- الإعلانات -

تعلیم کیوں ضروری ہے ۔ ۔ ؟

تعلیم کی اہمیت سے کوئی ذی شعور انکار نہیں کرتا ۔ خصوصاً اسلام میں تو یہاں تک کہا گیا ہے کہ تعلیم حاصل کرو بھلے ہی تمھیں چین جانا بڑے ۔ ظاہر سے بات ہے کہ اس سے غالباً یہی مراد کہ علم کی روشنی کو زیادہ سے زیادہ پھیلانا ہر خاص و عام کے ضروری نہیں بلکہ واجب ہے ۔ کیونکہ تاریخِ عالم گواہ ہے کہ دنیا میں انہیں قوموں نے ترقی کی منازل طے کی ہیں جنھوں نے اپنے تن من دھن سے تعلیم کے حصول کے لئے جدوجہد کی ۔ بھلا کون نہیں جانتا کہ سر سید احمد خان سے لے کر اقبال اور قائد اعظم تک سبھی نے ہر ممکن ڈھنگ سے اپنی تمام تر توانائیاں اس راہ میں صرف کی ہیں لہٰذا ضرورت یہ ہے کہ اس امر کا ادراک کیا جائے کہ حصولِ علم قوموں کی زندگی میں ایک سنگِ میل کا کردار ادا کرتا ہے ۔ گویا بعض حوالوں سے کہا جا سکتا ہے کہ علم ہی سب سے بڑی قوت ہے ۔ اسی تناظر میں یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ دنیا بھر میں بہت سے ادارے اپنی اپنی سطح پر اپنی اپنی بساط کے مطابق یہ کام کر رہے ہیں ۔ یاد رہے کہ شیخ محمد بن ریاد المختوم جو متحدہ عرب عمارات کے وزیر اعظم ، نائب صدر اور دبئی کے حاکم ہیں ، نے بھی اس سلسلے میں بڑا قدم اٹھایا ہے اور عرب ریڈنگ چیلنج کے نام سے ایک پروگرام شروع کیا ہے جس میں انتہائی کثیر تعداد میں شرمایہ اور وسائل صرف کیے گئے ہیں۔ یاد رہے کہ مطالعے کے اس چیلنج میں جیتنے والوں کوگیارہ ملین درہم انعام میں ملیں گے ۔ اس صورتحال کا جائزہ لیتے سماجی علوم کے ماہرین نے کہا ہے کہ اس بدیہی حقیقت سے بھلا کون آشنا نہیں کہ تعلیم اور تحقیق کے میدان میں تاحال مسلم امہ وہ مقام حاصل نہیں کر پائی جو اسے بہت پہلے حاصل کر لینا چاہیے تھا ۔ کیونکہ تاریخ شاہد ہے کہ مسلمانانِ عالم جب تلک اس ضمن میں نمایاں طور پر سر گرم رہے تو انھوں نے ہر شعبہ ہائے حیات میں دیگر قوموں کو پیچھے چھوڑ دیا مگر پچھلی کچھ صدیوں میں خصوصاً صنعتی انقلاب کے دور کے بعد مسلمان بوجوہ ہ خاصے پیچھے رہ گئے جس کے نتیجے میں اغیار نے مسلم امہ کو اپنی مختلف نوع کی سازشوں کے ذریعے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا اور یہ سلسلہ ہنوذ کسی نہ کسی طور جاری و ساری ہے۔ ایسے میں توقع کی جانی چاہیے کہ دیگر تعصبات سے اوپر اٹھ کر متعلقہ قوتیں اپنی تمام تر توانائیاں اس کام میں صرف کریں گی ۔ یہاں اس بات کو پیشِ نظر رکھنا خاصا اہم ہے کہ کچھ برس پیشتر ہائر ایجوکیشن کمیشن کے سابق سربراہ ڈاکٹر عطاء الرحمن نے اس ضمن میں قابلِ ستائش کارکردگی کا مظاہرہ تھا ۔ ایسے میں ضرورت اس امر کی ہے کہ پوری قوم تمام سماجی اور سائنسی علوم کی ترقی و ترویج کے لئے ہر ممکن سعی کرے گی کیونکہ قوموں کی حقیقی ترقی کا راز غالباً اسی میں پوشیدہ ہے ۔ ایسے میں یہ انتہائی ضروری ہے کہ ایک طرف وطنِ عزیز کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کا تحفظ یقینی بنایا جائے تو اسی کے ساتھ علم کی روشنی پھیلانے کی ہر ممکن سعی کی جائے ۔