کمی سے قرضوں میں 14سو ارب روپے کی کمی دیکھی گئی۔ادھر اوپن مارکیٹ میں ڈالر کی قدر میں 11روپے کی تاریخی گراوٹ دیکھی گئی، مارکیٹ میں نئی قیمت 230روپے ہو گئی ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ سٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک سے افغانستان ڈالر کی اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے بھی اقدامات کیے اور آئی ایم ایف کی جانب سے قرض کی قسط جلد ملنے کی تصدیق کے بعد مارکیٹ میں ڈالر کی مانگ کم ہوئی ہے اور حکومت نے روپے کی قدر میں بہتری کے لیے اقدامات جاری رکھے تو چند روز میں ڈالر کی قیمت مزید نیچے آ سکتی ہے۔ امید ہے رواں ماہ درآمدی بل میں کمی ہوگی کیونکہ اس وقت ملک میں فوری ضرورت کا تیل بھی موجود ہے اور عالمی مارکیٹ میں پٹرولیم مصنوعات سمیت خوردنی اشیا کی قیمتوں میں بھی کمی ہوئی ہے۔معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ روپے کی قیمت 200 روپے کے قریب بنتی ہے، تاہم ملک میں جاری سیاسی بے یقینی کا اگر خاتمہ ہو جاتا ہے اور استحکام آتا ہے تو روپے کی قدر بحالی کا سفر جاری رہے گا۔