- الإعلانات -

پانامہ کیس، وزیراعظم کی جے آئی ٹی میں طلبی

پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کے حکم پر قائم ہونے والی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے وزیراعظم نواز شریف کو پوچھ گچھ کیلئے متعلقہ ریکارڈ اور دستاویزات سمیت جمعرات کو طلب کرلیا ہے وزیراعظم کی طلبی کا سمن ہفتہ کے روز وزیراعظم ہاؤس کو موصول ہوا اس سمن پر جے آئی ٹی کے سربراہ ایف آئی اے کے ایڈیشنل ڈی جی واجد ضیاء کے دستخط ہیں۔ وزیراعظم کو پہلے ہی اندازہ تھا کہ ان دنوں میں کسی بھی وقت وزیراعظم کو بلایا جاسکتا ہے ۔ ممکنہ سمن کے بارے میں قانونی اور مالیاتی امور کے ماہرین سے پہلے ہی مشاورت کی جاچکی تھی اور وزیراعظم طلبی کیلئے تیار تھے ۔ جے آئی ٹی کی طرف سے اس اقدام کے ساتھ ہی پانامہ کیس میں تحقیقات اہم مرحلہ میں داخل ہوگئی ہیں ۔ عدالت عظمیٰ نے جے آئی ٹی کو اپنی چھان بین مکمل کرنے کیلئے ساٹھ روز کا وقت دے رکھا ہے باور کیا جاتا ہے کہ وزیراعظم سے حدیبیہ پیپرز ملز کے بارے میں سوالات کیے جائیں گے۔ قبل ازیں وزیراعظم کے بیٹے حسن نواز جے آئی ٹی کے سامنے پانچ بار اورچھوٹے بیٹے حسین نواز دوبار پیش ہوچکے ہیں جبکہ وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کو بھی جے آئی ٹی نے طلب کررکھا ہے۔ قانون سے بالاتر کوئی نہیں وزیراعظم محمد نواز شریف کا جے آئی ٹی میں پیش ہونا ایک غیر معمولی واقعہ ہے جو عدلیہ کی بالادستی اور جمہوریت کے استحکام کیلئے ضروری قرار پاتا ہے وزیراعظم نے جے آئی ٹی میں پیش ہونے کا فیصلہ کرکے سیاسی تدبر اور بصیرت کا مظاہرہ کیا ہے جن دستاویزات کو وزیراعظم کے ساتھ مانگا گیا ہے اس حوالہ سے وزیر مملکت مریم اورنگزیب نے کہا ہے کہ تین باتیں واضح ہونی چاہئیں اول یہ کہ وزیراعظم کے اثاثے اور ٹیکس گوشوارے مکمل تفصیلات کے ساتھ ایف بی آر کی ویب سائٹ اور اس کے دیگر ریکارڈز میں موجود ہیں دوم یہ کہ وزیراعظم اپنے والد کی زندگی میں بزنس سے علیحدہ ہوچکے تھے اور سوم یہ کہ پانامہ پیپرز جاری کرنے والوں نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ اس معاملہ میں وزیراعظم نواز شریف کا نام شامل نہیں ہے۔دوسری طرف اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا ہے کہ سپریم کورٹ جے آئی ٹی کو متنازع بنانے والوں کیخلاف کارروائی کرے ۔ پیپلز پارٹی نے ہمیشہ عدالتوں کا احترام کیا ہے جبکہ چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے جے آئی ٹی کی طرف سے وزیراعظم کی طلبی پر قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ مقتدر وزیراعظم کو قانون کے تابع بنایا گیا ہے۔ تحقیقات کیلئے وزیراعظم کی منصب سے علیحدگی انتہائی اہم ہے ۔جے آئی ٹی میں شریک ادارے وزیراعظم کے تابع ہیں جو ایک بڑا تضاد ہے اور عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ پانامہ جے آئی ٹی حکمران جماعت کا الیکشن سیل ہے اور وہ مسلم لیگ (ن)کی الیکشن مہم اور نعرہ تیار کررہی ہے اس سے خیر کی توقع رکھنے والوں پر حیران ہوں اس سے خیر خواہی کی امید نہیں 20 کروڑ عوام کو پاگل بنایا جارہا ہے تمام سیاسی قیادتوں کو یک نکاتی ایجنڈے پر اکٹھا کرنے کیلئے جو ممکن ہوا کریں گے۔ جے آئی ٹی میں وزیراعظم کی طلبی کے بعد پانامہ کیس اہم موڑ میں د اخل ہوگیا ہے۔ وزیراعظم کا جے آئی ٹی میں پیش ہونا نیک شگون ہے۔ جے آئی ٹی کی آزادانہ اور منصفانہ تحقیقات سے ہی پانامہ کیس اپنے منطقی انجام تک پہنچ پائے گا جو سیاسی رہنما جے آئی ٹی کو دھمکانے اور ڈرانے کی باتیں کررہے ہیں وہ شاید اس بات کو بھولے ہوئے ہیں کہ قانون سے بالاتر کوئی نہیں اور اس کا اطلاق ہرچھوٹے بڑے پر مساوی ہوتا ہے ۔ جے آئی ٹی کو کسی دباؤ میں آئے بغیر اپنی تحقیقات کو مقررہ وقت میں مکمل کرکے سپریم کورٹ میں پیش کرنا چاہیے ۔ پانامہ کا ہنگامہ اور اس سے پیدا صورتحال نے ملکی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کررکھے ہیں ۔ بلا امتیاز احتساب ہی کرپشن کے خاتمے کا باعث قرار پاسکتا ہے ۔ کرپشن نے ملک کے اداروں کو دیمک کی طرح چاٹ رکھا ہے یہ ادارے اسی وقت تطہیر کے قابل ہوسکتے ہیں جب کرپشن سے پاک ہونگے ۔ پانامہ کیس پر قوم کی نگاہیں لگی ہوئی ہیں اور اس کا فیصلہ ملکی سیاست پر دوررس نتائج کا حامل قرار پائے گا ۔ پانامہ کیس زیر سماعت ہے اور جے آئی ٹی اپنی چھان بین کر رہی ہے سیاستدان کو چاہیے کہ وہ اس پر دباؤ ڈالنے کی بجائے اس کو آزادانہ تفتیش مکمل کرنے دیں ۔ منصفانہ چھان بین ہی انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کا ذریعہ قرار پاسکتی ہے۔ وزیراعظم کی جے آئی ٹی میں طلبی اور وزیراعظم کا پیش ہونے کا فیصلہ مستحسن ہے ۔ سیاست میں رواداری اور برداشت کی ضرورت ہوا کرتی ہے ۔ پانامہ کا ہنگامہ اپنے منطقی انجام کی طرف جارہا ہے اس لئے جے آئی ٹی کو متنازع نہ بنایا جائے ۔ وزیراعظم کی پیشی جمہوریت کا حسن ہے اور اچھا فیصلہ ہے۔
پاکستان افغانستان میں امن کا خواہاں
امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان میں امن کو سیاسی مفاہمت سے مشروط کرتے ہوئے پاکستان پر زور دیا کہ وہ اپنے ہمسایہ ملک میں امن عمل میں حصہ لینے کے لیے طالبان کو قائل کرے۔اجلاس میں موجود پاکستانی سفیر اعزاز احمد چوہدری نے شرکا کی تنقید اور ساتھی مقررین کے مسخر کا سامنا کرتے ہوئے پاکستان پر لگائے جانے والے الزامات کو مسترد کیا اور کہا کہ افغانستان میں ہونے والے کسی بھی واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو نہ ٹھرایا جائے۔ایشلے ٹیلس نے خبردار کیا کہ یہ بھی امکانات ہیں کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ ایک مخصوص وقت میں افغانستان میں اپنے اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہی تو وہ افغانستان میں اپنی وابستگی کو کم کرتے ہوئے خطے سے دستبردار بھی ہوسکتی ہے۔ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دہشت گردوں کے ایک گروہ کی پاکستان میں محفوظ پناہ گاہیں ہیں اور اب یہ پاکستان حکومت کے اپنے مفاد میں ہے کہ وہ اپنی کوششوں کو دگنا کرتے ہوئے افغانستان سے امریکی انخلا سے قبل افغان طالبان کو کابل حکومت کے ساتھ امن معاہدے کے مذاکرات کرنے پر قائل کریں۔ پاکستان پرامن ملک ہے اس میں دہشت گردوں کی کوئی محفوظ پناہ گاہ نہیں یہ الزام بے بنیاد ہے پاکستان اس کو مسترد کرتا ہے اور چاہتا ہے کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور یہ خطہ دہشت گردی سے پاک ہو۔
کوئٹہ، پولیس ناکے پر دہشت گردوں کی فائرنگ
کوئٹہ میں پولیس ناکہ پر دہشت گردوں کی فائرنگ سے تین اہلکار شہید جبکہ ایک راہگیر زخمی ہوگیا ۔ یہ واقعہ شہر کے علاقے سریاب میں چکی شاہوانی کے پولیس ناکے پر اس وقت پیش آیاجب وہاں اہلکار ڈیوٹی انجام دے رہے تھے ،فائرنگ کے نتیجے میں ایک اہلکار عاشق علی موقع پر جاں بحق ہوگیا جبکہ دو پولیس اہلکاروں سمیت ایک راہگیر شدیدزخمی ہوگیا اس سے قبل بھی پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ کی واقعات رونما ہوئے ہیں ۔کوئٹہ پولیس ناکہ پر فائرنگ کے دل خراش واقعہ نے ایک بار پھر خوف و ہراس پھیلا دیا ہے ۔ دہشت گردوں کی کارروائیاں ماند ضرور پڑ گئی ہیں لیکن تاحال دہشت گردی کا ناسور جڑ سے اکھڑ نہیں پایا ۔ آپریشن ردالفساد کامیابی سے جاری ہے اور اس کے اہداف بھی پورے ہوتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل درآمد کیا جاتا تو دہشت گردی کب کی ختم ہوچکی ہوتی لیکن اب بھی وقت ہے بلا امتیاز آپریشن کے ذریعے انسانیت کے دشمنوں کو ان کے منطقی انجام تک پہنچایا جاسکتا ہے ۔ کوئٹہ واقعہ پر جتنا افسوس کیا جائے کم ہے قوم شہداء کی قربانیوں کو کبھی بھول نہ پائے گی۔