- الإعلانات -

منصوبہ بندی کی اشد ضرورت

مسلم لیگ ن یا اپوزیشن جماعتوں سے تعلق رکھنے والے لوگ نیا پاکستان سے اکثر یوں کتراتے ہیں جیسے ان کی چھیڑ ہو ۔ بہرحال یہ کوئی ایسا شجر ممنوعہ نہیں جس کو چھو لینے سے جہنم واجب ہوتی ہو ۔ نہ سمجھ آنے سے پہلے ہر پاکستانی کی طرح میں بھی ہونکوں کی طرح نیا پاکستان پر ادھر ادھر دیکھنے لگتا کہ یہ کدھر سے وارد ہو گا ۔ بہر حال یہ خواب سے حقیقت اورلفظوں سے عمل میں آنے تک یوں ایک سر بستہ کہانی ہی رہے گا ۔ نیا پاکستان سے عمران خان کی کیا مراد ہے یا پی ٹی آئی کا نیا پاکستان کیسے معرض وجود میں آنا ہے مجھے اس سے متعلق کسی نے بھی بریف کرنے کی نہ تو کوشش کی اورنہ میں نے کوئی بریفنگ لی ۔ حالانکہ میرے کئی عزیز دوست تعلق دار پی ٹی آئی سے وابستگی رکھتے ہیں ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ہر پاکستانی کی طرح میری بھی خواہش ہے کہ پرانے پاکستان کی بجائے نیا پاکستان ہونا چاہیے جہاں صحت تعلیم تحفظ روزگار عزت کے ساتھ وقت گزارا جا سکے ۔ سیاسی کارکن عام طور جس بھی سیاسی جماعت سے وابستگی رکھتے ہیں اس سے یہی امید رکھتے ہیں کہ وہ اپنے کارکنوں کیلئے بنیادی ضروریات کی فراہمی کو آسان بنائے گی ۔ پیپلز پارٹی تو باقائدہ روٹی کپڑا مکان کے معاشی اورمعاشرتی نعرے کے ذریعے عوام کو اپنا بناتی رہی ہے ۔ دیگر سیاسی جماعتوں نے بھی معاشی اور معاشرتی ضروریات کو مدنظر رکھ کر سیاسی پلیٹ فارم کیلئے نعرہ تخلیق کیے ہیں ۔ مذہبی جماعتیں مذہبی اقدار کو اپنانے اور عوام کو خلافت راشدہ جیسا دور لانے کی وعید دے کر سیاسی کھیل کھیل رہی ہیں ۔ حالانکہ تقریبا تمام سیاسی حلقے اس بات پر متفق ہیں کہ خلافت راشدہ کا دور صرف چارخلفاء راشدین کے دور تک ہی تھا اور حضرت عمر بن عبدالعزیز کو اعزازی طور پر خلیفہ راشدہ کی ایکسٹینشن قرار دیا جاتا ہے ۔ ان کے بعد خلافت کا دور نہ آیا اور نہ آنا ہے ۔ قبل از قیامت ہی احادیث شریف میں ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور حضرت مہدی علیہ السلام ہی کا دور سنہری دور ہو گا جس میں ہر طرف امن و شرافت دیانت کا وور دورہ ہوگا ۔ امابعد تمہید موضوع کی باریکی کی طرف واپس ہوتے ہیں ۔ پی ٹی آئی حصول انصاف کے نعرہ کے ساتھ اپنے سفر کا آغاز کرتی ہے ۔ البتہ یہ علیحدہ موضوع ہے کہ وہ خود انصاف سے کیونکر گریزاں رہی ۔ اب اسکا نعرہ تو وہی ہے لیکن پوری توجہ کرپشن کے خلاف جہادی اقدامات کی طرف ہے ۔ کرپشن میں ملوث دیگر سیاسی قائدین کو نشان عبرت بنانے کیلئے پی ٹی آئی کی حکومت پوری طرح کوشاں ہے ۔ ایسے میں میاں نوازشریف سابق وزیر اعظم پاکستان بالخصوص نشان امتیاز کے ساتھ صف اول میں مورچہ زن ہیں ۔ ان کے پیچھے سابق صدر زرداری صاحب اور ان کے مصاحب صف آرا ہیں ۔ یہ تمام کیس انصاف کیلئے اپنے باری کے انتظار میں ہیں ۔ جب بھی کسی کو اپنی باری قریب نظر آتی ہے تو وہ اس پر چیخنے چلانے لگتا ہے کہ یہ ظلم و زیادتی ہے کہ پورے پاکستان کو چھوڑ کر مجھے نشانہ بنایا جا رہا ہے ۔ میرے ایک دوست طنزیہ کہتے ہیں کہ وی وی آئی پی پروٹوکول بھی تو پورا پاکستان ایک طرف کر کے آپ ہی لیا کرتے تھے ۔ اس وقت کیوں نہیں کہتے تھے کہ یار مجھے بھی عام پاکستانیوں میں ہی رہنے دو ۔ اس وقت بھی آپ خاص تھے اور اب بھی اپ ہی خاص الخاص ہو ۔ وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ عام پاکستانی تو بس آپ کو بادشاہ تسلیم کرنے کیلئے پیدا ہوتا ہے اور آپ کی نسلوں کو کورنش بجا لانے کیلئے دنیا میں ہے ۔ نہ ان میں کوئی صلاحیت ہے اورنہ ان میں کوئی اس قابل ہے کہ وہ راہنما کردار ادا کر سکے ۔ یہ عزتیں اور تفاخر صرف چندخاندانوں کی میراث ہیں ۔ جن میں عالمی سطح کے راہنما پیدا ہوتے ہیں اور باقی قوم کی مائیں غلام پیدا کرتی ہیں ۔ بات نئے پاکستان کی ہورہی ہے تو اب نئے پاکستان میں ایک تو یہ انہونی ہو رہی ہے کہ نہ تو راہنما بھٹو خاندان سے ہے اور نہ ہی اس کا کوئی تعلق میاں خاندان سے ہے ۔ جو کم از کم یہ ثابت کرنے کیلئے کافی ہے کہ ان دو خاندانوں کے بغیر بھی اگر کوئی ملک کا وزیر اعظم و صدر بن جائے یا ان کی پشت پناہی کے بغیر بن جائے تو نرنیدر مودی کو اگر تکلیف ہو بھی تو دور کی جا سکتی ہے ۔ سعودی عرب بھی پاکستان کی پشت سے ہر گز ہاتھ نہیں کھینچتا اور نہ ہی پاک چین دوستی میں کوئی دراڑ آتی ہے ۔ یورپ و امریکہ کے ساتھ تعلقات بھی معمول کے مطابق ہی تلخ و شیریں چلتے رہتے ہیں ۔ نیا پاکستان کی بنیاد نہیں رکھی گئی بلکہ جیسے دوکان کی افتتاح کرنے کیلئے فیتہ کاٹا جاتا ہے کچھ ایسا طرز عمل اختیار کیا گیا ہے ۔ اب نئے پاکستان کا خواب تو دکھایا گیا اور عوام کو پسند بھی آیا لیکن وہ اس انتظار میں ہیں کہ اس کی تعبیر کب ملے گی ۔ انصاف کب ملے گا اور کرپشن سے چھٹکار ا پا کر وہ کب سکون و امن سے صحت تعلیم اورروزگار کے حصول کیلئے مزید رسوا نہیں ہونگے ۔ چائنا کو ہی دیکھ لیں کہ یہ ملک صنعت و حرفت میں سرمایہ کاری کر کے آج معاشی طور پر استحکام کا ہمالیہ سر کر چکا ہے ۔ دنیا کے تقریبا تمام ممالک جنہوں نے جینوئین سرمایہ کاری کو صنعت و حرفت میں لگایا اور اس کی بنیاد پر اپنے ملک کی معاشی استحکام کی بنیاد رکھی وہ کامیاب رہے ۔ سٹاک ایکس چینج کی مصنوعی سرمایہ کاری کے زریعہ مائیکرو اہداف کا حصول جواری کی بازی کی طرح ہے ۔ کبھی ہار تو کبھی جیت ،کبھی خوشی تو کبھی اور کبھی تو بالکل ہی بے غم ۔ ملک میں صنعت و حرفت کو فروغ دینے کیلئے منصوبہ بندی کی اشد ضرورت ہے ۔ گوجرانوالہ لاہور سیالکوٹ گجرات جیسے شہر اور بھی بنائے جا سکتے ہیں ۔ ہر شہر میں منصوبہ بندی کے ساتھ کوئی نہ کوئی انڈسٹری کھڑی کی جا سکتی ہے ۔ ہر علاقہ میں کسی نہ کسی انڈسٹری کیلئے خام مواد موجود ہے ۔ ہم تو آج تک سرگودھا اور خان پور سے فروٹ صیح طرح ایکسپورٹ نہیں کر پائے ۔ جن علاقوں میں سیلکا ریت پائی جاتی ہے وہاں پر ہم شیشہ کا کارخانہ نہیں لگا سکے ۔ جن علاقوں میں جانوروں اور پرندوں کو پالنے کے مواقع ہیں وہاں پر ہم کوئی ڈیری فارم بنانے کی منصوبہ بندی نہیں کر پائے ۔ ہم جوتا بنانے والے ہنر مندوں کو بیروزگار ہوتے دیکھتے رہے لیکن ان کے جوتوں کیلئے ایکسپورٹ کا کوئی ذریعہ نہ بناپائے ۔ ہ میں چھوٹی صنعتوں کو فروغ دینے کیلئے سمال انڈسٹری کو متحرک کرنا چاہیے ۔ سمال انڈسٹری کے مشورہ کاراور اس میں سرمایہ کاری کیلئے حکومت کو پوری طرح ذراءع مہیا کرنا چاہیں ۔ حکومت اگر معاشی استحکام چاہتی ہے اور اپنے لوگوں کو روزگار دینا چاہتی ہے تو اس کیلئے وہ مختلف علاقوں میں سمال انڈسٹریل زون بنائے جہاں پر سمال انڈسٹری کو فروغ اور تحفظ دینے کیلئے حکومتی سائبان مہیا کیا جائے ۔ سمال انڈسٹری کے ذریعہ ملکی معیشت مضبوط ہوگی اور حکومت پر عوام کو نوکری دینے اور روزگار مہیا کرنے کا بوجھ بھی تقسیم ہو گا ۔ ملک حقیقی معنوں میں معاشی طور پر استحکام کی منازل طے کرے گا عوام معاشی طور پر آزاد اور خوشحال ہونگے ۔ نیا پاکستان کا خواب شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے ضروری ہے کہ معاشی طورپر ہم کشکول کو ترک کرکے زوربازو سے رزق کا حصول ممکن بنائیں