- الإعلانات -

ملک میں بادشاہت۔۔۔بات تو سچ ہے مگر

اگلے روز چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس انور ظہیر جمالی نے میٹروٹرین منصوبے سے متعلق لاہور ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف پنجاب حکومت کی درخواست کی سماعت کے دوران وہ بات کہہ دی جو آج ملک کی تمام اپوزیشن جماعتیں اور سنجیدہ حلقے کہہ رہے ہیں کہ یہ جمہوریت نہیں بادشاہت۔انہوں نے اپنے ریمارکس میں کہا کہ عوام سے جمہوریت کے نام پر مذاق ہورہا ہے اور ملک میں جمہوریت کے نام پر بادشاہت قائم ہے۔چیف جسٹس انور ظہیر جمالی نے یہ بھی ریمارکس دیئے کہ ملک میں گڈ گورننس کے نام پر بیڈ گورننس جاری ہے۔ جمہوریت کے نام پر عوام کے ساتھ مذاق ہورہا ہے، اب عوام کوچاہئے کہ وہ اپنے ساتھ ہونے والے ناروا رویئے کے خلاف کھڑے ہوں، عوام کو چاہئے کہ وہ اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہوئے ووٹ کا حق احتیاط سے استعمال کریں۔
اگرچہ ہمارے محترم چیف جسٹس نے مذکورہ کیس کی سماعت کے اگلے روز اپنے بیان کی قدرے وضاحت کردی ہے کہ انہوں عوام کو اُٹھ کھڑے ہونے کا نہیں کہا تاہم انہوں نے باقی ریمارکس کی وضاحت نہیں کی، تواس پریہ کہا جاسکتا ہے کہ بادشاہت والے ریمارکس موجود ہیں۔ چیف جسٹس صاحب کے ریمارکس ایک ایسے موقع پر سامنے آئے ہیں جب لوگوں کی ایک بڑی اکثریت اس نتیجہ پر پہنچ چکی ہے کہ یہ جمہوریت نہیں موجودہ نواز حکومت کی شکل میں ایک بادشاہت قائم ہوچکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ سوائے نون لیگیوں کے اسے لوگوں کے دل کی آواز سمجھا جارہا ہے۔ آج ملک پر جمہوریت کی بدترین شکل مسلط ہے۔خاندان کے خاندان اداروں میں گھسیڑ دیے گئے ہیں۔کار حکومت غیر منتخب فیملی ممبران کے ہاتھ آچکا ہے۔اسکی مثال بی بی مریم نواز کی سب کے سامنے ہے کہ وہ کس طرح ایوان وزیر اعظم میں احکامات صادر فرماتی ہیں یا وزراء کو کس طرح ڈکٹیشن دیتی ہیں۔آج اپوزیشن کی مٹی پلید کرنے کی اہم ذمہ داری وہی ادا کررہی ہیں۔ چیف جسٹس آف پاکستان کا یہ کہنا کہ اپنے ساتھ ہونے والے ناروا رویئے کیخلاف کھڑے ہوں ، اگرچہ ان الفاظ کی انہوں نے وضاحت کردی ہے اور نئے ریمارکس کو ہی لیا جائے بھی تو یہ موجودہ طرز جمہوریت اور حکومت کے طرز حکمرانی کے گن گانے والوں کے منہ پر تھپڑ ہے اگر وہ محسوس کریں۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ایسے ہی خیالات کا اظہار ایک عام آدمی یا اپوزیشن کا کوئی رہنما کرتا ہے اور عوام کو سڑکوں پر لانے کی بات کرتا ہے یا بادشاہت کا ذکر کرے تو اسے جمہوریت دشمن کہہ دیا جاتا ہے یا غیرجمہوری قوتوں کا آلہ کار کا پروپیگنڈا کیا جاتا ہے۔آج پوری قوم موجودہ طرز حکومت سے بیزار ہے اور اس سے نجات کی بھی خواہش مند ہے،مگر اسے مسئلہ یہ درپیش ہے کہ اس نظام کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے سے بھی اسکے دکھوں کا مدوا نہیں ہوپاتا۔2014 کے دھرنے اس کی مثال ہیں یا پانامہ لیکس اور سانحہ ماڈل ٹاؤن کے خلاف تحریک۔کیا کسی ادارے نے عوام کی آواز پر کان دھرے۔کیا ملکی ذمہ دار اداروں کا کام صرف حالات کاتجزیہ کرنا رہ گیا ہے۔اگر ہمارے ملکی اداروں نے اپنا آئینی کردار پوری دیانتداری سے کبھی ادا کیا ہوتا تو آج یقیناًشخصی جمہوریت کاراج نہ ہوتا اور نہ پانامہ قوتوں کو عوام کا استحصال کرنے کا موقع ملتا اور نہ ہی میٹرو ٹرین کیس میں موجودہ حکومت کی من مانیوں پر محترم چیف جسٹس کو ایسے ریمارکس دینے پڑتے۔چیف جسٹس صاحب کا فرمانا ہے کہ عوام کو چاہئے کہ وہ اپنا نمائندہ منتخب کرتے ہوئے ووٹ کا حق احتیاط سے استعمال کریں۔یہ ایک صائب مشورہ ہے لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ اگر صرف ہمارے قابل احترام ادارے ہی اپنا آئینی کردار ادا کرنے کیلئے اٹھ کھڑے ہوں تواس نظام پر قابض استحصالی قوتوں کو نسل درنسل پنجے گاڑنے کا موقع نہ ملے۔ پانامہ ہنگامہ گزشتہ چھ ماہ چل رہا ہے مگر کیا کسی ادارے کو توفیق ہوئی کہ وہ اٹھ کر اس کا نوٹس لے لیتا۔ملک میں لاقانونیت کا ایسا راج ہے کہ لاہور میں میڈیا کے سامنے چودہ لوگ سرکاری گولیوں سے بھون ڈالے گئے۔کوئی ٹس سے مس نہ ہوا اور نہ اب تک امکان نظر آتا ہے۔کیا یہ صرف عمران اور ڈاکٹر طاہرالقادری کے ایشوہیں۔کیا پانامہ کے چوروں نے عمران کی چوری کی یا اس کا مال دولت ہڑپ کیا ہے۔ہائے افسوس کے ہمارے تمام آئینی اداروں نے اپنی آئینی ذمہ داری سے پہلو تہی کرتے ہوئے یہی سمجھ لیا ہے کہ پانامہ ایک سیاسی ایشو ہے حکومت جانے اور عمران خان اس میں مداخلت نہیں کرنی۔آج اگر ہم بادشاہت کا رونا رو رہے ہیں تو کون ذمہ دار ہے۔کیا مجھے طاقت اور اختیار ہے کہ میں بادشاہت کے اس دیو کے سامنے بند باندھ سکوں۔میں تو صرف اس قابل ہوں کہ سڑک پر آ کرآواز بلند کروں آہ و زاری یا ووٹ کی پرچی کا حق استعمال کروں۔یہ کام میں نے ہردور میں کیا اور اب 2014 سے کررہا ہوں لیکن کہیں سے شنوائی نہیں ہورہی۔جن اداروں کے ذمہ آئین پاکستان نے یہ کام لگا رکھا ہے انکے دروازے ہی نہیں دل و دماغ اور کان بھی مقفل ہیں۔ووٹ کی پرچی کا حق بھی ایک ڈرامے کے سوا کچھ نہیں رہا۔یہ اس انتخابی نظام کی برکت ہے کہ میں پرچی ڈالتا کسی گھوڑے کے حق میں ہوں لیکن گنی کسی گدھے کے کھاتے میں جاتی ہے۔خواجہ آصف اورخواجہ سعدرفیق کیس میں سامنے آنیوالے لاکھوں غیر مصدقہ ووٹ کس چیز کی