- الإعلانات -

شہید وانی ، سید صلاح الدین اور۔۔۔!

ایک جانب دہلی اور واشنگٹن نے ’’سید صلاح الدین‘‘ اور مقبوضہ کشمیر کے مجاہدین کے خلاف سراسر جھوٹ اور دروغ گوئی پر مبنی پراپیگنڈے کا پہاڑ کھڑا کیا ہوا ہے تو دوسری طرف لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف ساری کشمیری قوم ’’ برہان وانی ‘‘ کی پہلی برسی انتہائی عقیدت و احترام سے منا رہی ہے ۔ حزب المجاہدین کے سربراہ سید صلاح الدین کو امریکہ کی جانب ’’ دہشتگرد‘‘قرار دیا گیا ۔ اس پر پاکستان کی جانب سے سخت رد عمل سامنے آیا اور بجا طور پر پاکستانی حکومت اور عوام نے اس امریکی اور بھارتی الزام کو رد کرتے ہوئے اسے ناقابلِ قبول قرار دیا ۔ اسی پس منظر میں خود بھارت کے کئی انسان دوست حلقوں نے کہا ہے کہ بھارتی وزیراعظم مودی دو کام بڑی پابندی کے ساتھ کرتے ہیں ایک ہندوستانی عوام کو بے وقوف بنانے کے لیے ہر ماہ کی پہلی تاریخ کو ریڈیو پر ’من کی بات‘ کے عنوان سے نشری تقریر اور دوسرا ہر سال امریکہ کی یاترا کرکے شیوبھگوان ( مہابلی) کی مورتی پر پھولوں کی مالا چڑ ھانے گا ۔ علاوہ ازیں نہتے کشمیری عوام اور بھارت کی اقلیتوں پر جو ظلم ڈھائے جا رہے ہیں اس کے نتیجے میں آج کل بھارتی سیاست میں یہی ہورہا ہے کہ بھارتی NSA اجیت ڈووال کبھی مقبوضہ کشمیر کی جانب دوڑ لگاتے ہیں تو کبھی نکسلیوں کے پیچھے بھاگتے ہیں لیکن بکھرنے اور سمٹنے کایہ لا متناہی سلسلہ ہے کہ ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ۔سبھی جانتے ہیں کہ مودی سرکار کا جنگی جنون ہر آنے والے دن کے ساتھ بڑھتا جا رہا ہے اور اس کا بڑا ہدف پاکستان ، چین اور دیگر ہمسایہ ممالک ہیں ۔ اسی جنون کو آگے بڑھاتے ہوئے مودی نے وائٹ ہاؤس میں بیٹھ کر اسلحہ اور خطرناک جنگی جہاز خریدے۔ پاکستان کے خلاف حسبِ روایت گوہر افشانی کی ۔ اور چونکہ ٹرمپ ایک کائیاں اور کامیاب بزنس مین ہے اس لیے اس نے مودی کی اس فرمانبرداری کے جواب میں سید صلاح الدین کو عالمی دہشت گرد قرار دے کر مودی اور دہلی سرکار کو خوش کرنے کی سعی کی ۔ تبھی مودی جی فرطِ مسرت پھولے نہیں سما رہے ۔ اس تناظر میں سنجیدہ حلقوں نے رائے ظاہر کی ہے کہ ایک جانب ’’ را ‘‘ اور ’’ این ڈی ایس ‘‘ براہ راست اور بالواسطہ پاکستان میں دہشتگردی کو فروغ دے رہی ہیں تو دوست طرف ’’ سی پیک ‘‘ کے خلاف طرح طرح کی سازشیں رچی جا رہی ہیں ۔ اس صورتحال کا احاطہ کرتے ہوئے غیر جانبدار حلقوں نے کہا ہے کہ اس بھارتی روش کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ امر ملحوظ خاطر رہنا چاہیے کہ اسے خارج از امکان قرارنہیں دیا جا سکتا کہ بھارتی حکمران مستقبل قریب میں وطنِ عزیز کے خلاف کسی بڑی مہم جوئی کے مرتکب ہو ں ۔ ایسے میں یہ امر بھی غالباً کسی سے پوشیدہ نہیں کہ ملکِ عزیز کسی حد تک ایک مشکل دور سے گزر رہا ہے اس لئے ضرورت اس امر کی ہے کہ پاکستان کے سبھی حلقے ایک طرف افغانستان کے ساتھ تعلقات کو معمول پر رکھنے کی ہر ممکن سعی جاری رکھیں ۔ علاوہ ازیں سفارتی محاذ پر پہلے سے بھی زیادہ فعال اور مستعد پالیسیوں کو اپنایا جائے ۔ یہاں یہ امر پیشِ نظر رہنا چاہیے کہ مذکورہ بات کہنے میں جتنی آسان نظر آتی ہے عملاً اتنی سہل نہیں مگر اس کے باوجود غالباً یہی راستہ نسبتاً محفوظ قرار دیا جا سکتا ہے ۔ اس کے علاوہ چین اور روس کے ساتھ ساتھ امریکہ کو بھی جس حد تک ’’ انگیج ‘‘ کیا جا سکے ، اس کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے ۔ اگرچہ بھارت کے روایتی جارحانہ طرز عمل کی بابت شاید کسی خوش فہمی کی زیادہ گنجائش موجود نہیں ۔