- الإعلانات -

پاک بھارت کشیدگی

مقبوضہ کشمیر کے علاقے بارمولہ میں بھارتی فوجی کیمپ پر حملے میں دو اہلکار ہلاک اور پانچ زخمی ہوگئے ۔ گزشتہ روز بارہ مولا میں 46 اشٹریہ رائفلز کے کیمپ پر دستی بم پھینکے گئے اور شدید فائرنگ کی گئی ۔ بھارتی میڈیا کا دعویٰ ہے کہ دو حملہ آور مارے گئے اور 4 فرار ہوگئے ۔ بھارت کا پاکستان پر سیز فائر کا الزام الٹا چور کوتوال کو ڈانٹنے والی بات ہے۔ بھارت سرحدی قوانین کی خلاف ورزی خود کررہا ہے اور واویلا پاکستان کے خلاف کررہا ہے ۔ بھارتی پروپیگنڈہ بے معنی ہے اور الزامات بے سروپا اور بے بنیادہیں بھارت مقبوضہ کشمیر میں جاری بربریت کو چھپانے اور عالمی برادری کی توجہ ہٹانے کیلئے اس طرح کے ہتھکنڈے استعمال کررہا ہے ۔ بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کے پاگل پن کا یہ عالم ہے کہ کبھی وہ اڑی حملے کا الزام پاکستان کے سر تھونپنے کی کوشش کرتا ہے اور کبھی ود ہی اپنے دعوے کو جھوٹا قرار دے رہا ہے مودی سرکار بولے حملہ نہیں کیا گیا نہ کسی کی زمین کے بھوکے ہیں دو عالمی جنگوں میں ڈیڑھ لاکھ انڈین فوجیوں نے دوسروں کی خاطر جانیں دیں ۔ بھارتی پانی کی طرح دوسروں کے ساتھ گھل مل جاتے ہیں۔ مودی خود ہی پاکستان پر حملے کا الزام لگاتا ہے اور خود ہی اس کی نفی کررہا ہے جس سے اس کی حواص باختی کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ بھارت کی گیدڑ بھبھکیوں کے خلاف پاکستان بھی شدید ردعمل دیکھنے میں آرہا ہے اور مودی کیخلاف مظاہرے اور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے ۔ پاکستانی عوام نے مودی کے پتلے جلا کر اس کو پیغام دیا کہ وہ کسی بھی جارحیت سے نمٹنے کیلئے اپنی بہادر افواج کے ساتھ ہیں بھارت کشیدگی جس سے خطے کے امن کیلئے خطرات سروں پر منڈلاتے دکھائی دینے لگے ہیں۔ بھارت کے کشمیریوں پر مظالم عالمی برادری کیلئے لمحہ فکریہ ہیں ۔ بھارت کی چیرہ دستیوں اور سفاکی کے خلاف دنیا کو بے حسی اور سرد مہری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے اور بھارت کو باور کرانا چاہیے کہ وہ جارحیت سے باز رہے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالے ۔ بھارت کا اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کو تسلیم نہ کرنا اس کی ہٹ دھرمی کا واضح ثبوت ہے ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور خطے میں پائیدار امن کا خواہاں ہے لیکن بھارتی رویہ امن کوششوں کو ناکام کررہا ہے بھارت مگر مچھ کے آنسو بہا کر اپنی کارستانیوں کو چھپانے کی جو کوشش کررہا ہے وہ کبھی بھی کامیاب نہیں ہوگی ۔ بھارت کا مکروہ چہرہ بے نقاب ہوچکا ہے۔ ایک طرف وہ مقبوضہ کشمیر میں بربریت کا کھیل جاری رکھے ہوئے ہے تو دوسری طرف سرحدوں پر اس کی سرگرمیاں اور خلاف ورزیاں بڑھتی ہی چلی جارہی ہیں جو پاکستان کیلئے تشویش کا باعث ہیں ۔ بھارت کسی خوش فہمی میں نہ رہے پاک فوج مادر وطن کے دفاع سے غافل نہیں ہے اور وہ کسی بھی جارحیت کا دندان شکن جواب دینے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ پاکستان سیاسی ، عسکری قیادت ، سیاسی جماعتیں اور عوام ملکی سلامتی کیلئے متحد ہیں اور بھارت کیلئے یہ بہتر ہے کہ وہ چھیڑ چھاڑ کی غلطی نہ کرے ورنہ اس کو منہ کی کھانا پڑے گی پاک فو ج کے جوان جذبہ شہادت سے سرشار ہیں اور وہ دن رات دشمن کی سرگرمیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ بھارت خطے میں کشیدگی بڑھا کر خود اپنے لئے ہی مسائل پیدا کررہا ہے ۔ مودی اپنی انتہا پسندی کے خول سے باہر نکلے اور عالمی منظر نامہ پر نظر ڈالے خلقت کیا کہہ رہی ہے ۔ بھارت کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان بھارت کی ہر سازش کو ناکام بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔ بھارت ’’را‘‘ کے ذریعے پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کرکے دیکھ چکا ہے پاک فوج نہ صرف سرحدوں پر نظر رکھے ہوئے ہے بلکہ ’’را‘‘ کی سرگرمیوں پر بھی اس کی کڑی نظر ہے۔ بھارت کو چاہیے کہ وہ خطے کو جنگ کی طرف نہ دھکیلے اور مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل پرامن طریقے سے نکالنے کی کوشش کرے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر پر ڈھائے جانے والے مظالم کو بند کرے ۔ پاکستان کشمیریوں کی اخلاقی ، سیاسی اور سفارتی حمایت اس وقت تک جاری رکھے گا جب تک مسئلہ کشمیر کا ادراک نہیں ہوتا اور کشمیریوں کو حق خودارادیت نہیں دیا جاتا۔ عالمی اداروں کو انسانی حقوق کی تنظیموں کو مقبوضہ کشمیر پر بھارتی مظالم پر چپ سادھ کر نہیں بیٹھنا چاہیے بلکہ اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔ بھارت برسوں سے مسئلہ کشمیر کو سردخانے میں ڈالے ہوئے ہے اور کشمیریوں پر بربریت کررہا ہے جس کے خلاف کشمیری عوام سراپا احتجاج ہیں، ظلم بڑھتا ہی جارہا ہے لیکن عالمی ادارے کبوتر کی طرح آنکھیں بند کیے بیٹھے ہیں جس سے ان کا کردار ایک سوالیہ نشان بنتا جارہا ہے۔ پاک بھارت کشیدگی کو ختم کرنے کیلئے عالمی ادارے آگے آئیں ورنہ بھارت کا جارحانہ انداز خطے کے امن کو تباہ کرکے رکھ دے گا۔
کشتی پکڑنے کا بھارتی دعویٰ جھوٹ کا پلندہ
پاکستانی کشتی پکڑنے کا بھارتی دعویٰ جھوٹ کا پلندہ نکلا بھارتی حکام نے کشتی ضبط کرنے اور 9 افراد کو حراست میں لینے کی افواہ اڑائی جب پاکستان نے متعلقہ حکام سے اس ضمن میں باز پرس کی اور چھان بین کی گئی تو پتہ چلا کہ کوئی کشتی یا ماہی گیر لاپتہ نہیں ہے اس طرح ایک اور بھارتی جھوٹ کا پول کھل گیا اور بھارت کا مکروہ چہرہ اور پروپیگنڈہ عیاں ہوگیا بھارت کا یہ وطیرہ ہے کہ وہ اس طرح کی بے پرکی پھیلاتا رہتا ہے ۔ بھارتی میڈیا بھی بے سروپا الزامات اور پروپیگنڈہ کرتے نہیں تھکتا ۔ پاکستان ایک پرامن ملک ہے اور پڑوسی ممالک سے اچھے تعلقات اس کی خارجہ پالیسی میں شامل ہے لیکن جب بھارت جیسا مکار جارح پڑوسی ہوتو پھر خطے کے امن کا خدا ہی حافظ ہے ۔ بھارت پاکستان پر الزام تراشی کا سلسلہ بند کرے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے حقائق کا سامنا کرے اور انتہا سپندی اوردہشت گردانہ سوچ سے باہر نکلے اور غاصب نہ بنے دنیا اس کے کردار سے اب نا آشنا ئے محض نہیں ہے۔ اب اس کا چہرہ پوری طرح بے نقاب ہوچکا ہے۔ مودی سرکار ہوش کے ناخن لے اور جنگی جنون سے نکلے ورنہ خطے کی تباہی کی ذمہ داری اسی کے سر جائے گی۔
لوڈشیڈنگ کیخلاف مظاہرے
بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ نے صارفین کی چیخیں نکال دیں ۔ دیہی اور شہری علاقوں میں 14 سے 18 گھنٹے بجلی کی بندش نے لوگوں کا کاروبار زندگی مفلوج کرکے رکھ دیا ۔ شارٹ فال 5 ہزار میگاواٹ نے گھمبیر صورتحال اختیار کرلی ۔ حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے ایک تواتر سے کرتی چلی آرہی ہے لیکن یہ دعوے حقیقی روپ نہیں دھار رہے عوام بے بس ہیں اور لوڈشیڈنگ کے خلاف ملک گھیر احتجاج کررہے ہیں ۔ حکومت لوڈشیڈنگ کے خاتمے کیلئے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ عوام الناس میں پائی جانے والی پریشانی اور اضطراب کا ازالہ ممکن ہو آخر کب تک اندھیرے لوگوں کا مقدر رہیں گے ۔ حکومت کا یہ فرض قرار پاتا ہے کہ وہ عوام کو زیادہ سے زیادہ ریلیف دے اور ان کے مسائل کا ادراک کرے عوام کے احتجاج پر کان دھرے اور ان کیلئے آسانیاں پیدا کرے۔ عوام حکومت سے کافی توقعات رکھتے ہیں اور جب ان کی امیدیں بر نہیں آتیں تو وہ مایوس ہوکر رہ جاتے ہیں ۔ عوام کیا کرے ایک طرف گیس کا بحران ہے تو دوسری طرف بجلی کی آنکھ مچولی ہے ان حالات میں وہ سراپا احتجاج نہ ہو تو پھر کیا کریں ۔ حکومت عوامی مظاہروں پر غور کرے اور مسائل حل کرے۔