- الإعلانات -

جنرل اسمبلی سے وزیراعظم نواز شریف کا خطاب

 وزیراعظم محمد نواز شریف نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ مسئلہ کشمیر حل کیے بغیر پاکستان اور بھارت کے درمیان امن ممکن نہیں۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی مظالم کی تحقیقات اقوام متحدہ فیکٹ فائنڈنگ کے ذریعے کرائی جائیں مسائل کے حل کیلئے بھارت کو مذاکرات کی پیشکش کی بھارت نے ناقابل قبول پیشگی شرائط عائد کیں ۔ کشمیری 70 سال سے حق خودارادیت کے حوالے سے سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عملدرآمد کے منتظر ہیں ۔ اقوام متحدہ کشمیر کو غیر فوجی علاقہ بنانے کیلئے اقدامات اٹھائے اور مصالحتی کونسل اپنے فیصلوں پر عملدرآمد یقینی بنائے ۔ وزیراعظم نے بھارت کو پھر مذاکرات کی دعوت دی ہے انصاف کی عدم موجودگی میں عالمی سطح پر امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ آپریشن ضرب عضب دہشت گردوں کے خلاف دنیا کا کامیاب ترین آپریشن ہے۔ وزیراعظم نے بجا فرمایا مسئلہ کشمیر کے ادراک کے بغیر خطے میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا ۔ بھارتی مظالم اور سفاکی آئے دن بڑھتی ہی چلی جارہی ہے ۔ اور عالمی اداروں کی بے اعتنائی اور طوطا چشمی سے مسئلہ کشمیر برسوں سے حل طلب پڑا ہے۔ بھارت ایک طرف سلامتی کونسل کی منظور شدہ قراردادوں کو دیدہ دانستہ سرد خانے میں ڈالے ہوئے ہے اور مقبوضہ کشمیر پر اس کی فوج نہتے شہریوں کو چھلنی کررہی ہے اور بھارت ریاستی دہشت گردوں کے ذریعے تحریک آزادی کو دبانے کی کوشش کررہا ہے لیکن یہ اپنے مذموم عزائم میں کبھی بھی سرخرو نہیں ہوسکے گا ۔ بھارت کی چیرہ دستیاں ایک نہ ایک دن تحریک آزادی کے آگے دم توڑ جائیں گی اور ظلم کی سیاہ رات ختم ہو جائے گی ظلم نے ایک نہ ایک دن مٹ کر رہنا ہے ۔ بھارتی جارحیت کے خلاف پاکستان عالمی سطح پر صدائے احتجاج بلند کررہا ہے اس میں حقیقت ہے اقوام متحد ہ کو اب پاکستان کے مطالبے کو حقیقت پسندانہ نظروںسے دیکھنا ہوگا اور بھارت پر مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنے دباﺅ کو بڑھانا چاہیے۔ پاکستان ایک ذمہ دار اور پرامن ملک ہے وہ تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کا خواہاں ہے لیکن بھارتی مخاصمانہ رویہ فاصلے بڑھانے کا باعث بن رہا ہے۔ پاکستان ایٹمی نیو کلیئر سپلائرز گروپ کی ممبر شپ کا حق دار ہے اور بھارت کے ساتھ امن اور کشمیر سمیت ہر مسئلے کے حل کیلئے غیر مشروط مذاکرات کیلئے تیار ہے لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی امن کوششوں کو سبوتاژ کررہی ہے۔ اقوام متحدہ کو اب مصلحت پسندی سے کام لینے کی بجائے اپنی ذمہ داریوں کو کماحقہ نبھانا چاہیے اور یہ درست ہے کہ جب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوگا پاکستان اور بھارت کے درمیان امن قائم نہیں ہوسکے گا۔ پاکستان کشمیریوں کی سفارتی اخلاقی اور سیاسی حمایت جاری رکھے گا اور اس وقت تک بھارتی مظالم کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرواتا رہے گا جب تک مقبوضہ کشمیر کے عوام کو انصاف نہیں ملتا ۔ انسانی حقوق کی پامالی پر عالمی اداروں کی بے حسی اور چشم پوشی کو اب ختم ہوجانا چاہیے ۔ وزیراعظم کا خطاب دوررس نتائج کا حامل قرار پایا ۔ وزیراعظم نے جس بے باک انداز میں کشمیری مظالم کو بے نقاب کیا داد بیداد اور لائق تحسین ہے اور عوام کی امنگوں کا ترجمان ہے اور یہ سیاسی بصیرت اور تدبر کا آئینہ دار بھی ہے ۔ دنیا کو اپنے وعدے پورے کرنے چاہئیں تاکہ ان کا کردار سوالیہ نشان نہ بنا رہے یہی وقت کی آواز اور تقاضا ہے۔ بھارتی فورسز کی وحشیانہ کارروائیوں کو فوری روکا جائے اور یو این مشن کے ذریعے بھارتی مظالم اور بربریت کی تحقیقات کی جائے ۔ عالمی برادری کا بھرپور کردار ہی مسئلہ کشمیر کے حل میں ممدومعاون ثابت ہوگا ۔ بھارت خطے کے امن کو تباہی کی طرف لے جارہا ہے جس پر پاکستان کو سخت تشویش ہے ۔ بھارت کو یہ بات ذہن میں رکھنی چاہیے کہ پاکستان کسی بھی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے اس کی امن پسندی کو کمزوری نہ گردانا جائے۔
مردم شماری کیس میں سپریم کورٹ کے ریمارکس
 عدالت عظمیٰ نے مردم شماری میں تاخیر کے بارے میں وفاقی حکومت کی رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے آبزرویشن دی ہے کہ حکومت اپنی آئینی ذمہ داری کی ادائیگی میں ناکام ہوئی ہے اس لئے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا جائے ورنہ عدالت فیصلہ کرے گی تو نتائج بھی بھگتنے پڑیں گے ۔ مردم شماری بارے ازخود نوٹس کی سماعت میں چیف جسٹس کے دئیے جانے والے ریمارکس حکومت کیلئے لمحہ فکریہ ہیں ۔ حکومت مردم شماری کے سلسلہ میں غیر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کرے کیونکہ یہ ایک اہم آئینی معاملہ ہے ۔ عدالت کی آبزرویشن پر حکومت عمل کرے اور اس کو سنجیدہ لے ۔ آخر کب تک مردم شماری سے رائے فرار اختیار کی جاتی رہے گی۔ وفاقی حکومت کی رپورٹ مسترد ہونا حکومت کی فرض کی ادائیگی کو سوالیہ نشان بنا دی ہے ۔ مردم شماری نہ کرانے میں کسی مصلحت پسندی سے کام لینا حکومت کیلئے سود مند قرار نہیں پاسکتا۔ عدالت نے بجا فرمایا کاغذی رپورٹیں جمع کروانے سے معاملہ حل نہیں ہوگا ۔ حکومت کا فرض ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے حکم پر فوراً عمل درآمد کرتے ہوئے مردم شماری کرائے تاکہ حکومتی ساکھ پر کارضی ضرب بھی نہ لگے اور معاملہ بھی حل ہوجائے ہوگا ۔ حکومت کو چاہیے کہ اس معاملے میں جو لیت لعل ہوگی وہ تو ہوگئی اب وقت کی نزاکت کو محسوس کرے اور مردم شماری کے حوالے سے اپنی کارکردگی کو واضح کرے یہی اس کیلئے سود مند راستہ ہے اس سے پہلو تہی درست نہیں ہے۔ عدلیہ کے فیصلوں کی پاسداری سے ہی عدل و انصاف کی فراوانی ممکن ہے۔
 نیو کلیئر پروگرام پر یکطرفہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی
 سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری اور اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی نے کہا ہے کہ خطے میں نیو کلیئر پروگرام پر یکطرفہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی ہے لہذا امریکہ بھارت سے بھی وہی تقاضا کرے جو پاکستان سے کیا جاتا ہے۔ دنیا کو چاہیے کہ وہ پہلے بھارت کی جوہری سرگرمیوں کو روکے پاکستان ایک امن پسند ملک ہے اور اس کا جوہری نیو کلیئر پروگرام دفاعی ضروریات کیلئے ہے۔ امریکہ ایک طرف بھارت جیسے جارح ملک سے جھکاﺅ کیے دکھائی دیتا ہے تو دوسری طرف پاکستان کے بارے اس کا رویہ امتیازی ہے ۔ خطے میں نیو کلیئر پروگرام پر یکطرفہ پابندی نہیں لگائی جاسکتی ۔ پاکستان کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے۔ امریکہ دوغلی پالیسی کو ترک کرے اور بھارت اور پاکستان کے ساتھ مساویانہ رویہ اپنائے ۔ ایک ملک کی طرفداری اور دوسرے سے مخاصمانہ رویہ قرین انصاف نہیں۔ پاکستان اپنے ہمسایہ ملک کے ساتھ پرامن تعلقات کا خواہاں ہے اور تمام مسائل اور خطے میں امن کیلئے اس کی کاوشیں لائق تحسین ہیں لیکن دنیا کی طرفداری پر ہکا بکا رہنے کے سوا اور کوئی چارہ نہیں خطے میں امن کیلئے پاکستان کا کردار قابل صد تعریف اور قابل تقلید بھی اور نیو کلیئر پروگرام پرامن مقاصد کیلئے ہے۔