- الإعلانات -

دہشت گردی‘فتنہ وفسادکا خاتمہ۔ملکی نوجوانوں کا عزمِ صمیم

امریکی دانشورنوم چومسکی سے جب دہشت گردی کی آسان تعریف پوچھی گئی تواْس نے اب تک جتنی بھی دہشت گردی کی تعریف اْس کی نظروں سے گزرچکی ہے اْن نکات سے علیحدہ اورغیرجانبدارہوکرجرات مندی سے کہا کہ ‘دہشت گردی’اصل میں تشددیا تشدد کی دھمکی کانپا تلااستعمال ہے’جودباؤ ڈال کراورمعاشرے میں جبروخوف پیدا کرکے سیاسی’مذہبی یانظریاتی نوعیت کے ہرمسلح گروہوں کے اپنے مذموم اہداف کو حاصل کرنے کے لئے کیا جائے وہ دہشت گردی نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟’تاہم یہاں ہمیں یہ بھی قطعی فراموش نہیں کرنا کہ دہشت گردی چاہے وہ کسی بھی نوعیت کی ہوہرایک دہشت گردی میں بہیمانہ’سفاکانہ اور انسانیت کش بربریت کی لہولہان جارحیت جیسی وحشی قدرِیں مشترک پائی جاتی ہیں’جسے دوسرے لفظوں میں’نظریاتی وفکری دہشت گردی کے علاوہ آپ اِسے ‘ذہنی دہشت گردی’ کا نام بھی دے سکتے ہیں’ مطلب یہ کہ دہشت گردی لسانی ہوسکتی ہے’فرقہ وارانہ دہشت گردی بھی ہوسکتی ہے اوربعض اوقات یہ’دہشت گردی محرومی’ناانصافی اوربے بسی کے مسلسل عذاب کا شکاربن کر’سیاسی مقاصد’حاصل کرنے کے لئے ایک قوت کا روپ بھی دھار لیتی ہے’جس کا ہدف کوئی ذاتی فائدہ حاصل کرنا نہیں ہوتا’بلکہ مقابل قوت کومتوجہ کرنے کے لئے کوئی ایسی چونکا دینے والی کارروائی کرنا ہوتا ہے جونقصان بھی خوب پہنچائے اورعام توجہ کواِسی مقصد کی طرف مبذول کرانے کا ذریعہ بھی بنے’جس کے لئے تشدد کا ارتکاب کیا گیا ہے’ بس یہی ہے وہ مقام’ جہاں پہنچ کرہمیں اورآپ کوبہت محتاط ہوکر بلا خوف وتردپاکستان کے ارباب اختیارسے معذرت خواہانہ سوال یہ کرنا ہے کہ وہ وجوہات آخر کیا ہیں کہ کل تک قوم یہ سنتی اورجانتی تھی کہ دہشت گرد تو قبائلی علاقوں میں پہاڑوں اورجنگلوں دروں اورغاروں میں رہنے بسنے والے ہوتے ہیں اب ایسا کیا ہوگیا کہ پاکستانی شہروں ہی میں نہیں بلکہ پاکستانی شہروں کی اعلیٰ ترین تعلیمی درس گاہوں کے فارغ التحصیل تعلیم یافتہ نوجوان لڑکے اورلڑکیوں میں دہشت گردی کے زہریلے انسانیت کش مضراثرات کیسے اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہورہے ہیں؟ایک معمولی سی بات کرکے ہم مزید تفصیل کی طرف بڑھتے ہیں کہیں ایسا تو نہیں ہورہا ہے کہ یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہونے والے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان اپنے آپ کو’بے بس اورلاچار’ تو نہیں سمجھنے لگے؟تعلیم اْنہوں نے حاصل کرلی مگر پرانے گھسے پٹے فرسودہ جاگیردارانہ اور سرمایہ دارانہ بلکہ بے پناہ ‘مالدارانہ’طرزِحکمرانی میں اْن کے لئے اور اْن کے خاندان کے بہترمستقبل کیلئے وہ کوئی جگہ نہیں پاتے چونکہ ملک بھر میں ‘میرٹ’ کا کوئی واضح صاف اور شفاف سسٹم اِن اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو کہیں ابھرتا ہوا دکھائی نہیں دیتا یہ بات یہ سوچ خود کتنی خوفناک سوچ ہے حکومتِ وقت کے پاس اِس کا اگرکوئی تشفی جواب نہیں ہے اور واقعی نہیں ہے تو پھر ہمیں یہ جاننا ہوگا کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ شہری نوجوانوں کے فکری اورنظری رجحانات میں شدت پسندی کے بڑھتے ہوئے جذبات و احساسات کیوں نہیں فروغ پائیں گے گزشتہ ماہ نومبر کے آخری دِنوں میں کراچی سندھ کی ایک ممتاز یونیورسٹی ’دہشت گردی اورٹیکنالوجی کے غلط استعمال‘ کے موضوع پر ایک سیمینار کا انعقادہوا جس کا موضوع تھا ‘دہشت گردی کے مسئلے سے نمٹنے کے لئے نوجوانوں کی تربیت اورذہن سازی وقت کی اہم ضرورت ہے’سیمینار میں شریک طلباء وطالبات نے بڑی فکری دلچسپی کا اظہار کیا اس موقع پرطلباء سے خطاب کرتے ہوئے ڈاکٹرکرن مشتاق نے کہا کہ عصرحاضر میں دہشت گردی سب کے لئے بڑا مسئلہ بن چکی ہے’ اور اس سے بچنے کے لئے ہرملک اپنے طور پراپنے معروضی حالات کی روشنی میں موثرحکمت عملی بھی اپنارہے ہیں، انہوں نے کہا کہ امریکہ میں نائن الیوں کے واقعہ کے بعد دہشت گردی کوسنجیدگی سے لیا گیا ہے’ڈاکٹر کرن مشتاق نے اِس موقع پر جہاں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواجِ پاکستان اور ملک کی دیگر سویلین سیکورٹی اداروں کی دی جانے والی مردانہ وار قربانیوں کو زبردست خراجِ تحسین پیش کیا وہاں اگر ڈاکٹر صاحبہ اربابِ اختیار سے اتنا تو پوچھنا اْن کا فرض بنتا تھا کہ 11/9 کے بعد دہشت گردی کے عفریت سے نمٹنے کے لئے امریکا نے اپنے ہاں سیکیورٹی پرگہری اور کڑی نگاہ رکھنے کے لئے کون کون سے ایسے اقدامات اْٹھائے جن کے نفاذ کے بعد کم ازکم امریکا میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوگئی ہے یہی حال دیگر مغربی ممالک کا بھی ہے دنیا نے واقعی دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی دی جانے والی قربانیوں کوایک بار نہیں بارہاتسلیم کیا ہے’ذراکوئی ہمیں یہ تو بتلائے ‘جدید ٹیکنالوجی’ہے کیا؟سوشل میڈیا‘ٹویٹر‘ فیس بک‘ انسٹاگرام اور انٹرنیٹ سے وابستہ دیگر ایسے ٹولزجن کے ‘اپیس’ استعمال کرکے سیکنڈوں میں ایک فرد کا رابطہ کسی دوسرے فرد سے ہوجاتا ہے اب تو اِس ‘جدید ٹیکنالوجی’ کا استعمال عام اور پْرامن شہریوں سے زیادہ ‘مجرمانہ’ فکروعمل کے پیروکار خوب کررہے ہیں عوامی پیمانے پر پھیلی ہوئی اِسی جدید ٹیکنالوجی پر بروقت اور ٹھوس کڑی نگرانی کا ہمہ وقت نظام کیوں اپنایا نہیں جاتا کتنے ملک ہیں دنیا بھر میں کہیں پاکستان کی طرح یہ’جدید ٹیکنالوجی’مادرپدرآزاد ظالم وسفاک ٹیکنالوجی دہشت گردوں کی سہولت کار بالکل نہیں بنی ہوئی ہے پاکستانی فوج کی دہشت گردی کے خلاف قبائلی علاقوں میں لڑی گئی جبکہ لائق تعریف ہی نہیں لائقِ تحسین بھی ہے مگر اِن دِنوں میں بھی کوئٹہ سے پشاور تک دہشت گرد توہمارے شہروں میں جگہ جگہ موجود ہیں، گزشتہ دِنوں اسلام آباد کے سیکٹر4/8 کی ایک امام بارگاہ میں نمازِ فجر کے وقت نمازیوں پر اندھا دھند فائزنگ کردی گئی ایک نمازی شہید اور کئی زخمی ہوئے دوسرے روزپشاور میں ایگر کلچرل یونیورسٹی ڈائریکٹوریٹ میں دہشت گردوں کا ایک گروہ برقع پہن کر بمعہ مہلک ہتھیاروں سے لیس داخل ہوگیا وہ تو اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اُس ذاتِ والہ صفات نے ہمیں بچا لیا ملکی سیکورٹی فورسنز نے اپنی جانوں پر کھیل کر ایک انتہائی تباہ کن دہشت گردی سے ملک کو محفوظ کردیا، ورنہ ہمیں نجانے کتنی لاشیں اْٹھانی پڑجاتیں جب تک نیشنل ایکشن پلان کے ایک ایک نکات پراْس کی روح کے عین مطابق عمل درآمد نہیں کیا جائے گا شہروں میں پنتی ہوئی دہشت گردی سے پاکستانیوں کی جان نہیں چھوٹ سکتی ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے طلباء وطالبات کو اب ہر صورت میں ہماری حکومت کو اْن بورڈ’لینا پڑے گا،کیونکہ یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان پاکستان کا بہت قیمتی اثاثہ ہیں جب تک اِ نہیں حساس اوراعلیٰ ترین قومی ذمہ داریوں میں شریک نہیں کیا جائے گا حکومت کو اِن کی بات کو وزن دینا ہوگا کراچی کی مقامی یونیورسٹی نے جس طرح اِس حقیقت کا بروقت احساس کیا اِس سلسلے میں ایک یونیورسٹی تک ہمیں محدود نہیں رہنا ملک بھر کے اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو بلاشرکتِ رنگ ونسل اور ذات پات کے ‘ممکنہ محرومیوں اور بے بسیوں’ کے چنگل سے نکال کر اِن کے کاندھوں پر ملک کے تحفظ کی ذمہ داریا ں ہر صورت اب ڈالنی ہی ہونگی تبھی کہیں جاکر نیشنل ایکشن پلان جسے’ بعض طبقات‘ نے ‘طاق’ پر رکھ دیا ہے، بالاآخر ہمیں ’نیشنل ایکشن پلان ‘پر خلوصِ دل سے متفق ہونا ہی پڑے گا۔