- الإعلانات -

ڈالر کی پرواز جاری۔۔۔مہنگائی عروج پر ،اسٹاک مارکیٹ میں مندی

ڈالر حکومت پاکستان کے قابو میں کسی طرح نہیں آرہا اور یہ 150روپے تک پہنچ چکا ہے ۔ گزشتہ روز6 روپے مہنگا ہونے کی وجہ سے بیرونی قرضوں میں 666 ارب روپے کا اضافہ ہوا جبکہ زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی اور حصص مارکیٹ میں 321 پوائنٹس مندی دیکھنے میں آئی ہے ۔ آج بھی اسٹاک ایکسچینج کی حالت کوئی اتنی مضبوط نہیں مزید اربوں روپے ڈوبنے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے ۔ اسٹاک ایکسچینج کی نفسیاتی حد بھی مزید گرتی جارہی ہے، مارکیٹ کی حالت یہ ہے کہ ڈالر کے خریدار موجود ہیں تاہم بیچنے والے ناکام ہوگئے ہیں ۔ سونے کی فی تولہ قیمت میں بھی 1300روپے اضافہ ہوگیا، ادھر مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا ہے کہ جب حکومت آئی تو قرضے 31ہزار ارب تھے بحران سے نکلنے کی کوشش کررہے ہیں ، زر مبادلہ مستحکم رکھنا اسٹیٹ بنک کی ذمہ داری ہے، ظاہر ہے مشیر خزانہ وزیراعظم نے کہاکہ اسٹیٹ بینک خودمختار ادارہ ہے اور ایکسچینج کے ریٹ وہی فکس کرتا ہے ، مسئلہ یہ ہے کہ ڈالر خریدنے کی حکومت نے کوئی حدود مقرر کی ہے اتنی بھاری مقدار میں ڈالر خریدنے والوں کے گرد گھیرا کیوں نہیں تنگ کیا جارہا ہے جب مارکیٹ سے ڈالر غائب ہوگا تو یقینی طورپر اس کی قیمت میں لامحالہ اضافہ ہی ہوگا ۔ عبدالحفیظ شیخ نے کہاکہ ہم تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہے ہیں ، شرح نمو کم اور مہنگائی بڑھ رہی ہے ،بجلی کی قیمتوں میں اضافہ کیا جائے گا، مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے، حکومت کا جو بھی رکن آتا ہے وہ ایک ہی بات کرتا ہے کہ مشکل فیصلے کرنا پڑیں گے، ہمارا حکمرانوں سے یہ سوال ہے کہ کیا یہ مشکل فیصلے ان پر بھی اثر انداز ہوں گے یا غریب عوام ہی پستی رہے گی ۔ وزیراعظم ، وزرائے اعلیٰ ،وزراء ،سینیٹرز اور بڑے بڑے سرمایہ داروں کو اس سے کیا غرض کہ پٹرول کس طرح لیٹر ہے، آٹے ،دال کا بھاءو کیا ہے وہ تو گاڑی میں بیٹھتے ہیں تو فیول ٹینک بھرا ہوا ہوتا ہے، جہاں جانا ہو صرف حکم شاہی چلتا ہے مگر غریب آدمی تو اس وقت موٹرسائیکل تک چلانے سے محال ہے ۔ جس طرح ڈالر پرواز کررہا ہے اس سے یہ مخصوص ہوتا ہے کی اس کی قیمت ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائے گی ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے اس کو کنٹرول کون کرے گا ۔ ہر چیز مہنگی کرنے کی تو نوید سنا دی جاتی ہے مگر مسائل کا حل کہاں پر ہے ۔ دراصل اس برائی کی جڑ کو ختم کرنا ہوگا جس کی وجہ سے ڈالر کی پرواز تھمنے میں نہیں آرہی ۔ جب تک مارکیٹ سے ڈالرخریدنے والوں کا خاتمہ یا ان پر چیک اینڈ بیلنس نہیں رکھا جائے گا اس وقت تک یہ حالات اسی طرح رہیں گے یا پھر حکومت مارکیٹ میں زیادہ تعداد میں ڈالر ڈال دے جس کی وجہ سے خریدار کونقصان برداشت کرنا پڑے گا اس طرح تو روزانہ کروڑوں روپے کے ڈالر فروخت کرکے مارکیٹ میں مصنوعی طلب پیدا کردی جاتی ہے، رسد روک کر طلب کا اضافہ کرکے ناجائز منافع خوری کی جاتی ہے ۔ اس طرح بڑے بڑے سرمایہ دار اس ڈالر کی پرواز کی وجہ سے روزانہ لاکھوں روپے کمارہے ہیں ، جب اسٹیٹ بنک کو ایک خودمختار ادارہ بنا دیا گیا ہے تو یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ ڈالر کو کنٹرول کرے ، کیسے اور کیونکر کرنا اس کیلئے باقاعدہ پالیسی بنائی جائے اور ڈالرکی خریداری کیلئے ایک حدود کا متعین کرنا انتہائی ضروری ہے ۔ نیز حکومت یہ بھی شق رکھے کہ جو شخص بھی ڈالر خریدنے کیلئے آتا ہے وہ اپنے انکم کے ذراءع اور ٹیکس ادائیگی کی دستاویزات بھی ڈالر خریداری کے وقت بینک کو دینے کا پابند ہو ۔ ایک تو اس اقدام سے معلوم ہو جائے گا کہ وہ جو کروڑوں روپے کے ڈالر خرید رہا ہے کیا اس پر اس نے ٹیکس ادا کیا اور یہ اتنا پیسہ کن ذراءع سے اس کے پاس آیا ہے ۔ یہ اقدامات اٹھانے سے امید ہے کہ کافی حد تک حالات کنٹرول ہو جائیں گے اگر بلیک مارکیٹنگ کا اسی طرح حال جاری رہے تو ڈالر 200 روپے تک پرواز کرجائے گا اور اس کے بعد ملک کی معاشی حالت کیا ہوگی وہ ناقابل بیان ہے ۔ لہذا حکومت کو چاہیے کہ وہ اس حوالے سے اہم اقدامات اٹھائے اور معاشی ماہرین کی جو ٹیم رکھی ہے اس کی خدمات سے بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے مہنگائی کو بھی کم کیا جائے گا، زر مبادلہ کے ذخائر بھی بڑھائے جائیں اور ڈالر کو بھی کنٹرول کیا جائے ۔

ادویات سستی کرنے کیلئے ڈیڈ لائن

صحت اور تعلیم وہ بنیادی چیزیں ہیں جن کو فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے کیونکہ ایک صحت مند قوم ہی ملک کی ترقی کی ضامن ہوتی ہے اور تعلیم بھی صحت مند اذہان کے مرہون منت ہوتی ہے ۔ اگر یہ دوچیزیں نہ ہوں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ریاست اپنی ذمہ داریوں کو صحیح طرح نبھا نہیں رہی ۔ وزیراعظم عمران خان نے اس وقت سابقہ وزیر صحت عامرمحمود کیانی کو برطرف کردیا جب ادویات کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ ہوگیا ۔ یہاں پر بھی انہوں نے ایک ماہر کی خدمات حاصل کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا کو یہ ذمہ داریاں سونپی کہ نہ وہ صرف ادویات کی قیمتیں سستی کرائیں بلکہ ملک میں صحت کے حوالے سے بھی سہولیات بہم پہنچائی جائیں ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہاکہ 20مئی تک ادویات کی قیمتیں کم کرکے 75فیصد تک لائی جائیں ورنہ ڈرگ کورٹ جائیں گے ۔ فارما انڈسٹری مرضی سے قیمتیں بڑھا دیتی ہے ہم تمام شراکت داروں سے مل کر قومی ادویات کی پالیسی تیار کررہے ہیں ، معیار اور قوانین سمیت تمام مسائل حل کریں گے ، قیمتوں کو بھی غریب طبقے کی پہنچ تک لائیں گے ۔ نیز ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو مثالی اتھارٹی بنائیں گے ۔ ڈاکٹر ظفر مرزا کے خیالات بہت اچھے ہیں اگر ان پر عملدرآمد ہو جائے ، وقت کوئی بہت زیادہ دور نہیں 20مئی میں 2دن باقی ہیں اور اس کے بعد ہم پھر دیکھیں گے کہ ادویات کی قیمتیں کہاں تک پہنچی ہیں ۔ یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ ان چیزوں کو کنٹرول کرے ۔ جہاں تک تعلق ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی کو مثالی بنانے کا ہے کہ تو ہم حکومت مشورہ دیں گے کہ وہ اتھارٹی کو مثالی ضرور بنائے لیکن اس میں جو پہلے سے لوگ تعینات ہیں ان کو تبدیل کردیا جائے ۔

سڑکوں پر نہیں معاملات پارلیمنٹ میں حل کیے جائیں

سیاسی حالات بھی کروٹ لیتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ، پاکستان مسلم لیگ (ن) و دیگر جماعتوں نے عید کے بعد سڑکوں پر سیاسی جنگ کا اعلان کردیا ہے، ادھر آصف علی زرداری نے بھی کہا ہے کہ میں اب آخری مرتبہ نیب کو دستیاب ہوں اس کے بعد نیب چلے گا یہ ملکی معیشت، دونوں جماعت اس بات پر متفق ہیں کہ وہ اب عوام کی عدالت میں مسائل کو لے کر جائیں گے، سیاسی انارکی پھیلانے کے بجائے ہم یہ کہیں گے کہ معاملات و مسائل کو افہام وتفہیم سے بیٹھ کرحل کیا جائے اور اس کیلئے سب سے بہترین پلیٹ فارم پارلیمنٹ ہے جہاں پر عوام نے اپنے منتخب نمائندوں کو ووٹ کے ذریعے بھیجا ہے ۔ سڑکوں پر آنے سے مزید ملکی حالات خراب ہوں گے ،جمہوریت کو نقصان پہنچے گا، حالات جیسے بھی ہوں جمہوریت پھر سب سے بہتر ہوتی ہے لہذا ہم سب نے مل کر جمہوریت کا دفاع کرنا ہے اور اس کا علم بلند رکھنا ہے، جہاں تک عوامی حقوق اور مہنگائی کا تعلق ہے تو حکومت کو چاہیے کہ وہ اس جانب خاطر خواہ توجہ دے تاکہ معاملات پرسکون انداز میں چلتے رہیں ۔