- الإعلانات -

لندن سے پاکستان تک ۔ ’’خاموشی کا آپشن ‘‘

قرآن حکیم کی سورہ الحجرات میں اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے ’’اے ایمان والو! اگرکوئی فاسق تمہارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو،کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو،پھر تمہیں اپنے کیئے پر پچھتانا پڑے‘‘سورہ بنی اسرائیل میں ارشاد خداوندی ہے’’جس چیز کا تمہیں علم نہ ہو اْس کے پیچھے نہ پڑو،یقینا کان،آنکھ اور دل سب کی بازپْرس ہوگی‘‘یہ تعلیمات قرآنی ہیں ، کھل کر جو شفاف اور واضح طور پر امہ کی اسلامی قوم کے اْن فتنہ پر ور عناصر کو جابجا بے نقاب کرتی ہیں جنہوں نے امت یا اسلامی قوم کی آنکھوں میں دھول جھونکنے اْنہیں فریب میں مبتلا کیئے رکھنے سماجی انارکی پھیلانے جیسی قبیح ومکروہ حرکات وسکنات کے ذریعے گمراہ کرنے افواہیں پھیلانے یا افواہوں کے ذریعے معاشرے میں فتنہ و فساد پھیلانے جیسے بدترین جرائم کارتکاب کل بھی کرتے رہے اور اب تک باز آنے کا نام نہیں لئے رہے مختلف حلیوں اور لبادوں میں چھپے غیر ملکی آلہ کار لگتا ہے کہ بہت مجبورہیں چونکہ وہ یہ سب مذموم امور کو بجالانے کا وافر’’حق زحمت‘‘وصول کرچکے ہیں جن وطن دشمنوں کے ہاتھوں یہ بکے ممکن ہے وہ موت کے فرشتوں کی مانند ہمہ وقت اْن کے کاندھوں پر مسلط ہوں اِن کی جوابدہی ہورہی ہو;238;اسی لیے جتنا ان بکاو قلمکاروں کے بس میں ہے وہ ایسی افواہیں بغیر کسی بنیاد کے معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان نہ صرف نفرت و حقارت پیدا بلکہ اْنہیں بدگمانیوں کے اندھیروں میں دھکیلنے کی اپنی سی لاکھ کوششوں میں ہ میں اور آپ کو مصروف دکھائی دیتے ہیں ، سماجی ومعاشرتی انارکی کے خطرات کوجانتے بوجھتے ہوئے ایسی بے پَر کی اطلاعات کو ملک بھر میں زیر بحث لانے کےلئے ’’زرد صحافت‘‘ کا ماحول پیدا کرنے یہ ضدی،ہٹ دھرم اور’’ میں نہ مانوں ‘‘کے راگی اپنے اپنے پیٹوں کا دوزخ بھرنے میں نجانے یہ بھول کیوں جاتے ہیں کہ وہ اپنے جھوٹ کے خودغرضانہ سودے کو بار بار مختلف پیکنگوں میں آخر کب تک فروخت کرتے رہیں گے کیونکہ جس سماج یا جس معاشرے میں لگاتار اورمسلسل بداعتمادیوں اور اپنی خواہشات کی بدگمانیوں کے زہریلے اثرات کو یہ وطن دشمن عناصر پھیلانے کے خواہش مند ہیں یہ سماج یہ معاشرہ سن دوہزار یا دوہزار آٹھ کا معاشرہ نہیں ہے وقت کی رفتار بہت تیزپاکستانی عوام کی سوچوں کو بہت بلند کرچکی ہے پاکستانی عوامی طبقات کی واضح اکثریت ’’ڈیجٹلائز‘‘خطوط پر اپنی فکرونظرکے نقطہ ہائے نظرکو ڈھالنے لگی ہے وہ زمانے اب ’’ہَوا‘‘ ہوئے صاحبو! جب لوگ بسا اوقات بلا وجہ سیاسی لڑائی جھگڑوں کے سبب واسباب پر متفکر ہوا کرتے تھے اب تو پاکستانی گھروں میں قرآن حکیم باترجمہ سننے کی احسن رویت عام ہے ملکی عوام جھوٹے ہفتہ روزہ انگریزی جریدوں کے من گھڑت اداریوں پر کان دھرنے پر اب آمادہ نہیں جو اداریہ افواہوں کے مہلک‘زہریلے اور مضر اثرات کو پھیلانے کے جارحانہ عزائم میں ملفوف کرکے شاءع کیئے جاتے ہیں پاکستانی عوام وقت کے ساتھ ساتھ شعور کی پختگی کو چھونے لگے ہیں جیسا ابتدا میں راقم نے قرآن پاک کی دوآئیہ مبارکہ کا حوالہ پیش کرنے کی سعادت حاصل کی قوم کیسے اور کیونکر یقین کرلے ملکی عوام تو قرآن پاک پر یقین کامل رکھتی ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ’’اے ایمان والو! اگرکوئی فاسق تمہارے پاس کوئی اہم خبر لائے تو خوب تحقیق کرلیا کرو،کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو، پھر تمہیں اپنے کیئے پرپچھتانا پڑے‘‘گزشتہ ماہ مارچ کے پہلے ہفتہ میں دونوں (زرداری اور شریفز حکمران خاندانوں ) کے واضح حماءتی ایک گروہ جو جب چاہتا ہے’’دائیں بازوکی سیاست‘‘ کی آوازبن جاتا ہے جب دیکھتا ہے ’’نام نہاد بائیں بازو‘‘کی زرداری جماعت کی چاندی ہوتی ہوئی اْس مفاداتی گروہ کو دکھائی دیتی ہے وہ ’’نام نہاد بائیں بازو‘‘کو بھونپو بن جاتا ہے یہ ہیں اصل میں وہ گروہ جو غلط اور گمراہ کن تاثرات کو نئے معنیٰ اور نئے لفظوں کے پیراھن میں من پسند تصورات کے پیکر میں ڈھالنے میں بڑا ماہرگروہ ہے ’’صحافتی قلم‘‘کی آڑ میں دانستہ طور پر قلعی کیئے ہوئے برتن کو غیر قلعی زدہ برتن ثابت کرنے میں اپنی ایک علیحدہ لائق ِنفریں شناخت قائم کیئے ہوئے ایسوں کو ایک زمانہ اب خوب پہچان گیا ہے جنہیں ’’ریاست مخالف گروہ‘‘کہاجائے تو اس پر وہ اتراتے ہیں سمجھتے ہیں جیسے کہ ’’حق‘‘ پر ہوں جبکہ اصل میں وہ ’’حق‘‘کے نام پر ’’ناحق‘‘کے کھلے ہوئے طرفدار دنیا بھر میں اپنی بدنام زمانہ شہرت رکھتے ہیں جنہوں نے کچھ اور نہیں کرنا صرف ’’حق‘‘کو ’’ناحق‘‘ ثابت کرنا ’’داغدار‘‘کو ’’بے داغ‘‘ثابت کرنا ’’سچ‘‘ کو ’’جھوٹ‘‘ اور ’’جھوٹ‘‘ کو’’سچ‘‘بنا کر پیش کرنا یہی وہ اْن کے اختیارکردہ مذموم امور ہیں جن کے عوض بدلے میں ایسوں کو پاکستان میں انارکی اور فتنہ وفساد پھیلانےوالی عالمی اور علاقائی پاکستان دشمن خفیہ ایجنسیاں ’’ٹارگٹ‘‘بھی فیڈ کرتی ہیں اور بے پناہ ’’فنڈ‘‘بھی،گزشتہ ماہ مارچ کے پہلے ویک میں شاءع ہونےوالے اس گروہ کے انگریزی جریدے میں ’’خاموشی آپشن‘‘نہیں کے عنوان سے جو اداریہ تحریر ہوا اب ایک ماہ گزرنے کے بعد واضح نہیں ہوگیا وہ ’’اداریہ‘‘ کس قدر جھوٹا اور من گھڑت اداریہ تھا جس کا خیالی پلاءو اب سڑچکا ہے بدبودے رہا ہے اْس سڑے ہوئے بدبودار پلاو کی بوٹیاں جنہیں (زرداری اور شریفس) کی کبھی نہ گلنے والی ’’بوٹیوں ‘‘ کا نام دیا جائے تو شاید غلط نہ ہوگاجس کسی بھی ماہ مارچ کے پہلے ہفتہ کے اس انگریزی جریدے کا یہ اداریہ پڑھا ہوگا اندرہی اندر وہ اس لکھاری سے پوچھنا چاہتے ہونگے کہ ’’وہ سب کچھ کیوں وقوع پذیر نہیں ہوا ;238; ۔ عمران خان کی سیاسی مقبولیت کا گراف بقول اْس بدنام زمانہ ایڈیٹرکے گرنے کی بجائے یکایک بلند کیوں ہورہا ہے ;238;یہ لندن والے آپ کے پسندیدوں (عوام کے ناپسندیدوں ) نے تاحال ’’چپ کا روزہ ‘‘ نہیں توڑا;238; پھر جناب والہ، آپ نے کیسے اندازہ کرلیا کہ اْن کے پاس اب ’’چپ کا روزہ توڑنے کا کوئی آپشن‘‘نہیں ہے ;238;کوئی تو اْس مفاد پرست ایڈیٹر سے یہ پوچھے لاہور میں واقع بلاول ہاءوس میں محنت کشوں کا ملک گیر اجتماع نہ ہونے کے اسباب کیا تھے پنجاب کے کسانوں اور محنت کشوں نے بلاول کی پکار پر لیبک کیوں نہیں کہا;238;کوئی تو اس مفاد پرست مخصوص خیال کرپٹ اسٹیٹس کو کے حماءتی سے سوال کرئے وہ سوال یہ ہے کہ ’’چارٹرآف آئین‘‘کے اسٹیک ہولڈز پاکستان میں کیا ’’رداری فیملی اور شریف فیملی‘‘ ہی باقی رہ گئی ہیں ;238;یہ توخود بھارتی وزیراعظم مودی کوبھی علم نہیں ہوگا اْس کے وہم وگمان میں بھی نہیں ہوگا جو موصوف نے یہ مزید ’’بیہودہ بات‘‘کی کہ وہ یعنی مودی جلد یا بادیر پاکستان پر کوئی جنگ لادھ سکتا ہے;238;مودی سے زیادہ شائد یہ جنگی جنونی خواہش موصوف کے خود اپنے ذہن میں چھپی کوئی انتہائی انسانیت سوز اور شرمناک شرارت ہوگی جس کا اظہار اْس نے اپنے اداریہ میں کردیا اندر کی چھپی ہوئی بد فطرتی ازخود طشت از بام ہوگئی یہ ہوتا قلم کا وہ جبر جو کبھی زیادتی برداشت نہیں کرتا لکھنے والا نہ بھی چاہے تو خود بخود لکھنے والے کی بدنیتی کو با امرمجبوری نمایاں کردیتا ہے اورزیادہ کیا لکھیں کسی کو کیا شرمندہ کریں پاکستانی عوام اب سمجھ چکے ملک میں مڈٹرم الیکشن;238;سوال ہی پیدا نہیں ہوتا عوام کا اپنے منتخب وزیراعظم مسٹر خان سے اب ایک ہی سوال ہے بہت جلد اْن کے اس سوال کا جواب آجائے گا اور یہ پاکستانی سیاست کی قومی تاریخ کا ’’کروڑوں ڈالرز‘‘کا جواب ہوگا پاکستانی اعلیٰ عدلیہ، ملکی آئین کے ذمہ دارقومی ادارے سبھی کے سبھی جس میں ذمہ دار میڈیا بھی شامل فیصلہ کرچکے ہیں کہ ’’دو پاکستان‘‘ ایک ساتھ نہیں چل سکتے،عوام ماضی وحال کی کرپٹ سیاسی اشرافیہ کو مسترد کرچکے، ملک میں ’’خود احتسابی نظام‘‘ کا پہیہ شفاف اور تکنیکی انداز ہرقیمت پر چلے گا، لہٰذا من پسند خواہشوں کے تابع فرمان تصورات کے محلات تعمیر کرنےوالے مفادپرست جتنی جلدی ہوسکے وہ پاکستان کی سرزمین چھوڑ دیں یا اپنی سزاؤں کےلئے تیار ہوجائیں ۔