- الإعلانات -

عارف علوی13 ویں صدر مملکت منتخب

adaria

2018ء کے انتقال اقتدار کاآخری مرحلہ نئے صدر کے انتخاب کے ساتھ بخیروخوبی مکمل ہوا، پی ٹی آئی کے امیدوار ڈاکٹر عارف علوی نے 353الیکٹورل ووٹ لے کر صدر مملکت منتخب ہوگئے جبکہ مولانافضل الرحمن نے 185 اور اعتزازاحسن نے124ووٹ حاصل کئے،1110ارکان پارلیمنٹ نے اپناحق رائے دہی کااستعمال کیا۔ صدر مملکت کے لیے تحریک انصاف کے ڈاکٹر عارف علوی، پیپلز پارٹی کے اعتزاز احسن اور 4 اپوزیشن جماعتوں (مسلم لیگ (ن)، عوامی نیشنل پارٹی، متحدہ مجلس عمل اور پشتونخوا ملی عوامی پارٹی)کے مشترکہ امیدوار مولانا فضل الرحمان کے درمیان مقابلہ تھا۔صدارتی انتخاب کے لیے پارلیمنٹ ہاؤس اور چاروں صوبائی اسمبلیوں میں صبح 10 بجے پولنگ شروع ہوئی جو بلاتعطل شام 4 بجے تک جاری رہی۔پارلیمنٹ میں پولنگ کے دوران 432 میں سے 424 ووٹ کاسٹ ہوئے اور 6 ووٹ مسترد اور دو ارکان نے اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا، عارف علوی نے 212، مولانا فضل الرحمان نے 131 اور اعتزاز احسن نے 81 ووٹ حاصل کیے۔ پنجاب اسمبلی میں 354 میں سے 351 ارکان نے ووٹ کاسٹ کیا جب کہ سندھ اسمبلی میں 163 میں سے 158 ووٹ کاسٹ ہوئے۔اسی طرح بلوچستان اسمبلی میں 61 میں سے 60 اراکین نے ووٹ کاسٹ کیے اور ایک رکن نواب ثنا اللہ زہری نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا جب کہ خیبرپختونخوا اسمبلی کے 112 میں سے 111 ارکان نے ووٹ ڈالے، آزاد رکن اسمبلی امجد آفریدی نے اپنا ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔پنجاب اسمبلی میں فارمولے کے تحت عارف علوی کو 33، مولانا فضل الرحمان کو 25 اور اعتزاز احسن کو ایک ووٹ ملا۔بلوچستان اسمبلی میں عارف علوی نے 45 اور مولانا فضل الرحمان نے 15 ووٹ حاصل کیے جب کہ پیپلز پارٹی کی اسمبلی میں کوئی نمائندگی نہیں اس لیے اعتزاز احسن کو کوئی ووٹ نہ ملا۔خیبرپختونخوا اسمبلی میں عارف علوی نے 78، مولانا فضل الرحمان نے 26 اور اعتزاز احسن نے 5 ووٹ حاصل کیے، صدارتی انتخاب کے فارمولہ کے تحت پی ٹی آئی امیدوار عارف علوی کو 41، مولانا فضل الرحمان کو 13 اور اعتزاز احسن کو 2 ووٹ ملے۔سندھ اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے امیدوار اعتزاز احسن کو 100 ووٹ اور عارف علوی کو 56 ووٹ ملے جب کہ مولانا فضل الرحمان کو ایک ووٹ ملا۔ انتخابی فارمولے کے تحت سندھ اسمبلی میں اعتزاز احسن نے 39 اور عارف علوی نے 22 ووٹ حاصل کیے۔ سندھ اسمبلی میں 163 میں سے 158 ووٹ کاسٹ ہوئے اور ایک ووٹ مسترد ہوا جب کہ 5 اراکین نے ووٹ کاسٹ نہیں کیا۔صدارتی انتخابی فارمولے کے تحت سندھ، پنجاب اور خیبرپختونخوا اسمبلی کے مجموعی ووٹوں کو بلوچستان اسمبلی کے اراکین سے تقسیم کیا گیا۔ صدارتی انتخاب میں غلط نشان لگانیکی وجہ سے ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹ کے 6 ووٹ مسترد ہوئے، 2 ارکان پارلیمنٹ نے ووٹ نہیں ڈالے جن میں ایک سینیٹر اور ایک رکن قومی اسمبلی ہیں۔یاد رہے کہ صدر مملکت ممنون حسین کی مدت صدارت 8 ستمبر کو ختم ہورہی ہے اور نومنتخب صدر ڈاکٹر عارف علوی 9 ستمبر کوتیرہویں صدرمملکت کے عہدے کاحلف اٹھائیں گے۔عارف علوی 29 جولائی1949کو کراچی میں پیدا ہوئے، پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر کراچی سے دوسری بار رکن اسمبلی منتخب ہوئے ،ایک تجربہ کار پارلیمنٹیرین اوراعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں انہوں نے 1964ء میں سٹوڈنٹ پالیٹکس سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا ،1979ء میں انہوں نے جماعت اسلامی کے ٹکٹ پر کراچی سے صوبائی اسمبلی کی نشست سے انتخاب لڑا مگر کامیابی حاصل نہ کرپائے ، 1997ء میں پی ٹی آئی سندھ کے صدر منتخب ہوئے 2006ء سے 2013ء تک سیکرٹری جنرل کے عہدے پررہے۔2013ء میں این اے250کراچی 12سے قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے جبکہ 2018ء کے عام انتخابات میں این اے247 سے ایک مرتبہ پھرکامیابی حاصل کی ۔18اگست کو پارٹی قیادت نے انہیں صدارتی میدوار نامزد کیا ۔امید ہے کہ نومنتخب صدر آئین کے مطابق اپنا غیرجانبدارانہ کردار ادا کرکے خود کو ہر پارٹی کیلئے قابل قبول بنائیں گے کیونکہ وہ پاکستان کے صدر ہیں ۔ نومنتخب صدر اپوزیشن کو بھی ساتھ لیکر چلیں گے تاکہ عمران خان کے ویژن کو کامیابی سے ہمکنار کیاجائے۔

پروگرام سچی بات میں ایس کے نیازی کی گفتگو
پاکستان گروپ آف نیوز پیپرز کے چیف ایڈیٹر اور روز نیوز کے چیئرمین ایس کے نیازی نے اپنے پروگرام ’’سچی بات‘‘میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کا اتفاق نہ ہونے میں ملک کی بہتری ہے،تحریک انصاف اب کھلے دل سے پالیسیاں بنا سکتی ہے،پی ٹی آئی15روز میں کچھ نہیں کرسکتی،وقت دینا چاہیے،ہیلی کاپٹر کے بجائے معاشی اور پانی کے مسئلے پر بات ہونی چاہیے،امریکا بھی تمام معاملات میں سوچ سمجھ کر ہاتھ ڈالتا ہے،آنے والا وقت بتائے گا ہم پریشر کو کیسے ہینڈل کرتے ہیں،بڑی اچھی بات ہے کہ صدر کا تعلق کراچی سے ہے،پہلے بھی صدر پاکستان کا تعلق کراچی سے تھا،حکومت کو بڑے سارے مسائل اور چیلنجز کا سامنا ہے،صوبہ سندھ سے زیادہ ہنڈی کے معاملات ہوتے ہیں،بہت بڑا پیغام ہے کہ وزیراعظم پاکستان سادگی اپنانا چاہتے ہیں،گیس اور ایل این جی کے معاملات کو ابھی حکومت کو دیکھنا ہوگا،عمران خان اب بھی وہی بات کرتے ہیں جو22سال پہلے کہتے تھے،توقع ہے اب قانون ذاتی مفادات کیلئے نہیں عوام کیلئے بنائے جائینگے،آرمی چیف نے ریس کورس سے شجر کاری مہم کا آغاز کیا،حکومت کی طرف سے بھی شجر کاری مہم کا آغازکردیا گیا ہے،حکومت نے جتنے درخت کہے،آدھے بھی لگائیں تو بڑا کام ہوگا،درخت لگانے سے فائدہ ہی فائدہ ہے،ہر شخص ایک پودا لگائے،ایمنسٹی اسکیم سے لوگوں کو فائدہ اٹھانا چاہیے تھا،اگر ایمسنٹی اسکیم سے فائدہ نہیں اٹھایا گیا تو یہ بدنصیبی ہے۔ایس کے نیازی کے تجزیے بے کم وکاست ثابت ہوئے ، پروگرام سچی بات میں ان کی باتیں سیاسی افق پر دور رس نتائج کی حامل قرارپارہی ہیں ، ان کے تجزیوں اورتبصروں سے ناظرین استفادہ کرتے ہیں اور سیاست کے اتارچڑھاؤ پر ان کی گہری نظر ہے یہی وجہ ہے کہ پروگرام سچی بات مقبول عام ہے۔
کورکمانڈرز کانفرنس،خطے کی صورتحال کا جائزہ
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی زیر صدارت کور کمانڈر کانفرنس کا انعقاد ہوا، کور کمانڈر کانفرنس میں خطے کے جیو اسٹرٹیجک صورتحال اور آپریشن ردالفساد میں پیش رفت کا جائزہ لیا گیا۔ یوم دفاع کے موقع پر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ آرمی چیف نے فیلڈ فارمیشنز کو شہداء کے لواحقین کے پاس پہنچنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا فیلڈ فارمیشنز شہداء کے اہل خانہ کو زبردست خراج تحسین پیش کریں۔کور کمانڈر کانفرنس بڑی اہمیت کی حامل قرار پائی ،اس میں جن امور پر تبادلہ خیال کیاگیا وہ بڑی اہمیت کے حامل ہیں پاکستان آرمی دہشت گردی کیخلاف جو کردار اداکررہی ہے وہ نہ صرف قابل ستائش ہے بلکہ قابل تقلید بھی۔ آرمی چیف نے شہداء کے اہلخانہ کے ساتھ ملکریوم دفاع منانے کے جس عزم کااعادہ کیاہے وہ اس امر کاعکاس ہے کہ شہداء کی قربانیو ں کو کبھی فراموش نہیں کیاجائے گا۔ یہ ان کی قربانیوں کانتیجہ ہے کہ ملک میں امن کی فضاء دیکھتی ہے اور دہشت گردی بتدریج ختم ہوتی جارہی ہے۔شہداء کی قربانیوں کے نتیجے میں امن وخوشحالی کی راہیں ہموارہوئی ہیں۔