- الإعلانات -

آدم خور چوہے

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین جب سے سیاسی دنیا میں آئے ہیں بس ایک نعرے پر ان کی مستقل مزاجی نظر آرہی ہے کہ وہ ایک نئے پاکستان کے متمنی ہیں ۔یہ پاکستان کب اورکیسے بنے گا اس کے بارے میں کسی کو کچھ نہیں پتہ ۔اسی امید پر انہوں نے دوسری شادی بھی کی مگرپھر اس کے بعد حالات نے ناخوشگوار موڑ اختیار کرلیا اور پھر سے نئے پاکستان کا شور شرابہ اٹھنا شروع ہوگیا ۔اسی دوران انہوں نے پشاور میں شوکت خانم کینسر ہسپتال کا افتتاح بھی کیا ۔اس میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ یہ ایک بہت اچھا اقدام تھا لیکن گذشتہ دنوں سے کے پی کے میں ایک ایسا واقعہ رونما ہورہا ہے جس پر ہردل خون کے آنسو رونے کیلئے مجبور ہے کہ نیا پاکستان بنانے والی شخصیت کی جس صوبے میں حکومت ہے ،جہاںاس کے پاس سارے اختیارات ہیں اوروہ اس عمل میں بھی کوشاں ہے کہ وہاں پر جدید ترین نظام کو آراستہ کیا جائیگا اورلوگوں کو سہولیات میسر ہوں لیکن کمال حیرانگی کی بات ہے کہ کے پی کے کے علاقہ حسن گڑھی میں ایک خاص قسم کے چوہے پائے جاتے ہیں وہاں کے لوگوں کے کہنے کے مطابق وہ بلی سے بھی زیادہ بڑے ہیں اور عموماً یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ وہ بلی کو بھی ڈرا دھمکا کر بھگا دیتے ہیں ۔بات صرف اگر بلی کے بھگانے تک ہی محدود رہتی تو اس میں کوئی اعتراض نہیں تھا لیکن یہ آدم خور چوہے وہاں پر انسانی بچوں کو کھاجاتے ہیں یعنی اتنے برے طریقے سے معصوم بچوں کو کاٹتے پیٹتے ہیں کہ وہ موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں ۔گذشتہ روز حسن گڑھی ہی میں ایک بچہ جو کہ چند روز پہلے والدین کے مستقبل کا سہارا تھا ،ان کی آنکھوں کا تارا تھا یقینی طور پر وہ اس قوم کا معمار بھی تھا لیکن یہ آدم خور چوہے اس کے ناک اور کان بری طرح کھا گئے اور وہ بچہ چل بسا ۔یہ اتنی خوفناک خبر ہے کہ اس کو پڑھنے اور سننے کے بعد خوف سے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں اور یہ پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کے لیے انتہائی لمحہ فکریہ ہے کہ وہ کون سا نیا پاکستان دینے جارہے ہیں ۔جہاں پر آدم خور چوہے بچوں کیلئے موت کا پروانہ ہوئے ہیں ۔صرف توجہ شوکت خانم ہسپتال کے قیام پر ہی نہیں ہونا چاہیے اور بہت سارے ایسے دیگر مسائل ہیں جن پر توجہ دینے کی ضرورت ہے ۔کپتان صاحب کو اس بات پر فی الفور ایکشن لینا چاہیے کہ چوہے اب تک پانچ معصوم بچوں کو موت کے گھاٹ اتار چکے ہیں تو ان چوہوں کا خاتمہ کیوں نہیں کیا گیا ۔اس جرم میں کون ملوث ہے کس محکمے کی ذمہ داری تھی کہ جب پہلے بچے کی قیمتی جان ضائع ہوئی تو اس نے ایکشن کیوں نہیں لیا مگر شاید کپتان کو اس معاملے کا ابھی علم بھی نہ ہو کیونکہ جگہ وہی گرم ہوتی ہے جہاں پر آگ جلتی ہے ۔یہ تو ان بچوں کے والدین سے پوچھا جائے جن کے معصوم لخت جگر جنہوں نے ابھی دنیا کی کوئی خوشی دیکھی ہی نہیں تھی ۔صرف والدین کی گود سے آشنا تھے کہ وہ اتنی جلدی زمین کی گود میں چلے گئے ۔کیا یہی نئے پاکستان کی نوید ہے اور اگر اس طرح کا نیا پاکستان دیتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس سے محفوظ ہی رکھے جہاں پر انسانوں کی نہیں بلکہ چوہوں کی حکمرانی ہو اور وہ بھی آدم خور چوہے ہوں ۔یہ بات تو پی ٹی آئی کے حوالے سے چل رہی تھی اب اگر سیاسی حالات پر نظر دوڑائی جائے تو اس وقت نیب کے حوالے سے رانا ثناءاللہ دوڑ میں سب سے پہلے نمبر پر نظر آرہے ہیں ۔انہوں نے نیب کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ آصف علی زرداری کو سالہا سال قید وبند میں رکھا گیا لیکن نیب کچھ نہ پروف کرسکی اور پھر میاں منشاءکا اتنا پرانا کیس کھول کرانہیں کئی گھنٹوں تک بٹھانا ،تصویریں شائع کرنا قطعی طور پر اچھا نہیں اس سے ملک میں سرمایہ کار بھاگ جائیں گے اور آخر میں ہم اور سیکورٹی گارڈز ہی رہ جائیں گے ۔پرانے کیسز کو چھوڑ دینا چاہیے اور نئے کی تحقیقات کرنا چاہیے ۔اب تو یہاں پر رانا ثناءاللہ کو شاباشی دیں گے کہ کیا زبردست منطق پیش کی ہے کہ کڑوا کڑوا تھوتھو ،میٹھا میٹھا ہپ ہپ ،جس نے ماضی میں کرپشن ،حال میں کی یا مستقبل میں کرپشن کی منصوبہ بندی کررہا ہے وہ اس ملک اور قوم کا برابر کا مجرم ہے اس کیخلاف تحقیقات ہونی چاہئیں اورنیب کو بلاخوف وخطر اپنی تحقیقات جاری رکھنی چاہئیں ۔نیب کے چیئرمین کسی کی ذاتی پسند وناپسند سے متمکن نہیں اس میں حکومت اور اپوزیشن دونوں کی رائے شامل تھی ۔اب اگر نیب نے صحیح طرح کام شروع کردیا ہے تو پھر پریشان ہونے کی کیا ضرورت ہے ۔رانا ثناءاللہ صاحب آپ نے گاجریں نہیں کھائی ہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ،جنہوں نے کھائی ہیں انہیں تواب اگلنا ہی پڑیں گی ۔لہذا جو ادارے کام کررہے ہیں انہیں کام کرلینے دینا چاہیے پھر اپوزیشن لیڈر نے بھی واضح طور پر کہا کہ اگر وزیراعظم کو کوئی اعتراضات تھے تو وہ پارلیمنٹ میں بات کرتے نہ کہ انہوں نے سرعام دھمکیاں دینا شروع کردی ہیں ۔