- الإعلانات -

سمجھوتہ ایکسپریس کے مجرموں کی رہائی!

یہ 18 فروری 2007 کا واقعہ ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس میں نئی دہلی سے قریباً 100 کلومیٹر کے فاصلے پر پانی پت کے مقام پر دیوانی ریلوے سٹیشن پر بم دھماکے ہوئے جس کے بعد دو بوگیوں میں آگ لگ گئی ۔ آگ اتنی شدید تھی کہ فائر بریگیڈ کے پہنچنے سے قبل ہی بوگیاں جل کر راکھ ہوگئیں اور 67 مسافر جاں بحق ہوئے جن میں اکثریت پاکستانیوں کی تھی ۔ سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے متاثرین نے بھارتی عدالت کے فیصلے کے خلاف پارلیمنٹ ہاوَس کے باہر احتجاج کرتے ہوئے چیئرمین قائمہ کمیٹی برائے داخلہ رحمان ملک سے بھی ملاقات کی اور انہیں دہشتگردی کے واقعہ سے متعلق آگاہ کیا ۔ سانحہ کے چشم دید گواہ اور متاثرہ شخص رانا شوکت علی نے رحمان ملک کو بتایا کہ جس بوگی میں سوار تھا پہلا بم دھماکا اسی میں ہوا ۔ دھماکے کے بعد ہر طرف کیمیکل کا دھواں تھا ۔ میرے پانچ بچے میرے سامنے جل کر مرگئے ۔ سینیٹر رحمان ملک نے کہا کہ انصاف ملنے تک سانحہ سمجھوتہ ایکسپریس کے لواحقین کیساتھ ہوں ۔ حسب توقع سمجھوتہ ایکسپریس بم دھماکہ کیس میں بھارت کی خصوصی عدالت نے مرکزی ملزم سوامی اسیم آنند سمیت تمام چار ملزمان کواس بنا پر بری کر دیا کہ استغاثہ دھماکے میں ملزمان کے ملوث ہونے کا کوئی ثبوت نہیں دے سکا ۔ لہٰذا عدالت نے اسیم آنند ،لوکیش شرما ،کمال چوہان اور راجندر چودھری کو ’باعزت ‘ بری کر دیا ۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کارستانی انتہا پسند ہندووَں کی تھی جو پاکستان دشمنی میں اس قدر بڑھ گئے کہ انہیں ٹرین کے مسافروں کا بھی کوئی خیال نہ رہا ۔ کہا جاتا ہے کہ بوگی میں مٹی کے تیل ، سلفر اور پوٹاشیم ناءٹریٹ کا آمیزہ رکھا گیا تھا جو آگ بھڑکانے کے کام آیا ۔ اس آمیزے کو ٹائم بم سے آگ لگائی گئی ۔ بدقسمتی سے ٹرین کے دروازے اندر اور باہر دونوں طرف سے بند تھے ۔ لہٰذا مسافر باہر نہ نکل سکے اور اندر ہی جل کر راکھ ہوگئے ۔ ٹرےن میں کل 757افراد سوار تھے جن میں 553 پاکستانی تھے جو زیادہ تعداد میں آخری دو بوگیوں میں تھے ۔ کہا جاتا ہے کہ سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے کی سازش 2006 میں تیار ہوئی جس میں بھارتی فوج کا افسر لیفٹیننٹ کرنل پروہت شامل تھا ۔ اسی فوجی افسر نے ہندو شدت پسندوں سے مل کر دہشت گردوں کو تربیت بھی دی ۔ لیکن نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی نے نہایت ڈھٹائی سے انکار کیا کہ لیفٹیننٹ کرنل پروہت کا سمجھوتہ ایکسپریس دہشت گرد حملے میں کوئی کردار نہیں تھا ۔ ایک اور عجیب منطق یہ پیش کی گئی کہ بھارتی ادارے لیفٹیننٹ کرنل پروہت کے سمجھوتہ ایکسپریس دھماکے میں کردار کی ابھی تحقیقات کر رہے ہیں ۔ سابق بھارتی وزیر داخلہ سشیل کمار شندے نے بھارتیہ جنتا پارٹی کو بم دھماکے کا ذمہ دار قرار دیا ۔ تحقیقات ہوئی تو اس گھناءونی سازش میں حصہ لینے والے بھارتی فوج کے کئی چہرے بے نقاب ہوئے ۔ تحقیقات کے بعد اس وقت کے حاضر سروس بھارتی کرنل پروہت، میجر اپادھیا، انتہا پسند ہندو رہنما سوامی آسیم آنند اور کمل چوہان دھماکے میں ملوث پائے گئے ۔ مرکزی ملزم آسیم آنند نے اعتراف جرم بھی کیا کہ بھارتی فوج کی مدد سے یہ درندگی آر ایس ایس جیسی انتہا پسند تنظیم اور تنگ نظر ہندءوں کی کارستانی تھی ۔ اس سانحے کا ماسٹر مائنڈ لیفٹیننٹ کرنل پرساد سری کانت پروہت تھا ۔ بھارت کی ریاست مہاراشٹر کی پولیس کے اینٹی ٹیرر اسکواڈ نے کرنل پروہت پر چارج شیٹ جاری کی کہ وہ دھماکے کی سازش کا ماسٹر مائنڈ تھا اور اس نے دھماکا خیز مواد فراہم کیا اور دھماکے کے لئے آر ڈی ایکس فراہم کیا ۔ مہاراشٹر کی عدالت کو بتایا گیا کہ لیفٹیننٹ کرنل پروہت نے ہی دھماکے کے لئے تین لاکھ اٹھانوے ہزار روپے حوالے کے ذریعے فراہم کئے اور فنڈز اکٹھے کئے ۔ اب تک تو بھارتی حکام ان سانحات کی ذمہ داری مسلمانوں پر ڈالتے چلے آرہے تھے مگر اب معلوم ہو چکا ہے کہ ان میں ہندو انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس ملوث ہے ۔ راجیو گاندھی کے بیٹے راہول گاندھی ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ مسلمانوں سے زیادہ خطرناک تو ہندو انتہا پسند تنظی میں ہیں ۔ بھارتی انٹیلی جنس ایجنسی کی تفتیش کے دوران اس بات کا انکشاف بھی ہوا کہ سمجھوتہ ایکسپریس، حیدر آباد کی مکہ مسجد اور درسگاہ خواجہ حسین الدین چشتی پر بم دھماکوں میں بھارت کی انتہا پسند ہندو تنظیم آر ایس ایس ملوث تھی ۔ ایک انتہا پسند ہندو اندریش کمار کے کے بیان کی روشنی میں ایک اوردہشت گرد ہندو سوامی آسم نند کو حراست میں لیا گیا ہے جو سمجھوتہ ایکسپریس سانحہ کا ماسٹر مائنڈ سمجھا جا رہا ہے ۔ بم دھماکے کا اصل ملزم سوامی اسیم آنند ضمانت پر رہا ہے ۔ اس کے علاوہ اس وقت کے حاضر سروس بھارتی کرنل پروہت، میجر اپادھیا، انتہا پسند ہندو رہنما اور کمل چوہان دھماکے میں ملوث پائے گئے ۔ مرکزی ملزم آسیم آنند نے اعتراف جرم بھی کیا کہ بھارتی فوج کی مدد سے یہ درندگی آر ایس ایس جیسی انتہا پسند تنظیم اور تنگ نظر ہندءوں کی کارستانی تھی ۔ بھارت میں 12 برسوں میں 3 حکومتیں تبدیل ہوچکی ہیں لیکن انتہا پسند قاتل آج بھی دندناتے پھرتے ہیں ۔ اس طویل مقدمے میں تقریبا 300 گواہ تھے ۔ دباوَ اور طوالت کے سبب گزشتہ دو برس میں اس مقدمے میں 30 سے زیادہ گواہ منحرف ہوچکے ہیں ۔ لہذا گزشتہ تین برس میں درجنوں سرکاری گواہ منحرف ہوئے ۔ آخر کا بھارتی عدالت نے متعصبانہ فیصلے دیتے ہوئے ان چار ملزمان کو بھی بری کردیا ۔