- الإعلانات -

امریکا افغانستان کی دلدل سے جلد نکلنا والاہے(2)

گزشتہ سے پیوستہ

دو سال تک افغان درے کی بندوقوں سے روسی فوج سے گوریلا لڑائی لڑ تے رہے ۔ پچاس لاکھ سے زیادہ مہاجرین پاکستان اور اس سے کچھ کم ایران میں پناہ گزین ہوئے ۔ ساری دنیا کے اسلام پسندوں نے اسلام دشمن کیمونزم سے جہاد لڑنے والے افغان مجائدین کی مدد کی ۔ اسلامی دینا کے جہادی افغانستان آئے ۔ پاکستان ن اس مدد میں پیش پیش تھا ۔ دو سال بعد امریکا سویت یونین کے کیمونزم کو شکست دینے کے افغان مجاہدین کی مدد کے لیے میدان میں کود پڑا ۔ امریکا کے اسٹنگر میزائیل نے سویت یونین کی ہوائی قوت کو توڑا ۔ بلا آخر سویت یونین مذاکرات کا ڈھول ڈال کر افغانستان سے رسوا ہو کر نکل گیا ۔ امریکا نے افغان مجائدین کی سویٹ قبضہ کے وقت مدد کی تھی ۔ امریکا مجائدین کے ساتھ تصویریں بنا کر دنیا کے سامنے بڑے فخر سے پیش کیا کرتا تھا ۔ روس نے افغانستان میں تباہی پھیلائی تھی ۔ افغان مجائدین کے نو(۹) ہ جہادی گروپوں نے سویت یونین کو شکست دی تھی ۔ ان کا مطالبہ تھا کی ان نوجہادی گروپوں کے نمائندوں پر مشتمل عبوری حکومت قائم کی جائے ۔ عبوری حکومت عام الیکشن کرائے ۔ آزاد الیکشن کے ذریعے عوام کی رائے سے جیتنے والے افغانستان میں حکومت بنائے ۔ امریکا نے پاکستان کی حکومت کو ڈرایا کہ اگر افغانستان میں اسلامی جہادی قائم حکومت ہو گئی تو وہ اسے پاکستان میں بھی لے آئیں گے اور تمھاری عیاشیوں ختم ہو جائیں گی ۔ امریکا کے جال میں پھنس کر پاکستان حکومت نے باہر سے آئے ہوئے جہادیوں کو پکڑنا شروع کیا ۔ انہیں عادی مجرموں کے ساتھ قید کیا ۔ ایک کم طاقت والے صبغت اللہ مجددی کو افغانستان کا صدر نامزد کر دیا ۔ افغانستان میں خانہ جنگی شروع ہوئی ۔ دینی مدرسوں میں پڑھے ہوئے طالبان نے افغانستان میں امن قائم کرنے کے سفید جھنڈا لہرا دیا ۔ دیکھتے ہی دیکھتے افغانستان میں امن قائم ہو گیا ۔ افیون کی کاشست ختم کر دی گئی ۔ وار لارڈز سے اسلحہ واپس حکومتی مال خانے میں جمع کروایا ۔ پھر کریڈٹ لینے والوں نے کریڈ لینا شروع کیا ۔ پیپلز پارٹی کے وزیر داخلہ نے کہا کہ طالبان ہمارے بچے ہیں ۔ ایک خاص مکتبہ فکر کے دینی سربراہ نے کہا کہ طالبان ہمارے دینی مدرسوں کے پڑھے ہوئے طالب علم ہیں ۔ بحر حال افغان عوام نے سکھ کا سانس لیا ۔ ملا عمر;231; کو اپنا امیر المومنیں منتخب کر لیا ۔ اسلامی شری عدالتیں قائم ہو گئیں ۔ کچھ جزوی کمزرویوں کے باجود افغانستان کے حالت بہتر ہونے لگے ۔ پاکستان اور سعودی عرب نے افغانستان کی اسلامی حکومت کو قانونی طور پر تسلم کر لیا ۔ تاریخ میں پہلی بار پاکستان اور افغانستان میں تعلوقات مثالی ہو گئے ۔ پاکستان کی مغربی سرحد طالبان محفوط ہو گئی ۔ مگر افغانستان میں طالبان کی اسلامی حکومت امریکا کو اور خیبر پختون خواہ کے قوم پرستوں کوہضم نہیں ہوئی اور نہ ہی پاکستان کی روشن خیال سیکولر پارٹیوں کو ۔ ان دنوں مرکز میں پیپلز پارٹی، خیبر پختون خواہ میں قوم پرست نیشنل عوام پارٹی اور پیپلز پارٹی کی مخلوط حکومت تھی ۔ انہوں نے طالبان کے خلاف امریکا کی کھل کرحمایت کی ۔ امریکا نے بھی محسوس کیا کہ اسلامی حکومت آگے بڑھ کے مسلمانوں کی خلافت کی بحالی کے لیے کام کرے گی ۔ امریکا نے ڈکٹیٹر پرویز مشرف کو استعمال کیا تھا ۔ ڈکٹیٹر ایک فون کال پر افغانستان طالبان حکومت کے خلاف امریکا کا کرایہ کا فوجی بن گیا ۔ پورے پاکستان کو لاجسٹک سپورٹ کے نام پر امریکا کے حوالے کر دیا ۔ امریکا اور نیٹو کے ۸۴ ملکوں کی فوجوں نے افغانستان پر قبضہ کر لیا ۔ فاقہ مست افغانوں نے اللہ کے بھروصے پر پھر گوریلہ لڑائی شروع کی ۔ اب سوائے اللہ کے طالبان کا کوئی بھی مدد گار نہ تھا ۔ نہ اسلامی دنیا کے عوام اور نہ ہی امریکی پٹھو مسلم حکمران اور نہ ہی وارلڈ پاور امریکا کا کوئی دشمن ملک ۔ پروگرام کے مطابق پاکستان کے دشمنوں ، جس میں گریٹ گیم کے تینوں اہل کار، بھارت، اسرائیل اور امریکا نے پاکستان میں دہشت گردی پھیلا دی ۔ امریکا نے پاکستانی قوم پر ستوں پرمبنی’’ تحریک طالبان پاکستان‘‘ بنائی ۔ دہشت گردی امریکی کمپنی بلیک واٹر کرتی اور اس کی ذمہ واری تحریک طالبان پاکستان قبول کر لیتی ۔ امریکا نے پاکستان کوکیری لوگر بل کے تحت مدد دے کر اپنے ہی رعایاسے لڑا دیا ۔ قبائلی علاقوں میں کئی فوجی آپریشن ہوئے ۔ اُدھرفاقہ مست افغان طالبان کے افغانستان کو امریکا نے تورابورا بنا دیا ۔ مگر طالبان تن تنہا صرف اور صرف اللہ کے بروصے پر امریکا اور نیٹو کے سامنے ڈٹے رہے ۔ شکست تسلیم کرتے ہوئے ایک ایک کر کے نیٹو ممالک نے اپنی فوجیں افغانستان سے نکال لیں ۔ امریکا نے صرف دس ہزار فوجی افغانستان میں رکھے ۔ اب امریکا افغانستان کی دلدل سے نکلنے کے لیے افغان طالبان سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہا ہے ۔ امریکا نے کوشش کی کہ پاکستان کی فوج کو طالبان سے لڑا دے ۔ مگر اللہ کالاکھ لاکھ شکر ہے کہ فوج نے کہہ دیا ہے ہم نے بہت کچھ کیا اب دنیا ڈو مور کرے ۔ پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان صاحب نے بھی کہ دیا کہ اب ہماری فوج کسی کےلئے کرائے کی فوج نہیں بنے گی ۔ اللہ کا شکر ہے فوج اور سیاسی حکومت ایک پیج پر ہے ۔ امریکا کو افغانستان سے نکلنے کے علاوہ کوئی اور چارہ نہیں ۔ افغان طالبان کی امریکا سے مذاکرات کے ایجنڈے کا پہلا آءٹم افغانستان سے امریکی فوجوں کا انخلا ہے ۔ لگتا ہے کہ جلد ہی امریکا افغانستان کی دلدل سے نکل جائے گا ۔ یہی اللہ تعالیٰ کا قانون ہے کہ وہ کمزروں کو طاقتورں پر فتح عطا کرتا رہا ہے ۔ جب تک ہمارے پڑوسی مسلمان ملک افغانستان کے کوہسار باقی!افغان باقی ۔ انشاء اللہ ۔