- الإعلانات -

بھارت ،دہشت گردی کا سرپرست

پاکستان گزشتہ ڈیڑھ دہائی سے دہشت گردی کے عفریت سے نبردآزماہے۔ پاکستان کے عوام اور افواج نے اس کے خاتمے کے لئے بہت سی قربانیاں دی ہیں اور کامیابیاں بھی حاصل کی ہیں تاہم یہ ایسا مذموم ہتھکنڈہ ہے جسے ہمارا دشمن ہمارے خلاف بڑی مکاری سے استعمال کررہا ہے۔ چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ارفع ٹاور لاہور خودکش دھماکے کے زخمیوں کی عیادت کے موقع پر اپنے خطاب میں اسی جانب اشارہ کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دشمن ممالک کی خفیہ ایجنسیاں دہشت گردی کو بطور ہتھیار استعمال کررہی ہیں۔ایسے واقعات دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑنے کے ہمارے عزم کو غیرمتزلزل نہیں کرسکتے۔انہوں نے دہشت گردوں کو افغانستان اور پاکستان کا مشترکہ دشمن قراردیتے ہوئے کہا کہ لاہور اور کابل میں ایک ساتھ دھماکے اس حقیقت کا اظہار کرتے ہیں کہ دونوں ممالک کو کوئی خاص قوت عدم استحکام سے دوچار کئے رکھنا چاہتی ہے۔ اگر افغان سرزمین اسی طرح پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہی تو دونوں ممالک کے تعلقات متاثر رہیں گے۔ انہوں نے سرحدی علاقوں میں دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کے خلاف کارروائی کے لئے افغانستان کو مدد کی بھی پیش کش کی۔
اس میں کوئی شک نہیں کہ دہشت گردی ایک عالمی مسئلہ ہے اور اس کے تدارک اور خاتمے کے لئے پاکستان سمیت پوری دنیا سنجیدہ اقدامات اٹھا رہی ہے۔ پہلے پہل اسے ایک خاص گروہ کی ایک خاص سوچ کا نتیجہ تصور کیا جاتا تھا تاہم اب بہت سے ممالک کی خفیہ ایجنسیاں اسے بطور ہتھیاردوسرے ممالک کے خلاف استعمال کررہی ہیں جن کی طرف چیف آف آرمی سٹاف جنرل باجوہ نے اشارہ بھی کیا ہے۔ یقیناًبھارت اس قسم کے ہتھکنڈوں کے ذریعے پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے میں مصروف ہے۔ پاکستان میں ہونے والی بہت سی دہشت گردی کی کارروائیوں کے ڈانڈے کابل سے ہوتے ہوئے دہلی سے جاملتے ہیں۔ پاکستان کے پاس بھارت کی اس مداخلت کے بہت سے ثبوت بھی موجود ہیں۔ بلوچستان سے بھارتی جاسوس کلبھوشن جادیو کی گرفتاری اور نیٹ ورک کی موجودگی بھارت کے اسی مکروہ چہرے کو بے نقاب کرتی ہے۔دہشت گردی کے منظر نامے میں خود کش حملہ آورتو صرف ایک ’’ہتھیار‘‘ ہوتا ہے جسے ایک خاص طریقے سے افغانستان سے ’’امپورٹ‘‘ کیا جاتا ہے۔ ایک مقامی ’’سہولت کار‘‘ اسے جائے واردات ’’ٹارگٹ‘‘ تک پہنچاتا۔ دھماکہ ہوتا ہے، خبرچلتی ہے، ملک بھر میں خوف کی لہرپھیلتی ہے، سیاستدان مذمت کرتے ہیں، چینلز اپنے لوگوز سیاہ کرکے ایسے ایسے ’’دانشوروں‘‘ کو کال کرلیتے ہیں جو مستقبل کی عمیق گہرائیوں میں اتر کر مایوسیوں ، تاریکیوں اور خدشوں کی جنتری پڑھنا شروع کردیتے ہیں۔جس کے بعد کنفیوژن کا ایسا زہر پیدا ہوتا ہے جو ہماری قومی مورال، ترقی اور سرمایہ کاری کی جڑوں میں اترکر انہیں بے ثمراور مردہ کردیتا ہے۔یہی پاکستان کے دشمنوں کا اصل مقصد اور ہدف ہوتا ہے۔ اس طرح دہشت گردی کے اس اسٹیج پرتباہی وبربادی، انسانی لاشیں چیخ و پکارکو منظر نمودار ہوتا ہے وہ ہمیں مایوسی اور بے یقینی کا شکار کردیتا ہے ۔ ہم خود کو ہی کوسنا شروع کردیتے ہیں۔ ہم اپنے اداروں کو ہی ہدف تنقید بنا لیتے ہیں۔ ان قربانیوں کو فراموش کردیتے ہیں جو ہمارے بہادر سپاہی، افسر، جوان دے رہے ہیں۔ قیاس اور مایوسی کی اسی کیفیت کو پیدا کرنا ہمارے دشمن کا اصل ایجنڈا ہے جس کی تکمیل وہ دہشت گردی کی ایسی وارداتوں کے ذریعے کرتا ہے۔ سی پیک اور دیگر ترقیاتی منصوبے بھی ان کی ہٹ لسٹ پر ہیں۔یہاں بھی بھارت سمیت دیگر طاقتیں افغانستان کے ذریعے اس عظیم منصوبے کے خلاف سازشوں کے جال بن رہی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان بداعتمادی کی ایک فضا برقرار رکھنا چاہتی ہیں تاکہ ان کی آڑ میں اپنے مذموم مقاصد پورے کرسکیں۔اس صورتحال میں پاک افغان باہمی تعاون ناگزیر ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان افغانستان کو ایک آزاد ہمسایہ ملک کے طور پرتسلیم کرتا اور اس سے برابری کے تعلقات کا خواہاں ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اس حقیقت کو بھی تسلیم کرتا ہے کہ پرامن افغانستان سے ہی پاکستان میں پائیدار امن قائم ہوسکتا ہے۔ تاہم افسوس کی بات ہے کہ افغان قیادت کی جانب سے پاکستان کو ہدف تنقید بنایا جاتا ہے اور الزام تراشی کا ایک لامتناہی سلسلہ جاری رہتا ہے۔ الزامات کے اس سلسلے کی وجہ سے یقیناًدونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کو نقصان پہنچا ہے۔ جس کا فائدہ دہشت گردعناصر اٹھا رہے ہیں۔ دہشت گردی کے روک تھام کے لیے پاکستان کی جانب سے پاک افغان سرحد پر باڑ پر بھی افغان حکومت کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے۔افغان قیادت کو اس بات کا ادراک ہونا چاہئے کہ باہمی تعاون کے ذریعے سے ہی دونوں ممالک دہشت گردی سے نجات حاصل کرسکتے ہیں۔ کابل میں ہونے والے بم دھماکے بھی اس بات کا تقاضا کررہے ہیں کہ باہمی اختلافات کی وجہ سے دہشت گردوں کو فائدہ پہنچانے کی بجائے باہمی تعاون اور اعتماد سے انہیں شکست دی جائے۔جنرل قمر جاوید کا دہشت گردی کے خاتمے کا عزم اورافغان حکومت سے تعاون کا اظہارکے ردعمل میں افغان قیادت کو مثبت جواب دینے کی ضرورت ہے کیونکہ دہشت گردی سے چھٹکارہ حاصل کرکے ہی خطے میں امن وامان اور ترقی کو فروغ دیا جاسکتا ہے۔
*****