- الإعلانات -

ایم کیو ایم کی شکست و ریخت اور نیکٹاکی کارروائی

اگلے دن ایک حوصلہ افزاء خبرسامنے آئی کہ سٹیٹ بینک نے نیشنل کاونٹر ٹیررزم اتھارٹی (نیکٹا) کی ہدایات پر عمل درآمد کا آغاز کرتے ہوئے دہشت گرد تنظیموں اور ان کے سہولت کاروں کے اکاؤنٹس منجمد کرنا شروع کردیئے ہیں۔ اطلاع ہے کہ شیڈول 4 میں شامل افراد کے ملک بھر میں2 ہزار 100 کے قریب بینک اکاونٹس منجمد کردئیے گئے ہیں۔یقیناًیہ ایک بہت بڑی پیشرفت ہے جسے بہت پہلے شروع ہوجانا چاہیے تھا کیونکہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ جب ملک دشمن عناصر پر ’’زر‘‘ اور’’ زمین‘‘ تنگ کرنا شروع کردیں تو ان کے پاؤں اکھڑنا شروع ہو جاتے ہیں۔ضرب عضب لانچ کرنے اور نیشنل ایکشن پلان میں یہی بنیادی نکتہ تھا کہ آپریشن کے ذریعے دہشت گردوں پر زمین تنگ کی جائے جبکہ NAP کے ذریعے مالی وسائل کی ناکہ بندی کے علاوہ سہولت کاروں کی بھی بیخ کنی کی جائے۔ ضرب عضب کے ذریعے ’’زمین‘‘ تو تنگ کردی گئی لیکن مالی وسائل کی شہ رگ پر ہاتھ نہ ڈالا گیا۔ تقریباً دوسال کی تاخیر کے بعد اب یہ سلسلہ شروع ہوا ہے تو یہ بھی غنیمت ہے۔مگر ضرورت اس امر کی ہے کہ اس عمل کو مزید موثراور تیز کیا جائے۔جن افراد کے اکاونٹس منجمد کئے گئے ہیں ان میں لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز، مولانا احمد لدھیانوی بھی شامل ہیں، پنجاب سے 1443، سندھ سے 226، بلوچستان سے 193، گلگت بلتستان سے 106، آزادکشمیر سے 26 اور وفاقی دارالحکومت کے 27 کالعدم رہنماؤں اور کارکنوں کے اکاونٹس منجمد کر دیئے گئے ہیں۔ اسی طرح شیڈول 4 میں شامل 2021 افراد کے شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بلاک ہوں گے۔ بلاک شناختی کارڈز پر جاری موبائل فون سمز بھی بند کردی جائیں گی۔اس عمل سے اب تک 2 ارب روپے کا اکاونٹس منجمد ہو چکے ہیں۔یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 117 مدرسوں کے 101ملین روپے کے مشکوک فنڈز بھی منجمد کردیے گئے ہیں۔یہ ایک مستحسن اقدام ہے اس کا دائرہ کار پھیلا کر سہولت کاروں پر بھی ہاتھ ڈالنے کا عمل شروع کرنا چاہیے کہ آپکا دشمن جنگ مسلط کرنے میں ناکامی کے بعد اب ایک دفعہ پھر اپنے مہروں کو حرکت میں لائے گا۔بلوچستان والے مہرے براہمداغ کو بھارتی شہریت کی پیشکش کی جا چکی ہے توافغانستان کی کٹھ پتلیاں بھی مودی کے اشارے پر ناچ رہی ہیں۔البتہ بھارت کو الطاف کی ایم کیوایم کی شکست وریخت سے شدید دھچکا لگا ہے۔متحدہ کی مرحلہ وار ٹوٹ پھوٹ کا یہ عمل اب مزید تیز ہونے کو ہے۔الطاف حسین کا بچے کھچے اپنے کارکنوں کے نام حالیہ ٹویٹ پیغام اس امر کی غماضی کرتا ہے کہ متحدہ قومی مومنٹ اب متحدہ نہیں رہی اور اس کے مزید حصے بخرے ہونے کے عمل کو کوئی نہیں روکا جا سکتا۔الطاف نے ٹویٹ پیغام میں ورکوں مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ ’’میں آپ کے علم میں لانا چاہتا ہوں کہ میں نے حمایت کا جو اعلان کیا تھا میں چاہتا تھا کہ unity برقرار رہے لیکن مجھے نہیں معلوم تھا کہ کیا conspiracy ہو رہی ہے اور وہ constitution سے اپنے قائد کا نام تک نکال دیں گے،لہذا یہ قطعی غیر آئینی اور احمقانہ فیصلہ ہے۔میں اس فیصلے کو نہیں مانتا اور ندیم نصرت کو اختیارات دے دیے ہیں۔‘‘
اس ٹویٹ میں ان کی شکستہ دلی کا واضح اظہار ہورہا ہے، انہوں نے ’’باہمی یونٹی‘‘ کی شکست وریخت کا غیرارادی طور پراقرار بھی کرلیا ہے۔اس ٹویٹ میں انہوں نے اپنے ایم پی ایز ،ایم این ایز اور سینٹروں سے استعفوں کا بھی مطالبہ کیا جو یکسر مسترد کردیا گیا۔ الطاف حسین نے ندیم نصرت کو پاکستان میں نئی تنظیم سازی کی ہدایت بھی کردی ہے۔ انکو ہر سطح پر پارٹی کے انفرا سٹرکچر کے قیام کی بھی ذمہ داری دی گئی ہے۔یہ سب کچھ ظاہر کرتا ہے کہ الطاف کی متحدہ بلکہ مودی اور RAW کی متحدہ منطقی انجام کو پہنچ چکی ہے۔ایم کیو ایم اگر باقی رہی تو فاروق ستار کی رہے گی انہوں نے اگر کوئی ڈبل گیم کھیلی تو انجام ان کا بھی یہی ہوگا۔لیکن ادھر یہ خطرناک اطلاعات بھی گردش کررہی ہے کہ ایم کیو ایم کی لندن کمانڈ نے الطاف حسین کے احکامات بجا لانے سے انکار کرنے اور نئی متحدہ بنانے کی کوششیں کرنے والے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں کو نشانہ بنانے کیلئے اقدامات کی منظوری دیدی ہے۔ایک قومی انگریزی روزنامے کی رپورٹ کے مطابق الطاف کی مخالفت کرنیوالے ایم کیو ایم پاکستان کے رہنماؤں نے بہت خطرناک انکشافات کئے ہیں۔انکا کہنا ہے کہ ان جیسے رہنماؤں کو لندن کمان کے ڈیتھ سکواڈ سے سنگین خطرہ لاحق ہے۔ نشانہ بنانے والے (قاتل) جنوبی افریقہ، ملائیشیا اور تھائی لینڈ سے آئے ہیں اور موقع کی تلاش میں ہیں،مذکورہ رپورٹ کے مطابق اس مرحلے پر کسی گروپ کا نام بتائے بغیر ایم کیو ایم پاکستان میں الطاف کے مخالفین نے بتایا کہ پارٹی کے ارکان پارلیمنٹ، رابطہ کمیٹی کے ارکان اور دوسرے پارٹی رہنما نئی متحدہ قومی موومنٹ بنانے کیلئے کوشاں ہیں۔یہی ہوتا ہے ایسے عناسر کا انجام کہ ایک دن وہ نہ گھر کے رہتے ہیں اور نہ گھاٹ کے۔