- الإعلانات -

عدل و انصاف ہی معاشرے کی بقا کا ضامن ہوتا ہے

پاناما لیکس کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے 20اپریل کے فیصلے کے تحت چھ اداروں کے نمائندوں پر مشتمل جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم کے سامنے حکمران جماعت کی اہم شخصیات کی پیشیوں کا سلسلہ جاری ہے۔اس حوالے سے گزشتہ روز پنجاب کے وزیراعلیٰ اور وزیراعظم کے بھائی میاں شہباز شریف جے آئی ٹی کے روبرو پیش ہوئے۔جبکہ قبل ازیں گزشتہ ہفتے جمعرات کے روز وزیراعظم میاں نواز شریف کو خود بھی پیش ہونا پڑا تھا۔وزیراعلیٰ پنجاب سے ساڑھے تین گھنٹے تک پوچھ گچھ کی گئی۔شہباز شریف سے حدیبیہ پیپر مل ،گلف سٹیل، شریف خاندان کے اثاثوں سمیت دیگر کئی اہم سوالات کیے گئے۔پیشی کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ کرپشن کا کوئی کیس نہیں ، ذاتی کاروبار تباہ کیا جا رہا ہے،وزیراعظم اور میں نے جے آئی ٹی پیش ہوکرپاکستان کی تاریخ میں نیا باب رقم کیادوسری طرف بندوق کی طاقت کے نشے میں شب خون مارنے والوں کا رویہ ہے قانون اور عدالت کے ساتھ کیا ہے،ہمارے دلوں میں عدالت اور قانون کا بڑا احترام ہے،کمر کی تکلیف کا بہانہ نہیں بنایا میں ہسپتال میں داخل نہیں ہوا،شریف خاندان کا احتساب پہلی بارنہیں پانچویں بار ہورہا ہے جس میں بھی سرخرو ہوں گے،ایسے باپ کا بیٹا ہوں جس کو لوگ امین کے نام سے جانتے ہیں،بینظیر دور میں میرے والد کو گرفتار کیا گیا۔مٹی کی محبت میں وہ قرض اتارے ہیں جو واجب نہیں تھے۔ انہوں نے کہا کہ آپ سب کا شکر گزار ہوں جے آئی ٹی نے مجھے نوٹس بھجوایا تھا کہ پیش ہوں۔ پانامہ کے معاملے کے حوالے سے میں نے بیان ریکارڈ کروا دیا ہے۔ انھوں نے کہا مجھے فخر ہے میں ایسے باپ کا بیٹا ہوں جسے بینک آنکھیں بند کرکے قرضے دیتے تھے۔انہوں نے بتایا کہ بھٹو سے لے کر مشرف تک ہر دور میں ہمارا احتساب ہوا۔یہ ہمارا پانچواں احتساب ہورہا ہے۔حکمراں خاندان کے احتساب کے لئے شروع ہونے والا عدالتی عمل درحقیقت ملک میں عدل و انصاف کی ترویج کا نہایت خوش آئند آغاز ہے۔ عدل و انصاف ہی معاشرے کی بقا کا ضامن ہوتا ہے۔یہ بات بھی نہایت تسلی بخش اور اطمینان کا باعث ہے کہ پاکستان کی عدلیہ اپنے آہنی عزم کے نتیجے میں کافی حد تک آزاد ہے اور اس نے ایک حکمران خاندان کواحتساب کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے، ورنہ اس سے قبل احتساب اور قانون کی بالادستی صرف کتابوں اور ٹاک شوز تک محدود تھی۔اب بھی اگر سوسائٹی کے بعض حلقوں میں شکوک شبہات پائے جاتے ہیں اس کے پیچھے بھی ہماری عدالتی تاریخ ہے جو اتنی شاندار نہیں رہی ہے کہ جسے کسی نظیر کے طور پر پیش کیا جا سکے۔نظریہ ضرورت نے سیاسی و فوجی آمروں کو ایسے ایسے جواز فراہم کیے کہ ایک عام آدمی کا عدلیہ سے اعتماد اٹھ چکا تھا۔مگر اب تاریخ بدلتی محسوس ہوتی ہے اور ایک امید بندھ چلی ہے کہ جلد ملک میں عدل و انصاف کا بول بالا ہوگا۔ قانون اور انصاف کی یہ حکمرانی یقیناًایک بڑی قومی کامیابی ہے۔اس سے یقینا” ہمارے معاشرے میں قانون کی حکمرانی کی بنیادیں مضبوط ہوں گی۔ہر کسی کا بلا امتیاز احتساب وقت کا تقاضا ہے۔چاہے کوئی ماضی سے تعلق رکھتا ہو یا جن کے نام پانامہ میں آئے ہیں۔بے لاگ مواخذے کے لیے ایک مستقل خود کار نظام روبعمل لایاجائے تاکہ ملک کو کرپشن کی لعنت سے نجات مل سکے۔ہمارے ہاں یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ اس طرح جمہوریت خطرے میں پڑ جائے گی اور غیر جمہوری قوتوں کو آگے آنے کا موقع ملے گا۔لیکن یہ ایک روشن حقیقت ہے کہ احتساب ہی سے جمہوریت مستحکم بنیادوں پر کھڑا ہونے کا موقع ملتا ہے۔ایٹمی طاقت کے حامل ملک پاکستان کو کرپٹ اور شخصی آمریت کے پجاریوں کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔اس ملک میں احتساب کی ایک ایسی مثال قائم ہونی چاہیے کہ جس پر ہر فرد آنکھیں بند کر کے اعتماد کر سکے۔کوئی فرد, شخصیت یا خاندان اس ملک کے لیے لازم و ملزوم نہیں ہے۔غیر محسوس طریقے سے یہ پروپیگنڈا کیا جاتا ہے کہ اگر فلاں کو نکال دیا گیا تو ملکی ترقی رک جائے گی مگراقتدار و اختیار آنے جانے والی چیزیں ہیں۔آئین اور قانون کی بالادستی کی روایات ہی قوم کا مستقبل سنوارنے کا باعث بنتی ہیں۔
بھارت جبر سے حق خودارادیت کی تحریک روندناچاہتا ہے
پاکستان نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں ہونے والی شہادتوں کو انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے عالمی برادری سے نوٹس لینے کی اپیل کی ہے۔ ایک بیان میں مشیرخارجہ سرتاج عزیز نے کہا بھارت طاقت اور قوت سے حق خودارادیت کی تحریک کو روندناچاہتا ہے۔سفارتخانوں کو ہدایات دی ہیں کہ مقبوضہ وادی میں بھارتی ظلم و تشدد سے آگاہ کریں۔ بھارتی ظلم و ستم پر سکولوں کے بچے اور بچیاں سنگ باری پر مجبور ہیں۔ مشیر خارجہ نے اس بات کا اعادہ کیا مسئلے کے بنیادی فریق کے طور پر کشمیریوں کی اخلاقی، سیاسی اور سفارتی حمایت جاری رکھی جائے گی۔ اقوام عالم سے مقبوضہ وادی میں کشمیریوں کی نسل کشی کا نوٹس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عملدرآمد سے مشروط ہے۔ یو این سمیت تمام عالمی اداروں پر آواز اٹھائی ہے اور اٹھاتے رہیں گے کشمیری بھارتی تسلط سے نجات اور آزادی کیلئے بے چین ہیں۔دوسری جانب بھارت نے ایک بار پھر پاکستان پر کشمیر میں دہشت گردی کے ذریعے صورتحال خراب کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔اقوام متحدہ انسانی حقوق کونسل میں بھارتی نمائندے نے کہا کہ پاکستان دہشت گردوں کی حمایت بند کرے اور بھارت کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔بھارت نے یہ وطیرہ اپنا رکھا ہے جب کبھی کسی بین الاقوامی فورم پر کشمیر کا ذکر آتا ہے تو اسے پاکستان کی شرارت قرار دے کر اپنی جان چھڑانے کی بھونڈی کوشش کرتا ہے۔کیا دنیا نہیں جانتی کہ بھارت نے گزشتہ ایک سال سے مقبوضہ کشمیر ہی نہیں کنٹرول لائن پر بھی اپنی بربریت کی انتہاکر رکھی ہے اور تقریباً روزانہ کی بنیاد پر بھارتی فوجیں سیزفائر کے معاہدہ اور کنٹرول لائن کی خلاف ورزیاں کرکے پاکستان کی چیک پوسٹوں اور ملحقہ شہری آبادیوں پر بلااشتعال فائرنگ اور گولہ باری کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔مقبوضہ کشمیر میں رمضان المبارک کے مقدس مہینے کے دوران بھارتی درندگی عروج پر رہی۔ یہی وہ جنونی بھارتی کارروائیاں ہیں جو نام نہاد سیکولر بھارت کا مکروہ چہرہ پوری اقوام عالم میں بے نقاب کررہی ہیں اور اسی تناظر میں اقوام متحدہ کے علاوہ دوسرے عالمی فورموں پر بھی کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا جارہا ہے اور انکے حق خودارادیت کیلئے آوازیں اٹھ رہی ہیں۔ سرتاج عزیز نے بھی اسی جانب دنیا کی توجہ دلائی ہے کہ بھارت طاقت اور قوت سے حق خودارادیت کی تحریک کو روندناچاہتا ہے۔