- الإعلانات -

بناویلنٹ گرانٹس میں اضافہ پنجاب حکومت کا احسن اقدام

موجودہ پنجاب حکومت نے برسراقتدار آتے ہی عوامی فلاح و بہبود کے بہت سے کام کئے ۔ وزیر اعلیٰ سردار عثمان بزدارنے حلف اٹھاتے ہی واضح کیا تھا کہ وہ صوبے کواپنے قائد وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے وژن کے مطابق چلائیں گے ۔ تبدیلی لوگوں کے بہتر مستقبل کیلئے آئی ہے اور اس حقیقی تبدیلی کو برقرار رکھنے اور اس کے ثمرات عوام تک پہنچانے کےلئے شب و روز محنت کریں گے ۔ گزشتہ نو ماہ میں عثمان بزدار اور ان کی ٹیم عوامی توقعات پر پورا اتری ہے ۔ دو روز قبل وزیراعلیٰ سردار عثمان بزدار کی ہدایت پرمحکمہ سروسز اینڈ جنرل ایڈمنسٹریشن نے پنجاب کے سرکاری ملازمین کیلئے بناویلنٹ گرانٹس میں اضافہ کا نوٹیفکیشن جاری کیاجس کے تحت پنجاب کے سرکاری ملازمین کے بچوں کے سکالرشپ میں اضافہ اور پرائمری تا سیکنڈری سکول سالانہ 20 ہزار روپے تعلیمی وظیفہ دیا جائے گا ۔ اس کے ساتھ ساتھ ہائیر سیکنڈری سکول طلبا کو سالانہ 50 ہزار روپے ایجوکیشنل سکالرشپ ملے گا ۔ وزیراعلی کی جانب سے صوبائی ملازمین کے بچوں کیلئے میرج گرانٹ میں 3 گنا سے زائد اضافہ کر دیا گیا ہے ۔ میرج گرانٹ 40 اور 50 ہزار سے بڑھا کر ڈیڑھ لاکھ روپے کردی گئی ہے ۔ اس کے علاوہ وفات کی صورت میں جنازہ گرانٹ بھی بڑھا دی گئی ہے ۔ سرکاری ملازم کی وفات کی صورت میں لواحقین کو 50 ہزار روپے جنازہ گرانٹ ادا کی جائے گی اورسرکاری ملازم کی بیوہ کو ملنے والی ماہانہ گرانٹ میں بھی اضافہ کا اعلان کیا گیا ہے جو تاحیات ادا کی جائے گی ۔ گرانٹس میں اضافے کی نئی شرح کے نوٹیفکیشن کا اطلاق10 مئی سے ہوگا جبکہ میرج اور جنازہ گرانٹ میں اضافے کا اطلاق 10 مئی کے بعد کیا جائے گا ۔ یہ پنجاب کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ ایک پسماندہ علاقے سے وزیراعلیٰ پنجاب نامزد کیا گیا ہے ۔ عثمان بزدار کا تعلق ضلع ڈیرہ غازیخان کے اس علاقے سے ہے جہاں 2لاکھ کی آبادی کیلئے بجلی، پانی اور ڈاکٹر تک کی سہولت نہیں ۔ وہ پسماندہ علاقے سے تعلق کی وجہ سے عوام کے مسائل کو اچھی طرح سمجھ سکتے ہیں ۔ بہت سادہ زندگی گزارتے ہیں ۔ یہی سادگی وہ اپنے کاموں اور منصوبوں میں بھی لے کر آئے ہیں ۔ اس سے پہلے اس منصب پرفائز افراد ذاتی جاہ و حشمت پر زیادہ زور دیتے تھے ۔ عوامی بہبود کے کاموں کو بھی بڑھا چڑھا کر پیش کیا جاتا تھا مگر عثمان بزدار ایک درد مند دل رکھنے والے وزیر اعلیٰ ہیں جن کے دور حکومت میں یقینا پنجاب ایک ماڈل صوبہ بن جائےگا ۔ دوسری طرف یہ بھی حقیقت ہے کہ تقریباً نصف صدی بعدپنجاب کے وزیر اعلیٰ کا تعلق جنوبی پنجاب سے ہے ۔ ورنہ اس منصب پر بھی اپر پنجاب اور لاہور والے ہی چھائے ہوئے تھے ۔ گو ماضی میں جنوبی پنجاب سے بہت سے لوگ کلیدی عہدوں پر تعینات رہے ۔ جن میں گورنر اور وزیر اعلیٰ کے عہدے بھی ہیں مگر کسی کو بھی علاقے کی تعمیر و ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے کاموں میں دلچسپی لینے کی توفیق نہیں ہوئی ۔ موجودہ پنجاب حکومت کے دور میں عوام کو ریلیف دینے کیلئے محکموں میں اصلاحات متعارف کرائی جا رہی ہیں ۔ یہ لوگ کام کرنے آئے ہیں اورانشاء اللہ کام کرکے بھی دکھائیں گے ۔ تعلیم کے میدان میں وظاءف اور گرانٹ میں اضافہ سے یقینا تعلیم کے میدان میں انقلاب آجائےگا ۔ پنجاب کے غریب سرکاری ملازمین کے ذہین بچے جو غربت کی وجہ سے اعلیٰ تعلیم حاصل نہیں کر سکتے وہ اس سے بھرپور استفادہ کر سکیں گے ۔ اس سے جہاں ہماری شرح خواندگی میں اضافہ ہوگا وہاں پاکستان بھی ترقی کی منازل بخوبی طے کرے گا ۔ بچوں کی شادی ایک سرکاری ملازم کےلئے بہت کٹھن مرحلہ ہوتا ہے ۔ خاص طور پر بچیوں کی شادی پر ساری عمر کی کمائی لگ جاتی ہے ۔ بچوں کی شادی گرانٹ میں تین گنا اضافہ سے بہت سی بچیاں جو جہیز نہ ہونے کی وجہ سے بابل کی دہلیز پر بیٹھی رہ جاتی تھیں ، ان کے ہاتھ بھی پیلے ہو سکیں گے ۔ عوامی فلاح و بہبود کے سلسلے میں وزیر اعلیٰ کا یہ قدم بہت احسن ہے ۔ وفات کی صورت میں لواحقین کو 50 ہزار روپے جنازہ گرانٹ کی مد میں ادائیگی بھی ایک اچھا عمل ہے ۔ سرکاری ملازمین کی وفات کے بعد زیادہ تر ان کے لواحقین شدید دباوَ میں آجاتے ہیں ۔ جنازہ ، قل اور دیگر رسوم کے لئے رقوم کا انتظام بعض اوقات بہت مشکلات پیدا کر دیتا ہے ۔ اس موقع پر عموماً قرض اٹھانا پڑتا ہے جس کی ادائیگی ایک مشکل عمل ہے ۔ کیونکہ وفات کے بعد ماہوار لگی بندھی تنخواہ تو ختم ہو چکی ہوتی ہے اس کے علاوہ گھر کے ماہانہ اخراجات ، بچوں کی تعلیم ، بیماری و دیگر مدوں میں ایک معقول رقم کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس موقع پر جنازہ گرانٹ کے 50 ہزار اور بعد میں بیوہ کو ملنے والی ماہانہ گرانٹ میں اضافہ لواحقین کو کسی کے آگے ہاتھ پھیلانے نہ دے گا ۔ اس عمل کا اجر و ثواب جہاں دنیا میں حکومتی اکابرین کو ملے گا وہاں آخرت میں بھی جنت کے حق دار ٹھہریں گے ۔ بلاشبہ یہ اقدامات وزیراعلی کی جانب سے سرکاری ملازمین کی خوشحالی میں اضافہ کا باعث بنیں گے ۔ یہ نمائشی منصوبے نہیں بلکہ عوام کی حقیقی خوشحالی کیلئے پروگرام شروع کیے ہیں ۔ عوام کی بنیادی ضرورتوں کو ماضی میں نظرانداز کیا گیا لیکن تحریک انصاف کی حکومت نے سماجی شعبوں کی پائیدار ترقی پر توجہ مرکوز کی ہے ۔ لیکن یہ بہت ضروری ہے کہ ان منصوبوں کی مستقل طورپر مانیٹری کی جائے ۔ کیونکہ ان رقوم پرچیک اینڈ بیلنس نہ رکھنے سے رقم خورد برد ہونے کے بہت سے مواقع ہوتے ہیں ۔ کرپشن یہیں سے شروع ہوتی ہے ۔ لہذا امید ہے کہ وزیر اعلیٰ مذکورہ گرانٹس حق داروں تک پہنچانے کے عمل پر کڑی نگاہ رکھیں گے تاکہ اس سے کرپشن کا خاتمہ ہو سکے اور رقم بروقت جائز حق دار کو مل سکے ۔ کیونکہ عثمان بزدارکا کہنا ہے کہ پنجاب میں کرپشن کسی صورت برداشت نہیں ہو گی ۔ نہ ہم کرپشن کریں گے نہ کسی اور کو کرنے دیں گے ۔ اب وزیراعظم عمران خان کی قیادت میں پنجاب سمیت پاکستان بدلے گا ۔