- الإعلانات -

الزامات کی سیاست اور پانامہ کیس

جمعرات کے روز لواری ٹنل کے افتتاح کے موقع پر دیر بالا میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم سخت برہم نظر آئے اور انہوں مخالفین کے ساتھ ساتھ لگے ہاتھوں جے آئی ٹی کو بھی سخت تنقید کا نشانہ بنایا۔وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ ہم پر کرپشن کا کوئی داغ نہیں جے آئی ٹی اورپی ٹی آئی کااحتساب کوئی نہیں مانے گا،یہ جو کچھ ہو رہا ہے احتساب نہیں استحصال ہے۔تہمت اور بیہودہ الزامات برداشت نہیں کر سکتامجھے اپنی عزت سب سے پیاری ہے، میرے صبرکا امتحان مت لو۔انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی ارکان فرشتوں کی طرح صادق اورامین بنے بیٹھے ہیں ، ہمیں توعلم ہی نہیں کس چیزکا احتساب ہورہا ہے،روزصبح اٹھ کراستعفے کی بھیک مانگنے والو شرم کرو،کیا میں تمہارے ووٹوں سے آیا ہوں جو استعفیٰ دے دوں؟اب یہ تماشا بند ہونا چاہئے۔ آج کل مخالفین کے سرکس پر پانامالیکس کا بورڈلگا ہوا ہے۔وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ ترقی کے دشمن 2002 سے 2013 سمیت تمام انتخابات میں مسترد شدہ ہیں جبکہ ملک و عوام کو ترقی سے محروم رکھنے والے سیاست کے قابل نہیں ہے۔اسی طرح محترم وزیراعظم ایک روز قبل سیالکوٹ میں بھی ایک جلسہ عام میں اسی لب و لہجے میں گرجے برسے اور اپنی بے گناہی پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ مجھے آج تک سمجھ میں نہیں آیا کہ مجھ پر اور میرے خاندان پر الزام کیا ہے۔ہمارے خاندان کے لوگ پچھلے چالیس سال سے مختلف جگہوں پرکاروبارکر رہے ہیں۔آج تک نہ ہمارے خلاف کہیں سے کوئی شکایت آئی اور نہ ہم پرکوئی انگلی اٹھی۔ہمیں یہ تو بتایا جائے کہ ہم نے کس کی چوری کی ہے کس کا مال لوٹا ہے۔کوئی مدعی تو سامنے آئے ،ہمارے ذاتی کاروبار کے متعلق چھان بین کی جارہی ہے۔میاں نواز شریف نے جذبات کی روا روی میں بہت کچھ کہہ دیا لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ جس عہدے پر فائز ہیں اس کا تقاضا ہے کہ ہر لفظ ناپ تول کر بولا جائے۔سپریم کورٹ کے باہر ہر جگہ حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے ایک دوسرے کے خلاف الزامات اور غلط زبان استعمال کرنے کا چلن عام ہے جو کسی صورت مناسب نہیں ہے۔اس طرح کے رویے سے بظاہر یہی پیغام جارہا ہے کہ کسی نا کسی طرح عدالت پر دبا ڈالا جائے۔مسلم لیگ (ن)اور اپوزیشن جماعتوں کو چاہیے کہ فیصلے کے آنے تک ایک دوسرے کے خلاف بیانات بند کرکے انتظار کریں اور پھر جو بھی فیصلہ ہو اسے کھلے دل سے تسلیم کیا جائے۔ شریف خاندان کے مالی معاملات کی تحقیقات کرنے والی جے آئی ٹی کی رپورٹ پر پانچویں روز سماعت ہوئی جس کے بعد فیصلہ محفوظ کرلیا گیا ہے،فیصلہ کب سنایا جائے گا اس کا اعلان نہیں کیا گیا ہے۔قبل ازیں سپریم کورٹ میں وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجا نے دلائل دیئے۔چوتھے روزسماعت کے آغاز پر سلمان اکرم راجا نے مزید دستاویزات جمع کروائیں، عدالتی بنچ نے دستاویزات سپریم کورٹ میں پیش کیے جانے سے قبل میڈیا پر لیک ہونے کے معاملے پر برہمی کا اظہار کیا۔سماعت کے دوران وزیر اعظم کے وکیل خواجہ حارث اور وزیر خزانہ اسحق ڈار کے وکیل حسن طارق نے اپنے دلائل مکمل کرلیے تھے، جبکہ عدالت عظمیٰ نے وزیراعظم کے بچوں حسن، حسین اور مریم نواز کے وکیل سے بھی دستاویزات طلب کی تھیں،جبکہ پانچویں روز سپریم کورٹ میں تمام وکلا نے دلائل مکمل کرلئے۔گزشتہ روز جب سماعت شروع ہوئی تو بینج نے والیم دس کو کھولنے کا حکم دیا اور اس کی ایک کاپی خواجہ حارث کو دی گئی،امید کی جارہی تھی شاید اب مزید بحث طول پکڑے لیکن حکومتی وکیل نے اس پر کوئی بات چیت نہ کی۔اس وقت پاناما کا معاملہ کافی حد تک وسیع ہوچکا ہے اور بات وزیر اعظم نواز شریف کے صادق اور امین ہونے یا منی لانڈرنگ سے بھی آگے تک جاچکی ہے۔موجودہ صورت حال میں عدالت کے پاس صرف دو آپشنز موجود ہیں کہ آیا وہ خود سے وزیر اعظم کی نااہلی کا فیصلہ جاری کردے یا اس پورے معاملے کو ریفرنس کے ذریعے قومی احتساب بیورو کے پاس بھیج دے،لیکن ایسا شاید مشکل ہوگا کیونکہ اسی بینچ نے پہلے ہی نیب کو ایک غیر فعال ادارہ قرار دیا تھا۔سپریم کورٹ نے رواں سال ۲۰اپریل کو وزیراعظم نواز شریف کے خلاف پاناما کیس کی مزید تحقیقات کیلئے ایف آئی اے کے اعلیٰ افسر کی سربراہی میں مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی تھی۔جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں سپریم کورٹ کے5رکنی بینچ نے جے آئی ٹی کو حکم دیا تھا کہ وہ 60روز کے اندر تحقیقات مکمل کر کے رپورٹ پیش کرے۔جے آئی ٹی نے 2ماہ کی تحقیقات کے بعد رواں ماہ 10جولائی کو سپریم کورٹ میں اپنی رپورٹ جمع کروادی،دس جلدوں پر مشتمل اس رپورٹ میں وزیراعظم سمیت شریف خاندان کے خلاف مختلف شواہد سامنے لائے گئے۔پاناماکے معاملے نے ملکی سیاست میں اس وقت ہلچل مچائی، جب گذشتہ سال اپریل میں پاناما کی مشہور لا فرم موزیک فانسیکا کی افشا ہونے والی انتہائی خفیہ دستاویزات سے پاکستان سمیت دنیا کی کئی طاقتور اور سیاسی شخصیات کے آف شورمالی معاملات سامنے آئے۔پاناما پیپرز کی جانب سے آئی سی آئی جے کی ویب سائٹ پر جاری ہونے والا یہ ڈیٹا میں روس کے صدر ولادی میر پوٹن، سعودی عرب کے فرمانروا شاہ سلمان،آئس لینڈ کے وزیر اعظم، شامی صدر اور پاکستان کے وزیراعظم نواز شریف سمیت درجنوں حکمرانوں کے نام شامل تھے۔ڈیٹا کے مطابق وزیر اعظم نواز شریف کے بچوں مریم، حسن اور حسین کئی کمپنیوں کے مالکان ہیں یا پھر انکی رقوم کی منتقلی کے مجاز تھے۔ان انکشافات کے بعد اپوزیشن جماعتوں بالخصوص پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا گیا اور بعدازاں اس حوالے سے سپریم کورٹ سے رجوع کیا گیا۔ملکی تاریخ کا یہ ہائی پروفائل کیس اب اپنے اختتام کے قریب ہے۔حکومت نے یہ کیس جس غیر سنجیدگی سے لیا اور سپریم کورٹ سے حقائق چھپانے کی کوشش کی،اس سے ظاہر ہورہا ہے کہ اسکی مشکلات میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔تاہم اس سارے عرصہ میں جس طرح الزام تراشی کا بازارگرم رہا اس نے سیاسی کشیدگی کو بھی خوب ہوا دی۔

 

شہری آبادی کو نشانے کا بھارتی دعویٰ مسترد

 

گزشتہ چند روز سے بھارت ایک طرف لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیز فائرنگ کررہا ہے تو دوسری طرف وہ پاکستان پر الزام لگا رہا ہے کہ پاکستان شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کردیا ہے۔آئی ایس پی آر کے مطابق پاک فوج نے ایل او سی کے پار شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا بھارتی دعویٰ بے بنیاد ہے۔ ادھر پاک فوج کے ڈی جی ایم او سے بھارتی ہم منصب نے ہاٹ لائن پر رابطہ کیا۔ بھارتی ڈی جی ایم او نے ہاٹ لائن پر رابطہ میں پاکستانی ہم منصب نے شہری آبادی کو نشانہ بنانے کا الزام لگایا تھا جسے پاکستان کے ڈی جی ایم او نے سختی سے مسترد کر دیا ہے۔ پاکستانی ڈی جی ایم او نے کہا ہے کہ پاک فوج ایک پیشہ وارانہ فوج ہے پاک فوج شہری آبادی کو نشانہ بنانے کو مکمل غیراخلاقی سمجھتی ہے۔ پاک فوج نے صرف بھارتی چیک پوسٹ کو نشانہ بنایا۔ جبکہ بھارت کی طرف سے روز ایسا کیا جارہا ہے جس پر پاکستان میں متعین بھارت کے ڈپٹی ہائی کمشنر کو مسلسل دوسرے روز دفتر خارجہ طلب کر کے کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر شدید احتجاج کیا گیا ہے۔بھارتی ڈپٹی ہائی کمشنر سے کہا گیا کہ نہتے شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول اور عالمی اقدار و قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ ان سے مطالبہ کیا گیا بھارت جنگ بندی معاہدہ پر اس کی روح کے مطابق عمل کرے اور اقوام متحدہ کے فوجی مبصرین کو ان کے مینڈیٹ کے مطابق کردار اد اکرنے دیا جائے۔ بھارت میں بڑھتی ہوئی انتہا پسندی اور عدم برداشت بین الاقوامی سطح پر تشویش پیدا کر رہی ہے۔