- الإعلانات -

تصویر کائنات میں رنگ

عورت سے متعلق اقبال کے تصورات و نظریات بھی ان کی شاعری کے دیگر اہم موضوعات کی طرح کتاب و سنت کی تعلیمات سے حد درجہ مماثل و مشابہ ہیں قبل اس کے کہ اس موضوع پر اظہار خیال کریں بہتر ہوگا کہ عورت کے سلسلے میں قرآن و احادیث کے احکام وتعلیمات کا ایک سرسری جائزہ لے لیں ;245;قرآن کا ارشاد ہے ’’وہ (عورت) تمہارے لیے لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو‘‘ قرآن کی یہ آیت سمندر کو کوزے میں بند کرنے کے مصداق ہے ۔ قرآن کایہ بھی فرمان ہے کہ ’’مرد عورت پر حاکم ہے;245;‘‘ یہ آیت بھی انتہائی فکر انگیز ہے;245; مرد کو عورت پر حاکم بنانے میں قدرت کی منشا یہ ہے کہ عورت کا نسوانی جوہر اور اس کی تقدس مآب زندگی بغیر مرد کی حاکمیت کے برقرار نہیں رہ سکتی;245; آج دنیا میں ہر چہار جانب عورت کے تعلق سے جو پیچیدگیاں پیدا ہوئی ہیں یا ہو رہی ہیں اور آزادی نسواں کے سبب جس طرح کی بے حیائی اور فحاشی کا بازار سرگرم ہے اور اس کے جو مہلک نتاءج برآمد ہو رہے ہیں ، اس کا واحد سبب اسی مذکورہ آیت کی خلاف ورزی ہے;245;ایک دوسری آیت میں اللہ رب العزت کا حکم ہے کہ ’’تمھاری عورتیں تمھارے لیے کھیتی ہیں ;245; اپنی کھیتی میں جس طرح چاہو کاشت کرو اور اپنے مستقبل کا سر و سامان کرو;245;‘‘ اس فرمان عالی شان میں ذات واجب نے عورت کو کھیت سے تشبیہ دے کر اس حقیقت کو بے نقاب کر دیا ہے کہ عورت محض خواہشات نفسانی کی تکمیل کا ذریعہ نہیں ہے بلکہ اس کی اصل غرض و غایت انسانی نسل کو برقرار رکھنا ہے;245; قدرت نے اس مقصد کو پورا کرنے کی غرض سے عورت کی تخلیق کی ہے;245; یہ انتہائی عظیم الشان مقصد ہے، دوسرے جملہ مقاصد اس کے آگے ہیچ ہیں ;245; جس طرح ایک کسان اپنے کھیت میں صرف بیج ڈال کر اپنی کھیتی سے مطمئن نہیں ہو جاتا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ وہ اس کی متعلقہ ضرورتوں کی فراہمی بھی کرتا ہے اور نگرانی بھی;245; بعینہ مرد کی ذمہ داری عورت کی مکمل حفاظت کرنا اور بقائے نسل انسانی کی خاطر اس کی مکمل نگرانی رکھنا ہے تاکہ وہ اپنی صنفی اور تخلیقی کمزوریوں کے سبب بے راہ روی کا شکار نہ ہو جائے;245;حجۃ الوداع کے موقع پر اللہ کے رسول نے ارشاد فرمایا کہ ’’عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو;245; تمھارا عورتوں پر اور عورتوں کا تم پر حق ہے;245;‘‘ ایک دوسری جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ ’’جنت ماوں کے قدموں کے نیچے ہے;245;‘‘ اللہ کے رسول کے اس فرمان کا مقصد جہاں عورتوں کی عظمت کو اجاگر کرنا ہے وہیں فراءض امومت (مادری) کی اہمیت کو بھی واضح کرنا ہے ۔ قرآن و احادیث کی مذکورہ بالا تعلیمات کے تناظر میں اب آئیے عورت سے متعلق اقبال کے تصورات و نظریات کا قدرے تفصیل سے جائزہ لیا جائے;245; عورت کے سلسلے میں اقبال کے تصورات و نظریات بھی وہی ہیں جو کتاب و سنت کے ہیں البتہ اس پر فلسفیانہ رنگ غالب ہے ۔ وہ عورت کو اسی دائرے میں دیکھنا چاہتے ہیں جس کی تعلیم اسلام نے دی ہے اور اسی بنا پر وہ آزادی نسواں اور مرد و زن کی مساوات مطلق کو جو مغربی تہذیب کی دین ہے، پسندیدگی کی نگاہ سے نہیں دیکھتے ہیں ;245; ’’آزادی نسواں ‘‘ کے عنوان سے وہ کہتے ہیں ;242;