- الإعلانات -

اداروں کو آزادی سے کام کرنے دیا جائے

اس وقت ملکی سیاست میں ایک کھچڑی پکی ہوئی ہے ہر سیاستدان ایک ادارے کے حوالے سے کوئی نہ کوئی بیان لازمی داغ رہا ہے جب سے وزیر اعظم پاکستان نے نیب کے حوالے سے اپنے قیمتی خیالا ت کا اظہار کیا بس اس ہی دن سے ”ن “ لیگ کے وزرا ءکا فرض ہے کہ وہ نیب کو آڑے ہاتھوں لے ۔ جبکہ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والے نیب کی حماییت کر رہے ہیں ۔بات یہ ہے کہ نیب کا چیئر مینج کس طرح تعینات ہوا دیکھا جائے تو اس پر حکومت اوراپوزیشن باقاعدہ متفق تھے قومی احتساب بیورو کام کر تا رہاے مختلف لوگوں کے بارے ریفرنسز دائر کیے گئے کچھ گرفتار ہوئے اس سے زیادہ اس وقت شور مچا جب ڈاکٹر عاصم پر ہاتھ ڈالا گیا کیونکہ اس کے بعد بہت سے شرفا ءکے چہرے عوام کے سامنے آنے ہیں تحقیقات چل رہی ہیں پیپلز پارٹی شور مچاتی رہی حکومت خاموش رہی کیونکہ جس نے کرپشن کی اس کو قرار واقعی سزا ہر صورت ملنا چاہیے پھر ہوا اس طرح کہ ایک دن ویز اعظم نیب پر برس پڑے اور اسے حدود قیود بتائی گئیں ، رانا ثنا ءاللہ بھی خوب دور کی کوڑی لائے بہر حال جس نے بھی ملک وقوم کے خزانے پر ڈاکہ ڈالا اس سے نکلوانا تو ہے ہی اب اس خزانے کو کھانے میں کئی بھی شامل ہو وزیر اعظم کے بیان کے بعد صورتحال مزید گھمبیر ہو گئی نیب نے فیصلہ کیا کہ وہ کرپشن کے مقدمات دس ماہ کے دوران نمٹائے گا جبکہ کرپشن سیکنڈلز کو بھی جلد نمٹایا جا ئیگا ، حکومت کو چاہیے کو وہ نیب کو آزادی سے کام کرنے کیلئے ہر طرح کی سہولیات فراہم کرے ڈاکٹر عاصم ہو یا اور کوئی جو بھی ہو جس نے بھی کرپشن کی ہو اسے انصاف کے کٹہرے میں آنا چاہیے یہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب کیس ایسے ”مہمل “معاملات آ جائیں تو پھر شور وغوغا کی آوازیں آنا شروع ہو جائیں سب سے پہلے حکومت جو اس وقت مکمل طور پر با اختیار ہے با قاعدہ قانون بنائے کہ پورے ملک میں کتی بھی شخص کو اپنی دولت بیرون ملک رکھنے کی اجازت نہیں ہونا چاہیے کیونکہ کوئی بھی شخص یا سیاسی رہنما جس نے اس ملک میں رہ کر دولت کمائی وہ بھی ایک بہت بڑی تو اسے ملک میں رہنا چاہیے اس سرمائے پر قوم کا حق ہے اسے ملک کی تعمیر و ترقی پر استعمال ہونا چاہیے شکنجہ تیار ہور ہا ہے تو اس کو ہونے دیا چاہیے ۔اداروں کی ٹانگیں گھسیٹنے سے نقصان ملک کا ہو گا ۔اب وقت تقاضا کررہا ہے کہ سب کے ساتھ انصاف ہونا چاہیے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں آپریشن جواس وقت سندھ میں جاری ہے متعد د دہشتگرد گرفتار ہوئے شر پسند عناصر پابند سلاسل ہوئے ان سے تحقیقات جاری ہیں عزیر بلوچ تو ان میں شامل ہے ۔ کڑیاں ملتی جا رہی ہےں آخر ایک نہ ایک دن تو ”صفائی “ہونا ہے بس تحقیقات آزادانہ اور شفاف ہونا ضروری ہیں۔امن قائم ہو ، دہشتگردی ختم ہو ، روزگار کے مواقع ہوں ،غریب سے لیکر امیر تک بے اختیار سے لیکر با اختیار تک سب کو برابر کے حقوق حاصل ہوں ، کوئی بھی کسی طرح بالا تر نہیں ہونا چاہیے،جس نے ظلم کیا اسے سزا ملنا ضرور ی ہے اگر معاشرے کو سدھارنا ہے تو قربانی دینا ہو گی ۔ جو پارٹی شروع ہوئی ہے اسے انجام سک پہنچانا ہو گا چنانچہ وزیر اعظم نے مسائل حل کرنے کے لیے کلید ی کردار ادا کیا اس میں بھی اہم کردار ادا کرنا ہو گا ورنہ عوام کا اداروں پر سے بھروسہ اٹھ جائے گا اگر کوئی غریب سو روپے کی رشوت لیتا ہوا پکڑا جائے تو اینٹی کرپشن والے اسے پکڑ کرایسی درگت بناتے ہیں کہ اس کی نسلیں بھی توبہ کرلیتی ہیں جس مگر اگر کوئی اربوںکی کرپشن کر لے تو اس کے حمایتی کونے کونے سے اٹھنا شروع کر دیتے ہیں قانون اس طرح ہونا چاہیے کہ جو بھی کسی کرپٹ شخص کے خلاف ہیں کے خلاف کرپشن ثابت ہو جائے اس کے حق میں آوازاٹھائے تو سہولت کار کے زمرے میں اس کو بھی دھر لینا چاہیے پھر دیکھیں کوئی آواز اٹھانا تو درکنار اس س کے حوالے سے بات کرنے سے بھی خوف زدہ ہو گا یہ صرف اس وقت ہی ممکن ہ جب اس ملک کے ادارے آزادی سے کام کریں اور انہیں آزادی سے کام کرنے دیا جائے

بقول شاعر:
سرمحفل جو بولوں تو زمانے کو کھٹکتا ہوں
رہوں میں چپ تو اندر کی بغاوت مار دیتی ہے ۔