- الإعلانات -

ترکی کی مظلوم کشمیریوں کی حمایت کا اعلان

ترکی نے مسئلہ کشمیر کے حوالے سے ایک مرتبہ پھر اپنے روایتی اور مضبوط تعاون کا اعادہ اور مقبوضہ کشمیر میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مسئلہ کشمیر کے اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں پرامن حل کیلئے تعاون کی یقین دہانی کرائی ہے اس ضمن میں وزیراعظم کے خصوصی وفد نے کشمیریوں پر بھارتی افواج کے مظالم کے ثبوت ترکی کو پیش کیے ۔ وزیر دفاع نے ترک وزیراعظم اور روس کے صدر سے ملاقات کی اور بھارتی جبرتشدد سے آگاہ کیا ۔ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی سفاکی اور بربریت آئے دن بڑھتی ہی چلی جارہی ہے جس کے خلاف پاکستان اپنی تشویش کا اظہار کرتا چلا آرہا ہے اور عالمی اداروں کی توجہ ان مظالم کی طرف مبذول کروا رہا ہے بھارتی ریاستی تشدد تحریک آزادی کو دبانے کیلئے کیا جارہا ہے لیکن حریت پسند اپنے حقوق کیلئے اس طرح کے جبر سے نہ دبیں گے اور نہ ہی جھکیں گے ظلم کے خلاف علم بغاوت بلند کرنا مقبوضہ جموں وکشمیر کے شہریوں کا حق ہے ۔ بھارت سلامتی کونسل کی منظور کردہ قراردادوں کو صرف نظر کرتا چلا آرہا ہے اور برسوں سے مسئلہ کشمیر حل طلب پڑا ہے جو بھارتی ہٹ دھرمی کا منہ بولتا ثبوت ہے ، انسانی حقوق کی خلاف ورزی کا یہ عالم ہے کہ 97 روز سے کرفیو نافذ ہے اور عوام کو جہاں غذائی قلت کا سامنا ہے وہاں علاج معالجہ کیلئے ادویات کی کمی بھی ان کیلئے پریشان کن ہے ان مسائل اور مصائب کے باوجود کشمیری وقت کے یزیدیوں سے برسر پیکار ہیں اور حق خودارادیت کیلئے اپنی جانوں کے نذرانے پیش کررہے ہیں ۔ ریڈ کلف کی غیر منصفانہ تقسیم نے ایسا بیج بویا جو آج بھی خطے کیلئے خطرے کا باعث ہے اس نے بھارتی طرفداری کرتے ہوئے اور نا انصافی کا عملی ثبوت دیتے ہوئے گورداسپور، زیرہ اور دیگر علاقے بھارت کودئیے جس سے نفرت کا بیج آج تناور درخت کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ پاکستان بھارت سے مسئلہ کشمیر سمیت تمام متنازعہ مسائل کا حل مذاکرات کے ذریعے نکالنے کاخواہاں ہے اور اس کی امن کاوشیں اس امر کا واضح ثبوت ہیں کہ پاکستان پرامن طریقے سے مسئلہ حل کرنا چاہتا ہے لیکن بھارت مقبوضہ کشمیر میں بربریت کا کھیل کھیل رہا ہے اور خود مگر مچھ کے آنسو بہا کر دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر سے ہٹانے کی ناکام کوشش کررہا ہے لیکن عالمی ادارے بھارتی چالوں اور چیرہ دستیوں سے بے نیاز نہیں ہیں وہ بخوبی جانتے ہیں کہ اصل حقائق کیا ہیں۔ بھارت کا بھان متی کا کھیل دنیا سمجھ چکی ہے ۔ بھارت جنوبی ایشیاء کے خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈال رہا ہے اور دیدہ دانستہ مسئلہ کشمیر کو التوا کا شکار کررہا ہے جو سراسر نا انصافی ہے اور عالمی اداروں کیلئے لمحہ فکریہ بھی ۔ بھارت کی دو عملی کو دنیا بھانپ چکی ہے ۔ پاکستان آج بھی پرامن حل کا متمنی ہے ۔ بھارت مقبوضہ کشمیر میں ظلم کے پہاڑ ڈھا رہا ہے اور دوسری طرف سرحدی قوانین کی پامالی بھی اس نے اپنا وطیرہ بنا لیا ہے اور پاکستان کے اندر دہشت گردانہ کارروائیاں بھی کروا رہا ہے اس صورتحال میں پاکستان کا صبرو اور تحمل دیدنی ہے دراصل پاکستان خطے کے امن کو تباہ نہیں کرنا چاہتا اور بھارت پاکستان کی امن پسندی کو کمزوری گردان رہا ہے جو اس کی غلط فہمی ہے ۔ پاکستان اپنے دفاع سے غافل نہیں ہے اور اس کی بہادر افواج دشمن کی جارحیت کا منہ توڑ جواب دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ترکی کی مظلوم کشمیریوں کی حمایت انصاف کے تقاضوں کی آئینہ دار ہے۔ عالمی اداروں کو چاہیے کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کیلئے اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کا سورج انشاء اللہ جلد طلوع ہوگا۔ ظلم کی تاریک رات چھٹے گی اور تحریک آزادی کامیابی سے سرخرو ہوگی۔ بھارت خطے کو تباہی کی طرف لے جانے کی بجائے خطے کے امن کیلئے کردار ادا کرے۔پاکستان چاہتا ہے کہ مسئلہ کشمیر سمیت تمام مسائل کا منصفانہ حل نکالا جائے ۔ عالمی ادارے اب چپ سادھنے کی بجائے عملی طورپر آگے بڑھیں اور مسئلہ کشمیر کا حل کرائیں۔خطے میں پائیدار امن اس وقت تک قائم نہیں ہوسکتا جب تک مسئلہ کشمیر کا ادراک نہیں ہوتا۔
یوم عاشور پر بہترین سیکورٹی انتظامات
ملک بھر میں یوم عاشور مذہبی عقیدت و احترام سے منایا گیا ۔ ذوالجناح علم اور تعزیہ کے جلوس برآمدہوئے اور عزاداران حسینؓ نے سینہ کوبی اور زنجیر زنی کرکے شہیدکربلا حضرت امام حسینؓ اور ان کے جاں نثار ساتھیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ جلوس کے راستوں میں سخت سیکورٹی انتظامات کیے گئے جس سے کوئی ناخوشگوار واقعہ رونما نہ ہوا جو حکومت کے سیکورٹی کے مثالی اقدامات کا عکاس ہیں ۔ یوم عاشور پر مذہبی ہم آہنگی کا عملی مظاہرہ کیا گیا اور نواستہ رسول حضرت امام حسینؓاور ان کے جانثار ساتھیوں کو خراج تحسین پیش کیا گیا جنہوں نے اسلام کی سربلند اور بقاء کیلئے کربلا کے مقام پر سارا کنبہ راہ حق پر قربان کردیا اور یزید کے سامنے جھکنا گوارہ نہ کیا ۔ اسلام کی سربلندی کیلئے حضرت امام حسینؓ کی یہ عظیم قربانی مسلمانوں کیلئے مشعل راہ ہے اور اس قربانی کا فلسفہ یہ ہے کہ جب بھی اسلام کی خاطر اپنی جان و مال قربان کرنا پڑے تو دریغ نہیں کرنا چاہیے حکومت نے یوم عاشور پر سخت حفاظتی انتظامات کیے جس کی بدولت کسی قسم کا کوئی ناخوشگوار واقعہ پیش نہیں آیا انتظامیہ ، سیکورٹی اور حساس اداروں کی کارکردگی لائق ستائش ہے۔محرم الحرام کے موقع پر سخت حفاظتی اقدامات محرم الحرام کے پرامن انعقاد کا باعث قرار پائے۔
پنجاب سیف سٹی منصوبہ
وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے پاکستان میں اپنی نوعیت کے منفرد اور ایشیاء کے سب سے بڑے پنجاب سٹی منصوبے کا افتتاح کردیا جبکہ 6 دیگر بڑے شہروں میں بھی سیف سٹی منصوبے شروع کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔ ملتان ، بہاولپور ، راولپنڈی ، گوجرانوالہ ، فیصل آباد اور سرگودھا میں یہ منصوبے 2017 کے آخر میں مکمل کرلئے جائیں گے جبکہ آج سے چھ سال پہلے اس وقت کی وفاقی حکومت نے اسلام آباد میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کیا تھا جو اب آکر مکمل ہوا ہے لیکن پنجاب حکومت کا سیف سٹی منصوبہ اسلام آباد کے منصوبے کے حجم سے چار گنا بڑا ہے ۔ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اسلام آباد سیف سٹی پراجیکٹ کے 1500 کیمروں کو بڑھا کر 2000 کیمروں پرلے آئے جبکہ پنجاب سیف سٹی کے تحت لاہور میں 8 ہزار کیمرے لگائے جارہے ہیں ۔ پنجاب کے سیف سٹی پراجیکٹ کیلئے سب سے کم بولی ہواوے کمپنی نے دی جو کہ 16 ارب روپے تھی تاہم حکومت پنجاب اس رقم کو کم کروا کر 2 ارب روپے پر لائی اورقوم کے 4 ارب روپے اس منصوبے میں بچائے گے ۔ پنجاب سیف سٹی کے منصوبے سے صوبے کے عوام کو محفوظ اور پرامن ماحول میسر آئے گا اس طرح کے منصوبے دوررس نتائج کے حامل ہوا کرتے ہیں ایسے منصوبوں کی جلد تکمیل اور ان میں شفافیت کا ہونا ناگزیر ہوا کرتا ہے۔ پنجاب سیف سٹی منصوبے عوام کی امنگوں کا ترجمان ہیں ایسے منصوبے حکومتی ساکھ اور وقار کو بڑھانے کا باعث قرار پاتے ہیں ۔ حکومت کا یہ اقدام جہاں لوگوں مفید قرار پائے گا وہاں اس کے مثبت اثرات