- الإعلانات -

سیکو لر انتہا پسندی کے فکری تضادات3

جمہوریت اور جمہوری روایات کا شمار سیکولرزم کی بنیادی اقدار میں ہوتا ہے ۔سیکولراحباب کی جو خوبیاں مجھے بہت عزیز ہیں ان میںسے ایک جمہوریت کے باب میں ان کی غیر معمولی حساسیت ہے۔جمہوری اقدار، پارلیمان کی فعالیت اور آئین کی بالادستی کے بارے میں ان کا بیانیہ قابلِ تحسین ہے۔المیہ مگر یہ ہے کہ وطن عزیز میں جب جمہوری روایات اور آئین اسلام کے ساتھ اپنی نسبت استوار کرتے ہیں تو سیکولر احباب کو ان کے فکری تضادات آن گھیرتے ہیں اور یہ ان جمہوری روایات اورآئین سے لاتعلق ہی نہیںہو جاتے ،ان پر بےجا نقد بھی شروع کر دیتے ہیں،یہ ا پنے ہی آدرشوں پر قائم نہیں رہ پاتے۔
قراردادِ مقاصد کا شمارپاکستان کے جمہوری ،پارلیمانی اور آئینی تحرک کے اولین نقوش میں ہوتا ہے۔ اس قرارداد کے ذریعے پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے ایک جمہوری طریقے سے طے کیا کہ پاکستان کا دستوریورپی طرز پر نہیں ہو گا بلکہ اسلام اور جمہوری اصولوں کے تحت وضع کیا جائے گا،حاکمیت اعلی اللہ کی ہو گی ،اور منتخب نمائندے ایک مقدس امانت کی طرح اپنے اختیارات بروئے کار لائیں گے۔اقلیتوں کے بارے میں کہا گیا کہ انہیں نہ صرف اپنے مذہب پر عمل پیرا ہونے کی مکمل آزادی ہو گی بلکہ انہیں اپنے کلچر کے فروغ کا بھی حق ہو گا ۔پاکستان کی پہلی دستور ساز اسمبلی میں خود وزیر اعظم نے اس قرارداد کوپیش کیا، اس پر جمہوری روایات کے مطابق بحث ہوئی۔اپوزیشن رہنما سریس چندرا چٹوپا دھیا نے کھل کر اس کے متن پر تنقید کی، ان کا کہنا تھا حاکمیت اعلی اللہ کے پاس نہیں صرف عوام کے پاس ہونی چاہیے ،کسی نے ان کو اختلاف کے حق سے محروم نہیں کیا ، وہ اور ان کے رفقائے کارمکمل آزادی فکر کے ساتھ بولے لیکن آخر کار ایک جمہوری عمل میںفیصلہ اکثریت رائے سے ہو تا ہے اور اکثریت کا فیصلہ قرارداد مقاصد کے حق میں تھا۔جمہوریت سے وابستگی کی بہت بات کی جاتی ہے لیکن جب جمہوری عمل اسلام کی بات کرتا ہے تو سیکولر احباب اس عمل کو مشکوک قرار دے دیتے ہیں، ان کے نزدیک یہ فکر قائد سے انحراف اور غداری ہے اور وہ اسے ریاست کی فکری بنیاد میں لگائی جانے والی پہلی ٹیڑھی اینٹ کا درجہ دیتے ہیں۔سوال یہ ہے کیا ان کا یہ رویہ جمہوریت دوست کہلایا جا سکتا ہے؟دنیا بھر کو آپ یہ حق دیتے ہیں کہ وہ جمہوری طریقے سے اپنے لیے نظام چن لے لیکن مسلمانوں کو آپ یہ حق نہیں دیتے،کیا یہ رویہ جمہوریت دوستی کے باب میں درج کیا جا سکتا ہے؟ کیا اللہ کی حاکمیت کا اصول طے کرنا ایک خالصتا جمہوری عمل نہ تھا؟کیا دستور ساز اسمبلی کے باہر خود کش حملہ ٓاور کھڑے تھے کہ قرارداد مقاصدپا س نہ کی گئی تو اسمبلی کو اڑا دیں گے؟آپ بجا کہتے ہیںکہ بندوق کے زور پر شریعت نافذ نہیں کی جا سکتی لیکن ہم آپ سے یہ جاننا چاہتے ہیں کیا جمہوری طریقے سے اس کے نفاذ کی اجازت ہے؟ایسا تو نہیں آپ کا مسئلہ بندوق یا جمہوریت ہے ہی نہیں آپ کو کد صرف اسلام سے ہے اور مسلمانوں کا نظم اجتماعی جمہوری طریقے سے اسلام کی بات کرے تو آپ اسے بھی مان کر نہیں دیتے؟
سیکولر احباب کا کہنا ہے کہ قائد اعظم ایک سیکولر آدمی تھے اور وہ ایک سیکولر پاکستان چاہتے تھے، ان کی وفات کے بعد لیاقت علی خان نے اپنے مفادات کے لیے قائد کی فکر کا ابطال کیا اور دستور ساز اسمبلی سے قرارداد مقاصد منظور کروا لی، اور یہی تمام خرابیوں کی بنیاد ہے۔جہاں تک اس بات کا تعلق ہے کہ قائد اعظم سیکولر تھے اور سیکولر پاکستان چاہتے تھے ، یہ صریحا جھوٹ ہے اور اس پر ہم تفصیل سے آگے جا کر بات کریں گے۔فی الوقت ہم سیکولر احباب کی ( صریحا غلط) بات مان لیتے ہیں کہ قائد سیکولر تھے اور سیکولر پاکستان چاہتے تھے ۔اب سوال یہ ہے کہ جس جمہوری طرز عمل کی سیکولر احباب بات کرتے ہیں اس میں کس کی رائے کو فوقیت دی جائے گی،ایک انتہائی قابل احترام فرد کی رائے کو یا دستور ساز اسمبلی کی اجتماعی رائے کو؟ تھوڑی دیر کے لیے مان لیا کہ قائد اعظم سیکولرپا کستان چاہتے تھے،کیا اس سے دستور ساز اسمبلی کی فیصلہ ساز حیثیت پر کوئی فرق پڑتا ہے؟سیکولرزم تو اپنا مقدمہ ہی اس بات پر کھڑا کرتا ہے کہ فرد واحد تو کیا کوئی الہامی کتاب بھی حرف آخر نہیں اور اجتماعی زندگی کا فیصلہ اجتماعی شعور کی روشنی میں جمہوری طریقے سے کیا جائے گا۔اب یہ عجیب تضاد ہے کہ اللہ کی حاکمیت آپ نہیں مانتے، کسی الہامی کتاب یا اللہ کے فرستادہ نبی ﷺ تک کو آ پ اجتماعی زندگی میں حرف آ خر ماننے کو تیار نہیں۔لیکن دوسری طرف فکری دیانت کو طلاق بائن کبری دے کر آپ پہلے تو قائد اعظم پر یہ تہمت دھرتے ہیں کہ وہ سیکولر تھے اور سیکولر پاکستان چاہتے تھے اس کے بعد آ پ یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ قائد اعظم سیکولر تھے اس لیے پاکستان کو سیکولر ہونا چاہیے۔اس دلیل اور اس استنباط کا علم کی دنیا میں کیا اعتبار؟