- الإعلانات -

مودی ہوش کے ناخن لے

اقتدار کی ہوس میں انسانی اقتدار کی پامالیاں اس قدر شیطانی حربے بھی استعمال کرسکتی ہیں چونکہ وقت کم ہے اوراس سوال کی شدت وحدت بہت ہی زیادہ سلگ رہی ہے اوریہ سلگتا ہوا بے حد تپش دیتا ہوا سوال بھارت میں جگہ جگہ زیر بحث ہے بھارت میں لوک سبھا کے چناءو کو دیش کی قیمت پر جیتنے کےلئے اب تک بی جے پی اور اْس کی سرپرست متشدد تنظیم آرایس ایس نے انسانیت کی حتی المقدور تذلیل کرنے کے گھٹیا اور غیر مہذبانہ جو اپنےانداز اپنا ئے ہوئے ہیں بھارتی آئینی سیکولر ازم کی جگہ ہندو دیش بنانے کے جو ہتھکنڈے اور زہریلے حربے مودی ڈوال اور امیت شا گٹھ جوڑ نے استعمال کرنے پرکمرکسے ہوئے ہیں دنیا اس پر متحیر العقل ہوچکی ہے اپنے ہی دیش کے انتخابات کو مودی نے باقاعدہ جنگ کا میدان بنایاہوا مقبوضہ جموں وکشمیر میں مودی کے اقتدار میں آنے کے بعد انسانیت کو کشت وخون میں نہلادیا گیا گزشتہ پانچ برسوں میں ;39;کشمیر جیتنے کے خواب;39;کو مودی اور اْس کے حواریوں نے جب خاکستر پوتے ہوئے دیکھا تو مودی سرکار اپنا ذہنی توازن بالکل ہی کھوبیٹھی ایک ارب اکیس کروڑ کی آبادی والے ایک بڑے دیش کو مودی نے گجرات ریاست سمجھ کر شروع دن ہی سے جو فاش غلطیاں کرنا شروع کی ہیں آج وہ کشمیر میں اپنی اْن ہی فاش اور ناقابل تلافی غلطیوں کا خمیازہ بھگت رہا ہے گزری دوتین دہائیوں میں کشمیر میں بھارتی فوجی درندوں کے ہاتھوں ہونے والے مظالم کے واقعات یوں سامنے نہیں آئے تھے جو موجودہ جدید اور ڈیجیٹل مواصلاتی سسٹم کی بدولت دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک کشمیریوں پر بھارتی فوج کے ظلم وستم کے واقعات پل بھر میں ایک ;39;کلک;39; پر پہنچ رہے ہیں ۶ مارچ ۲۰۱۹کو سوءٹزرلینڈ جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی ہائی کمشنر مشیل بچلیٹ نے عالمی میڈیا کو ایک پریس بریفنگ میں واضح طور پر تسلیم کیا اور بھارت پر کھلے الفاظ میں سخت تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ ;39;بھارت ہوش کے ناخن لے اْن کے پاس بھارتی زیر کنٹرول کشمیر میں تازہ ترین پاکستان بھارت جنگی ماحول میں انسانی حقوق کی جس پیمانے پر بے دردی سے خلاف ورزیاں ہمارے سننے اور سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آرہی ہیں اْنہیں عالمی سطح پر بہت سنجیدگی سے برابر محسوس کیا جارہا ہے بقول مس مشیل کے نئی دہلی کو اپنی ;39;احمقانہ متشدد پالسیوں ;39; کو بدلنا ہوگا مقبوضہ کشمیر میں جاری بہیمانہ کشت وخون سے اجتناب کرنا ہوگا ،اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کے مستقل غیر مستقل ار کان میں اس حوالے سے خاصی تشویش پائی جاتی ہے، اقوام متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق بھارتی سرکشیوں نے عالمی معاہدوں پر عمل درآمد میں نام کا بھی کوئی تعاون نہیں کیا ہے اوپر سے آرایس ایس جیسی سنگھ پریوار کے جنونی اور سخت گیر تصوراتی خیالات رکھنے والی مسلح تنظیم نے بھارتی سیاسی میدان پر جب سے قبضہ کیا ہے بھارت پر دنیا نے خطرہ کا نشان لگادیا ہے دنیا کے مختلف ممالک میں ہی نہیں بلکہ خاص کر مغربی ممالک خصوصا یورپی یونین کے مرکزی شہر برسلز کے شائمن اسکوائر میں کشمیر کونسل یورپی یونین کے زیر اہتمام ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ ہوا جس میں مقررین نے کشمیر میں جاری بھارتی فوج کے وحشیانہ تشدد پر اپنے سخت ردعمل کا شدید الفاظ میں اظہار کیا اور لوک سبھا کے چناءو کے موقع پر مسلمانوں اور خصوصاً پاکستان کے خلاف جھوٹے من گھڑت الزامات کی آڑ میں پاکستان کی فضائی حدود کی خلاف ورزیوں پر عالمی طاقتوں کی توجہ بھارتی جارحیت کی جانب مبذول کرائی ہے جسے عالمی میڈیا میں بڑی جگہ ملی ہے ۔ یہاں یاد رہے کہ بھارت ایٹمی ملک ہے اور پاکستان ایٹمی صلاحیتوں سے لیس ملک ہے بقول پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر کے کہ ;39;دوپڑوسی جمہوری ملکوں کے درمیان جنگ کا ماحول پیدا کرنا ایک بہت ہی بیوقفانہ بچگانہ خیال ہے جبکہ دونوں پڑوسی ملکوں کے پاس ایٹمی ہتھیار بھی موجود ہوں ;39;عالمی جرائد کے علاوہ ملکی اخبارت میں عالمی سطح پر اپنے قلم کے کاٹ دار جرات مند اور بے باک لہجوں اور جملوں کی تحریر کا لوہا منوانے والی بھارتی مصنفہ ;39;ارون دھتی رائے;39; کا تفصیلی تبصرہ شاءع ہوا جسے پڑھنے کے بعد یقینا مقبوضہ کشمیر کے نہتے اور محکوم عوام کو بھی تسلی ہوئی ہوگی کہ دنیا کا باشعور طبقہ ;39;مودی کی کنفیوژڈاور بیمار مفلوج فکر;39; کو بالکل مسترد کرچکی ہے اوردھتی رائے اپنے جاندار تبصرہ میں آرایس ایس اور مودی کے چہروں پرپڑے ہوئے نقاب کھینچتے ہوئے لکھتی ہیں کہ بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے بے صبری میں پاکستانی علاقہ بالاکوٹ پر فضائی حملہ کرکے بڑی نادانی اور نا اہلی کا ثبوت دیا ہے;39; کشمیر کے مسلمانوں پر نئی دہلی کی مایوسانہ پالیسیوں کو اپنی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کئی عالمی ایوارڈز کی حامل مس دھتی لکھا ہے کہ ;39;بھارت نے کشمیر کو ہمیشہ اپنا ;39;اندرونی معاملہ;39; قرار دے کر زمینی اور تاریخی سچائیوں کو تسلیم نہیں کیا;39;اور اپنی جذباتی نادانی اور سیاسی بیوقوفی کے ذریعے مسئلہ کشمیر کو عالمی طور پر ;39;فلش پوائنٹ ایجنڈا;39;بنا دیا ہے، آج دنیا بھر میں ہر ممتاز اور ذمہ دار نظر کشمیر پر لگی ہوئی ہے لہٰذا اب بھی اتنا کچھ کہنے اور سننے کے بعد ;39;مودی اجیت ڈوال اور امیت شا گٹھ جوڑ;39; اپنے ۵۶ انچ کا سینہ چوڑا کیئے رکھیں گے;238; لوک سبھا کے انتخابات کےلئے اپنا جنگی جنونی نعرہ لگاتے رہیں گے، یا ہوش اور عقل کے ناخن لیں گے، مزید اور کتنی بوکھلاہٹ دکھائیں گے، ہندومذہبی جنونیت کے آتشیں چنگل میں پھنسے رہیں گے یا باہر بھی نکلیں گے، کب تک ہندوفاشسٹ جنونی فکری کیڈر بنے رہیں گے;238; ہمارے لکھنے;39;کہنے اور سننے سے کیا ہوتا ہے ;39;مودی اجیت اور امیت شا گٹھ جوڑ;39; بھارت کے ڈیڑھ ماہ بعد آنے والے لوک سبھا کے انتخابات میں جانے سے قبل سیاسی بالغ النظری سے تہی دست دکھائی دیتا ہے اگر آئندہ چناءو میں آرایس ایس کے اسی تنگ نظر ;39;اسٹیف;39; کے ہاتھوں میں نئی دہلی کی مرکزی حکومت آجاتی ہے توسوچئیے پھر کیا ہوگا کیا جنوبی ایشیا امن کا گہوارہ بن پائے گا جو نہیں سمجھتے اْنہیں جنگی تباہیوں کے گزرے ہوئے خون افشاں تاریخوں کے اوراق پلٹنے ہونگے اس کے علاوہ اور کیا کہا جائے کہ بھارتی عوام کی اکثریت نے اگر اب بھی عقل سے کام نہیں لیا تو وہ آئندہ پانچ برس تک مودی کی انسانیت دشمن کنفیوژڈ اور مفلوج صفت فکر سے اپنے سرٹکرا تے رہیں گے ۔