- الإعلانات -

عدالتی برطرفی اور میاں صاحب

زندگی کا حسن یہی ہے کہ انسان سے اگر کوئی غلطی یا کوتاہی ہو جائے تو انسان اسے نہ صرف تسلیم کر لے بلکہ ارادہ کرے کہ جو کچھ ہوا ہے آئندہ اس کا اعادہ نہیں ہوگا اور یہی معقولیت ہے کل ہمارے محبوب سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف مد ظلہ عالی نے اپنی برطرفی کے بعد بھی بطور وزیراعظم دو روزتک تمام سہولیات سی متمتع رہے وزیراعظم ہاوس میں مسلم لیگ کی پارلیمانی پارٹی کے اجتماع کی صدارت فرمائی ان کی تقریر اتنی رقت انگیز تھی کہ تھوڑی دیر کیلئے ہم بھی ان کی مظلومیت کے قائل ہوکر جذبات کی رو میں بہنے لگے اور دل نے چاہا کہ معزز جج حضرات اور جے آئی ٹی کے محترم اراکین کے لئے بد دعا کے ہاتھ اٹھا دیں قریب تھا کہ ہماری آنکھوں سے آنسو چھلک پڑیں ہم نے خود کو سنبھالا اور حقیقت کی دنیا میں واپس آنے کی کوشش میں لگ گئے بعد میں سوچتے رہے کہ ہم جیسے کتنے ہی رقیق القلب لوگ متاثر ہوئے ہوں گے حقیقت کی دنیا میں آکر ہمیں احساس ہوا کہ اصل معاملہ وہ نہیں جو میاں صاحب نے کمال بھولپن سے بیان فرمایا ہے ہمارے اندر کا صحافی بھی اس صدمے کی کیفیت باہر آیا چونکہ اہل صحافت اصل حقائق سے کسی قدر آگاہ ہوتے ہیں اس لئے میاں صاحب کی باتوں پرغورکیا اور ان کے جوابات بھی تلاش کرنے لگے میاں صاحب فرماتے ہیں کہ ہم نے فاٹا اور اس کے ملحقہ علاقوں میں امن قائم کردیا واہ کیا کہنے جناب کے ہمارے علم کی حد تک آپ نے ایک عدد کمیٹی تشکیل دی تھی جو نام نہاد تحریک طالبان پاکستان کے دہشت گردوں سے مذاکرات ،لال مسجد فیم مولانا عبد العزیز جو داعش کے نظریہ خلافت کی پرجوش حامی کہلاتے ہیں جے یو آئی (س) کے سربراہ مولانا سمیع الحق جماعت اسلامی کے پروفیسر محمد ابراہیم ہمارے دوست میجر عامر اور دیگر حضرات شامل تھے اس کمیٹی کے ذمے تھا کہ وہ دہشتگردوں سے مذاکرات کرے اور انہیں قومی دھارے میں لائے جب کہ فوج کو دہشتگردوں کے اصل ارادوں کا علم تھا لیکن فوج بھی آپ ہی کے initiative کو سپورٹ کر رہی تھی کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے جس طرح کی پیش رفت ہو رہی تھی وہ دو قدم آگے اور 4 قدم پیچھے والی تھی کیوں کہ ان دہشت گردوں کی ڈوریاں کہیں دور افغانستان میں بیٹھے اجیت ڈوول اور اس کے حواریوں کے ہاتھوں میں تھیں حالات اور فریقین کے اخلاص کو دیکھ کر میجر عامر اس کمیٹی سے علیحدہ ہو گئے آپ کے ایک مشیر باتدبیر نے دہشت گردوں کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملائے اور انہیں رقیق القلب مومنین کا گروہ قرار دیا اگلے روز ان دہشت گردوں نے پشاور آرمی پبلک اسکول پرحملہ کردیا اور سوا سو کے قریب بچوں خواتین اور اساتذہ کو شہید کردیا تو اس سفاکیت کے بعد فوج کے پاس براہ راست ایکشن کے سوا کوئی آپشن باقی نہیں بچا اور فوج نے ان دہشتگردوں کے خلاف کارروائی شروع کردی آپ کو تو شاید دودن بعد پتہ چلا کہ دہشتگردوں کے ساتھ کیا ہورہا ہے آپ فرماتے ہیں کہ آپ نے امن قائم کردیا جیسے آپ ایٹمی دھماکے کرنے کا کریڈٹ لیا کرتے ہیں آپ کہتے نہیں تھکتے کہ ہم 20کروڑ لوگوں کے نمائندہ ہیں جب کہ کاری گری کے باوجود پورے پاکستان سے پارٹی کو کل ایک کروڑ 70 لاکھ ووٹ پڑے تھے آپ فرماتے ہیں کہ ہمارے ساتھ توہین آمیز سلوک ہورہا ہے قانونا آپ کی کوئی سرکاری حیثیت نہیں رہی لیکن اس کے باوجود 3ہزار سرکاری اہلکار آپ کے ذاتی گھر کی سیکیوریٹی پر اب بھی مامور ہی یہ تو بتائیں کس حق سے ؟پھر بھی آپ شاکی ہیں آپ فرماتے ہیں کہ ہم اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں ہمارے خلاف کرپشن پر نہیں بیٹے سے تنخواہ وصول نہ کرنے پر فیصلہ کیا گیا کیا ہم یہ پوچھنے کی جرات کر سکتے ہیں کہ پہلے فیصلے میں 2 جج صاحبان نے آپ کو نااہل کیوں قراردیا تھا کیا تب جے آئی ٹی تھی ؟ جی نہیں. کیا آپ نے قومی اسمبلی کے فلور پر الحمد للہ کہہ کر لہرائے جانے والے کاغذات کورٹ میں پیش کئے کیا قطری شہزادہ عدالت یا جے آئی ٹی ارکان سے ملا تاکہ آپ کا دفاع ہو سکے بلکہ قطر میں پاکستانی سفارت خانے تک آنے کو بھی وہ اپنے لئے توہین کا باعث سمجھا کیا آپ یہ ثابت کر سکے کہ دبی کی اسٹیل واقعی بکی تھی یا بینک سے لئے گئے قرضوں کے عوض عدالتی تحویل میں چلی گئی تھی کیا اس تعلق سے کوئی ڈاکیومینٹ آپ عدالت میں پیش کر سکے کیاسرمائے کی کبھی قطر اور کبھی لندن منتقلی کا کوئی ریکارڈ پیش کر سکے کیا لندن فلیٹس کی کوئی منی ٹریل دینے میں آپ کامیاب ہوئے جھوٹ پر جھوٹ بولا جاتا رہا ہے بہرحال ابھی تو پارٹی شروع ہوئی ہے نیب کورٹ میں ریفرنس دائر ہو لینے دیں اس کے بعد بھی اگر آپ بے گناہ ٹھہرے تو ہمارا قلم آپ کے دفاع کے لئے حاضر ہوگا آپ کی پارٹی میں جس کے جمہوری ہونے کے آپ دعوے کرتے نہیں تھکتے لیکن اس پارٹی میں اتنا قحط الرجال ہے کہ وزارت عظمی کے لئے خاندان سے باہر کوئی بھی مناسب امیدوار نہیں ملتا کیا جمہوری پارٹیاں ایسی ہوتی ہیں لیڈروں کے ذہنی افلاس کا عالم دیکھئے فرماتے ہیں عدلیہ شریف خاندان کے لوگوں کو نااہل کرتی جائے ہم ایک کے بعد ایک شریف لاتے رہیں گے اگر یہ جہموریت ہے تاکہ خاندانی آمریت کس چڑیا کا نام ہے غلط بیانی اور جھوٹ کے ذریعے مظلوم بننے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ حسب سابق لوگوں کی ہمدردیاں سمیٹتی جا سکیں لیکن پلوں کے نیچے بہت پانی بہ چکا ہے آخر کب تک لوگوں سے جھوٹ بول کر سن کی ہمدردیاں سمیٹتے رہیں گے اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے مکانات عمل شروع ہو چکا ہے بار دگر عرض کئے دیتے ہیں کہ کفن کی جیبیں نہیں ہوتیں عمران خان نے تمام کرپٹ لوگوں کا پیچھا کرنے کا اعلان کردیا ہے اللہ ان کے ارادوں میں برکت ڈالے اللہ وطن اور اہل وطن کی حفاظت فرمائے۔ آمین